پانچ سورتوں کی تفصیلی مگر آسان تفسیر
سورۃ النبأ • النازعات • عبس • التکویر • الانفطار
(پارہ ۳۰ — عربی متن مصحفِ مدینہ / روایتِ حفص سے تصدیق شدہ)
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”النبأ“ کا مطلب ہے ”بڑی خبر“۔ سورت کے شروع میں اسی ”بڑی خبر“ یعنی قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے کا ذکر ہے، اسی لیے اس کا نام ”النبأ“ رکھا گیا۔ یہ ”پارہ عمّ“ (تیسویں پارے) کی پہلی سورت ہے۔
جب نبی کریم ﷺ نے قیامت اور بعث کی خبر دی، تو کافر آپس میں اس پر بحث اور تعجب کرنے لگے۔ یہ سورت ان کے اسی انکار کا جواب ہے۔ پہلے اللہ اپنی قدرت کی نشانیاں گناتے ہیں — زمین، پہاڑ، رات دن، سورج، بارش — تاکہ ثابت ہو کہ جو اللہ یہ سب کر سکتا ہے، وہ دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے۔ پھر قیامت کا منظر، اور آخر میں جہنم اور جنت کے دو انجام بیان ہوتے ہیں۔
سورت کا آغاز ایک سوال سے ہوتا ہے، جو کافروں کے انکار اور ان کی آپس کی بحث کی طرف اشارہ ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے قیامت کی خبر دی، تو وہ مذاق اور تعجب سے ایک دوسرے سے پوچھتے: یہ کیسی بات ہے؟ یہ سوالیہ انداز اس خبر کی عظمت اور ان کے انکار پر تنبیہ کے لیے ہے۔
وہ ”بڑی خبر“ قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی خبر ہے، اور اس میں قرآن کی خبر بھی شامل ہے۔ اسے ”عظیم خبر“ اس لیے کہا گیا کہ اس کا تعلق انسان کے ہمیشہ کے انجام سے ہے، اور یہی سب سے اہم حقیقت ہے۔
اس بڑی خبر (قیامت) کے بارے میں لوگ مختلف رائے رکھتے تھے۔ کوئی اس کا انکار کرتا، کوئی شک میں تھا، اور مومن اس پر یقین رکھتے تھے۔ یہ اختلاف ہی ان کے تذبذب اور انکار کی نشانی تھا۔
”کَلَّا“ یعنی ایسا نہیں جیسا وہ سمجھتے ہیں۔ اللہ انہیں تنبیہ کرتے ہیں کہ بہت جلد انہیں اس خبر کی حقیقت معلوم ہو جائے گی، جب قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہوگی۔ تب ان کا انکار کسی کام نہ آئے گا۔
یہی بات دوبارہ تاکید کے ساتھ دہرائی گئی، تاکہ ان کے دل میں ڈر بیٹھ جائے۔ دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تنبیہ معمولی نہیں — قیامت ضرور آئے گی اور اس کی حقیقت سب پر کھل جائے گی۔
اب اللہ اپنی قدرت کی نشانیاں گناتے ہیں تاکہ ثابت کریں کہ بعث (دوبارہ زندہ ہونا) ممکن ہے۔ اللہ نے زمین کو بستر کی طرح بچھا دیا، نرم اور ہموار، تاکہ انسان آرام سے اس پر رہے، چلے پھرے اور آباد ہو۔ یہ بظاہر عام بات بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
اللہ نے پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنایا، جو زمین کو تھامے ہوئے ہیں تاکہ وہ ہلے نہ۔ جیسے خیمے کو میخیں مضبوطی سے قائم رکھتی ہیں، ویسے ہی پہاڑ زمین کو قائم رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کی حکمت اور قدرت کی نشانی ہے۔
اللہ نے انسانوں کو جوڑوں کی شکل میں بنایا — مرد اور عورت۔ اسی سے خاندان بنتے ہیں، نسل آگے بڑھتی ہے اور انسان کو محبت و سکون ملتا ہے۔ یہ بھی اللہ کی قدرت اور حکمت کی نشانی ہے۔
اللہ نے نیند کو تمہارے جسم کے آرام اور سکون کا ذریعہ بنایا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد نیند سے انسان تازہ دم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے، اور نیند کے بعد جاگنا گویا روزانہ کا چھوٹا سا ”بعث“ (دوبارہ اٹھنا) ہے۔
اللہ نے رات کو اس کے اندھیرے کے ساتھ ایک لباس اور پردے کی طرح بنایا، جو ہر چیز کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اس اندھیرے میں انسان سکون سے آرام کرتا ہے اور دن کی مصروفیت سے رک جاتا ہے۔
اللہ نے دن کو روشن بنایا تاکہ انسان اس میں کام کاج کرے، روزی کمائے اور اپنی ضروریات پوری کرے۔ رات آرام کے لیے اور دن کام کے لیے — یہ کتنا خوبصورت نظام ہے جو اللہ نے انسان کے فائدے کے لیے بنایا۔
اللہ نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے، جو نہایت پختہ اور محکم ہیں — نہ ان میں کوئی دراڑ، نہ کوئی کمزوری۔ یہ عظیم تخلیق اللہ کی بے پناہ قدرت کی گواہی دیتی ہے۔
اس روشن اور گرم چراغ سے مراد سورج ہے، جو روشنی اور حرارت دونوں دیتا ہے۔ اسی سے دن روشن ہوتا ہے، فصلیں پکتی ہیں اور زمین پر زندگی قائم رہتی ہے۔ یہ اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
اللہ نے بارش سے بھرے بادلوں سے موسلادھار پانی برسایا۔ ”المُعْصِرات“ وہ بادل ہیں جو نچوڑے جانے کے قریب ہوں، یعنی برسنے کو تیار۔ یہی پانی زمین کی زندگی اور خوراک کا سبب ہے۔
اس بارش کے پانی سے اللہ زمین سے اناج (گندم، چاول وغیرہ) اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے، جو انسان اور جانور دونوں کی خوراک ہے۔ ایک قطرے پانی سے اتنی نعمتوں کا پیدا ہونا اللہ کی قدرت کی واضح نشانی ہے۔
اور اسی پانی سے ایسے گھنے باغ اگائے جن کے درخت آپس میں گتھے ہوئے اور گھنے ہوتے ہیں۔ یہ سب نعمتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ جو اللہ مردہ زمین سے زندگی نکال سکتا ہے، وہ مردہ انسان کو بھی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
اب بات قیامت کی طرف آتی ہے۔ ”یومِ فصل“ یعنی فیصلے کا دن، جب اللہ نیک اور بد کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یہ دن ایک مقررہ وقت پر ضرور آئے گا، اس میں کوئی شک نہیں۔
اس دن صور (نرسنگھے) میں پھونک ماری جائے گی، اور سب لوگ دوبارہ زندہ ہو کر گروہ در گروہ میدانِ حشر کی طرف آئیں گے۔ یہ بعث کا منظر ہے، جس کا کافر انکار کرتے تھے۔
اس دن آسمان پھٹ کر اس میں اتنے شگاف پڑ جائیں گے کہ وہ دروازوں کی طرح کھلا کھلا ہو جائے گا۔ آج جو آسمان مضبوط اور بے شگاف ہے، اس دن وہ بھی اپنی حالت پر باقی نہ رہے گا۔
جو پہاڑ آج اتنے مضبوط اور جمے ہوئے ہیں، اس دن وہ اپنی جگہ سے اکھڑ کر چلیں گے، اور آخرکار ریزہ ریزہ ہو کر ایسے بن جائیں گے جیسے دور سے سراب (دھوکے کا پانی) نظر آتا ہے، یعنی کچھ باقی نہ رہے گا۔
اب جہنم کا ذکر آتا ہے۔ جہنم گویا گھات لگائے بیٹھی ہے، یعنی وہ سرکشوں کے انتظار میں ہے کہ جیسے ہی وہ آئیں، انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے۔ یہ منکروں اور گناہ گاروں کے لیے سخت تنبیہ ہے۔
جہنم ان سرکش لوگوں کا ٹھکانہ ہے جنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور حد سے بڑھ گئے۔ جیسے انہوں نے دنیا میں سرکشی کی، ویسے ہی ان کا ٹھکانہ یہ آگ ہوگی۔
یہ سرکش لوگ جہنم میں مدتوں، یعنی بے شمار لمبے زمانوں تک پڑے رہیں گے۔ ان کے کفر کی سزا ایسی ہوگی جس کا کوئی خاتمہ نظر نہ آئے گا۔
جہنم میں نہ انہیں کوئی ٹھنڈک ملے گی جو آگ کی تپش کم کرے، نہ کوئی ٹھنڈا پینے کا پانی جو ان کی پیاس بجھائے۔ یہ عذاب کی شدت کا بیان ہے۔
پینے کو ملے گا تو بس کھولتا ہوا گرم پانی اور جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ۔ یہ ان کے کفر اور سرکشی کا بدلہ ہوگا۔ یہ بیان انسان کو اس انجام سے ڈرانے اور بچنے کی دعوت دینے کے لیے ہے۔
یہ سزا ان کے اعمال کے بالکل مطابق ہے — نہ کم، نہ زیادہ، بلکہ پورا پورا انصاف۔ جیسا انہوں نے کیا، ویسا ہی بدلہ پایا۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
