قرآنِ کریم

پانچ سورتوں کی تفصیلی مگر آسان تفسیر
سورۃ النبأ • النازعات • عبس • التکویر • الانفطار
(پارہ ۳۰ — عربی متن مصحفِ مدینہ / روایتِ حفص سے تصدیق شدہ)

فہرست

  1. سورۃ النبأ (An-Naba)78
  2. سورۃ النازعات (An-Naziat)79
  3. سورۃ عبس (Abasa)80
  4. سورۃ التکویر (At-Takwir)81
  5. سورۃ الانفطار (Al-Infitar)82

سورۃ النبأ

مکی سورت  •  کل آیات: ۴۰  •  پارہ: ۳۰  •  ترتیب نمبر: ۷۸
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سورت کا تعارف

یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”النبأ“ کا مطلب ہے ”بڑی خبر“۔ سورت کے شروع میں اسی ”بڑی خبر“ یعنی قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے کا ذکر ہے، اسی لیے اس کا نام ”النبأ“ رکھا گیا۔ یہ ”پارہ عمّ“ (تیسویں پارے) کی پہلی سورت ہے۔

جب نبی کریم ﷺ نے قیامت اور بعث کی خبر دی، تو کافر آپس میں اس پر بحث اور تعجب کرنے لگے۔ یہ سورت ان کے اسی انکار کا جواب ہے۔ پہلے اللہ اپنی قدرت کی نشانیاں گناتے ہیں — زمین، پہاڑ، رات دن، سورج، بارش — تاکہ ثابت ہو کہ جو اللہ یہ سب کر سکتا ہے، وہ دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے۔ پھر قیامت کا منظر، اور آخر میں جہنم اور جنت کے دو انجام بیان ہوتے ہیں۔

۱
عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ
ترجمہ:
یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟
تفسیر:

سورت کا آغاز ایک سوال سے ہوتا ہے، جو کافروں کے انکار اور ان کی آپس کی بحث کی طرف اشارہ ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے قیامت کی خبر دی، تو وہ مذاق اور تعجب سے ایک دوسرے سے پوچھتے: یہ کیسی بات ہے؟ یہ سوالیہ انداز اس خبر کی عظمت اور ان کے انکار پر تنبیہ کے لیے ہے۔

لفظی وضاحت: ”عَمَّ“ یعنی کس چیز کے بارے میں، ”يَتَسَاءَلُونَ“ یعنی آپس میں پوچھتے ہیں۔
۲
عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ
ترجمہ:
اس بڑی خبر کے بارے میں۔
تفسیر:

وہ ”بڑی خبر“ قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی خبر ہے، اور اس میں قرآن کی خبر بھی شامل ہے۔ اسے ”عظیم خبر“ اس لیے کہا گیا کہ اس کا تعلق انسان کے ہمیشہ کے انجام سے ہے، اور یہی سب سے اہم حقیقت ہے۔

لفظی وضاحت: ”النَّبَإِ“ یعنی خبر، ”الْعَظِيمِ“ یعنی بڑی، عظیم۔
۳
الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ
ترجمہ:
جس کے بارے میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔
تفسیر:

اس بڑی خبر (قیامت) کے بارے میں لوگ مختلف رائے رکھتے تھے۔ کوئی اس کا انکار کرتا، کوئی شک میں تھا، اور مومن اس پر یقین رکھتے تھے۔ یہ اختلاف ہی ان کے تذبذب اور انکار کی نشانی تھا۔

لفظی وضاحت: ”مُخْتَلِفُونَ“ یعنی اختلاف کرنے والے، الگ الگ رائے رکھنے والے۔
۴
كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
ترجمہ:
ہرگز نہیں! وہ عنقریب جان لیں گے۔
تفسیر:

”کَلَّا“ یعنی ایسا نہیں جیسا وہ سمجھتے ہیں۔ اللہ انہیں تنبیہ کرتے ہیں کہ بہت جلد انہیں اس خبر کی حقیقت معلوم ہو جائے گی، جب قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہوگی۔ تب ان کا انکار کسی کام نہ آئے گا۔

لفظی وضاحت: ”كَلَّا“ یعنی ہرگز نہیں، ”سَيَعْلَمُونَ“ یعنی وہ جلد جان لیں گے۔
۵
ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
ترجمہ:
پھر (دوبارہ) ہرگز نہیں! وہ عنقریب جان لیں گے۔
تفسیر:

یہی بات دوبارہ تاکید کے ساتھ دہرائی گئی، تاکہ ان کے دل میں ڈر بیٹھ جائے۔ دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تنبیہ معمولی نہیں — قیامت ضرور آئے گی اور اس کی حقیقت سب پر کھل جائے گی۔

لفظی وضاحت: ”ثُمَّ“ یعنی پھر — یہاں تاکید کے لیے آیا ہے۔
۶
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا
ترجمہ:
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟
تفسیر:

اب اللہ اپنی قدرت کی نشانیاں گناتے ہیں تاکہ ثابت کریں کہ بعث (دوبارہ زندہ ہونا) ممکن ہے۔ اللہ نے زمین کو بستر کی طرح بچھا دیا، نرم اور ہموار، تاکہ انسان آرام سے اس پر رہے، چلے پھرے اور آباد ہو۔ یہ بظاہر عام بات بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْأَرْضَ“ یعنی زمین، ”مِهَادًا“ یعنی بچھونا، بستر۔
۷
وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا
ترجمہ:
اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا)؟
تفسیر:

اللہ نے پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنایا، جو زمین کو تھامے ہوئے ہیں تاکہ وہ ہلے نہ۔ جیسے خیمے کو میخیں مضبوطی سے قائم رکھتی ہیں، ویسے ہی پہاڑ زمین کو قائم رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کی حکمت اور قدرت کی نشانی ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْجِبَالَ“ یعنی پہاڑ، ”أَوْتَادًا“ یعنی میخیں، کھونٹے۔
۸
وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا
ترجمہ:
اور ہم نے تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا۔
تفسیر:

اللہ نے انسانوں کو جوڑوں کی شکل میں بنایا — مرد اور عورت۔ اسی سے خاندان بنتے ہیں، نسل آگے بڑھتی ہے اور انسان کو محبت و سکون ملتا ہے۔ یہ بھی اللہ کی قدرت اور حکمت کی نشانی ہے۔

لفظی وضاحت: ”خَلَقْنَاكُمْ“ یعنی ہم نے تمہیں پیدا کیا، ”أَزْوَاجًا“ یعنی جوڑے جوڑے (مرد و عورت)۔
۹
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا
ترجمہ:
اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا۔
تفسیر:

اللہ نے نیند کو تمہارے جسم کے آرام اور سکون کا ذریعہ بنایا۔ دن بھر کی تھکن کے بعد نیند سے انسان تازہ دم ہو جاتا ہے۔ یہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے، اور نیند کے بعد جاگنا گویا روزانہ کا چھوٹا سا ”بعث“ (دوبارہ اٹھنا) ہے۔

لفظی وضاحت: ”نَوْمَكُمْ“ یعنی تمہاری نیند، ”سُبَاتًا“ یعنی آرام، سکون۔
۱۰
وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا
ترجمہ:
اور رات کو پردہ (لباس) بنایا۔
تفسیر:

اللہ نے رات کو اس کے اندھیرے کے ساتھ ایک لباس اور پردے کی طرح بنایا، جو ہر چیز کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اس اندھیرے میں انسان سکون سے آرام کرتا ہے اور دن کی مصروفیت سے رک جاتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”اللَّيْلَ“ یعنی رات، ”لِبَاسًا“ یعنی پردہ، لباس (جو ڈھانپ لے)۔
۱۱
وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا
ترجمہ:
اور دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔
تفسیر:

اللہ نے دن کو روشن بنایا تاکہ انسان اس میں کام کاج کرے، روزی کمائے اور اپنی ضروریات پوری کرے۔ رات آرام کے لیے اور دن کام کے لیے — یہ کتنا خوبصورت نظام ہے جو اللہ نے انسان کے فائدے کے لیے بنایا۔

لفظی وضاحت: ”النَّهَارَ“ یعنی دن، ”مَعَاشًا“ یعنی روزی/گزر بسر کا وقت۔
۱۲
وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا
ترجمہ:
اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے۔
تفسیر:

اللہ نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے، جو نہایت پختہ اور محکم ہیں — نہ ان میں کوئی دراڑ، نہ کوئی کمزوری۔ یہ عظیم تخلیق اللہ کی بے پناہ قدرت کی گواہی دیتی ہے۔

لفظی وضاحت: ”سَبْعًا“ یعنی سات (آسمان)، ”شِدَادًا“ یعنی مضبوط، پختہ۔
۱۳
وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا
ترجمہ:
اور ہم نے ایک روشن اور تپتا ہوا چراغ (سورج) بنایا۔
تفسیر:

اس روشن اور گرم چراغ سے مراد سورج ہے، جو روشنی اور حرارت دونوں دیتا ہے۔ اسی سے دن روشن ہوتا ہے، فصلیں پکتی ہیں اور زمین پر زندگی قائم رہتی ہے۔ یہ اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

لفظی وضاحت: ”سِرَاجًا“ یعنی چراغ (سورج)، ”وَهَّاجًا“ یعنی خوب روشن اور تپتا ہوا۔
۱۴
وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا
ترجمہ:
اور بادلوں سے زور سے برستا ہوا پانی اتارا۔
تفسیر:

اللہ نے بارش سے بھرے بادلوں سے موسلادھار پانی برسایا۔ ”المُعْصِرات“ وہ بادل ہیں جو نچوڑے جانے کے قریب ہوں، یعنی برسنے کو تیار۔ یہی پانی زمین کی زندگی اور خوراک کا سبب ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْمُعْصِرَاتِ“ یعنی برسنے کو تیار بادل، ”ثَجَّاجًا“ یعنی زور سے، موسلادھار برستا ہوا۔
۱۵
لِّنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا
ترجمہ:
تاکہ ہم اس سے اناج اور سبزہ نکالیں۔
تفسیر:

اس بارش کے پانی سے اللہ زمین سے اناج (گندم، چاول وغیرہ) اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے، جو انسان اور جانور دونوں کی خوراک ہے۔ ایک قطرے پانی سے اتنی نعمتوں کا پیدا ہونا اللہ کی قدرت کی واضح نشانی ہے۔

لفظی وضاحت: ”نُخْرِجَ“ یعنی ہم نکالیں، ”حَبًّا“ یعنی اناج، ”نَبَاتًا“ یعنی سبزہ، پودے۔
۱۶
وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا
ترجمہ:
اور گھنے باغ (بھی نکالیں)۔
تفسیر:

اور اسی پانی سے ایسے گھنے باغ اگائے جن کے درخت آپس میں گتھے ہوئے اور گھنے ہوتے ہیں۔ یہ سب نعمتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ جو اللہ مردہ زمین سے زندگی نکال سکتا ہے، وہ مردہ انسان کو بھی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”جَنَّاتٍ“ یعنی باغ، ”أَلْفَافًا“ یعنی گھنے، گتھے ہوئے۔
۱۷
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا
ترجمہ:
بے شک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت ہے۔
تفسیر:

اب بات قیامت کی طرف آتی ہے۔ ”یومِ فصل“ یعنی فیصلے کا دن، جب اللہ نیک اور بد کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یہ دن ایک مقررہ وقت پر ضرور آئے گا، اس میں کوئی شک نہیں۔

لفظی وضاحت: ”يَوْمَ الْفَصْلِ“ یعنی فیصلے کا دن (قیامت)، ”مِيقَاتًا“ یعنی مقررہ وقت۔
۱۸
يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا
ترجمہ:
جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی، تو تم گروہ در گروہ آؤ گے۔
تفسیر:

اس دن صور (نرسنگھے) میں پھونک ماری جائے گی، اور سب لوگ دوبارہ زندہ ہو کر گروہ در گروہ میدانِ حشر کی طرف آئیں گے۔ یہ بعث کا منظر ہے، جس کا کافر انکار کرتے تھے۔

لفظی وضاحت: ”يُنفَخُ فِي الصُّورِ“ یعنی صور میں پھونکا جائے گا، ”أَفْوَاجًا“ یعنی گروہ در گروہ۔
۱۹
وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا
ترجمہ:
اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے دروازے ہو جائے گا۔
تفسیر:

اس دن آسمان پھٹ کر اس میں اتنے شگاف پڑ جائیں گے کہ وہ دروازوں کی طرح کھلا کھلا ہو جائے گا۔ آج جو آسمان مضبوط اور بے شگاف ہے، اس دن وہ بھی اپنی حالت پر باقی نہ رہے گا۔

لفظی وضاحت: ”فُتِحَتِ“ یعنی کھول دیا گیا، ”أَبْوَابًا“ یعنی دروازے۔
۲۰
وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا
ترجمہ:
اور پہاڑ چلا دیے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔
تفسیر:

جو پہاڑ آج اتنے مضبوط اور جمے ہوئے ہیں، اس دن وہ اپنی جگہ سے اکھڑ کر چلیں گے، اور آخرکار ریزہ ریزہ ہو کر ایسے بن جائیں گے جیسے دور سے سراب (دھوکے کا پانی) نظر آتا ہے، یعنی کچھ باقی نہ رہے گا۔

لفظی وضاحت: ”سُيِّرَتِ“ یعنی چلا دیے گئے، ”سَرَابًا“ یعنی سراب، چمکتی ریت جو دور سے پانی لگے۔
۲۱
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا
ترجمہ:
بے شک جہنم گھات لگائے بیٹھی ہے۔
تفسیر:

اب جہنم کا ذکر آتا ہے۔ جہنم گویا گھات لگائے بیٹھی ہے، یعنی وہ سرکشوں کے انتظار میں ہے کہ جیسے ہی وہ آئیں، انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے۔ یہ منکروں اور گناہ گاروں کے لیے سخت تنبیہ ہے۔

لفظی وضاحت: ”جَهَنَّمَ“ یعنی جہنم، ”مِرْصَادًا“ یعنی گھات لگائے بیٹھی، تاک میں۔
۲۲
لِّلطَّاغِينَ مَآبًا
ترجمہ:
سرکشوں کا ٹھکانہ ہے۔
تفسیر:

جہنم ان سرکش لوگوں کا ٹھکانہ ہے جنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور حد سے بڑھ گئے۔ جیسے انہوں نے دنیا میں سرکشی کی، ویسے ہی ان کا ٹھکانہ یہ آگ ہوگی۔