ان کی سزا کی وجہ یہ تھی کہ وہ قیامت کے دن حساب کا یقین ہی نہیں رکھتے تھے۔ جب دل سے حساب کا ڈر نکل جائے، تو انسان بے خوف ہو کر گناہ کرتا ہے۔ یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
انہوں نے اللہ کی نشانیوں اور قرآن کی آیتوں کو بری طرح جھٹلایا اور ان کا صاف انکار کیا۔ حق سامنے ہونے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کرنا ان کی ضد اور سرکشی تھی۔
اللہ نے ہر چھوٹی بڑی چیز کو، انسان کے ہر عمل کو، لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے۔ کوئی نیکی یا گناہ ایسا نہیں جو لکھا نہ گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ریکارڈ سب کے سامنے رکھا جائے گا۔
جہنمیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا مزہ چکھو، اب تمہارے لیے عذاب میں اضافے کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ان کے کفر اور انکار کا سخت اور حتمی انجام ہے۔ یہ بیان انسان کو اسی دنیا میں سنبھل جانے کی دعوت دیتا ہے۔
اب نیک اور پرہیزگار لوگوں کا انجام بیان ہوتا ہے۔ جنہوں نے اللہ سے ڈر کر زندگی گزاری، ان کے لیے بڑی کامیابی اور جنت ہے۔ جہنمیوں کے انجام کے بعد یہ خوشخبری دل میں امید اور نیکی کا شوق پیدا کرتی ہے۔
ان پرہیزگاروں کے لیے جنت میں خوبصورت باغ اور میٹھے انگور ہوں گے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا انعام ہے، جہاں ہر طرح کی راحت اور نعمت موجود ہوگی۔
اور جنت میں ان کے لیے ایسی پاکیزہ ہم عمر بیویاں ہوں گی جو نوجوانی اور خوبصورتی میں ایک جیسی ہوں گی۔ یہ بھی جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو نیک لوگوں کو ملے گی۔
اور جنت میں ان کے لیے بھرے ہوئے، چھلکتے ہوئے پاکیزہ مشروب کے جام ہوں گے — جو دنیا کی شراب کی طرح نشہ آور یا نقصان دہ نہیں ہوں گے، بلکہ خالص لذت اور خوشی کا ذریعہ ہوں گے۔
جنت میں نہ کوئی فضول اور بے کار بات ہوگی، نہ کوئی جھوٹ۔ وہ ماحول ہر طرح کی برائی، گالی گلوچ اور تکلیف دہ باتوں سے پاک ہوگا — بس سکون، عزت اور پاکیزگی ہوگی۔
یہ ساری نعمتیں اللہ کی طرف سے نیک لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ اور بھرپور عطا ہیں۔ اللہ اپنی مہربانی سے انہیں ان کی توقع سے بھی زیادہ دے گا۔ یہ اس کی شان کے مطابق فیاضانہ انعام ہے۔
یہ سب کچھ دینے والا وہ رب ہے جو سارے آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا مالک ہے، اور نہایت مہربان (الرحمٰن) ہے۔ مگر قیامت کے دن اس کی شان اتنی بلند ہوگی کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس سے بات تک نہ کر سکے گا۔
اس دن جبرئیل علیہ السلام اور تمام فرشتے اللہ کے سامنے ادب سے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے۔ کسی کی اتنی مجال نہ ہوگی کہ بات کرے، سوائے اس کے جسے اللہ اجازت دے، اور وہ بھی صرف سچی اور ٹھیک بات کہے گا۔ یہ اس دن اللہ کی عظمت اور ہیبت کا منظر ہے۔
یہ قیامت کا دن بالکل سچ ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ پس جو چاہے، آج ہی نیک اعمال کے ذریعے اپنے رب کی طرف لوٹنے کا راستہ اختیار کر لے، تاکہ اس دن اسے اللہ کے ہاں اچھا ٹھکانہ ملے۔ یہ ہر انسان کے لیے کھلی دعوت ہے۔
یہ سورت کا آخری اور بہت اثر والا پیغام ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہیں اس قریب آنے والے عذاب (قیامت) سے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے۔ اس دن ہر انسان اپنے سب اعمال اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا، جو اس نے دنیا میں کیے۔
اور کافر، اپنے انجام کو دیکھ کر، اتنا پچھتائے گا کہ کہے گا: کاش! میں انسان ہی نہ ہوتا، بلکہ مٹی ہوتا تاکہ اس حساب اور عذاب سے بچ جاتا۔ مگر تب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ابھی، اسی دنیا میں، اپنے اعمال درست کر لیں اور قیامت کی تیاری کریں۔
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”النازعات“ کا مطلب ہے ”کھینچنے والے (فرشتے)“۔ سورت کا آغاز انہی فرشتوں کی قسم سے ہوتا ہے جو جانیں قبض کرتے ہیں، اسی لیے اس کا نام ”النازعات“ رکھا گیا۔
اس سورت کا اصل موضوع مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا (بعث) اور قیامت ہے۔ سورت کا آغاز فرشتوں کی قسم سے ہوتا ہے، پھر قیامت کی ہولناکی بیان ہوتی ہے۔ درمیان میں موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ بطورِ سبق آتا ہے، تاکہ منکروں کو فرعون کے انجام سے عبرت ملے۔ آخر میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور قیامت کے دن کے دو انجام (جنت اور جہنم) بیان ہوتے ہیں۔
اللہ ان فرشتوں کی قسم کھاتے ہیں جو کافروں اور بدکاروں کی جانیں سختی اور زور سے کھینچ کر نکالتے ہیں۔ ”غَرْقًا“ یعنی ڈوب کر، گہرائی تک، یعنی بڑی شدت سے۔ یہ قسم اس بات پر ہے کہ قیامت اور بعث یقینی ہے۔
یہ وہ فرشتے ہیں جو نیک اور مومن لوگوں کی جانیں نہایت نرمی اور آسانی سے نکالتے ہیں، جیسے کوئی گرہ آہستہ سے کھول دے۔ پہلی آیت میں کافروں کی جان کا سختی سے کھینچنا تھا، اور یہاں مومنوں کی جان کا نرمی سے نکلنا — دونوں میں فرق نمایاں ہے۔
یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم کی تعمیل میں فضا میں تیرتے ہوئے تیزی سے آتے جاتے ہیں، جیسے تیراک پانی میں آسانی سے تیرتا ہے۔ یہ ان کی پھرتی اور اللہ کے حکم پر فوری عمل کی نشانی ہے۔
یہ فرشتے اللہ کے حکم کی تعمیل میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی نیکی اور اطاعت میں سبقت لے جاتے ہیں۔ یہ ان کے شوقِ اطاعت کی نشانی ہے۔
یہ وہ فرشتے ہیں جنہیں اللہ نے کائنات کے مختلف کاموں پر مقرر کیا ہے — جیسے بارش، رزق، جانیں قبض کرنا وغیرہ۔ بے شک سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، اور یہ فرشتے صرف اس کے فرماں بردار کارندے ہیں۔ ان عظیم مخلوقات کی قسم اس بات پر ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا حق ہے۔
یہ قسم کا جواب اور قیامت کا منظر ہے۔ ”الرَّاجِفَة“ سے مراد پہلا صور (پھونک) ہے، جس سے پوری زمین اور کائنات شدت سے کانپ اٹھے گی اور ہر چیز تباہ ہو جائے گی۔ یہ قیامت کا آغاز ہوگا۔
پہلی پھونک کے بعد دوسری پھونک آئے گی، جس سے سب لوگ دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ پہلی پھونک سے سب کچھ فنا ہوگا، اور دوسری سے دوبارہ زندگی شروع ہوگی۔ یوں بعث (دوبارہ اٹھنا) ثابت ہوتا ہے۔
اس ہولناک دن منکروں اور گناہ گاروں کے دل شدید خوف اور گھبراہٹ سے دھڑک رہے ہوں گے۔ جنہوں نے دنیا میں قیامت کا انکار کیا تھا، اس دن وہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر کانپ اٹھیں گے۔
ان لوگوں کی نگاہیں خوف اور رسوائی سے جھکی ہوں گی۔ دنیا میں جو تکبر اور غرور کرتے تھے، اس دن ان کی آنکھیں شرمندگی سے اٹھ نہ سکیں گی۔ یہ ان کے اندرونی خوف کی بیرونی علامت ہوگی۔
یہ منکروں کا تعجب اور انکار ہے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے: کیا ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے پہلی زندگی میں لوٹا دیے جائیں گے؟ ”الْحَافِرَة“ یعنی پہلی حالت، یا قبر کے بعد دوبارہ زندگی۔
ان کا انکار مزید بڑھتا ہے: جب ہمارا جسم مٹی میں مل کر صرف گلی سڑی ہڈیاں رہ جائے گا، تو کیا تب بھی ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے؟ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ناممکن ہے۔ مگر اللہ کے لیے یہ بالکل آسان ہے۔
منکر طنزاً کہتے ہیں کہ اگر واقعی دوبارہ زندہ ہونا ہے، تو یہ تو نقصان اور گھاٹے کا سودا ہوگا۔ وہ یہ بات مذاق میں کہتے تھے، یعنی ان کے خیال میں ایسا ہونا ہی نہیں۔ مگر حقیقت میں گھاٹا تو خود انہی کے لیے ہوگا، کیونکہ انکار کی وجہ سے وہ سزا پائیں گے۔
اللہ ان کے انکار کا جواب دیتے ہیں کہ دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ بس ایک ہی زوردار آواز (دوسری پھونک) ہوگی اور سب لوگ فوراً زندہ ہو جائیں گے۔ اللہ کی قدرت کے لیے یہ ایک لمحے کا کام ہے۔
اس ایک پھونک کے ساتھ ہی سب لوگ زمین کے کھلے میدان میں زندہ کھڑے ہوں گے۔ ”السَّاهِرَة“ سے مراد وہ کھلی، ہموار زمین ہے جہاں قیامت کے دن سب جمع ہوں گے۔ یوں جس بعث کا انکار کیا جا رہا تھا، وہ پلک جھپکتے میں ہو جائے گا۔
اب سورت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کی طرف آتی ہے، تاکہ منکروں کو سبق ملے۔ یہ سوالیہ انداز توجہ دلانے کے لیے ہے۔ فرعون بھی قیامت اور اللہ کا انکار کرتا تھا اور تکبر میں مبتلا تھا — اس کا انجام منکروں کے لیے عبرت ہے۔
جب موسیٰ علیہ السلام ”طُویٰ“ نامی مقدس وادی میں تھے، اللہ نے انہیں پکارا اور نبوت عطا کی۔ یہی وہ بابرکت مقام تھا جہاں اللہ نے ان سے کلام کیا اور انہیں فرعون کی طرف بھیجنے کا حکم دیا۔
اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ حد سے بڑھ گیا ہے — ظلم میں بھی اور خدائی کے دعوے میں بھی۔ ”طَغَىٰ“ یعنی وہ سرکشی اور بغاوت میں حد پار کر گیا۔ نبی کا کام یہی ہے کہ ظالم کو حق کی دعوت دے۔
دیکھیے، اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون جیسے ظالم کے سامنے بھی نہایت نرم انداز سکھایا — کہ پہلے پیار سے دعوت دو: کیا تو اپنے کفر اور گناہوں سے پاک ہونا چاہتا ہے؟ یعنی ظالم کو بھی سدھرنے کا موقع نرمی سے دینا چاہیے۔
موسیٰ علیہ السلام فرعون سے کہیں گے کہ میں تجھے تیرے سچے رب کی پہچان کراؤں، تاکہ تیرے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو اور تو سیدھے راستے پر آ جائے۔ اللہ کی پہچان اور اس کا خوف ہی انسان کو سنوارتا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اللہ کی بڑی نشانی دکھائی — جیسے لاٹھی کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا چمکنا۔ یہ کھلی نشانیاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ موسیٰ علیہ السلام سچے نبی ہیں اور اللہ ہی سچا رب ہے۔
اتنی واضح نشانی دیکھنے کے باوجود فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اللہ کی نافرمانی پر اڑا رہا۔ یہ تکبر اور ضد کی انتہا تھی — حق سامنے ہو پھر بھی انکار کرنا۔
فرعون حق سے منہ موڑ کر پوری کوشش کرنے لگا کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو روکے اور لوگوں کو ان سے دور رکھے۔ اس نے جادوگروں کو جمع کیا اور حق کے خلاف سازشیں کیں۔
فرعون نے اپنے درباری، جادوگر اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور بلند آواز سے اعلان کیا، تاکہ اپنی طاقت دکھائے اور لوگوں کو موسیٰ علیہ السلام کے خلاف بھڑکائے۔
یہ فرعون کے تکبر اور سرکشی کی انتہا تھی کہ اس نے خود کو سب سے بڑا رب ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ ایک کمزور انسان، جو خود اللہ کا محتاج تھا، خدائی کا دعویٰ کرنے لگا — یہ غرور کی سب سے بری شکل ہے۔
اللہ نے فرعون کو اس کے تکبر کی سزا دی — دنیا میں اسے سمندر میں ڈبو دیا، اور آخرت میں اس کے لیے سخت عذاب ہے۔ یعنی اس کی سرکشی کا انجام دونوں جہانوں میں رسوائی اور عذاب ہوا۔ یہ ہر سرکش کے لیے عبرت ہے۔
فرعون کے اس انجام میں ہر اس شخص کے لیے بڑی نصیحت اور عبرت ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو۔ جو ڈرتا ہے، وہی سبق سیکھتا ہے۔ منکروں کو سوچنا چاہیے کہ جو فرعون جیسے طاقتور کا یہ حال ہوا، تو ان کا کیا ہوگا۔
اب اللہ منکروں سے سوال کرتے ہیں جو بعث کو ناممکن سمجھتے تھے: کیا تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اتنا عظیم آسمان بنانا؟ جس اللہ نے یہ وسیع آسمان بنایا، اس کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟
اللہ نے آسمان کو بہت بلند بنایا اور اسے ہر طرح سے درست اور مکمل کیا — نہ اس میں کوئی دراڑ، نہ کوئی خامی۔ یہ سب اللہ کی عظیم قدرت کی نشانیاں ہیں۔
اللہ نے رات کو اندھیرا بنایا تاکہ مخلوق آرام کرے، اور دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ کام کاج کریں۔ رات اور دن کا یہ نظام بھی اللہ کی قدرت اور انسان پر اس کی مہربانی کی نشانی ہے۔
اللہ نے زمین کو پھیلا کر رہنے کے قابل بنایا، تاکہ انسان اور دیگر مخلوق اس پر آباد ہو سکیں۔ ”دَحَاهَا“ یعنی اسے بچھایا اور ہموار کیا۔ یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے۔
اللہ نے زمین سے چشمے اور پانی نکالا، اور اس سے سبزہ اور چارہ اگایا، تاکہ انسان اور جانور دونوں کی خوراک کا انتظام ہو۔ یہ سب اللہ کی قدرت اور اس کے بے شمار احسانات کی نشانیاں ہیں۔
اللہ نے پہاڑوں کو زمین میں مضبوطی سے جما دیا تاکہ زمین ہلے نہ، بلکہ ٹھہری رہے۔ پہاڑ زمین کے لیے میخوں اور کھونٹوں کی طرح ہیں جو اسے قائم رکھتے ہیں۔
یہ ساری نعمتیں — پانی، چارہ، پہاڑ، زمین — سب تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے اور گزر بسر کے لیے بنائی گئیں۔ جب اللہ نے اتنا اہتمام کیا، تو انسان کو اس کا شکر ادا کرنا اور اس کی بات ماننی چاہیے۔
اب پھر بات قیامت کی طرف آتی ہے۔ ”الطَّامَّة الْکُبْرَىٰ“ یعنی وہ سب سے بڑی آفت جو ہر چیز پر چھا جائے گی — یعنی قیامت کا دن۔ اس دن کی ہولناکی ہر چیز سے بڑھ کر ہوگی۔
اس دن انسان کو اپنے سارے اعمال یاد آ جائیں گے — جو نیکیاں اور برائیاں اس نے دنیا میں کیں۔ مگر یاد آنے سے اب کوئی فائدہ نہ ہوگا، کیونکہ عمل کا وقت گزر چکا ہوگا۔ یہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ آج ہی، اسی دنیا میں، نیک اعمال جمع کر لیں۔
اس دن جہنم سب کے سامنے کھول کر رکھ دی جائے گی، تاکہ ہر شخص اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ یہ منظر گناہ گاروں کے لیے خوف اور رسوائی کا ہوگا، اور سب کو اپنے انجام کا اندازہ ہو جائے گا۔
اب دو طرح کے لوگوں کا انجام بتایا جا رہا ہے۔ پہلے وہ جس نے سرکشی کی، اللہ کی حدوں کو پار کیا اور نافرمانی کی زندگی گزاری — جیسے فرعون نے کیا تھا۔
اور جس نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی، یعنی صرف دنیا کے مزے اور فائدے کے پیچھے بھاگتا رہا اور آخرت کو بھلا دیا۔ یہی غفلت انسان کو سرکشی اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔
ایسے سرکش اور دنیا پرست شخص کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، اسے آخرت میں جہنم کا عذاب ملے گا۔ یہ اس کے اپنے انتخاب کا نتیجہ ہے۔
دوسری طرف وہ شخص ہے جو اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا، اور اسی خوف کی وجہ سے اس نے اپنے نفس کو ناجائز خواہشوں اور گناہوں سے روکے رکھا۔ یعنی اس نے اللہ کے ڈر سے اپنی خواہشات پر قابو پایا۔