لفظی وضاحت: ”الطَّاغِينَ“ یعنی سرکش، حد سے بڑھنے والے، ”مَآبًا“ یعنی ٹھکانہ، لوٹنے کی جگہ۔
۲۳
لَّابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا
ترجمہ:
وہ اس میں مدتوں پڑے رہیں گے۔
تفسیر:

یہ سرکش لوگ جہنم میں مدتوں، یعنی بے شمار لمبے زمانوں تک پڑے رہیں گے۔ ان کے کفر کی سزا ایسی ہوگی جس کا کوئی خاتمہ نظر نہ آئے گا۔

لفظی وضاحت: ”لَّابِثِينَ“ یعنی ٹھہرنے والے، پڑے رہنے والے، ”أَحْقَابًا“ یعنی مدتیں، لمبے زمانے۔
۲۴
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا
ترجمہ:
وہ اس میں نہ کوئی ٹھنڈک چکھیں گے اور نہ کوئی پینے کی چیز۔
تفسیر:

جہنم میں نہ انہیں کوئی ٹھنڈک ملے گی جو آگ کی تپش کم کرے، نہ کوئی ٹھنڈا پینے کا پانی جو ان کی پیاس بجھائے۔ یہ عذاب کی شدت کا بیان ہے۔

لفظی وضاحت: ”يَذُوقُونَ“ یعنی وہ چکھیں گے، ”بَرْدًا“ یعنی ٹھنڈک، ”شَرَابًا“ یعنی پینے کی چیز۔
۲۵
إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا
ترجمہ:
سوائے کھولتے پانی اور (زخموں کی) پیپ کے۔
تفسیر:

پینے کو ملے گا تو بس کھولتا ہوا گرم پانی اور جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ۔ یہ ان کے کفر اور سرکشی کا بدلہ ہوگا۔ یہ بیان انسان کو اس انجام سے ڈرانے اور بچنے کی دعوت دینے کے لیے ہے۔

لفظی وضاحت: ”حَمِيمًا“ یعنی کھولتا گرم پانی، ”غَسَّاقًا“ یعنی پیپ، زخموں کا گندا پانی۔
۲۶
جَزَاءً وِفَاقًا
ترجمہ:
(یہ ان کے اعمال کے) عین مطابق بدلہ ہے۔
تفسیر:

یہ سزا ان کے اعمال کے بالکل مطابق ہے — نہ کم، نہ زیادہ، بلکہ پورا پورا انصاف۔ جیسا انہوں نے کیا، ویسا ہی بدلہ پایا۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

لفظی وضاحت: ”جَزَاءً“ یعنی بدلہ، ”وِفَاقًا“ یعنی مطابق، موافق۔
۲۷
إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا
ترجمہ:
بے شک وہ کسی حساب کی توقع نہیں رکھتے تھے۔
تفسیر:

ان کی سزا کی وجہ یہ تھی کہ وہ قیامت کے دن حساب کا یقین ہی نہیں رکھتے تھے۔ جب دل سے حساب کا ڈر نکل جائے، تو انسان بے خوف ہو کر گناہ کرتا ہے۔ یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

لفظی وضاحت: ”لَا يَرْجُونَ“ یعنی توقع/امید نہیں رکھتے تھے، ”حِسَابًا“ یعنی حساب۔
۲۸
وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا
ترجمہ:
اور انہوں نے ہماری آیتوں کو خوب جھٹلایا۔
تفسیر:

انہوں نے اللہ کی نشانیوں اور قرآن کی آیتوں کو بری طرح جھٹلایا اور ان کا صاف انکار کیا۔ حق سامنے ہونے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کرنا ان کی ضد اور سرکشی تھی۔

لفظی وضاحت: ”كَذَّبُوا“ یعنی انہوں نے جھٹلایا، ”كِذَّابًا“ یعنی خوب جھٹلانا، شدت سے۔
۲۹
وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا
ترجمہ:
اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر گن رکھا ہے۔
تفسیر:

اللہ نے ہر چھوٹی بڑی چیز کو، انسان کے ہر عمل کو، لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے۔ کوئی نیکی یا گناہ ایسا نہیں جو لکھا نہ گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ریکارڈ سب کے سامنے رکھا جائے گا۔

لفظی وضاحت: ”أَحْصَيْنَاهُ“ یعنی ہم نے گن کر محفوظ کیا، ”كِتَابًا“ یعنی لکھ کر۔
۳۰
فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا
ترجمہ:
پس (عذاب) چکھو، اب ہم تمہیں عذاب کے سوا کچھ زیادہ نہ دیں گے۔
تفسیر:

جہنمیوں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا مزہ چکھو، اب تمہارے لیے عذاب میں اضافے کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ان کے کفر اور انکار کا سخت اور حتمی انجام ہے۔ یہ بیان انسان کو اسی دنیا میں سنبھل جانے کی دعوت دیتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”ذُوقُوا“ یعنی چکھو، ”لَن نَّزِيدَكُمْ“ یعنی ہم تمہیں زیادہ نہ دیں گے، ”عَذَابًا“ یعنی عذاب۔
۳۱
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا
ترجمہ:
بے شک پرہیزگاروں کے لیے کامیابی (کی جگہ) ہے۔
تفسیر:

اب نیک اور پرہیزگار لوگوں کا انجام بیان ہوتا ہے۔ جنہوں نے اللہ سے ڈر کر زندگی گزاری، ان کے لیے بڑی کامیابی اور جنت ہے۔ جہنمیوں کے انجام کے بعد یہ خوشخبری دل میں امید اور نیکی کا شوق پیدا کرتی ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْمُتَّقِينَ“ یعنی پرہیزگار، اللہ سے ڈرنے والے، ”مَفَازًا“ یعنی کامیابی کی جگہ۔
۳۲
حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا
ترجمہ:
باغ اور انگور۔
تفسیر:

ان پرہیزگاروں کے لیے جنت میں خوبصورت باغ اور میٹھے انگور ہوں گے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا انعام ہے، جہاں ہر طرح کی راحت اور نعمت موجود ہوگی۔

لفظی وضاحت: ”حَدَائِقَ“ یعنی باغ، ”أَعْنَابًا“ یعنی انگور۔
۳۳
وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا
ترجمہ:
اور ہم عمر نوجوان بیویاں۔
تفسیر:

اور جنت میں ان کے لیے ایسی پاکیزہ ہم عمر بیویاں ہوں گی جو نوجوانی اور خوبصورتی میں ایک جیسی ہوں گی۔ یہ بھی جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو نیک لوگوں کو ملے گی۔

لفظی وضاحت: ”كَوَاعِبَ“ یعنی نوجوان (پاکیزہ بیویاں)، ”أَتْرَابًا“ یعنی ہم عمر، ایک جیسی۔
۳۴
وَكَأْسًا دِهَاقًا
ترجمہ:
اور چھلکتے ہوئے جام۔
تفسیر:

اور جنت میں ان کے لیے بھرے ہوئے، چھلکتے ہوئے پاکیزہ مشروب کے جام ہوں گے — جو دنیا کی شراب کی طرح نشہ آور یا نقصان دہ نہیں ہوں گے، بلکہ خالص لذت اور خوشی کا ذریعہ ہوں گے۔

لفظی وضاحت: ”كَأْسًا“ یعنی جام، پیالہ، ”دِهَاقًا“ یعنی لبریز، چھلکتا ہوا۔
۳۵
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا
ترجمہ:
وہاں وہ نہ کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ۔
تفسیر:

جنت میں نہ کوئی فضول اور بے کار بات ہوگی، نہ کوئی جھوٹ۔ وہ ماحول ہر طرح کی برائی، گالی گلوچ اور تکلیف دہ باتوں سے پاک ہوگا — بس سکون، عزت اور پاکیزگی ہوگی۔

لفظی وضاحت: ”لَغْوًا“ یعنی فضول/بے ہودہ بات، ”كِذَّابًا“ یعنی جھوٹ۔
۳۶
جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا
ترجمہ:
یہ آپ کے رب کی طرف سے بدلہ ہے، بہت بڑی عطا۔
تفسیر:

یہ ساری نعمتیں اللہ کی طرف سے نیک لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ اور بھرپور عطا ہیں۔ اللہ اپنی مہربانی سے انہیں ان کی توقع سے بھی زیادہ دے گا۔ یہ اس کی شان کے مطابق فیاضانہ انعام ہے۔

لفظی وضاحت: ”جَزَاءً“ یعنی بدلہ، ”عَطَاءً“ یعنی عطا، بخشش، ”حِسَابًا“ یعنی کافی، بھرپور۔
۳۷
رَّبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا
ترجمہ:
جو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، نہایت مہربان؛ کسی کو اس سے بات کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
تفسیر:

یہ سب کچھ دینے والا وہ رب ہے جو سارے آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کا مالک ہے، اور نہایت مہربان (الرحمٰن) ہے۔ مگر قیامت کے دن اس کی شان اتنی بلند ہوگی کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس سے بات تک نہ کر سکے گا۔

لفظی وضاحت: ”الرَّحْمَٰنِ“ یعنی نہایت مہربان، ”لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا“ یعنی اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے۔
۳۸
يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَٰنُ وَقَالَ صَوَابًا
ترجمہ:
جس دن روح (جبرئیلؑ) اور فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے، کوئی بات نہ کرے گا سوائے اس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے۔
تفسیر:

اس دن جبرئیل علیہ السلام اور تمام فرشتے اللہ کے سامنے ادب سے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے۔ کسی کی اتنی مجال نہ ہوگی کہ بات کرے، سوائے اس کے جسے اللہ اجازت دے، اور وہ بھی صرف سچی اور ٹھیک بات کہے گا۔ یہ اس دن اللہ کی عظمت اور ہیبت کا منظر ہے۔

لفظی وضاحت: ”الرُّوحُ“ یعنی روح (جبرئیلؑ)، ”صَفًّا“ یعنی صف باندھے، ”أَذِنَ“ یعنی اجازت دی، ”صَوَابًا“ یعنی ٹھیک، سچی بات۔
۳۹
ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا
ترجمہ:
یہ سچا دن ہے؛ پس جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانہ بنا لے۔
تفسیر:

یہ قیامت کا دن بالکل سچ ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ پس جو چاہے، آج ہی نیک اعمال کے ذریعے اپنے رب کی طرف لوٹنے کا راستہ اختیار کر لے، تاکہ اس دن اسے اللہ کے ہاں اچھا ٹھکانہ ملے۔ یہ ہر انسان کے لیے کھلی دعوت ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْحَقُّ“ یعنی سچا، برحق، ”مَآبًا“ یعنی ٹھکانہ، لوٹنے کی جگہ۔
۴۰
إِنَّا أَنذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا
ترجمہ:
بے شک ہم نے تمہیں ایک قریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے، جس دن انسان دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا، اور کافر کہے گا: کاش! میں مٹی ہوتا۔
تفسیر:

یہ سورت کا آخری اور بہت اثر والا پیغام ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تمہیں اس قریب آنے والے عذاب (قیامت) سے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے۔ اس دن ہر انسان اپنے سب اعمال اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا، جو اس نے دنیا میں کیے۔

اور کافر، اپنے انجام کو دیکھ کر، اتنا پچھتائے گا کہ کہے گا: کاش! میں انسان ہی نہ ہوتا، بلکہ مٹی ہوتا تاکہ اس حساب اور عذاب سے بچ جاتا۔ مگر تب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ابھی، اسی دنیا میں، اپنے اعمال درست کر لیں اور قیامت کی تیاری کریں۔

لفظی وضاحت: ”أَنذَرْنَاكُمْ“ یعنی ہم نے تمہیں ڈرایا، ”قَرِيبًا“ یعنی قریب، ”مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ“ یعنی جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا، ”يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا“ یعنی کاش میں مٹی ہوتا۔

سورت کا خلاصہ اور اہم اسباق

  • قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ”بڑی خبر“ ہے، جو بالکل سچ ہے۔
  • زمین، پہاڑ، رات دن، سورج اور بارش — یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
  • جو اللہ مردہ زمین سے فصلیں نکالتا ہے، وہ مردہ انسان کو بھی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
  • گناہوں کی جڑ یہ ہے کہ انسان حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتا اور آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔
  • سرکشوں کے لیے جہنم اور پرہیزگاروں کے لیے جنت کی بھرپور نعمتیں ہیں۔
  • قیامت سچا دن ہے؛ عقل مند وہی ہے جو آج ہی نیک اعمال سے اپنا ٹھکانہ سنوار لے۔
سورۃ النبأ — تفصیلی مگر آسان تفسیر  •  (عربی متن مصحفِ مدینہ / روایتِ حفص سے تصدیق شدہ)  •  وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

سورۃ النازعات

مکی سورت  •  کل آیات: ۴۶  •  پارہ: ۳۰  •  ترتیب نمبر: ۷۹
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سورت کا تعارف

یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”النازعات“ کا مطلب ہے ”کھینچنے والے (فرشتے)“۔ سورت کا آغاز انہی فرشتوں کی قسم سے ہوتا ہے جو جانیں قبض کرتے ہیں، اسی لیے اس کا نام ”النازعات“ رکھا گیا۔

اس سورت کا اصل موضوع مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا (بعث) اور قیامت ہے۔ سورت کا آغاز فرشتوں کی قسم سے ہوتا ہے، پھر قیامت کی ہولناکی بیان ہوتی ہے۔ درمیان میں موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ بطورِ سبق آتا ہے، تاکہ منکروں کو فرعون کے انجام سے عبرت ملے۔ آخر میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور قیامت کے دن کے دو انجام (جنت اور جہنم) بیان ہوتے ہیں۔

۱
وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا
ترجمہ:
قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو ڈوب کر سختی سے کھینچتے ہیں۔
تفسیر:

اللہ ان فرشتوں کی قسم کھاتے ہیں جو کافروں اور بدکاروں کی جانیں سختی اور زور سے کھینچ کر نکالتے ہیں۔ ”غَرْقًا“ یعنی ڈوب کر، گہرائی تک، یعنی بڑی شدت سے۔ یہ قسم اس بات پر ہے کہ قیامت اور بعث یقینی ہے۔

لفظی وضاحت: ”النَّازِعَاتِ“ یعنی کھینچنے والے (فرشتے)، ”غَرْقًا“ یعنی ڈوب کر، پوری شدت سے۔
۲
وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا
ترجمہ:
اور ان کی جو نرمی سے (جانیں) کھول لیتے ہیں۔
تفسیر:

یہ وہ فرشتے ہیں جو نیک اور مومن لوگوں کی جانیں نہایت نرمی اور آسانی سے نکالتے ہیں، جیسے کوئی گرہ آہستہ سے کھول دے۔ پہلی آیت میں کافروں کی جان کا سختی سے کھینچنا تھا، اور یہاں مومنوں کی جان کا نرمی سے نکلنا — دونوں میں فرق نمایاں ہے۔

لفظی وضاحت: ”النَّاشِطَاتِ“ یعنی نرمی سے کھولنے/نکالنے والے، ”نَشْطًا“ یعنی آسانی سے۔
۳
وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا
ترجمہ:
اور ان کی جو (فضا میں) تیرتے ہوئے چلتے ہیں۔
تفسیر:

یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم کی تعمیل میں فضا میں تیرتے ہوئے تیزی سے آتے جاتے ہیں، جیسے تیراک پانی میں آسانی سے تیرتا ہے۔ یہ ان کی پھرتی اور اللہ کے حکم پر فوری عمل کی نشانی ہے۔

لفظی وضاحت: ”السَّابِحَاتِ“ یعنی تیرنے والے، ”سَبْحًا“ یعنی تیرنا۔
۴
فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا
ترجمہ:
پھر ان کی جو (ایک دوسرے سے) آگے بڑھ جاتے ہیں۔
تفسیر:

یہ فرشتے اللہ کے حکم کی تعمیل میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی نیکی اور اطاعت میں سبقت لے جاتے ہیں۔ یہ ان کے شوقِ اطاعت کی نشانی ہے۔

لفظی وضاحت: ”السَّابِقَاتِ“ یعنی آگے بڑھنے والے، سبقت لے جانے والے، ”سَبْقًا“ یعنی آگے بڑھنا۔
۵
فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا
ترجمہ:
پھر ان کی جو (اللہ کے حکم سے) معاملات کا انتظام کرتے ہیں۔
تفسیر:

یہ وہ فرشتے ہیں جنہیں اللہ نے کائنات کے مختلف کاموں پر مقرر کیا ہے — جیسے بارش، رزق، جانیں قبض کرنا وغیرہ۔ بے شک سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، اور یہ فرشتے صرف اس کے فرماں بردار کارندے ہیں۔ ان عظیم مخلوقات کی قسم اس بات پر ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا حق ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْمُدَبِّرَاتِ“ یعنی انتظام/تدبیر کرنے والے، ”أَمْرًا“ یعنی کام، معاملہ۔
۶
يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ
ترجمہ:
جس دن کانپنے والی (زمین) کانپ اٹھے گی۔
تفسیر:

یہ قسم کا جواب اور قیامت کا منظر ہے۔ ”الرَّاجِفَة“ سے مراد پہلا صور (پھونک) ہے، جس سے پوری زمین اور کائنات شدت سے کانپ اٹھے گی اور ہر چیز تباہ ہو جائے گی۔ یہ قیامت کا آغاز ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”تَرْجُفُ“ یعنی کانپے گی، ہلے گی، ”الرَّاجِفَةُ“ یعنی شدت سے ہلانے والی (پہلی پھونک)۔
۷
تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ
ترجمہ:
اس کے پیچھے دوسری (پھونک) آئے گی۔
تفسیر:

پہلی پھونک کے بعد دوسری پھونک آئے گی، جس سے سب لوگ دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ پہلی پھونک سے سب کچھ فنا ہوگا، اور دوسری سے دوبارہ زندگی شروع ہوگی۔ یوں بعث (دوبارہ اٹھنا) ثابت ہوتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”تَتْبَعُهَا“ یعنی اس کے پیچھے آئے گی، ”الرَّادِفَةُ“ یعنی پیچھے آنے والی (دوسری پھونک)۔
۸
قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ
ترجمہ:
اس دن کئی دل دھڑک رہے ہوں گے (خوف زدہ ہوں گے)۔
تفسیر:

اس ہولناک دن منکروں اور گناہ گاروں کے دل شدید خوف اور گھبراہٹ سے دھڑک رہے ہوں گے۔ جنہوں نے دنیا میں قیامت کا انکار کیا تھا، اس دن وہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر کانپ اٹھیں گے۔

لفظی وضاحت: ”قُلُوبٌ“ یعنی دل، ”وَاجِفَةٌ“ یعنی خوف سے دھڑکتے، بے چین۔
۹
أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ
ترجمہ:
ان کی نگاہیں جھکی ہوئی (ذلیل) ہوں گی۔
تفسیر:

ان لوگوں کی نگاہیں خوف اور رسوائی سے جھکی ہوں گی۔ دنیا میں جو تکبر اور غرور کرتے تھے، اس دن ان کی آنکھیں شرمندگی سے اٹھ نہ سکیں گی۔ یہ ان کے اندرونی خوف کی بیرونی علامت ہوگی۔

لفظی وضاحت: ”أَبْصَارُهَا“ یعنی ان کی نگاہیں، ”خَاشِعَةٌ“ یعنی جھکی ہوئی، ذلیل۔
۱۰
يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ
ترجمہ:
وہ کہتے ہیں: کیا ہم پھر پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے؟
تفسیر:

یہ منکروں کا تعجب اور انکار ہے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے: کیا ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے پہلی زندگی میں لوٹا دیے جائیں گے؟ ”الْحَافِرَة“ یعنی پہلی حالت، یا قبر کے بعد دوبارہ زندگی۔

لفظی وضاحت: ”لَمَرْدُودُونَ“ یعنی لوٹائے جانے والے، ”الْحَافِرَةِ“ یعنی پہلی حالت/زندگی۔
۱۱
أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً
ترجمہ:
کیا جب ہم بوسیدہ (گلی سڑی) ہڈیاں ہو جائیں گے (تب بھی)؟
تفسیر:

ان کا انکار مزید بڑھتا ہے: جب ہمارا جسم مٹی میں مل کر صرف گلی سڑی ہڈیاں رہ جائے گا، تو کیا تب بھی ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے؟ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ناممکن ہے۔ مگر اللہ کے لیے یہ بالکل آسان ہے۔

لفظی وضاحت: ”عِظَامًا“ یعنی ہڈیاں، ”نَّخِرَةً“ یعنی بوسیدہ، گلی سڑی، کھوکھلی۔
۱۲
قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ
ترجمہ:
وہ کہتے ہیں: یہ تو پھر گھاٹے والا لوٹنا ہوگا۔
تفسیر:

منکر طنزاً کہتے ہیں کہ اگر واقعی دوبارہ زندہ ہونا ہے، تو یہ تو نقصان اور گھاٹے کا سودا ہوگا۔ وہ یہ بات مذاق میں کہتے تھے، یعنی ان کے خیال میں ایسا ہونا ہی نہیں۔ مگر حقیقت میں گھاٹا تو خود انہی کے لیے ہوگا، کیونکہ انکار کی وجہ سے وہ سزا پائیں گے۔

لفظی وضاحت: ”كَرَّةٌ“ یعنی لوٹنا، واپسی، ”خَاسِرَةٌ“ یعنی گھاٹے والی، نقصان دہ۔
۱۳
فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ
ترجمہ:
پس وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ (پھونک) ہوگی۔
تفسیر:

اللہ ان کے انکار کا جواب دیتے ہیں کہ دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ بس ایک ہی زوردار آواز (دوسری پھونک) ہوگی اور سب لوگ فوراً زندہ ہو جائیں گے۔ اللہ کی قدرت کے لیے یہ ایک لمحے کا کام ہے۔

لفظی وضاحت: ”زَجْرَةٌ“ یعنی ڈانٹ، زوردار آواز، ”وَاحِدَةٌ“ یعنی ایک ہی۔
۱۴
فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ
ترجمہ:
تو وہ یکایک کھلے میدان میں (زندہ) موجود ہوں گے۔
تفسیر:

اس ایک پھونک کے ساتھ ہی سب لوگ زمین کے کھلے میدان میں زندہ کھڑے ہوں گے۔ ”السَّاهِرَة“ سے مراد وہ کھلی، ہموار زمین ہے جہاں قیامت کے دن سب جمع ہوں گے۔ یوں جس بعث کا انکار کیا جا رہا تھا، وہ پلک جھپکتے میں ہو جائے گا۔

لفظی وضاحت: ”السَّاهِرَةِ“ یعنی کھلا ہموار میدان (زمین کی سطح، میدانِ حشر)۔
۱۵
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ
ترجمہ:
کیا آپ کے پاس موسیٰ کا واقعہ پہنچا؟
تفسیر:

اب سورت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کی طرف آتی ہے، تاکہ منکروں کو سبق ملے۔ یہ سوالیہ انداز توجہ دلانے کے لیے ہے۔ فرعون بھی قیامت اور اللہ کا انکار کرتا تھا اور تکبر میں مبتلا تھا — اس کا انجام منکروں کے لیے عبرت ہے۔

لفظی وضاحت: ”أَتَاكَ“ یعنی تجھ تک پہنچا، ”حَدِيثُ“ یعنی واقعہ، بات۔
۱۶
إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى
ترجمہ:
جب اس کے رب نے اسے مقدس وادی طُویٰ میں پکارا۔
تفسیر:

جب موسیٰ علیہ السلام ”طُویٰ“ نامی مقدس وادی میں تھے، اللہ نے انہیں پکارا اور نبوت عطا کی۔ یہی وہ بابرکت مقام تھا جہاں اللہ نے ان سے کلام کیا اور انہیں فرعون کی طرف بھیجنے کا حکم دیا۔

لفظی وضاحت: ”نَادَاهُ“ یعنی اسے پکارا، ”الْوَادِ الْمُقَدَّسِ“ یعنی مقدس وادی، ”طُوًى“ وادی کا نام۔
۱۷
اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ
ترجمہ:
فرعون کے پاس جا، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔
تفسیر:

اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ حد سے بڑھ گیا ہے — ظلم میں بھی اور خدائی کے دعوے میں بھی۔ ”طَغَىٰ“ یعنی وہ سرکشی اور بغاوت میں حد پار کر گیا۔ نبی کا کام یہی ہے کہ ظالم کو حق کی دعوت دے۔

لفظی وضاحت: ”اذْهَبْ“ یعنی جا، ”طَغَىٰ“ یعنی سرکش ہوا، حد سے بڑھ گیا۔
۱۸
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ
ترجمہ:
پس اس سے کہہ: کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے؟
تفسیر:

دیکھیے، اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون جیسے ظالم کے سامنے بھی نہایت نرم انداز سکھایا — کہ پہلے پیار سے دعوت دو: کیا تو اپنے کفر اور گناہوں سے پاک ہونا چاہتا ہے؟ یعنی ظالم کو بھی سدھرنے کا موقع نرمی سے دینا چاہیے۔

لفظی وضاحت: ”هَل لَّكَ“ یعنی کیا تو چاہتا ہے، ”تَزَكَّىٰ“ یعنی پاک ہو جائے۔
۱۹
وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ
ترجمہ:
اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہ دکھاؤں تو تُو ڈرنے لگے۔
تفسیر:

موسیٰ علیہ السلام فرعون سے کہیں گے کہ میں تجھے تیرے سچے رب کی پہچان کراؤں، تاکہ تیرے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو اور تو سیدھے راستے پر آ جائے۔ اللہ کی پہچان اور اس کا خوف ہی انسان کو سنوارتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”أَهْدِيَكَ“ یعنی میں تجھے راہ دکھاؤں، ”فَتَخْشَىٰ“ یعنی تو (اللہ سے) ڈرنے لگے۔
۲۰
فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ
ترجمہ:
پھر موسیٰ نے اسے بڑی نشانی دکھائی۔
تفسیر:

موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اللہ کی بڑی نشانی دکھائی — جیسے لاٹھی کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا چمکنا۔ یہ کھلی نشانیاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ موسیٰ علیہ السلام سچے نبی ہیں اور اللہ ہی سچا رب ہے۔

لفظی وضاحت: ”أَرَاهُ“ یعنی اسے دکھائی، ”الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ“ یعنی سب سے بڑی نشانی۔
۲۱
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ
ترجمہ:
مگر اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔
تفسیر:

اتنی واضح نشانی دیکھنے کے باوجود فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اللہ کی نافرمانی پر اڑا رہا۔ یہ تکبر اور ضد کی انتہا تھی — حق سامنے ہو پھر بھی انکار کرنا۔

لفظی وضاحت: ”كَذَّبَ“ یعنی جھٹلایا، ”عَصَىٰ“ یعنی نافرمانی کی۔
۲۲
ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ
ترجمہ:
پھر وہ منہ موڑ کر (مخالفت کی) کوشش کرنے لگا۔
تفسیر:

فرعون حق سے منہ موڑ کر پوری کوشش کرنے لگا کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو روکے اور لوگوں کو ان سے دور رکھے۔ اس نے جادوگروں کو جمع کیا اور حق کے خلاف سازشیں کیں۔

لفظی وضاحت: ”أَدْبَرَ“ یعنی منہ موڑا، پیٹھ پھیری، ”يَسْعَىٰ“ یعنی کوشش کرنے لگا۔
۲۳
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ
ترجمہ:
پھر اس نے (لوگوں کو) جمع کیا اور پکارا۔
تفسیر:

فرعون نے اپنے درباری، جادوگر اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور بلند آواز سے اعلان کیا، تاکہ اپنی طاقت دکھائے اور لوگوں کو موسیٰ علیہ السلام کے خلاف بھڑکائے۔

لفظی وضاحت: ”حَشَرَ“ یعنی جمع کیا، اکٹھا کیا، ”نَادَىٰ“ یعنی پکارا، اعلان کیا۔
۲۴
فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ
ترجمہ:
پھر کہا: میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔
تفسیر:

یہ فرعون کے تکبر اور سرکشی کی انتہا تھی کہ اس نے خود کو سب سے بڑا رب ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ ایک کمزور انسان، جو خود اللہ کا محتاج تھا، خدائی کا دعویٰ کرنے لگا — یہ غرور کی سب سے بری شکل ہے۔

لفظی وضاحت: ”أَنَا“ یعنی میں، ”رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ“ یعنی تمہارا سب سے بڑا رب۔
۲۵
فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ
ترجمہ:
پس اللہ نے اسے آخرت اور دنیا دونوں کے عذاب میں پکڑ لیا۔
تفسیر:

اللہ نے فرعون کو اس کے تکبر کی سزا دی — دنیا میں اسے سمندر میں ڈبو دیا، اور آخرت میں اس کے لیے سخت عذاب ہے۔ یعنی اس کی سرکشی کا انجام دونوں جہانوں میں رسوائی اور عذاب ہوا۔ یہ ہر سرکش کے لیے عبرت ہے۔