ایسے پرہیزگار شخص کا ٹھکانہ جنت ہوگا، جہاں ہمیشہ کی نعمتیں اور راحت ہے۔ جس نے دنیا میں اللہ کے خوف سے اپنی خواہشات پر قابو پایا، اسے آخرت میں دائمی خوشی ملے گی۔ یہ دونوں انجام ہمیں اپنا راستہ سوچ سمجھ کر چننے کی دعوت دیتے ہیں۔
کافر نبی کریم ﷺ سے بار بار، طنزاً، پوچھتے تھے کہ قیامت کب آئے گی، اس کا وقت بتاؤ۔ وہ یہ سوال یقین کے لیے نہیں بلکہ مذاق اور انکار کے انداز میں کرتے تھے۔
اللہ فرماتے ہیں کہ اے نبی! قیامت کا وقت بتانا آپ کے ذمے نہیں۔ آپ کا کام تو صرف لوگوں کو خبردار کرنا ہے، اس کا ٹھیک ٹھیک وقت تو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ غیب کے ان خاص علوم میں سے ہے جو اللہ نے کسی کو نہیں بتائے۔
قیامت کا علم صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔ کسی نبی، فرشتے یا انسان کو اس کا ٹھیک وقت معلوم نہیں۔ یہ بات انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ وقت کی فکر چھوڑ کر اپنی تیاری پر دھیان دے۔
نبی کریم ﷺ کا کام قیامت کا وقت بتانا نہیں، بلکہ لوگوں کو اس دن سے خبردار کرنا ہے۔ اور اس خبرداری سے فائدہ وہی اٹھائے گا جس کے دل میں اللہ اور قیامت کا خوف ہو۔ ڈرنے والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔
یہ سورت کا آخری پیغام ہے۔ قیامت کے دن لوگوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں بس تھوڑی سی دیر — ایک شام یا ایک صبح — ہی ٹھہرے تھے۔ یعنی دنیا کی ساری زندگی، جو آج لمبی لگتی ہے، اس دن ایک پل کے برابر محسوس ہوگی۔
یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ دنیا کی اس مختصر زندگی کو غفلت میں نہ گزاریں، بلکہ آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کے لیے تیاری کریں۔
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”عبس“ کا مطلب ہے ”تیوری چڑھانا، چہرہ ترش کرنا“۔ سورت کا آغاز اسی لفظ سے ہوتا ہے، اسی لیے اس کا نام ”عبس“ رکھا گیا۔
اس سورت کے شروع میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ نبی کریم ﷺ قریش کے بڑے سرداروں کو اسلام کی دعوت دینے میں مصروف تھے، اسی امید پر کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اسی دوران ایک نابینا صحابی عبد اللہ ابن امّ مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور دین کی بات پوچھنے لگے۔ نبی ﷺ کو ان کا بار بار ٹوکنا اس وقت ناگوار گزرا اور آپ نے تھوڑی ناخوشی ظاہر کی۔ اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں، جن میں نرمی سے یہ سکھایا گیا کہ حق کا طلب گار، چاہے وہ بظاہر کمزور ہو، زیادہ توجہ کا حق دار ہے۔
اس کے بعد سورت میں قرآن کی عظمت، انسان کی ناشکری، اللہ کی نعمتوں اور آخر میں قیامت کے ہولناک دن کا ذکر ہے۔
یہاں نبی کریم ﷺ کے اس عمل کی طرف اشارہ ہے کہ آپ نے اس وقت چہرے پر تھوڑی ناخوشی ظاہر کی اور توجہ دوسری طرف کر لی۔ غور کریں کہ اللہ نے یہاں آپ کا نام لے کر مخاطب نہیں کیا، بلکہ پیار اور احترام کے انداز میں ”اُس نے“ کہا — یہ بھی اللہ کی اپنے نبی ﷺ سے محبت کی نشانی ہے۔
وہ نابینا صحابی عبد اللہ ابن امّ مکتوم رضی اللہ عنہ تھے، جو دین کی بات سیکھنے کے لیے آئے تھے۔ وہ نہایت مخلص اور سچے طالبِ حق تھے۔ ان کی آمد ہی وہ موقع تھا جس پر یہ آیات اتریں۔
اب اللہ نرمی سے سمجھاتے ہیں: اے نبی! آپ کو کیا خبر، شاید یہی نابینا آپ کی بات سن کر اپنے دل اور عمل کو گناہوں سے پاک کر لیتا اور نیکی میں آگے بڑھ جاتا۔ یعنی اصل قیمت ظاہری حیثیت کی نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی اور سچی طلب کی ہے۔
یا کم از کم وہ نصیحت سن کر اس پر غور کرتا اور یہ نصیحت اس کے دل میں اتر جاتی اور اسے فائدہ پہنچاتی۔ ایسا سچا طالب جو خود چل کر علم سیکھنے آیا ہو، اسی کو ترجیح دینی چاہیے تھی۔
یہاں اشارہ ان قریشی سرداروں کی طرف ہے جو اپنے مال و دولت اور حیثیت کی وجہ سے دین سے بے پروا تھے اور سمجھتے تھے کہ انہیں کسی کی ضرورت نہیں۔ ”استغنیٰ“ یعنی وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے۔
ایسے بے پروا اور مغرور شخص کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے آپ پوری توجہ اور دلچسپی دکھا رہے تھے، اس امید پر کہ شاید وہ ایمان لے آئے۔ یہ نیّت تو اچھی تھی، مگر اللہ نے بتایا کہ ترجیح کس کو دینی چاہیے۔
اللہ سمجھاتے ہیں کہ اگر وہ مغرور شخص ایمان نہیں لاتا اور اپنے آپ کو پاک نہیں کرتا، تو اس کا بوجھ آپ پر نہیں۔ نبی کا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے؛ کسی کو زبردستی ہدایت دینا آپ کے ذمے نہیں۔
یہ اشارہ پھر اسی نابینا صحابی کی طرف ہے، جو شوق اور لگن کے ساتھ خود چل کر، بلکہ دوڑتا ہوا، علم اور ہدایت کی طلب میں آیا تھا۔ یہی سچی طلب اللہ کے ہاں قیمتی ہے۔
وہ صحابی دل میں اللہ کا خوف رکھتے تھے، یعنی ان کی طلب میں اخلاص اور تقویٰ تھا۔ علم کے ساتھ اللہ کا ڈر ہی اصل میں انسان کو سنوارتا ہے۔ ایسا شخص ہر توجہ کا حق دار ہے۔
ایسے سچے اور مخلص طالب سے آپ نے اس وقت تھوڑی بے توجہی کی۔ ان آیات کا مقصد یہ سکھانا ہے کہ دین میں کسی کی ظاہری حیثیت نہیں، بلکہ اس کی سچائی اور اخلاص دیکھنا چاہیے۔ یہ نبی ﷺ کے لیے نرم تربیت تھی، اور امت کے لیے ہمیشہ کا سبق۔
”کَلَّا“ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ پھر بات کا رخ بدل کر قرآن کی عظمت کی طرف آتا ہے۔ یہ قرآن ایک نصیحت ہے — ہر اس شخص کے لیے جو اسے قبول کرنا چاہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور۔
ہدایت قبول کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ جو چاہے اس قرآن کی نصیحت کو یاد رکھے، اس پر عمل کرے اور فائدہ اٹھائے۔ اللہ نے کسی پر زبردستی نہیں کی، راستہ دکھا دیا، اب چلنا انسان کی مرضی پر ہے۔
یہ قرآن اللہ کے ہاں نہایت عزت والے صحیفوں (لوحِ محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی یہ کوئی معمولی کلام نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں اس کا بہت بلند مقام ہے۔
وہ صحیفے بلند مرتبہ ہیں اور ہر قسم کی آلائش، کمی بیشی اور باطل سے پاک ہیں۔ یعنی قرآن کا متن بالکل خالص، محفوظ اور پاکیزہ ہے، اس میں کسی غلطی یا ملاوٹ کا کوئی امکان نہیں۔
یہ صحیفے ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان پیغام پہنچانے والے ہیں۔ ”سَفَرَة“ سفیروں کو کہتے ہیں — یعنی وہ فرشتے جو اللہ کا کلام لکھتے اور پہنچاتے ہیں۔
یہ فرشتے اللہ کے ہاں بہت معزز اور نہایت نیک ہیں۔ ان کے اخلاق اور اعمال پاکیزہ ہیں۔ جب قرآن کو لکھنے اور پہنچانے والے اتنے معزز ہیں، تو خود قرآن کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
یہاں اس انسان پر افسوس اور ملامت ہے جو اللہ کی اتنی نعمتوں کے باوجود اس کا انکار اور ناشکری کرتا ہے۔ ”قُتِلَ الإنسان“ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے ”اس انسان پر پھٹکار ہو، وہ ہلاک ہو“۔ یعنی کتنی بڑی محرومی ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے ہی کو بھول جائے۔
اب اللہ انسان کو اس کی اپنی حقیقت یاد دلاتے ہیں۔ ذرا سوچ تو سہی، تجھے کس چیز سے بنایا گیا؟ یہ سوال اس لیے ہے کہ انسان اپنی اصل کو یاد کر کے اپنا تکبر چھوڑ دے اور اپنے خالق کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔
اللہ نے انسان کو ایک معمولی پانی کے قطرے (نطفے) سے بنایا، پھر اس کے مرحلے، اس کی شکل، اس کی صلاحیتیں اور اس کی عمر — سب کا اندازہ اور نقشہ مقرر کیا۔ جو انسان ایک حقیر قطرے سے بنا، اسے تکبر کیسے زیب دیتا ہے؟
پھر اللہ نے انسان کے لیے دنیا میں آنے کا راستہ (ماں کے پیٹ سے پیدائش) آسان کیا، اور ساتھ ہی زندگی گزارنے کا اور بھلائی و برائی پہچاننے کا راستہ بھی آسان کر دیا۔ یعنی انسان کو سمجھ بوجھ اور رہنمائی دونوں عطا کیں۔
زندگی کے بعد اللہ نے اسے موت دی، اور پھر اسے عزت کے ساتھ قبر میں دفن کرنے کا انتظام کیا — یہ بھی اللہ کا انسان پر احسان ہے کہ مرنے کے بعد اس کا جسم یونہی پڑا نہیں رہتا بلکہ اسے چھپایا جاتا ہے۔
جس اللہ نے پہلی بار ایک قطرے سے بنایا، وہی قیامت کے دن، جب چاہے گا، اسے دوبارہ زندہ کر کے قبر سے اٹھائے گا۔ جو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے، اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟
اتنی نعمتوں کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ اس نے اللہ کے حکموں کو پوری طرح ادا نہیں کیا، نہ اس کا شکر صحیح سے بجا لایا۔ یہ انسان کی کوتاہی اور ناشکری کی طرف اشارہ ہے، کہ اسے اپنے رویّے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔
اللہ انسان کو ایک سادہ مگر گہری بات کی طرف بلاتے ہیں: ذرا اپنے روزانہ کے کھانے پر ہی غور کر لو کہ یہ کیسے بنتا ہے۔ اسی غور و فکر سے اللہ کی قدرت اور اس کی نعمتیں سامنے آ جاتی ہیں۔
ہم نے آسمان سے خوب بارش برسائی۔ یہی پانی زمین کی زندگی کا سبب ہے، اور اسی سے انسان اور جانور دونوں کی خوراک پیدا ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
پھر ہم نے زمین کو پھاڑا تاکہ اس میں سے سبزہ اور پودے نکلیں۔ بیج زمین کے اندر سے پھوٹ کر باہر آتا ہے — یہ بظاہر سادہ عمل بھی اللہ کی قدرت کا کمال ہے۔
پھر اسی زمین سے ہم نے طرح طرح کا اناج (گندم، جو، چاول وغیرہ) اگایا، جو انسان کی بنیادی غذا ہے۔ ایک قطرے پانی سے اتنی خوراک کا پیدا ہونا اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔
اور انگور جیسے میٹھے پھل اور سبز ترکاریاں اور چارہ بھی اگایا۔ ”قَضْب“ وہ تر سبزہ ہے جسے بار بار کاٹا جاتا ہے، جیسے جانوروں کا چارہ۔ یہ سب اللہ کی رنگارنگ نعمتیں ہیں۔
اور زیتون، جس کا تیل اور پھل دونوں فائدہ مند ہیں، اور کھجور کے درخت، جو میٹھا اور غذائیت سے بھرپور پھل دیتے ہیں۔ ہر نعمت کا الگ ذکر اس لیے ہے کہ انسان غور کرے اور شکر ادا کرے۔
اور ایسے باغ جن کے درخت بڑے، گھنے اور خوب پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ باغ نہ صرف پھل دیتے ہیں بلکہ سایہ اور خوبصورتی بھی فراہم کرتے ہیں۔
اور طرح طرح کے پھل جو انسان کھاتا ہے، اور گھاس و چارہ جو جانوروں کی خوراک ہے۔ یعنی اللہ نے انسان اور اس کے جانوروں دونوں کے کھانے کا بندوبست کیا۔
یہ ساری پیداوار تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے اور گزر بسر کے لیے ہے۔ جب اللہ نے کھانے پینے تک کا اتنا اہتمام کیا، تو انسان کو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے، نہ کہ ناشکری کرنی چاہیے۔
اب بات قیامت کی طرف آتی ہے۔ ”الصَّاخَّة“ وہ ہولناک اور زوردار آواز (دوسرا صور) ہے جو اتنی شدید ہوگی کہ کان بہرے کر دے گی۔ یہی وہ لمحہ ہوگا جب قیامت قائم ہوگی اور سب لوگ اللہ کے سامنے جمع ہوں گے۔
اس دن کا خوف اتنا شدید ہوگا کہ انسان اپنے سب سے قریبی رشتوں سے بھی بھاگے گا — یہاں تک کہ اپنے سگے بھائی سے بھی۔ ہر ایک کو اپنی فکر ہوگی، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ رہے گا۔
اور اپنی ماں اور باپ سے بھی، جو دنیا میں سب سے زیادہ پیارے اور قریبی رشتے ہیں۔ جس ماں باپ کی خدمت اور محبت کا حکم ہے، اس دن انسان ان سے بھی دور بھاگے گا — یہ اس دن کی ہولناکی کا اندازہ دلاتا ہے۔
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھی۔ یعنی دنیا کے سارے محبت بھرے رشتے اس دن کام نہ آئیں گے۔ ہر شخص صرف اپنے اعمال کے ساتھ تنہا کھڑا ہوگا اور اپنا حساب خود دے گا۔
اس دن ہر انسان اپنی ہی فکر میں اتنا مصروف ہوگا کہ اسے کسی اور کا خیال نہ رہے گا۔ اپنی نجات کی فکر اسے سب سے بے پروا کر دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتوں سے بھی بھاگے گا۔
اب دو طرح کے لوگوں کا انجام بتایا جا رہا ہے۔ ایک طرف نیک لوگوں کے چہرے ہوں گے جو خوشی اور کامیابی سے چمک رہے ہوں گے۔ یہ ان کے ایمان اور نیک اعمال کا نتیجہ ہوگا۔
یہ نیک لوگوں کے چہرے خوشی سے ہنس رہے ہوں گے اور جنت کی خوشخبری پا کر دل سے مسرور ہوں گے۔ ان کے لیے وہ دن کامیابی اور انعام کا دن ہوگا۔
دوسری طرف بدکار اور منکر لوگوں کے چہرے ہوں گے، جن پر گرد و غبار اور پریشانی چھائی ہوگی۔ یہ ان کی ناکامی اور غم کی علامت ہوگی۔
ان چہروں پر گرد کے ساتھ ساتھ کالک اور سیاہی بھی چھا رہی ہوگی۔ یعنی ان کی رسوائی اور غم دونوں ان کے چہروں سے ظاہر ہوں گے۔ یہ کفر اور نافرمانی کا انجام ہے۔
یہ سورت کا آخری پیغام ہے۔ جن چہروں پر گرد اور سیاہی ہوگی، وہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اللہ کا انکار کیا (کفر) اور کھلے گناہوں کی زندگی گزاری (فجور)۔ یعنی کفر اور بدکرداری دونوں مل کر انسان کو اس انجام تک پہنچاتے ہیں۔ سورت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم ناشکری اور غفلت چھوڑ کر ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے چہرے اس دن روشن ہوں گے۔
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”تکویر“ کا مطلب ہے ”لپیٹ دینا“۔ پہلی آیت میں سورج کے لپیٹ دیے جانے کا ذکر ہے، اسی لیے سورت کا نام ”التکویر“ رکھا گیا۔
سورت دو حصوں میں ہے۔ پہلے حصے (آیت ۱ تا ۱۴) میں قیامت کی بارہ بڑی نشانیاں بیان کی گئیں — جب پوری کائنات کا نظام الٹ پلٹ ہو جائے گا۔ دوسرے حصے (آیت ۱۵ تا ۲۹) میں قرآن کی سچائی، جبرئیلؑ کی عظمت اور نبی کریم ﷺ کی سچائی بیان کی گئی، اور بتایا گیا کہ یہ قرآن پوری دنیا کے لیے نصیحت ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے، وہ سورۂ تکویر پڑھے، کیونکہ اس میں قیامت کا منظر بہت واضح کھینچا گیا ہے۔
قیامت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ یہ روشن اور چمکتا سورج، جو دنیا کو روشنی اور گرمی دیتا ہے، اللہ کے حکم سے لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی ختم ہو جائے گی۔ جیسے کوئی پگڑی یا چادر لپیٹ کر بے کار کر دی جائے، ویسے ہی سورج کی روشنی سمیٹ لی جائے گی اور وہ اندھیرا ہو جائے گا۔
آج انسان سورج کو دیکھ کر اللہ کی قدرت کا اندازہ کر سکتا ہے، اور اس دن اسی سورج کا بے نور ہو جانا قیامت کی ہولناکی کی پہلی علامت ہوگا۔
جو ستارے آج رات کے اندھیرے میں چمکتے ہیں اور آسمان کی زینت ہیں، قیامت کے دن ان کی روشنی ختم ہو جائے گی اور وہ ٹوٹ کر گر پڑیں گے۔ سورج کے بعد ستاروں کا بے نور ہونا بتاتا ہے کہ آسمان کا سارا روشنی کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
آج پہاڑ اتنے بھاری اور مضبوط ہیں کہ زمین کو تھامے ہوئے کھونٹوں کی طرح جمے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن یہی پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور بادلوں کی طرح ہوا میں اڑتے اور چلتے پھریں گے۔ آخرکار یہ ریزہ ریزہ ہو کر دھنکی ہوئی روئی کی طرح بکھر جائیں گے۔
جو چیز سب سے زیادہ مضبوط اور ٹھہری ہوئی نظر آتی ہے، اس کا بھی اس دن چلنا بتاتا ہے کہ اس دن کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی۔
”عِشار“ ان اونٹنیوں کو کہتے ہیں جو دس ماہ کی گابھن (حاملہ) ہوں۔ عرب کے لوگوں کے نزدیک یہ سب سے قیمتی مال تھیں، کیونکہ یہ بہت جلد بچہ اور دودھ دینے والی ہوتیں۔ ایسی قیمتی اونٹنیوں کو کوئی لمحہ بھر کے لیے بھی نہ چھوڑتا تھا۔
مگر قیامت کے دن کا خوف ایسا ہوگا کہ لوگ اپنی سب سے قیمتی چیز کو بھی بے کار اور لاوارث چھوڑ دیں گے۔ کسی کو اپنے مال کی فکر نہ رہے گی، ہر ایک کو صرف اپنی جان کی پڑی ہوگی۔
جو جنگلی جانور آج ایک دوسرے سے ڈر کر اور بھاگ کر جنگلوں میں الگ الگ رہتے ہیں، قیامت کے دن کا خوف ایسا ہوگا کہ وہ سب اپنے ٹھکانے چھوڑ کر ایک جگہ گھبرا کر اکٹھے ہو جائیں گے۔ شیر اور ہرن، بھیڑیا اور بکری — سب کو اس دن کی دہشت ایک جگہ جمع کر دے گی۔
کچھ مفسرین کہتے ہیں کہ جانوروں کو بھی اللہ کے سامنے جمع کیا جائے گا، اور ان کے درمیان جو ظلم ہوا (جیسے بے سینگ والے جانور سے سینگ والے نے بدلہ لیا) اس کا انصاف ہوگا، پھر انہیں مٹی بنا دیا جائے گا۔
آج سمندروں میں ٹھنڈا پانی بھرا ہے۔ قیامت کے دن یہی سمندر آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ پانی، جو آگ کو بجھاتا ہے، خود آگ بن جائے گا — یہ اللہ کی قدرت کی انتہائی نشانی ہے۔
کچھ مفسرین کہتے ہیں کہ سب سمندر آپس میں مل کر ایک ہو جائیں گے اور پھیل جائیں گے۔ دونوں مطلب اللہ کی قدرت اور اس دن کی ہولناکی کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کی بات شروع ہوتی ہے، یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بعد لوگوں کا جمع ہونا۔ اس دن ہر طرح کے لوگ اپنے جیسوں کے ساتھ ملا دیے جائیں گے — نیک لوگ نیکوں کے ساتھ اور برے لوگ بروں کے ساتھ۔
ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہر روح کو اس کے جسم کے ساتھ دوبارہ ملا دیا جائے گا تاکہ حساب کے لیے کھڑے ہوں۔ یعنی جو ساتھی دنیا میں تھے، آخرت میں بھی اپنے اپنے گروہ کے ساتھ ہوں گے۔
زمانۂ جاہلیت میں بعض عرب لوگ بیٹیوں کو عار (شرم) سمجھ کر پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ یہ بہت بڑا ظلم تھا۔ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اس بے گناہ بچی سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس گناہ کے بدلے قتل کیا گیا تھا؟
یہ سوال دراصل ظالم کو شرمندہ اور رسوا کرنے کے لیے ہے۔ جب بے گناہ مظلوم سے پوچھا جائے گا تو ظالم کا جرم سب کے سامنے کھل جائے گا۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے ہاں کمزور اور مظلوم کا پورا حق محفوظ ہے اور اس کا حساب ضرور ہوگا۔
یہ اسی سوال کی وضاحت ہے۔ اس معصوم بچی کا تو کوئی قصور ہی نہ تھا، پھر اسے کیوں مار دیا گیا؟ یہ سوال ظالم باپ اور اس معاشرے کے لیے ہے جس نے یہ ظلم کیا۔
اس آیت سے اسلام کی وہ تعلیم سامنے آتی ہے کہ بیٹی کوئی بوجھ یا شرم نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت ہے۔ بے گناہ کو قتل کرنا، خاص طور پر اپنی اولاد کو، بہت بڑا گناہ ہے جس کا حساب ضرور ہوگا۔
دنیا میں فرشتوں نے ہر انسان کے اعمال لکھ کر اس کا اعمال نامہ تیار کیا تھا۔ قیامت کے دن یہ سب اعمال نامے کھول کر ہر ایک کے سامنے رکھ دیے جائیں گے۔
نیک لوگوں کو ان کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ خوش ہوں گے، جبکہ برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ پریشان ہوں گے۔ اس دن ہر عمل سب کے سامنے کھل جائے گا، کچھ بھی چھپا نہ رہے گا۔
جیسے بکری یا جانور کی کھال کھینچ کر اتار دی جاتی ہے، ویسے ہی قیامت کے دن آسمان کو اپنی جگہ سے اتار کر ہٹا دیا جائے گا اور لپیٹ دیا جائے گا۔ جو آسمان آج چھت کی طرح ہمارے اوپر تنا ہوا ہے، وہ اس دن باقی نہ رہے گا۔
قیامت کے دن جہنم کی آگ کو خوب تیز اور بھڑکا دیا جائے گا تاکہ گناہ گاروں کو سزا دی جائے۔ یہ آگ دنیا کی آگ سے کئی گنا زیادہ سخت اور خوفناک ہوگی۔
دوسری طرف نیک لوگوں کے لیے جنت کو ان کے قریب لے آیا جائے گا تاکہ وہ اس کی نعمتیں دیکھ کر خوش ہوں اور آسانی سے اس میں داخل ہو جائیں۔ جہنم کے بھڑکنے کے ساتھ جنت کے قریب آنے کا ذکر بتاتا ہے کہ اس دن دونوں انجام بالکل سامنے ہوں گے۔
یہ پہلے حصے کا نچوڑ ہے۔ جب یہ ساری نشانیاں ظاہر ہوں گی، تو اس وقت ہر انسان کو اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ وہ اپنے ساتھ کیا اعمال لے کر آیا ہے — نیکیاں یا برائیاں۔
دنیا میں انسان غفلت میں رہتا ہے، مگر اس دن سب کچھ سامنے ہوگا اور کوئی بہانہ نہ چلے گا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ابھی، اسی دنیا میں، اپنے اعمال درست کر لیے جائیں۔
یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ قیامت کی نشانیوں کے بعد اب اللہ قرآن کی سچائی پر گواہی دیتے ہیں اور اس کے لیے ستاروں اور سیّاروں کی قسم کھاتے ہیں۔ ”خُنَّس“ ان سیّاروں کو کہتے ہیں جو دن میں نظر نہیں آتے اور چھپ جاتے ہیں۔
قرآن میں قسم کسی چیز کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ یہاں اللہ اپنی عظیم مخلوق (ستاروں) کی قسم کھا کر آگے آنے والی بات کی سچائی پر زور دے رہے ہیں۔
یہ پچھلی آیت کی قسم کا تسلسل ہے۔ یہ ستارے اور سیّارے اپنے مقررہ راستوں پر چلتے رہتے ہیں، پھر اپنے ٹھکانوں میں ایسے چھپ جاتے ہیں جیسے ہرن اپنے بھٹ میں چھپ جاتا ہے۔
ان آیات میں اللہ کی قدرت کی نشانی بھی ہے، کہ یہ سب ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ جو اللہ اتنا بڑا نظام چلا رہا ہے، اس کا کلام (قرآن) یقیناً سچا ہے۔
اللہ رات کی بھی قسم کھاتے ہیں۔ ”عَسْعَسَ“ کا مطلب رات کا ختم ہونا بھی ہے اور شروع ہونا بھی۔ یعنی جب رات اپنے اندھیرے کے ساتھ آتی ہے یا جب وہ ختم ہو کر صبح کے قریب پہنچتی ہے۔
رات اور دن کا یہ نظام بھی اللہ کی بڑی نشانی ہے۔ ان عظیم مخلوقات کی قسم کھانے کا مقصد آگے آنے والی بات (قرآن کی سچائی) کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔
اللہ صبح کی بھی قسم کھاتے ہیں، جب اس کی روشنی آہستہ آہستہ پھیلنے لگتی ہے اور اندھیرا چھٹ جاتا ہے۔ ”تَنَفَّسَ“ (سانس لینا) خوبصورت تشبیہ ہے، گویا صبح کی روشنی زندگی کی سانس کی طرح آہستہ آہستہ پھیلتی ہے۔
رات کا اندھیرا اور صبح کی روشنی — دونوں اللہ کی قدرت کا کمال ہیں۔ ان کی قسم کھا کر اللہ آگے قرآن اور جبرئیلؑ کی عظمت بیان کرنے والے ہیں۔
اب وہ بات آتی ہے جس کے لیے اوپر قسمیں کھائی گئیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں، بلکہ ایک معزز فرشتے (جبرئیل علیہ السلام) کا اللہ کی طرف سے لایا ہوا پیغام ہے۔
یہاں ”رسول“ سے مراد جبرئیلؑ ہیں، جو اللہ کا پیغام نبی کریم ﷺ تک پہنچانے والے ہیں۔ مطلب یہ کہ قرآن کا سرچشمہ اللہ ہے، اور اسے لانے والا ایک عظیم اور معزز فرشتہ ہے۔
یہاں جبرئیلؑ کی صفات بیان کی جا رہی ہیں۔ وہ بہت طاقتور فرشتہ ہیں اور اللہ (عرش کے مالک) کے ہاں بلند اور معزز مقام رکھتے ہیں۔ اللہ نے انہیں خاص قوت اور مرتبہ عطا کیا ہے۔