لفظی وضاحت: ”أَخَذَهُ“ یعنی اسے پکڑ لیا، ”نَكَالَ“ یعنی عبرت ناک سزا، ”الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ“ یعنی آخرت اور دنیا۔
۲۶
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ
ترجمہ:
بے شک اس میں اس کے لیے عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔
تفسیر:

فرعون کے اس انجام میں ہر اس شخص کے لیے بڑی نصیحت اور عبرت ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو۔ جو ڈرتا ہے، وہی سبق سیکھتا ہے۔ منکروں کو سوچنا چاہیے کہ جو فرعون جیسے طاقتور کا یہ حال ہوا، تو ان کا کیا ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”عِبْرَةً“ یعنی عبرت، نصیحت، ”يَخْشَىٰ“ یعنی جو ڈرتا ہے۔
۲۷
أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا
ترجمہ:
کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا؟ اللہ نے اسے بنایا۔
تفسیر:

اب اللہ منکروں سے سوال کرتے ہیں جو بعث کو ناممکن سمجھتے تھے: کیا تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اتنا عظیم آسمان بنانا؟ جس اللہ نے یہ وسیع آسمان بنایا، اس کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟

لفظی وضاحت: ”أَشَدُّ خَلْقًا“ یعنی پیدا کرنے میں زیادہ مشکل، ”بَنَاهَا“ یعنی اللہ نے اسے بنایا۔
۲۸
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا
ترجمہ:
اس کی چھت بلند کی، پھر اسے ٹھیک بنایا۔
تفسیر:

اللہ نے آسمان کو بہت بلند بنایا اور اسے ہر طرح سے درست اور مکمل کیا — نہ اس میں کوئی دراڑ، نہ کوئی خامی۔ یہ سب اللہ کی عظیم قدرت کی نشانیاں ہیں۔

لفظی وضاحت: ”رَفَعَ“ یعنی بلند کیا، ”سَمْكَهَا“ یعنی اس کی چھت/اونچائی، ”سَوَّاهَا“ یعنی اسے درست بنایا۔
۲۹
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا
ترجمہ:
اور اس کی رات کو اندھیرا کیا اور اس کا دن (روشنی) نکالا۔
تفسیر:

اللہ نے رات کو اندھیرا بنایا تاکہ مخلوق آرام کرے، اور دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ کام کاج کریں۔ رات اور دن کا یہ نظام بھی اللہ کی قدرت اور انسان پر اس کی مہربانی کی نشانی ہے۔

لفظی وضاحت: ”أَغْطَشَ“ یعنی اندھیرا کیا، ”لَيْلَهَا“ یعنی اس کی رات، ”ضُحَاهَا“ یعنی اس کا دن/روشنی۔
۳۰
وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا
ترجمہ:
اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا۔
تفسیر:

اللہ نے زمین کو پھیلا کر رہنے کے قابل بنایا، تاکہ انسان اور دیگر مخلوق اس پر آباد ہو سکیں۔ ”دَحَاهَا“ یعنی اسے بچھایا اور ہموار کیا۔ یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْأَرْضَ“ یعنی زمین، ”دَحَاهَا“ یعنی اسے بچھایا، پھیلایا۔
۳۱
أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا
ترجمہ:
اس سے اس کا پانی اور چارہ نکالا۔
تفسیر:

اللہ نے زمین سے چشمے اور پانی نکالا، اور اس سے سبزہ اور چارہ اگایا، تاکہ انسان اور جانور دونوں کی خوراک کا انتظام ہو۔ یہ سب اللہ کی قدرت اور اس کے بے شمار احسانات کی نشانیاں ہیں۔

لفظی وضاحت: ”مَاءَهَا“ یعنی اس کا پانی، ”مَرْعَاهَا“ یعنی اس کا چارہ، سبزہ۔
۳۲
وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا
ترجمہ:
اور پہاڑوں کو (زمین میں) گاڑ دیا۔
تفسیر:

اللہ نے پہاڑوں کو زمین میں مضبوطی سے جما دیا تاکہ زمین ہلے نہ، بلکہ ٹھہری رہے۔ پہاڑ زمین کے لیے میخوں اور کھونٹوں کی طرح ہیں جو اسے قائم رکھتے ہیں۔

لفظی وضاحت: ”الْجِبَالَ“ یعنی پہاڑ، ”أَرْسَاهَا“ یعنی انہیں جما دیا، مضبوط کیا۔
۳۳
مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ
ترجمہ:
تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے۔
تفسیر:

یہ ساری نعمتیں — پانی، چارہ، پہاڑ، زمین — سب تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے اور گزر بسر کے لیے بنائی گئیں۔ جب اللہ نے اتنا اہتمام کیا، تو انسان کو اس کا شکر ادا کرنا اور اس کی بات ماننی چاہیے۔

لفظی وضاحت: ”مَتَاعًا“ یعنی فائدہ، سامانِ زندگی، ”أَنْعَامِكُمْ“ یعنی تمہارے جانور۔
۳۴
فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ
ترجمہ:
پھر جب وہ سب سے بڑی آفت (قیامت) آئے گی۔
تفسیر:

اب پھر بات قیامت کی طرف آتی ہے۔ ”الطَّامَّة الْکُبْرَىٰ“ یعنی وہ سب سے بڑی آفت جو ہر چیز پر چھا جائے گی — یعنی قیامت کا دن۔ اس دن کی ہولناکی ہر چیز سے بڑھ کر ہوگی۔

لفظی وضاحت: ”الطَّامَّةُ“ یعنی چھا جانے والی آفت، ”الْكُبْرَىٰ“ یعنی سب سے بڑی۔
۳۵
يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ مَا سَعَىٰ
ترجمہ:
جس دن انسان اپنی کی ہوئی کوششوں کو یاد کرے گا۔
تفسیر:

اس دن انسان کو اپنے سارے اعمال یاد آ جائیں گے — جو نیکیاں اور برائیاں اس نے دنیا میں کیں۔ مگر یاد آنے سے اب کوئی فائدہ نہ ہوگا، کیونکہ عمل کا وقت گزر چکا ہوگا۔ یہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ آج ہی، اسی دنیا میں، نیک اعمال جمع کر لیں۔

لفظی وضاحت: ”يَتَذَكَّرُ“ یعنی یاد کرے گا، ”مَا سَعَىٰ“ یعنی جو کوشش/عمل اس نے کیا۔
۳۶
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ
ترجمہ:
اور جہنم ہر دیکھنے والے کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی۔
تفسیر:

اس دن جہنم سب کے سامنے کھول کر رکھ دی جائے گی، تاکہ ہر شخص اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ یہ منظر گناہ گاروں کے لیے خوف اور رسوائی کا ہوگا، اور سب کو اپنے انجام کا اندازہ ہو جائے گا۔

لفظی وضاحت: ”بُرِّزَتِ“ یعنی ظاہر/سامنے کر دی گئی، ”الْجَحِيمُ“ یعنی جہنم، ”يَرَىٰ“ یعنی جو دیکھے۔
۳۷
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ
ترجمہ:
پس جس نے سرکشی کی۔
تفسیر:

اب دو طرح کے لوگوں کا انجام بتایا جا رہا ہے۔ پہلے وہ جس نے سرکشی کی، اللہ کی حدوں کو پار کیا اور نافرمانی کی زندگی گزاری — جیسے فرعون نے کیا تھا۔

لفظی وضاحت: ”طَغَىٰ“ یعنی سرکشی کی، حد سے بڑھا۔
۳۸
وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
ترجمہ:
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔
تفسیر:

اور جس نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی، یعنی صرف دنیا کے مزے اور فائدے کے پیچھے بھاگتا رہا اور آخرت کو بھلا دیا۔ یہی غفلت انسان کو سرکشی اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

لفظی وضاحت: ”آثَرَ“ یعنی ترجیح دی، ”الْحَيَاةَ الدُّنْيَا“ یعنی دنیا کی زندگی۔
۳۹
فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ
ترجمہ:
تو بے شک جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔
تفسیر:

ایسے سرکش اور دنیا پرست شخص کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی، اسے آخرت میں جہنم کا عذاب ملے گا۔ یہ اس کے اپنے انتخاب کا نتیجہ ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْجَحِيمَ“ یعنی جہنم، ”الْمَأْوَىٰ“ یعنی ٹھکانہ، رہنے کی جگہ۔
۴۰
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ
ترجمہ:
اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔
تفسیر:

دوسری طرف وہ شخص ہے جو اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا، اور اسی خوف کی وجہ سے اس نے اپنے نفس کو ناجائز خواہشوں اور گناہوں سے روکے رکھا۔ یعنی اس نے اللہ کے ڈر سے اپنی خواہشات پر قابو پایا۔

لفظی وضاحت: ”خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ“ یعنی رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، ”نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ“ یعنی نفس کو خواہش سے روکا۔
۴۱
فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ
ترجمہ:
تو بے شک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔
تفسیر:

ایسے پرہیزگار شخص کا ٹھکانہ جنت ہوگا، جہاں ہمیشہ کی نعمتیں اور راحت ہے۔ جس نے دنیا میں اللہ کے خوف سے اپنی خواہشات پر قابو پایا، اسے آخرت میں دائمی خوشی ملے گی۔ یہ دونوں انجام ہمیں اپنا راستہ سوچ سمجھ کر چننے کی دعوت دیتے ہیں۔

لفظی وضاحت: ”الْجَنَّةَ“ یعنی جنت، ”الْمَأْوَىٰ“ یعنی ٹھکانہ، رہنے کی جگہ۔
۴۲
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا
ترجمہ:
وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی؟
تفسیر:

کافر نبی کریم ﷺ سے بار بار، طنزاً، پوچھتے تھے کہ قیامت کب آئے گی، اس کا وقت بتاؤ۔ وہ یہ سوال یقین کے لیے نہیں بلکہ مذاق اور انکار کے انداز میں کرتے تھے۔

لفظی وضاحت: ”السَّاعَةِ“ یعنی قیامت، ”أَيَّانَ مُرْسَاهَا“ یعنی اس کے قائم ہونے کا وقت کب ہے؟
۴۳
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا
ترجمہ:
آپ کو اس کے وقت بتانے سے کیا تعلق؟
تفسیر:

اللہ فرماتے ہیں کہ اے نبی! قیامت کا وقت بتانا آپ کے ذمے نہیں۔ آپ کا کام تو صرف لوگوں کو خبردار کرنا ہے، اس کا ٹھیک ٹھیک وقت تو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ غیب کے ان خاص علوم میں سے ہے جو اللہ نے کسی کو نہیں بتائے۔

لفظی وضاحت: ”فِيمَ أَنتَ“ یعنی آپ کو کیا تعلق/سروکار، ”ذِكْرَاهَا“ یعنی اس (قیامت) کا ذکر/وقت بتانا۔
۴۴
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا
ترجمہ:
اس (قیامت) کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے۔
تفسیر:

قیامت کا علم صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔ کسی نبی، فرشتے یا انسان کو اس کا ٹھیک وقت معلوم نہیں۔ یہ بات انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ وقت کی فکر چھوڑ کر اپنی تیاری پر دھیان دے۔

لفظی وضاحت: ”مُنتَهَاهَا“ یعنی اس کے علم کی انتہا، آخری حد۔
۴۵
إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَاهَا
ترجمہ:
آپ تو بس اس کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے۔
تفسیر:

نبی کریم ﷺ کا کام قیامت کا وقت بتانا نہیں، بلکہ لوگوں کو اس دن سے خبردار کرنا ہے۔ اور اس خبرداری سے فائدہ وہی اٹھائے گا جس کے دل میں اللہ اور قیامت کا خوف ہو۔ ڈرنے والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔

لفظی وضاحت: ”مُنذِرُ“ یعنی ڈرانے والا، خبردار کرنے والا، ”يَخْشَاهَا“ یعنی جو اس سے ڈرتا ہے۔
۴۶
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا
ترجمہ:
جس دن وہ اسے دیکھیں گے تو (انہیں لگے گا) گویا وہ بس ایک شام یا ایک صبح ہی (دنیا میں) رہے تھے۔
تفسیر:

یہ سورت کا آخری پیغام ہے۔ قیامت کے دن لوگوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں بس تھوڑی سی دیر — ایک شام یا ایک صبح — ہی ٹھہرے تھے۔ یعنی دنیا کی ساری زندگی، جو آج لمبی لگتی ہے، اس دن ایک پل کے برابر محسوس ہوگی۔

یہ ہمیں دعوت دیتی ہے کہ دنیا کی اس مختصر زندگی کو غفلت میں نہ گزاریں، بلکہ آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کے لیے تیاری کریں۔

لفظی وضاحت: ”لَمْ يَلْبَثُوا“ یعنی وہ نہ ٹھہرے، ”عَشِيَّةً“ یعنی ایک شام، ”ضُحَاهَا“ یعنی اس کی صبح/دن۔

سورت کا خلاصہ اور اہم اسباق

  • مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا (بعث) اور قیامت بالکل حق ہے، اس کا انکار نادانی ہے۔
  • جو اللہ نے پہلی بار پیدا کیا، اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا بس ایک پھونک کا کام ہے۔
  • فرعون کے سرکشی بھرے انجام میں ہر ڈرنے والے کے لیے بڑی عبرت ہے۔
  • اللہ کی قدرت آسمان، رات دن، زمین، پانی اور پہاڑوں میں صاف نظر آتی ہے۔
  • جنت اسے ملے گی جو اللہ سے ڈرے اور اپنے نفس کو ناجائز خواہشوں سے روکے۔
  • قیامت کا وقت صرف اللہ جانتا ہے؛ نبی ﷺ کا کام خبردار کرنا ہے، اور دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے۔
سورۃ النازعات — تفصیلی مگر آسان تفسیر  •  (عربی متن مصحفِ مدینہ / روایتِ حفص سے تصدیق شدہ)  •  وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

سورۃ عبس

مکی سورت  •  کل آیات: ۴۲  •  پارہ: ۳۰  •  ترتیب نمبر: ۸۰
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سورت کا تعارف

یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”عبس“ کا مطلب ہے ”تیوری چڑھانا، چہرہ ترش کرنا“۔ سورت کا آغاز اسی لفظ سے ہوتا ہے، اسی لیے اس کا نام ”عبس“ رکھا گیا۔

اس سورت کے شروع میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ نبی کریم ﷺ قریش کے بڑے سرداروں کو اسلام کی دعوت دینے میں مصروف تھے، اسی امید پر کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اسی دوران ایک نابینا صحابی عبد اللہ ابن امّ مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور دین کی بات پوچھنے لگے۔ نبی ﷺ کو ان کا بار بار ٹوکنا اس وقت ناگوار گزرا اور آپ نے تھوڑی ناخوشی ظاہر کی۔ اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں، جن میں نرمی سے یہ سکھایا گیا کہ حق کا طلب گار، چاہے وہ بظاہر کمزور ہو، زیادہ توجہ کا حق دار ہے۔

اس کے بعد سورت میں قرآن کی عظمت، انسان کی ناشکری، اللہ کی نعمتوں اور آخر میں قیامت کے ہولناک دن کا ذکر ہے۔

۱
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ
ترجمہ:
وہ تیوری چڑھا کر منہ موڑ بیٹھا۔
تفسیر:

یہاں نبی کریم ﷺ کے اس عمل کی طرف اشارہ ہے کہ آپ نے اس وقت چہرے پر تھوڑی ناخوشی ظاہر کی اور توجہ دوسری طرف کر لی۔ غور کریں کہ اللہ نے یہاں آپ کا نام لے کر مخاطب نہیں کیا، بلکہ پیار اور احترام کے انداز میں ”اُس نے“ کہا — یہ بھی اللہ کی اپنے نبی ﷺ سے محبت کی نشانی ہے۔

لفظی وضاحت: ”عَبَسَ“ یعنی تیوری چڑھائی، چہرہ ترش کیا، ”تَوَلَّىٰ“ یعنی منہ موڑ لیا۔
۲
أَن جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ
ترجمہ:
اس لیے کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا۔
تفسیر:

وہ نابینا صحابی عبد اللہ ابن امّ مکتوم رضی اللہ عنہ تھے، جو دین کی بات سیکھنے کے لیے آئے تھے۔ وہ نہایت مخلص اور سچے طالبِ حق تھے۔ ان کی آمد ہی وہ موقع تھا جس پر یہ آیات اتریں۔

لفظی وضاحت: ”الْأَعْمَىٰ“ یعنی نابینا، اندھا۔
۳
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ
ترجمہ:
اور تجھے کیا معلوم، شاید وہ پاک ہو جاتا۔
تفسیر:

اب اللہ نرمی سے سمجھاتے ہیں: اے نبی! آپ کو کیا خبر، شاید یہی نابینا آپ کی بات سن کر اپنے دل اور عمل کو گناہوں سے پاک کر لیتا اور نیکی میں آگے بڑھ جاتا۔ یعنی اصل قیمت ظاہری حیثیت کی نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی اور سچی طلب کی ہے۔

لفظی وضاحت: ”يُدْرِيكَ“ یعنی تجھے کیا معلوم، ”يَزَّكَّىٰ“ یعنی پاک ہو جائے، سنور جائے۔
۴
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ
ترجمہ:
یا نصیحت قبول کرتا تو نصیحت اسے فائدہ دیتی۔
تفسیر:

یا کم از کم وہ نصیحت سن کر اس پر غور کرتا اور یہ نصیحت اس کے دل میں اتر جاتی اور اسے فائدہ پہنچاتی۔ ایسا سچا طالب جو خود چل کر علم سیکھنے آیا ہو، اسی کو ترجیح دینی چاہیے تھی۔

لفظی وضاحت: ”يَذَّكَّرُ“ یعنی نصیحت قبول کرے، ”الذِّكْرَىٰ“ یعنی نصیحت، یاد دہانی۔
۵
أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَىٰ
ترجمہ:
لیکن جو شخص بے پروائی کرتا ہے۔
تفسیر:

یہاں اشارہ ان قریشی سرداروں کی طرف ہے جو اپنے مال و دولت اور حیثیت کی وجہ سے دین سے بے پروا تھے اور سمجھتے تھے کہ انہیں کسی کی ضرورت نہیں۔ ”استغنیٰ“ یعنی وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”اسْتَغْنَىٰ“ یعنی بے پروائی کی، اپنے آپ کو بے نیاز سمجھا۔
۶
فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّىٰ
ترجمہ:
تو آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔
تفسیر:

ایسے بے پروا اور مغرور شخص کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے آپ پوری توجہ اور دلچسپی دکھا رہے تھے، اس امید پر کہ شاید وہ ایمان لے آئے۔ یہ نیّت تو اچھی تھی، مگر اللہ نے بتایا کہ ترجیح کس کو دینی چاہیے۔

لفظی وضاحت: ”تَصَدَّىٰ“ یعنی متوجہ ہونا، دھیان دینا۔
۷
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ
ترجمہ:
حالانکہ اگر وہ پاک نہ ہو تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں۔
تفسیر:

اللہ سمجھاتے ہیں کہ اگر وہ مغرور شخص ایمان نہیں لاتا اور اپنے آپ کو پاک نہیں کرتا، تو اس کا بوجھ آپ پر نہیں۔ نبی کا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے؛ کسی کو زبردستی ہدایت دینا آپ کے ذمے نہیں۔

لفظی وضاحت: ”مَا عَلَيْكَ“ یعنی آپ پر کوئی ذمہ داری/الزام نہیں۔
۸
وَأَمَّا مَن جَاءَكَ يَسْعَىٰ
ترجمہ:
اور جو شخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا۔
تفسیر:

یہ اشارہ پھر اسی نابینا صحابی کی طرف ہے، جو شوق اور لگن کے ساتھ خود چل کر، بلکہ دوڑتا ہوا، علم اور ہدایت کی طلب میں آیا تھا۔ یہی سچی طلب اللہ کے ہاں قیمتی ہے۔

لفظی وضاحت: ”يَسْعَىٰ“ یعنی دوڑتا ہوا، کوشش اور شوق سے آنے والا۔
۹
وَهُوَ يَخْشَىٰ
ترجمہ:
اور وہ ڈرتا بھی ہے۔
تفسیر:

وہ صحابی دل میں اللہ کا خوف رکھتے تھے، یعنی ان کی طلب میں اخلاص اور تقویٰ تھا۔ علم کے ساتھ اللہ کا ڈر ہی اصل میں انسان کو سنوارتا ہے۔ ایسا شخص ہر توجہ کا حق دار ہے۔

لفظی وضاحت: ”يَخْشَىٰ“ یعنی ڈرتا ہے (اللہ سے)۔
۱۰
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ
ترجمہ:
تو آپ اس سے بے توجہی کرتے ہیں۔
تفسیر:

ایسے سچے اور مخلص طالب سے آپ نے اس وقت تھوڑی بے توجہی کی۔ ان آیات کا مقصد یہ سکھانا ہے کہ دین میں کسی کی ظاہری حیثیت نہیں، بلکہ اس کی سچائی اور اخلاص دیکھنا چاہیے۔ یہ نبی ﷺ کے لیے نرم تربیت تھی، اور امت کے لیے ہمیشہ کا سبق۔

لفظی وضاحت: ”تَلَهَّىٰ“ یعنی بے توجہی کرنا، دھیان نہ دینا۔
۱۱
كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
ترجمہ:
ہرگز نہیں! بے شک یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔
تفسیر:

”کَلَّا“ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ پھر بات کا رخ بدل کر قرآن کی عظمت کی طرف آتا ہے۔ یہ قرآن ایک نصیحت ہے — ہر اس شخص کے لیے جو اسے قبول کرنا چاہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور۔

لفظی وضاحت: ”كَلَّا“ یعنی ہرگز نہیں، ”تَذْكِرَةٌ“ یعنی نصیحت، یاد دہانی۔
۱۲
فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ
ترجمہ:
پس جو چاہے اسے یاد رکھے (نصیحت قبول کرے)۔
تفسیر:

ہدایت قبول کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ جو چاہے اس قرآن کی نصیحت کو یاد رکھے، اس پر عمل کرے اور فائدہ اٹھائے۔ اللہ نے کسی پر زبردستی نہیں کی، راستہ دکھا دیا، اب چلنا انسان کی مرضی پر ہے۔

لفظی وضاحت: ”شَاءَ“ یعنی چاہے، ”ذَكَرَهُ“ یعنی اسے یاد رکھے، نصیحت پکڑے۔
۱۳
فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ
ترجمہ:
(یہ نصیحت) معزز صحیفوں میں ہے۔
تفسیر:

یہ قرآن اللہ کے ہاں نہایت عزت والے صحیفوں (لوحِ محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی یہ کوئی معمولی کلام نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں اس کا بہت بلند مقام ہے۔

لفظی وضاحت: ”صُحُفٍ“ یعنی صحیفے، اوراق، ”مُّكَرَّمَةٍ“ یعنی معزز، عزت والے۔
۱۴
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ
ترجمہ:
جو بلند مرتبہ اور پاک ہیں۔
تفسیر:

وہ صحیفے بلند مرتبہ ہیں اور ہر قسم کی آلائش، کمی بیشی اور باطل سے پاک ہیں۔ یعنی قرآن کا متن بالکل خالص، محفوظ اور پاکیزہ ہے، اس میں کسی غلطی یا ملاوٹ کا کوئی امکان نہیں۔

لفظی وضاحت: ”مَّرْفُوعَةٍ“ یعنی بلند مرتبہ، ”مُّطَهَّرَةٍ“ یعنی پاک، صاف ستھری۔
۱۵
بِأَيْدِي سَفَرَةٍ
ترجمہ:
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو (اللہ کے) سفیر ہیں۔
تفسیر:

یہ صحیفے ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان پیغام پہنچانے والے ہیں۔ ”سَفَرَة“ سفیروں کو کہتے ہیں — یعنی وہ فرشتے جو اللہ کا کلام لکھتے اور پہنچاتے ہیں۔

لفظی وضاحت: ”بِأَيْدِي“ یعنی ہاتھوں میں، ”سَفَرَةٍ“ یعنی سفیر، لکھنے والے فرشتے۔
۱۶
كِرَامٍ بَرَرَةٍ
ترجمہ:
جو معزز اور نیکوکار ہیں۔
تفسیر:

یہ فرشتے اللہ کے ہاں بہت معزز اور نہایت نیک ہیں۔ ان کے اخلاق اور اعمال پاکیزہ ہیں۔ جب قرآن کو لکھنے اور پہنچانے والے اتنے معزز ہیں، تو خود قرآن کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”كِرَامٍ“ یعنی معزز، بزرگ، ”بَرَرَةٍ“ یعنی نیکوکار، فرمانبردار۔
۱۷
قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ
ترجمہ:
ہلاک ہو انسان! وہ کتنا ناشکرا ہے۔
تفسیر:

یہاں اس انسان پر افسوس اور ملامت ہے جو اللہ کی اتنی نعمتوں کے باوجود اس کا انکار اور ناشکری کرتا ہے۔ ”قُتِلَ الإنسان“ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے ”اس انسان پر پھٹکار ہو، وہ ہلاک ہو“۔ یعنی کتنی بڑی محرومی ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے ہی کو بھول جائے۔

لفظی وضاحت: ”قُتِلَ“ یعنی ہلاک ہو، پھٹکار ہو، ”أَكْفَرَهُ“ یعنی کتنا ناشکرا/منکر ہے۔
۱۸
مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ
ترجمہ:
اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا؟
تفسیر:

اب اللہ انسان کو اس کی اپنی حقیقت یاد دلاتے ہیں۔ ذرا سوچ تو سہی، تجھے کس چیز سے بنایا گیا؟ یہ سوال اس لیے ہے کہ انسان اپنی اصل کو یاد کر کے اپنا تکبر چھوڑ دے اور اپنے خالق کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔

لفظی وضاحت: ”أَيِّ شَيْءٍ“ یعنی کس چیز سے، ”خَلَقَهُ“ یعنی اسے پیدا کیا۔
۱۹
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ
ترجمہ:
ایک (حقیر) قطرے سے اسے پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا۔
تفسیر:

اللہ نے انسان کو ایک معمولی پانی کے قطرے (نطفے) سے بنایا، پھر اس کے مرحلے، اس کی شکل، اس کی صلاحیتیں اور اس کی عمر — سب کا اندازہ اور نقشہ مقرر کیا۔ جو انسان ایک حقیر قطرے سے بنا، اسے تکبر کیسے زیب دیتا ہے؟

لفظی وضاحت: ”نُّطْفَةٍ“ یعنی پانی کا قطرہ (مَنی)، ”قَدَّرَهُ“ یعنی اس کا اندازہ/نقشہ مقرر کیا۔
۲۰
ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ
ترجمہ:
پھر اس کے لیے راستہ آسان کر دیا۔
تفسیر:

پھر اللہ نے انسان کے لیے دنیا میں آنے کا راستہ (ماں کے پیٹ سے پیدائش) آسان کیا، اور ساتھ ہی زندگی گزارنے کا اور بھلائی و برائی پہچاننے کا راستہ بھی آسان کر دیا۔ یعنی انسان کو سمجھ بوجھ اور رہنمائی دونوں عطا کیں۔

لفظی وضاحت: ”السَّبِيلَ“ یعنی راستہ، ”يَسَّرَهُ“ یعنی اسے آسان کر دیا۔
۲۱
ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ
ترجمہ:
پھر اسے موت دی اور قبر میں رکھوایا۔
تفسیر:

زندگی کے بعد اللہ نے اسے موت دی، اور پھر اسے عزت کے ساتھ قبر میں دفن کرنے کا انتظام کیا — یہ بھی اللہ کا انسان پر احسان ہے کہ مرنے کے بعد اس کا جسم یونہی پڑا نہیں رہتا بلکہ اسے چھپایا جاتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”أَمَاتَهُ“ یعنی اسے موت دی، ”أَقْبَرَهُ“ یعنی اسے قبر میں رکھوایا۔
۲۲
ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ
ترجمہ:
پھر جب چاہے گا، اسے دوبارہ زندہ کرے گا۔
تفسیر:

جس اللہ نے پہلی بار ایک قطرے سے بنایا، وہی قیامت کے دن، جب چاہے گا، اسے دوبارہ زندہ کر کے قبر سے اٹھائے گا۔ جو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے، اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟

لفظی وضاحت: ”أَنشَرَهُ“ یعنی اسے دوبارہ زندہ کیا، اٹھایا۔
۲۳
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ
ترجمہ:
ہرگز نہیں! اس نے ابھی تک اللہ کے حکم کو پورا نہیں کیا۔
تفسیر:

اتنی نعمتوں کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ اس نے اللہ کے حکموں کو پوری طرح ادا نہیں کیا، نہ اس کا شکر صحیح سے بجا لایا۔ یہ انسان کی کوتاہی اور ناشکری کی طرف اشارہ ہے، کہ اسے اپنے رویّے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔

لفظی وضاحت: ”لَمَّا يَقْضِ“ یعنی ابھی تک پورا نہیں کیا، ”أَمَرَهُ“ یعنی جو حکم اسے دیا۔
۲۴
فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ
ترجمہ:
پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔
تفسیر:

اللہ انسان کو ایک سادہ مگر گہری بات کی طرف بلاتے ہیں: ذرا اپنے روزانہ کے کھانے پر ہی غور کر لو کہ یہ کیسے بنتا ہے۔ اسی غور و فکر سے اللہ کی قدرت اور اس کی نعمتیں سامنے آ جاتی ہیں۔

لفظی وضاحت: ”فَلْيَنظُرِ“ یعنی غور کرے، دیکھے، ”طَعَامِهِ“ یعنی اس کا کھانا۔
۲۵
أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا
ترجمہ:
بے شک ہم نے خوب پانی برسایا۔
تفسیر:

ہم نے آسمان سے خوب بارش برسائی۔ یہی پانی زمین کی زندگی کا سبب ہے، اور اسی سے انسان اور جانور دونوں کی خوراک پیدا ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔

لفظی وضاحت: ”صَبَبْنَا“ یعنی ہم نے برسایا/انڈیلا، ”صَبًّا“ یعنی خوب، زور سے۔
۲۶
ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا
ترجمہ:
پھر ہم نے زمین کو خوب پھاڑا۔
تفسیر:

پھر ہم نے زمین کو پھاڑا تاکہ اس میں سے سبزہ اور پودے نکلیں۔ بیج زمین کے اندر سے پھوٹ کر باہر آتا ہے — یہ بظاہر سادہ عمل بھی اللہ کی قدرت کا کمال ہے۔

لفظی وضاحت: ”شَقَقْنَا“ یعنی ہم نے پھاڑا، ”شَقًّا“ یعنی خوب، اچھی طرح۔
۲۷
فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا
ترجمہ:
پھر ہم نے اس میں اناج اگایا۔
تفسیر:

پھر اسی زمین سے ہم نے طرح طرح کا اناج (گندم، جو، چاول وغیرہ) اگایا، جو انسان کی بنیادی غذا ہے۔ ایک قطرے پانی سے اتنی خوراک کا پیدا ہونا اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔

لفظی وضاحت: ”أَنبَتْنَا“ یعنی ہم نے اگایا، ”حَبًّا“ یعنی اناج، دانہ۔
۲۸
وَعِنَبًا وَقَضْبًا
ترجمہ:
اور انگور اور ترکاری (چارہ)۔
تفسیر:

اور انگور جیسے میٹھے پھل اور سبز ترکاریاں اور چارہ بھی اگایا۔ ”قَضْب“ وہ تر سبزہ ہے جسے بار بار کاٹا جاتا ہے، جیسے جانوروں کا چارہ۔ یہ سب اللہ کی رنگارنگ نعمتیں ہیں۔

لفظی وضاحت: ”عِنَبًا“ یعنی انگور، ”قَضْبًا“ یعنی تر سبزہ، چارہ۔
۲۹
وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا
ترجمہ:
اور زیتون اور کھجور کے درخت۔
تفسیر:

اور زیتون، جس کا تیل اور پھل دونوں فائدہ مند ہیں، اور کھجور کے درخت، جو میٹھا اور غذائیت سے بھرپور پھل دیتے ہیں۔ ہر نعمت کا الگ ذکر اس لیے ہے کہ انسان غور کرے اور شکر ادا کرے۔

لفظی وضاحت: ”زَيْتُونًا“ یعنی زیتون، ”نَخْلًا“ یعنی کھجور کے درخت۔
۳۰
وَحَدَائِقَ غُلْبًا
ترجمہ:
اور گھنے باغ۔
تفسیر:

اور ایسے باغ جن کے درخت بڑے، گھنے اور خوب پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ باغ نہ صرف پھل دیتے ہیں بلکہ سایہ اور خوبصورتی بھی فراہم کرتے ہیں۔

لفظی وضاحت: ”حَدَائِقَ“ یعنی باغ، ”غُلْبًا“ یعنی گھنے، بڑے درختوں والے۔
۳۱
وَفَاكِهَةً وَأَبًّا
ترجمہ:
اور پھل اور چارہ۔
تفسیر:

اور طرح طرح کے پھل جو انسان کھاتا ہے، اور گھاس و چارہ جو جانوروں کی خوراک ہے۔ یعنی اللہ نے انسان اور اس کے جانوروں دونوں کے کھانے کا بندوبست کیا۔

لفظی وضاحت: ”فَاكِهَةً“ یعنی پھل، ”أَبًّا“ یعنی گھاس، چارہ (جانوروں کے لیے)۔
۳۲
مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ
ترجمہ:
تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے۔
تفسیر:

یہ ساری پیداوار تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے فائدے اور گزر بسر کے لیے ہے۔ جب اللہ نے کھانے پینے تک کا اتنا اہتمام کیا، تو انسان کو اس کا شکر گزار ہونا چاہیے، نہ کہ ناشکری کرنی چاہیے۔

لفظی وضاحت: ”مَّتَاعًا“ یعنی فائدہ، سامانِ زندگی، ”أَنْعَامِكُمْ“ یعنی تمہارے مویشی/جانور۔
۳۳
فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ
ترجمہ:
پھر جب کان بہرا کر دینے والی آواز آئے گی۔
تفسیر:

اب بات قیامت کی طرف آتی ہے۔ ”الصَّاخَّة“ وہ ہولناک اور زوردار آواز (دوسرا صور) ہے جو اتنی شدید ہوگی کہ کان بہرے کر دے گی۔ یہی وہ لمحہ ہوگا جب قیامت قائم ہوگی اور سب لوگ اللہ کے سامنے جمع ہوں گے۔

لفظی وضاحت: ”الصَّاخَّةُ“ یعنی کان بہرا کر دینے والی زوردار آواز (قیامت)۔
۳۴
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ
ترجمہ:
جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔
تفسیر:

اس دن کا خوف اتنا شدید ہوگا کہ انسان اپنے سب سے قریبی رشتوں سے بھی بھاگے گا — یہاں تک کہ اپنے سگے بھائی سے بھی۔ ہر ایک کو اپنی فکر ہوگی، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ رہے گا۔

لفظی وضاحت: ”يَفِرُّ“ یعنی بھاگے گا، ”الْمَرْءُ“ یعنی آدمی، ”أَخِيهِ“ یعنی اس کا بھائی۔
۳۵
وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ
ترجمہ:
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔
تفسیر:

اور اپنی ماں اور باپ سے بھی، جو دنیا میں سب سے زیادہ پیارے اور قریبی رشتے ہیں۔ جس ماں باپ کی خدمت اور محبت کا حکم ہے، اس دن انسان ان سے بھی دور بھاگے گا — یہ اس دن کی ہولناکی کا اندازہ دلاتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”أُمِّهِ“ یعنی اس کی ماں، ”أَبِيهِ“ یعنی اس کا باپ۔
۳۶
وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ
ترجمہ:
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔
تفسیر:

اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھی۔ یعنی دنیا کے سارے محبت بھرے رشتے اس دن کام نہ آئیں گے۔ ہر شخص صرف اپنے اعمال کے ساتھ تنہا کھڑا ہوگا اور اپنا حساب خود دے گا۔

لفظی وضاحت: ”صَاحِبَتِهِ“ یعنی اس کی بیوی، ”بَنِيهِ“ یعنی اس کے بیٹے۔
۳۷
لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
ترجمہ:
اس دن ہر شخص کو ایسی فکر ہوگی جو اسے (سب سے) بے پروا کر دے گی۔
تفسیر:

اس دن ہر انسان اپنی ہی فکر میں اتنا مصروف ہوگا کہ اسے کسی اور کا خیال نہ رہے گا۔ اپنی نجات کی فکر اسے سب سے بے پروا کر دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتوں سے بھی بھاگے گا۔

لفظی وضاحت: ”شَأْنٌ“ یعنی فکر، حالت، ”يُغْنِيهِ“ یعنی اسے (دوسروں سے) بے پروا کر دے۔
۳۸
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ
ترجمہ:
اس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے۔
تفسیر:

اب دو طرح کے لوگوں کا انجام بتایا جا رہا ہے۔ ایک طرف نیک لوگوں کے چہرے ہوں گے جو خوشی اور کامیابی سے چمک رہے ہوں گے۔ یہ ان کے ایمان اور نیک اعمال کا نتیجہ ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”وُجُوهٌ“ یعنی چہرے، ”مُّسْفِرَةٌ“ یعنی روشن، چمکتے ہوئے۔
۳۹
ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ
ترجمہ:
ہنستے ہوئے، خوشی سے کھلے ہوئے۔
تفسیر:

یہ نیک لوگوں کے چہرے خوشی سے ہنس رہے ہوں گے اور جنت کی خوشخبری پا کر دل سے مسرور ہوں گے۔ ان کے لیے وہ دن کامیابی اور انعام کا دن ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”ضَاحِكَةٌ“ یعنی ہنستے ہوئے، ”مُّسْتَبْشِرَةٌ“ یعنی خوشخبری سے خوش۔
۴۰
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ
ترجمہ:
اور اس دن کچھ چہروں پر گرد پڑی ہوگی۔
تفسیر:

دوسری طرف بدکار اور منکر لوگوں کے چہرے ہوں گے، جن پر گرد و غبار اور پریشانی چھائی ہوگی۔ یہ ان کی ناکامی اور غم کی علامت ہوگی۔

لفظی وضاحت: ”غَبَرَةٌ“ یعنی گرد، غبار۔
۴۱
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ
ترجمہ:
ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔
تفسیر:

ان چہروں پر گرد کے ساتھ ساتھ کالک اور سیاہی بھی چھا رہی ہوگی۔ یعنی ان کی رسوائی اور غم دونوں ان کے چہروں سے ظاہر ہوں گے۔ یہ کفر اور نافرمانی کا انجام ہے۔

لفظی وضاحت: ”تَرْهَقُهَا“ یعنی ان پر چھائی ہوگی، ”قَتَرَةٌ“ یعنی سیاہی، کالک۔
۴۲
أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ
ترجمہ:
یہی لوگ کافر اور بدکار ہیں۔
تفسیر:

یہ سورت کا آخری پیغام ہے۔ جن چہروں پر گرد اور سیاہی ہوگی، وہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اللہ کا انکار کیا (کفر) اور کھلے گناہوں کی زندگی گزاری (فجور)۔ یعنی کفر اور بدکرداری دونوں مل کر انسان کو اس انجام تک پہنچاتے ہیں۔ سورت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم ناشکری اور غفلت چھوڑ کر ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے چہرے اس دن روشن ہوں گے۔

لفظی وضاحت: ”الْكَفَرَةُ“ یعنی کافر، منکر، ”الْفَجَرَةُ“ یعنی بدکار، کھلے گناہ گار۔

سورت کا خلاصہ اور اہم اسباق

  • دین میں کسی کی ظاہری حیثیت نہیں، بلکہ اس کی سچائی، اخلاص اور طلب دیکھنی چاہیے۔
  • سچا اور مخلص طالبِ حق، چاہے بظاہر کمزور ہو، سب سے زیادہ توجہ کا حق دار ہے۔
  • قرآن نہایت معزز اور پاک کلام ہے، جسے معزز و نیک فرشتے لکھتے اور پہنچاتے ہیں۔
  • انسان ایک حقیر قطرے سے بنا، اس لیے تکبر نہیں بلکہ شکر اور عاجزی اسے زیب دیتی ہے۔
  • اللہ نے کھانے پینے تک کا اہتمام کیا، پھر بھی انسان ناشکری کرتا ہے — یہ بڑی محرومی ہے۔
  • قیامت کے دن کوئی رشتہ کام نہ آئے گا؛ نیک چہرے روشن اور بدکار چہرے سیاہ ہوں گے۔
سورۃ عبس — تفصیلی مگر آسان تفسیر  •  (عربی متن مصحفِ مدینہ / روایتِ حفص سے تصدیق شدہ)  •  وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

سورۃ التکویر

مکی سورت  •  کل آیات: ۲۹  •  پارہ: ۳۰  •  ترتیب نمبر: ۸۱
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سورت کا تعارف

یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”تکویر“ کا مطلب ہے ”لپیٹ دینا“۔ پہلی آیت میں سورج کے لپیٹ دیے جانے کا ذکر ہے، اسی لیے سورت کا نام ”التکویر“ رکھا گیا۔

سورت دو حصوں میں ہے۔ پہلے حصے (آیت ۱ تا ۱۴) میں قیامت کی بارہ بڑی نشانیاں بیان کی گئیں — جب پوری کائنات کا نظام الٹ پلٹ ہو جائے گا۔ دوسرے حصے (آیت ۱۵ تا ۲۹) میں قرآن کی سچائی، جبرئیلؑ کی عظمت اور نبی کریم ﷺ کی سچائی بیان کی گئی، اور بتایا گیا کہ یہ قرآن پوری دنیا کے لیے نصیحت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے، وہ سورۂ تکویر پڑھے، کیونکہ اس میں قیامت کا منظر بہت واضح کھینچا گیا ہے۔

۱
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ
ترجمہ:
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔
تفسیر:

قیامت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ یہ روشن اور چمکتا سورج، جو دنیا کو روشنی اور گرمی دیتا ہے، اللہ کے حکم سے لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی ختم ہو جائے گی۔ جیسے کوئی پگڑی یا چادر لپیٹ کر بے کار کر دی جائے، ویسے ہی سورج کی روشنی سمیٹ لی جائے گی اور وہ اندھیرا ہو جائے گا۔

آج انسان سورج کو دیکھ کر اللہ کی قدرت کا اندازہ کر سکتا ہے، اور اس دن اسی سورج کا بے نور ہو جانا قیامت کی ہولناکی کی پہلی علامت ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”الشَّمْس“ یعنی سورج، ”کُوِّرَتْ“ یعنی لپیٹ دینا، روشنی سمیٹ لینا۔
۲
وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ
ترجمہ:
اور جب ستارے بے نور ہو کر گر پڑیں گے۔
تفسیر:

جو ستارے آج رات کے اندھیرے میں چمکتے ہیں اور آسمان کی زینت ہیں، قیامت کے دن ان کی روشنی ختم ہو جائے گی اور وہ ٹوٹ کر گر پڑیں گے۔ سورج کے بعد ستاروں کا بے نور ہونا بتاتا ہے کہ آسمان کا سارا روشنی کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