جب پیغام لانے والا اتنا طاقتور اور معزز ہے، تو پیغام (قرآن) کی عظمت اور سچائی کا اندازہ خود بخود ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ کلام ہر شک سے پاک ہے۔
جبرئیلؑ کی مزید دو صفات بتائی گئیں۔ ایک یہ کہ آسمان میں دوسرے فرشتے ان کی بات مانتے ہیں، یعنی وہ فرشتوں کے سردار ہیں۔ دوسری یہ کہ وہ بہت امانت دار ہیں — اللہ کا پیغام بغیر کسی کمی بیشی کے، پوری امانت کے ساتھ پہنچاتے ہیں۔
امانت دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جبرئیلؑ نے اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں ملایا، جو کچھ اللہ نے کہا، ویسا ہی پہنچایا۔ اس لیے یہ قرآن بالکل خالص اور قابل اعتماد ہے۔
کافر نبی کریم ﷺ پر طرح طرح کے الزام لگاتے تھے، کبھی کہتے کہ (نعوذ باللہ) یہ دیوانے ہیں۔ اللہ ان کا جواب دیتے ہیں کہ تمہارا ساتھی — جسے تم برسوں سے جانتے ہو، جس کی سچائی اور امانت داری کے تم خود گواہ ہو — ہرگز دیوانہ نہیں ہے۔
”صاحِب“ (ساتھی) کہہ کر یاد دلایا گیا کہ یہ تمہارے درمیان کے ہی ہیں، تم ان کی پوری زندگی جانتے ہو، پھر ان پر ایسا جھوٹا الزام کیسے لگاتے ہو؟
نبی کریم ﷺ نے جبرئیلؑ کو ان کی اصل اور حقیقی شکل میں آسمان کے کھلے روشن کنارے پر دیکھا تھا۔ یہ ثبوت ہے کہ وحی واقعی فرشتے کے ذریعے آئی، یہ کوئی خیال یا وہم نہیں تھا۔
یعنی جو پیغام نبی ﷺ کو ملا، وہ سچ مچ آسمان سے، جبرئیلؑ کے ذریعے آیا۔ نبی ﷺ نے خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا، اس لیے ان کی بات میں کوئی شک نہیں۔
اللہ نے نبی کریم ﷺ کو غیب کی جو باتیں اور وحی عطا کی، وہ انہیں چھپاتے نہیں، نہ ان میں بخل کرتے ہیں۔ بلکہ جو کچھ اللہ نے انہیں سکھایا، وہ پوری امانت داری سے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
یعنی نبی ﷺ نے اللہ کا پیغام بغیر کسی کمی کے، بغیر کچھ چھپائے، سب لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہ ان کی سچائی اور امانت داری کی دلیل ہے۔
کافر کبھی کہتے کہ یہ قرآن شیطان یا جنوں کی طرف سے ہے۔ اللہ صاف انکار کرتے ہیں کہ یہ کسی مردود شیطان کا کلام ہرگز نہیں۔ شیطان تو برائی اور گمراہی کی طرف بلاتا ہے، جبکہ قرآن نیکی، توحید اور پاکیزگی سکھاتا ہے۔
قرآن کا پیغام اور شیطان کا کام ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں، اس لیے یہ ناممکن ہے کہ قرآن شیطان کی طرف سے ہو۔ یہ تو صرف اور صرف اللہ کا کلام ہے۔
یہ ایک جھنجھوڑ دینے والا سوال ہے۔ جب اتنی واضح سچائی سامنے آ گئی — قرآن اللہ کا کلام ہے، جبرئیلؑ معزز فرشتہ ہیں، نبی ﷺ سچے ہیں — تو پھر اے لوگو! تم اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر کدھر بھٹک رہے ہو؟
یہ ان لوگوں کے لیے نرمی بھری ملامت ہے جو حق سے منہ موڑ کر گمراہی کی طرف جا رہے ہیں۔ گویا کہا جا رہا ہے: عقل سے کام لو اور سیدھے راستے پر آ جاؤ۔
قرآن کسی ایک قوم یا علاقے کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے سب انسانوں اور جنوں کے لیے نصیحت اور رہنمائی ہے۔ یہ ہر زمانے اور ہر جگہ کے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔
”ذِکر“ کا مطلب نصیحت اور یاد دہانی ہے — یعنی قرآن انسان کو اس کے رب، اس کے مقصدِ زندگی اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔
یہ نصیحت اس کے لیے فائدہ مند ہے جو خود سیدھے راستے پر چلنا چاہے۔ قرآن راستہ دکھاتا ہے، مگر اس پر چلنے کے لیے انسان کو اپنی مرضی اور کوشش سے قدم اٹھانا ہوتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ ہدایت قبول کرے یا نہ کرے۔
یعنی جو شخص نیک بننا چاہے اور حق کو دل سے قبول کرے، قرآن اس کے لیے سچی رہنمائی ہے۔ ہدایت زبردستی نہیں، بلکہ چاہنے والوں کے لیے ہے۔
یہ سورت کی آخری اور بہت اہم بات ہے۔ پچھلی آیت میں بتایا گیا کہ ہدایت چاہنے والے کے لیے ہے، تو یہاں ساتھ یہ بھی واضح کر دیا کہ انسان کی یہ ”چاہت“ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔
یعنی انسان کو اختیار اور ارادہ ضرور دیا گیا ہے، لیکن سب کچھ اللہ کی مرضی اور توفیق سے ہوتا ہے۔ یہ آیت انسان میں عاجزی پیدا کرتی ہے کہ وہ نہ تو مغرور ہو اور نہ مایوس، بلکہ ہدایت کے لیے ہمیشہ اللہ سے مدد اور توفیق مانگتا رہے۔
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”انفطار“ عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ”پھٹ جانا“۔ پہلی آیت میں آسمان کے پھٹنے کا ذکر ہے، اسی لیے سورت کا نام ”الانفطار“ رکھا گیا۔
اس سورت کا اصل مقصد انسان کو غفلت سے جگانا ہے۔ پہلے قیامت کی ہولناک نشانیاں بیان کی گئیں، پھر انسان سے پیار بھرے انداز میں سوال کیا گیا کہ اللہ نے تجھے اتنی نعمتیں دیں، پھر تو اس کی نافرمانی کیوں کرتا ہے؟ آخر میں نیک اور بد لوگوں کا انجام بتا کر آخرت کی تیاری کی دعوت دی گئی۔
قیامت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ یہ مضبوط اور بے شگاف آسمان، جو آج اتنا مظبوط ہے کہ اس میں کہیں کوئی دراڑ نظر نہیں آتی، اللہ کے حکم سے پھٹ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سورۂ ملک میں فرماتے ہیں کہ تم آسمان میں کوئی خلل یا دراڑ نہیں پاؤ گے — مگر قیامت کے دن یہی آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان سمجھے: جو نظام آج اتنا مضبوط لگتا ہے، وہ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں۔ ایک دن سب کچھ ختم ہو جائے گا اور صرف اللہ باقی رہے گا۔
جو ستارے آج آسمان میں اپنی اپنی جگہ پر جمے ہوئے اور ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں، قیامت کے دن وہ اپنی جگہ سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے اور ایک دوسرے پر گر پڑیں گے۔ آج ان کی چمک اور ترتیب اللہ کی قدرت کی نشانی ہے، اور اس دن ان کا بکھرنا اللہ کے غضب اور قیامت کی ہولناکی کی نشانی ہوگا۔
آج اللہ نے سمندروں کے درمیان پردے اور حدیں بنا رکھی ہیں، اسی لیے میٹھا اور کھارا پانی الگ الگ رہتا ہے اور پانی اپنے کناروں میں محفوظ رہتا ہے۔ قیامت کے دن یہ سب حدیں ٹوٹ جائیں گی، سمندر آپس میں مل جائیں گے اور ہر طرف پھیل کر بہہ پڑیں گے۔
کچھ مفسرین نے یہ بھی فرمایا کہ سمندروں میں آگ بھر دی جائے گی، جیسا کہ ایک اور جگہ ”سُجِّرَتْ“ (بھڑکا دیے جائیں گے) کا ذکر ہے۔ مطلب یہ کہ دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
یہاں سے بات قیامت کے دوسرے مرحلے کی طرف آتی ہے، یعنی دوبارہ زندہ کیے جانے کا۔ قبریں الٹ پلٹ کر دی جائیں گی اور جو لوگ صدیوں پہلے مر چکے تھے، وہ سب زندہ ہو کر اپنی قبروں سے باہر نکل آئیں گے تاکہ اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہوں۔
پہلی تین آیتیں دنیا کے فنا ہونے کے بارے میں تھیں، اور یہ آیت بتاتی ہے کہ فنا کے بعد دوبارہ زندگی شروع ہوگی۔ جو لوگ موت کے بعد زندگی کا انکار کرتے ہیں، یہ آیت ان کے لیے جواب ہے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ جب اوپر کی ساری نشانیاں ظاہر ہوں گی، تو اس وقت ہر انسان کو اپنے سب اعمال کا پتہ چل جائے گا۔ ”آگے بھیجا“ سے مراد وہ نیک یا برے کام ہیں جو اس نے اپنی زندگی میں خود کیے، اور ”پیچھے چھوڑا“ سے مراد وہ اثرات ہیں جو اس کے مرنے کے بعد بھی چلتے رہے۔