لفظی وضاحت: ”النُّجُوْم“ یعنی ستارے، ”انْکَدَرَتْ“ یعنی بے نور ہو کر گر جانا، دھندلا جانا۔
۳
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ
ترجمہ:
اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے۔
تفسیر:

آج پہاڑ اتنے بھاری اور مضبوط ہیں کہ زمین کو تھامے ہوئے کھونٹوں کی طرح جمے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن یہی پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور بادلوں کی طرح ہوا میں اڑتے اور چلتے پھریں گے۔ آخرکار یہ ریزہ ریزہ ہو کر دھنکی ہوئی روئی کی طرح بکھر جائیں گے۔

جو چیز سب سے زیادہ مضبوط اور ٹھہری ہوئی نظر آتی ہے، اس کا بھی اس دن چلنا بتاتا ہے کہ اس دن کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی۔

لفظی وضاحت: ”الْجِبَال“ یعنی پہاڑ، ”سُیِّرَتْ“ یعنی چلا دینا، اپنی جگہ سے ہٹا دینا۔
۴
وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ
ترجمہ:
اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی۔
تفسیر:

”عِشار“ ان اونٹنیوں کو کہتے ہیں جو دس ماہ کی گابھن (حاملہ) ہوں۔ عرب کے لوگوں کے نزدیک یہ سب سے قیمتی مال تھیں، کیونکہ یہ بہت جلد بچہ اور دودھ دینے والی ہوتیں۔ ایسی قیمتی اونٹنیوں کو کوئی لمحہ بھر کے لیے بھی نہ چھوڑتا تھا۔

مگر قیامت کے دن کا خوف ایسا ہوگا کہ لوگ اپنی سب سے قیمتی چیز کو بھی بے کار اور لاوارث چھوڑ دیں گے۔ کسی کو اپنے مال کی فکر نہ رہے گی، ہر ایک کو صرف اپنی جان کی پڑی ہوگی۔

لفظی وضاحت: ”الْعِشَار“ یعنی دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں، ”عُطِّلَتْ“ یعنی بے کار اور لاوارث چھوڑ دینا۔
۵
وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ
ترجمہ:
اور جب جنگلی جانور اکٹھے کر دیے جائیں گے۔
تفسیر:

جو جنگلی جانور آج ایک دوسرے سے ڈر کر اور بھاگ کر جنگلوں میں الگ الگ رہتے ہیں، قیامت کے دن کا خوف ایسا ہوگا کہ وہ سب اپنے ٹھکانے چھوڑ کر ایک جگہ گھبرا کر اکٹھے ہو جائیں گے۔ شیر اور ہرن، بھیڑیا اور بکری — سب کو اس دن کی دہشت ایک جگہ جمع کر دے گی۔

کچھ مفسرین کہتے ہیں کہ جانوروں کو بھی اللہ کے سامنے جمع کیا جائے گا، اور ان کے درمیان جو ظلم ہوا (جیسے بے سینگ والے جانور سے سینگ والے نے بدلہ لیا) اس کا انصاف ہوگا، پھر انہیں مٹی بنا دیا جائے گا۔

لفظی وضاحت: ”الْوُحُوْش“ یعنی جنگلی جانور، ”حُشِرَتْ“ یعنی اکٹھا اور جمع کر دینا۔
۶
وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ
ترجمہ:
اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے (آگ بن جائیں گے)۔
تفسیر:

آج سمندروں میں ٹھنڈا پانی بھرا ہے۔ قیامت کے دن یہی سمندر آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ پانی، جو آگ کو بجھاتا ہے، خود آگ بن جائے گا — یہ اللہ کی قدرت کی انتہائی نشانی ہے۔

کچھ مفسرین کہتے ہیں کہ سب سمندر آپس میں مل کر ایک ہو جائیں گے اور پھیل جائیں گے۔ دونوں مطلب اللہ کی قدرت اور اس دن کی ہولناکی کو ظاہر کرتے ہیں۔

لفظی وضاحت: ”الْبِحَار“ یعنی سمندر، ”سُجِّرَتْ“ یعنی بھڑکا دینا، آگ کی طرح گرم کر دینا۔
۷
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ
ترجمہ:
اور جب جانیں (اپنے جیسوں سے) ملا دی جائیں گی۔
تفسیر:

یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کی بات شروع ہوتی ہے، یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بعد لوگوں کا جمع ہونا۔ اس دن ہر طرح کے لوگ اپنے جیسوں کے ساتھ ملا دیے جائیں گے — نیک لوگ نیکوں کے ساتھ اور برے لوگ بروں کے ساتھ۔

ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہر روح کو اس کے جسم کے ساتھ دوبارہ ملا دیا جائے گا تاکہ حساب کے لیے کھڑے ہوں۔ یعنی جو ساتھی دنیا میں تھے، آخرت میں بھی اپنے اپنے گروہ کے ساتھ ہوں گے۔

لفظی وضاحت: ”النُّفُوْس“ یعنی جانیں/روحیں، ”زُوِّجَتْ“ یعنی جوڑا بنا دینا، اپنے جیسوں سے ملا دینا۔
۸
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
ترجمہ:
اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔
تفسیر:

زمانۂ جاہلیت میں بعض عرب لوگ بیٹیوں کو عار (شرم) سمجھ کر پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے۔ یہ بہت بڑا ظلم تھا۔ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اس بے گناہ بچی سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس گناہ کے بدلے قتل کیا گیا تھا؟

یہ سوال دراصل ظالم کو شرمندہ اور رسوا کرنے کے لیے ہے۔ جب بے گناہ مظلوم سے پوچھا جائے گا تو ظالم کا جرم سب کے سامنے کھل جائے گا۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے ہاں کمزور اور مظلوم کا پورا حق محفوظ ہے اور اس کا حساب ضرور ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”الْمَوْءُوْدَة“ یعنی وہ بچی جو زندہ دفن کر دی گئی ہو، ”سُئِلَتْ“ یعنی اس سے سوال کیا جائے گا۔
۹
بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ
ترجمہ:
کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟
تفسیر:

یہ اسی سوال کی وضاحت ہے۔ اس معصوم بچی کا تو کوئی قصور ہی نہ تھا، پھر اسے کیوں مار دیا گیا؟ یہ سوال ظالم باپ اور اس معاشرے کے لیے ہے جس نے یہ ظلم کیا۔

اس آیت سے اسلام کی وہ تعلیم سامنے آتی ہے کہ بیٹی کوئی بوجھ یا شرم نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت ہے۔ بے گناہ کو قتل کرنا، خاص طور پر اپنی اولاد کو، بہت بڑا گناہ ہے جس کا حساب ضرور ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”ذَنْب“ یعنی گناہ، قصور، ”قُتِلَتْ“ یعنی وہ قتل کی گئی۔
۱۰
وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ
ترجمہ:
اور جب اعمال نامے کھول دیے جائیں گے۔
تفسیر:

دنیا میں فرشتوں نے ہر انسان کے اعمال لکھ کر اس کا اعمال نامہ تیار کیا تھا۔ قیامت کے دن یہ سب اعمال نامے کھول کر ہر ایک کے سامنے رکھ دیے جائیں گے۔

نیک لوگوں کو ان کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ خوش ہوں گے، جبکہ برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ پریشان ہوں گے۔ اس دن ہر عمل سب کے سامنے کھل جائے گا، کچھ بھی چھپا نہ رہے گا۔

لفظی وضاحت: ”الصُّحُف“ یعنی اعمال نامے، صحیفے، ”نُشِرَتْ“ یعنی کھول دینا، پھیلا دینا۔
۱۱
وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ
ترجمہ:
اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (ہٹا دیا جائے گا)۔
تفسیر:

جیسے بکری یا جانور کی کھال کھینچ کر اتار دی جاتی ہے، ویسے ہی قیامت کے دن آسمان کو اپنی جگہ سے اتار کر ہٹا دیا جائے گا اور لپیٹ دیا جائے گا۔ جو آسمان آج چھت کی طرح ہمارے اوپر تنا ہوا ہے، وہ اس دن باقی نہ رہے گا۔

لفظی وضاحت: ”کُشِطَتْ“ یعنی کھال اتارنا، کھینچ کر الگ کر دینا۔
۱۲
وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ
ترجمہ:
اور جب جہنم خوب بھڑکا دی جائے گی۔
تفسیر:

قیامت کے دن جہنم کی آگ کو خوب تیز اور بھڑکا دیا جائے گا تاکہ گناہ گاروں کو سزا دی جائے۔ یہ آگ دنیا کی آگ سے کئی گنا زیادہ سخت اور خوفناک ہوگی۔

لفظی وضاحت: ”الْجَحِیْم“ یعنی بھڑکتی آگ (جہنم)، ”سُعِّرَتْ“ یعنی خوب بھڑکا دینا، تیز کر دینا۔
۱۳
وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ
ترجمہ:
اور جب جنت قریب کر دی جائے گی۔
تفسیر:

دوسری طرف نیک لوگوں کے لیے جنت کو ان کے قریب لے آیا جائے گا تاکہ وہ اس کی نعمتیں دیکھ کر خوش ہوں اور آسانی سے اس میں داخل ہو جائیں۔ جہنم کے بھڑکنے کے ساتھ جنت کے قریب آنے کا ذکر بتاتا ہے کہ اس دن دونوں انجام بالکل سامنے ہوں گے۔

لفظی وضاحت: ”الْجَنَّة“ یعنی جنت، ”اُزْلِفَتْ“ یعنی قریب لے آنا، نزدیک کر دینا۔
۱۴
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ
ترجمہ:
تو ہر شخص جان لے گا کہ وہ کیا (اعمال) لے کر آیا ہے۔
تفسیر:

یہ پہلے حصے کا نچوڑ ہے۔ جب یہ ساری نشانیاں ظاہر ہوں گی، تو اس وقت ہر انسان کو اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ وہ اپنے ساتھ کیا اعمال لے کر آیا ہے — نیکیاں یا برائیاں۔

دنیا میں انسان غفلت میں رہتا ہے، مگر اس دن سب کچھ سامنے ہوگا اور کوئی بہانہ نہ چلے گا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ابھی، اسی دنیا میں، اپنے اعمال درست کر لیے جائیں۔

لفظی وضاحت: ”اَحْضَرَتْ“ یعنی جو حاضر کیا، ساتھ لے کر آیا (یعنی اعمال)۔
۱۵
فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ
ترجمہ:
پس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے (ستاروں) کی۔
تفسیر:

یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ قیامت کی نشانیوں کے بعد اب اللہ قرآن کی سچائی پر گواہی دیتے ہیں اور اس کے لیے ستاروں اور سیّاروں کی قسم کھاتے ہیں۔ ”خُنَّس“ ان سیّاروں کو کہتے ہیں جو دن میں نظر نہیں آتے اور چھپ جاتے ہیں۔

قرآن میں قسم کسی چیز کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ یہاں اللہ اپنی عظیم مخلوق (ستاروں) کی قسم کھا کر آگے آنے والی بات کی سچائی پر زور دے رہے ہیں۔

لفظی وضاحت: ”اُقْسِم“ یعنی میں قسم کھاتا ہوں، ”الْخُنَّس“ یعنی پیچھے ہٹنے اور چھپ جانے والے ستارے۔
۱۶
الْجَوَارِ الْكُنَّسِ
ترجمہ:
جو چلتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں۔
تفسیر:

یہ پچھلی آیت کی قسم کا تسلسل ہے۔ یہ ستارے اور سیّارے اپنے مقررہ راستوں پر چلتے رہتے ہیں، پھر اپنے ٹھکانوں میں ایسے چھپ جاتے ہیں جیسے ہرن اپنے بھٹ میں چھپ جاتا ہے۔

ان آیات میں اللہ کی قدرت کی نشانی بھی ہے، کہ یہ سب ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ جو اللہ اتنا بڑا نظام چلا رہا ہے، اس کا کلام (قرآن) یقیناً سچا ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْجَوَار“ یعنی چلنے والے، ”الْکُنَّس“ یعنی اپنے ٹھکانوں میں چھپ جانے والے۔
۱۷
وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
ترجمہ:
اور رات کی قسم جب وہ جانے لگے (یا آنے لگے)۔
تفسیر:

اللہ رات کی بھی قسم کھاتے ہیں۔ ”عَسْعَسَ“ کا مطلب رات کا ختم ہونا بھی ہے اور شروع ہونا بھی۔ یعنی جب رات اپنے اندھیرے کے ساتھ آتی ہے یا جب وہ ختم ہو کر صبح کے قریب پہنچتی ہے۔

رات اور دن کا یہ نظام بھی اللہ کی بڑی نشانی ہے۔ ان عظیم مخلوقات کی قسم کھانے کا مقصد آگے آنے والی بات (قرآن کی سچائی) کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔

لفظی وضاحت: ”الَّیْل“ یعنی رات، ”عَسْعَسَ“ یعنی رات کا آنا یا جانا۔
۱۸
وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ
ترجمہ:
اور صبح کی قسم جب وہ سانس لینے لگے (روشن ہونے لگے)۔
تفسیر:

اللہ صبح کی بھی قسم کھاتے ہیں، جب اس کی روشنی آہستہ آہستہ پھیلنے لگتی ہے اور اندھیرا چھٹ جاتا ہے۔ ”تَنَفَّسَ“ (سانس لینا) خوبصورت تشبیہ ہے، گویا صبح کی روشنی زندگی کی سانس کی طرح آہستہ آہستہ پھیلتی ہے۔

رات کا اندھیرا اور صبح کی روشنی — دونوں اللہ کی قدرت کا کمال ہیں۔ ان کی قسم کھا کر اللہ آگے قرآن اور جبرئیلؑ کی عظمت بیان کرنے والے ہیں۔

لفظی وضاحت: ”الصُّبْح“ یعنی صبح، ”تَنَفَّسَ“ یعنی سانس لینا، روشنی کا پھیلنا۔
۱۹
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
ترجمہ:
بے شک یہ (قرآن) ایک معزز پیغام لانے والے (جبرئیلؑ) کا لایا ہوا کلام ہے۔
تفسیر:

اب وہ بات آتی ہے جس کے لیے اوپر قسمیں کھائی گئیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں، بلکہ ایک معزز فرشتے (جبرئیل علیہ السلام) کا اللہ کی طرف سے لایا ہوا پیغام ہے۔