مثلاً کسی نے کوئی نیک کام شروع کیا، جیسے مسجد، کنواں یا اچھی تعلیم — تو اس کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہے گا۔ اور اگر کسی نے کوئی بُری رسم یا گناہ کا راستہ چھوڑا، تو اس کا گناہ بھی چلتا رہے گا۔ اس دن یہ سب اس کے سامنے آ جائے گا، کوئی چیز چھپی نہ رہے گی۔
یہ سورت کی سب سے پیاری اور اثر والی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہاں ڈانٹ کے بجائے بڑے پیار سے سوال کرتے ہیں: ”اے انسان! تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا کہ تو اپنے اتنے مہربان رب کی نافرمانی کرنے لگا؟“
غور کریں کہ اللہ نے یہاں اپنا نام ”الکریم“ (بہت کرم والا، بہت سخی) استعمال کیا۔ گویا فرما رہے ہیں کہ میری مہربانی اور بخشش کو دیکھ کر تو دلیر مت ہو۔ کچھ بزرگوں نے کہا کہ شیطان نے انسان کو دھوکا دیا، اور کچھ نے کہا کہ انسان کی اپنی نادانی اور دنیا کی محبت نے اسے دھوکے میں ڈالا۔
اس آیت میں محبت بھی ہے اور تنبیہ بھی — کہ اللہ کی مہربانی کا غلط فائدہ اٹھا کر گناہ پر بے خوف نہ ہو جاؤ۔
پچھلی آیت میں جس کریم رب کا ذکر تھا، اب اس کی مہربانیاں گنوائی جا رہی ہیں۔ پہلی نعمت یہ کہ اللہ نے تجھے ”خَلَقَ“ یعنی عدم سے پیدا کیا، جب تو کچھ بھی نہ تھا۔
دوسری نعمت ”سَوّٰی“ یعنی تیرے سب اعضاء — ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان — مکمل اور صحیح صحیح بنائے۔ تیسری نعمت ”عَدَلَ“ یعنی تیرے جسم میں خوبصورت توازن اور تناسب رکھا — دو ہاتھ برابر، دو آنکھیں برابر، ہر چیز اپنی صحیح جگہ پر۔
ذرا سوچیے، اگر ایک آنکھ ماتھے پر اور ایک ٹھوڑی پر ہوتی، یا ہاتھ چھوٹے بڑے ہوتے، تو کیا ہوتا؟ یہ سب اللہ کی مہربانی ہے جسے انسان عام سمجھ کر بھول جاتا ہے۔
اللہ نے اپنی حکمت اور مرضی سے انسان کو جیسی چاہی شکل و صورت دی۔ کسی کو مرد بنایا، کسی کو عورت؛ کسی کو لمبا، کسی کو چھوٹا؛ کسی کا رنگ گورا، کسی کا سانولا؛ کسی کی شکل ماں سے ملتی ہے، کسی کی باپ سے۔ یہ سب اللہ کی مرضی اور قدرت سے ہوا۔
مطلب یہ کہ تیری اپنی شکل و صورت میں تیرا کوئی کمال نہیں، یہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ پھر انسان کو چاہیے کہ اپنے بنانے والے کا شکر ادا کرے، نہ کہ اس سے منہ پھیرے۔
”کَلَّا“ کا مطلب ہے ”ہرگز نہیں“ — یعنی تمہارے پاس نافرمانی کا کوئی صحیح بہانہ نہیں ہے۔ اصل خرابی کی جڑ کیا ہے؟ اللہ بتاتے ہیں کہ تم لوگ ”دین“ یعنی جزا و سزا کے دن کو سچ نہیں مانتے۔
جب انسان کے دل میں یہ یقین نہ رہے کہ ایک دن حساب ہونا ہے، تو وہ بے خوف ہو کر گناہ کرنے لگتا ہے۔ یہی سب گناہوں کی اصل وجہ ہے — آخرت کو بھول جانا۔ اگر انسان کو پکا یقین ہو کہ مرنے کے بعد حساب ہوگا، تو وہ کبھی بُرے کام پر دلیر نہ ہو۔
انسان شاید سمجھتا ہے کہ جو کرتا ہے کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ اللہ یہاں بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں — ہر انسان پر فرشتے مقرر ہیں جو اس کی نگرانی کرتے ہیں اور اس کے ہر کام کو محفوظ کر لیتے ہیں۔
یہ فرشتے دو طرح کے کام کرتے ہیں: ایک طرف انسان کی حفاظت کرتے ہیں، اور دوسری طرف اس کے اعمال لکھتے ہیں۔ اس لیے یہ سوچنا کہ ”کوئی نہیں دیکھ رہا“ بالکل غلط ہے۔
یہ نگہبان فرشتے اللہ کے ہاں بہت عزت اور مرتبے والے ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کے ہر عمل کو — چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اچھا ہو یا برا — پوری ایمانداری سے لکھتے رہتے ہیں۔ ایک فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا برائیاں۔
یہی اعمال نامہ قیامت کے دن انسان کے سامنے رکھا جائے گا اور اس میں ہر چیز موجود ہوگی۔ اس لیے انسان کو ہر وقت محتاط رہنا چاہیے۔
یہ فرشتے تمہارے سب کاموں سے باخبر رہتے ہیں — وہ بھی جو تم سب کے سامنے کرتے ہو، اور وہ بھی جو تم چھپ کر اکیلے میں کرتے ہو۔ کوئی عمل ان سے پوشیدہ نہیں رہتا۔
اور یاد رہے، یہ فرشتے تو محض لکھنے والے ہیں؛ اللہ تو خود ہر چیز کا جاننے والا ہے، یہاں تک کہ دل کے خیالات کا بھی۔ اس لیے انسان کو یہ سوچ کر جینا چاہیے کہ اللہ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
اب سورت کے آخری حصے میں دو طرح کے لوگوں کا انجام بتایا جا رہا ہے۔ پہلے ”الْاَبْرَار“ یعنی نیک لوگ — وہ جو اللہ پر ایمان لائے، نیک کام کیے، اور گناہوں سے بچے۔ ان کا انجام جنت کی دائمی نعمتیں اور راحت ہوگی۔
جنت میں نہ کوئی غم ہوگا، نہ تکلیف، نہ موت۔ بس ہمیشہ کی خوشی اور آرام۔ یہ ان کی نیکیوں کا انعام ہوگا جو اللہ اپنی مہربانی سے انہیں دے گا۔
دوسری طرف ”الْفُجَّار“ یعنی بدکار اور نافرمان لوگ — وہ جنہوں نے اللہ کا انکار کیا، گناہوں کی زندگی گزاری اور آخرت کو بھلا دیا۔ ان کا ٹھکانہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔
یہاں نیک اور بد لوگوں کا انجام ساتھ ساتھ بیان کیا گیا تاکہ فرق صاف نظر آئے اور انسان سوچے کہ وہ کس راستے پر چل رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔
یہ بدکار لوگ قیامت کے دن، جسے ”یوم الدین“ یعنی بدلے کا دن کہا گیا ہے، اس آگ میں داخل کیے جائیں گے اور اس کی شدید گرمی اور تکلیف کا مزہ چکھیں گے۔
دنیا میں انہوں نے سمجھا تھا کہ کبھی حساب نہ ہوگا، مگر اس دن انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا، جب کہ تب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
یہ بات بہت سخت ہے۔ وہ لوگ نہ اس آگ سے کہیں بھاگ سکیں گے، نہ چھپ سکیں گے، نہ تھوڑی دیر کے لیے باہر نکل سکیں گے۔ ان کا عذاب ہمیشہ کا ہوگا، اس سے کوئی راہِ فرار نہ ہوگی۔
دنیا کی تکلیف تو کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتی ہے، مگر یہ عذاب ایسا ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی لیے انسان کو ابھی، اسی دنیا میں، سنبھل جانا چاہیے۔
یہ سوال انسان کو سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: تجھے کیا خبر کہ وہ دن کتنا بڑا، کتنا سخت اور کتنا ہولناک ہوگا؟ یہ انداز اس دن کی عظمت اور ڈر کو دل میں بٹھانے کے لیے ہے۔
یعنی اس دن کی سختی انسانی عقل اور تصور سے بہت اوپر ہے، اسے الفاظ میں پوری طرح بیان نہیں کیا جا سکتا۔
یہی بات دوبارہ کہی گئی۔ قرآن میں جب کوئی بات دہرائی جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ بات بہت اہم ہے اور اس پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ یہاں دہرانے کا مقصد اس دن کی ہیبت کو دل میں اور گہرا کرنا ہے۔
گویا اللہ بار بار جھنجھوڑ رہے ہیں کہ اے انسان! اس دن کو معمولی مت سمجھ، یہ بہت بڑا دن ہے، اس کی تیاری کر لے۔
یہ سورت کا آخری اور بہت اہم پیغام ہے۔ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آ سکے گا — نہ باپ بیٹے کے، نہ ماں بچے کے، نہ دوست دوست کے۔ ہر ایک کو اپنا حساب خود دینا ہوگا اور اپنے اعمال کا خود سامنا کرنا ہوگا۔
دنیا میں تو لوگ ایک دوسرے کی سفارش اور مدد کر لیتے ہیں، مگر اس دن کسی کی اپنی مرضی نہ چلے گی۔ سارا اختیار، سارا حکم اور ساری بادشاہی صرف اللہ کی ہوگی۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش تک نہ کر سکے گا۔
یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ آج ہی اپنے رب سے تعلق جوڑ لے اور نیک اعمال جمع کر لے، کیونکہ اس دن صرف اپنے اعمال ہی کام آئیں گے۔