یہاں ”رسول“ سے مراد جبرئیلؑ ہیں، جو اللہ کا پیغام نبی کریم ﷺ تک پہنچانے والے ہیں۔ مطلب یہ کہ قرآن کا سرچشمہ اللہ ہے، اور اسے لانے والا ایک عظیم اور معزز فرشتہ ہے۔

لفظی وضاحت: ”قَوْل“ یعنی کلام/بات، ”رَسُوْل کَرِیْم“ یہاں مراد معزز فرشتہ جبرئیلؑ۔
۲۰
ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ
ترجمہ:
جو بڑی طاقت والا ہے، عرش کے مالک کے ہاں بلند مرتبہ ہے۔
تفسیر:

یہاں جبرئیلؑ کی صفات بیان کی جا رہی ہیں۔ وہ بہت طاقتور فرشتہ ہیں اور اللہ (عرش کے مالک) کے ہاں بلند اور معزز مقام رکھتے ہیں۔ اللہ نے انہیں خاص قوت اور مرتبہ عطا کیا ہے۔

جب پیغام لانے والا اتنا طاقتور اور معزز ہے، تو پیغام (قرآن) کی عظمت اور سچائی کا اندازہ خود بخود ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ کلام ہر شک سے پاک ہے۔

لفظی وضاحت: ”قُوَّة“ یعنی طاقت، ”ذِی الْعَرْش“ یعنی عرش کا مالک (اللہ)، ”مَکِیْن“ یعنی بلند مرتبہ۔
۲۱
مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
ترجمہ:
جس کی (آسمان میں) بات مانی جاتی ہے، اور وہ امانت دار ہے۔
تفسیر:

جبرئیلؑ کی مزید دو صفات بتائی گئیں۔ ایک یہ کہ آسمان میں دوسرے فرشتے ان کی بات مانتے ہیں، یعنی وہ فرشتوں کے سردار ہیں۔ دوسری یہ کہ وہ بہت امانت دار ہیں — اللہ کا پیغام بغیر کسی کمی بیشی کے، پوری امانت کے ساتھ پہنچاتے ہیں۔

امانت دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جبرئیلؑ نے اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں ملایا، جو کچھ اللہ نے کہا، ویسا ہی پہنچایا۔ اس لیے یہ قرآن بالکل خالص اور قابل اعتماد ہے۔

لفظی وضاحت: ”مُطَاع“ یعنی جس کی بات مانی جائے، ”اَمِیْن“ یعنی امانت دار، بھروسے کے قابل۔
۲۲
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ
ترجمہ:
اور تمہارا ساتھی (محمد ﷺ) دیوانہ نہیں ہے۔
تفسیر:

کافر نبی کریم ﷺ پر طرح طرح کے الزام لگاتے تھے، کبھی کہتے کہ (نعوذ باللہ) یہ دیوانے ہیں۔ اللہ ان کا جواب دیتے ہیں کہ تمہارا ساتھی — جسے تم برسوں سے جانتے ہو، جس کی سچائی اور امانت داری کے تم خود گواہ ہو — ہرگز دیوانہ نہیں ہے۔

”صاحِب“ (ساتھی) کہہ کر یاد دلایا گیا کہ یہ تمہارے درمیان کے ہی ہیں، تم ان کی پوری زندگی جانتے ہو، پھر ان پر ایسا جھوٹا الزام کیسے لگاتے ہو؟

لفظی وضاحت: ”صَاحِب“ یعنی ساتھی، ”مَجْنُوْن“ یعنی دیوانہ، پاگل۔
۲۳
وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ
ترجمہ:
اور بے شک انہوں نے اس (جبرئیلؑ) کو روشن کنارے پر دیکھا۔
تفسیر:

نبی کریم ﷺ نے جبرئیلؑ کو ان کی اصل اور حقیقی شکل میں آسمان کے کھلے روشن کنارے پر دیکھا تھا۔ یہ ثبوت ہے کہ وحی واقعی فرشتے کے ذریعے آئی، یہ کوئی خیال یا وہم نہیں تھا۔

یعنی جو پیغام نبی ﷺ کو ملا، وہ سچ مچ آسمان سے، جبرئیلؑ کے ذریعے آیا۔ نبی ﷺ نے خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا، اس لیے ان کی بات میں کوئی شک نہیں۔

لفظی وضاحت: ”رَاٰہُ“ یعنی اس نے اسے دیکھا، ”الْاُفُق الْمُبِیْن“ یعنی کھلا روشن کنارہ (آسمان کا)۔
۲۴
وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ
ترجمہ:
اور وہ غیب (کی باتوں) کو بتانے میں بخیل نہیں ہیں۔
تفسیر:

اللہ نے نبی کریم ﷺ کو غیب کی جو باتیں اور وحی عطا کی، وہ انہیں چھپاتے نہیں، نہ ان میں بخل کرتے ہیں۔ بلکہ جو کچھ اللہ نے انہیں سکھایا، وہ پوری امانت داری سے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔

یعنی نبی ﷺ نے اللہ کا پیغام بغیر کسی کمی کے، بغیر کچھ چھپائے، سب لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہ ان کی سچائی اور امانت داری کی دلیل ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْغَیْب“ یعنی چھپی ہوئی باتیں/وحی، ”ضَنِیْن“ یعنی بخیل، کنجوسی کرنے والا۔
۲۵
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ
ترجمہ:
اور یہ (قرآن) کسی مردود شیطان کا کلام نہیں ہے۔
تفسیر:

کافر کبھی کہتے کہ یہ قرآن شیطان یا جنوں کی طرف سے ہے۔ اللہ صاف انکار کرتے ہیں کہ یہ کسی مردود شیطان کا کلام ہرگز نہیں۔ شیطان تو برائی اور گمراہی کی طرف بلاتا ہے، جبکہ قرآن نیکی، توحید اور پاکیزگی سکھاتا ہے۔

قرآن کا پیغام اور شیطان کا کام ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں، اس لیے یہ ناممکن ہے کہ قرآن شیطان کی طرف سے ہو۔ یہ تو صرف اور صرف اللہ کا کلام ہے۔

لفظی وضاحت: ”شَیْطٰن رَّجِیْم“ یعنی مردود/دھتکارا ہوا شیطان۔
۲۶
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ
ترجمہ:
پھر تم کہاں جا رہے ہو؟
تفسیر:

یہ ایک جھنجھوڑ دینے والا سوال ہے۔ جب اتنی واضح سچائی سامنے آ گئی — قرآن اللہ کا کلام ہے، جبرئیلؑ معزز فرشتہ ہیں، نبی ﷺ سچے ہیں — تو پھر اے لوگو! تم اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر کدھر بھٹک رہے ہو؟

یہ ان لوگوں کے لیے نرمی بھری ملامت ہے جو حق سے منہ موڑ کر گمراہی کی طرف جا رہے ہیں۔ گویا کہا جا رہا ہے: عقل سے کام لو اور سیدھے راستے پر آ جاؤ۔

لفظی وضاحت: ”اَیْنَ“ یعنی کہاں، ”تَذْہَبُوْن“ یعنی تم جا رہے ہو۔
۲۷
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
ترجمہ:
یہ (قرآن) تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔
تفسیر:

قرآن کسی ایک قوم یا علاقے کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے سب انسانوں اور جنوں کے لیے نصیحت اور رہنمائی ہے۔ یہ ہر زمانے اور ہر جگہ کے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔

”ذِکر“ کا مطلب نصیحت اور یاد دہانی ہے — یعنی قرآن انسان کو اس کے رب، اس کے مقصدِ زندگی اور آخرت کی یاد دلاتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”ذِکْر“ یعنی نصیحت، یاد دہانی، ”الْعٰلَمِیْن“ یعنی سارے جہان والے۔
۲۸
لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ
ترجمہ:
(یعنی) تم میں سے اس کے لیے جو سیدھا چلنا چاہے۔
تفسیر:

یہ نصیحت اس کے لیے فائدہ مند ہے جو خود سیدھے راستے پر چلنا چاہے۔ قرآن راستہ دکھاتا ہے، مگر اس پر چلنے کے لیے انسان کو اپنی مرضی اور کوشش سے قدم اٹھانا ہوتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ ہدایت قبول کرے یا نہ کرے۔

یعنی جو شخص نیک بننا چاہے اور حق کو دل سے قبول کرے، قرآن اس کے لیے سچی رہنمائی ہے۔ ہدایت زبردستی نہیں، بلکہ چاہنے والوں کے لیے ہے۔

لفظی وضاحت: ”شَآءَ“ یعنی چاہے، ”یَسْتَقِیْم“ یعنی سیدھا اور درست راستہ اختیار کرے۔
۲۹
وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ:
اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ، سارے جہانوں کا رب، چاہے۔
تفسیر:

یہ سورت کی آخری اور بہت اہم بات ہے۔ پچھلی آیت میں بتایا گیا کہ ہدایت چاہنے والے کے لیے ہے، تو یہاں ساتھ یہ بھی واضح کر دیا کہ انسان کی یہ ”چاہت“ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔

یعنی انسان کو اختیار اور ارادہ ضرور دیا گیا ہے، لیکن سب کچھ اللہ کی مرضی اور توفیق سے ہوتا ہے۔ یہ آیت انسان میں عاجزی پیدا کرتی ہے کہ وہ نہ تو مغرور ہو اور نہ مایوس، بلکہ ہدایت کے لیے ہمیشہ اللہ سے مدد اور توفیق مانگتا رہے۔

لفظی وضاحت: ”تَشَآءُوْن“ یعنی تم چاہتے ہو، ”رَبُّ الْعٰلَمِیْن“ یعنی سارے جہانوں کا پالنے والا (اللہ)۔

سورت کا خلاصہ اور اہم اسباق

  • قیامت ضرور آئے گی — سورج لپٹ جائے گا، ستارے گریں گے، پہاڑ اڑیں گے اور سمندر آگ بن جائیں گے۔
  • اس دن انسان کا سب سے قیمتی مال بھی بے کار ہو جائے گا، ہر ایک کو صرف اپنی فکر ہوگی۔
  • بے گناہ بچی (مظلوم) کا حق محفوظ ہے؛ اللہ کے ہاں ہر ظلم کا حساب ہوگا۔
  • قرآن اللہ کا کلام ہے، جسے معزز فرشتہ جبرئیلؑ لائے؛ یہ نہ شیطان کا کلام ہے، نہ نبی ﷺ دیوانے ہیں۔
  • قرآن پوری دنیا کے لیے نصیحت ہے، اور یہ اس کے کام آتا ہے جو سیدھا راستہ چاہے۔
  • انسان کے ارادے کے ساتھ اللہ کی مرضی بھی شامل ہے، اس لیے ہمیشہ اللہ سے توفیق مانگنی چاہیے۔
سورۃ التکویر — تفصیلی مگر آسان تفسیر  •  (عربی متن مصحفِ مدینہ / روایتِ حفص سے تصدیق شدہ)  •  وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

سورۃ الانفطار

مکی سورت  •  کل آیات: ۱۹  •  پارہ: ۳۰  •  ترتیب نمبر: ۸۲
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سورت کا تعارف

یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ ”انفطار“ عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ”پھٹ جانا“۔ پہلی آیت میں آسمان کے پھٹنے کا ذکر ہے، اسی لیے سورت کا نام ”الانفطار“ رکھا گیا۔

اس سورت کا اصل مقصد انسان کو غفلت سے جگانا ہے۔ پہلے قیامت کی ہولناک نشانیاں بیان کی گئیں، پھر انسان سے پیار بھرے انداز میں سوال کیا گیا کہ اللہ نے تجھے اتنی نعمتیں دیں، پھر تو اس کی نافرمانی کیوں کرتا ہے؟ آخر میں نیک اور بد لوگوں کا انجام بتا کر آخرت کی تیاری کی دعوت دی گئی۔

۱
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ
ترجمہ:
جب آسمان پھٹ جائے گا۔
تفسیر:

قیامت کی پہلی نشانی یہ ہے کہ یہ مضبوط اور بے شگاف آسمان، جو آج اتنا مظبوط ہے کہ اس میں کہیں کوئی دراڑ نظر نہیں آتی، اللہ کے حکم سے پھٹ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سورۂ ملک میں فرماتے ہیں کہ تم آسمان میں کوئی خلل یا دراڑ نہیں پاؤ گے — مگر قیامت کے دن یہی آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان سمجھے: جو نظام آج اتنا مضبوط لگتا ہے، وہ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں۔ ایک دن سب کچھ ختم ہو جائے گا اور صرف اللہ باقی رہے گا۔

لفظی وضاحت: ”اِنفَطَرَتْ“ کا مطلب ہے ”پھٹ جانا، شق ہو جانا“۔
۲
وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ
ترجمہ:
اور جب ستارے بکھر جائیں گے۔
تفسیر:

جو ستارے آج آسمان میں اپنی اپنی جگہ پر جمے ہوئے اور ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں، قیامت کے دن وہ اپنی جگہ سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے اور ایک دوسرے پر گر پڑیں گے۔ آج ان کی چمک اور ترتیب اللہ کی قدرت کی نشانی ہے، اور اس دن ان کا بکھرنا اللہ کے غضب اور قیامت کی ہولناکی کی نشانی ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”الْکَوَاکِب“ یعنی ستارے، اور ”اِنتَثَرَتْ“ یعنی بکھر جانا، گر پڑنا۔
۳
وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ
ترجمہ:
اور جب سمندر بہا دیے جائیں گے۔
تفسیر:

آج اللہ نے سمندروں کے درمیان پردے اور حدیں بنا رکھی ہیں، اسی لیے میٹھا اور کھارا پانی الگ الگ رہتا ہے اور پانی اپنے کناروں میں محفوظ رہتا ہے۔ قیامت کے دن یہ سب حدیں ٹوٹ جائیں گی، سمندر آپس میں مل جائیں گے اور ہر طرف پھیل کر بہہ پڑیں گے۔

کچھ مفسرین نے یہ بھی فرمایا کہ سمندروں میں آگ بھر دی جائے گی، جیسا کہ ایک اور جگہ ”سُجِّرَتْ“ (بھڑکا دیے جائیں گے) کا ذکر ہے۔ مطلب یہ کہ دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

لفظی وضاحت: ”الْبِحَار“ یعنی سمندر، اور ”فُجِّرَتْ“ یعنی پھاڑ کر بہا دینا، ابال دینا۔
۴
وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ
ترجمہ:
اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی۔
تفسیر:

یہاں سے بات قیامت کے دوسرے مرحلے کی طرف آتی ہے، یعنی دوبارہ زندہ کیے جانے کا۔ قبریں الٹ پلٹ کر دی جائیں گی اور جو لوگ صدیوں پہلے مر چکے تھے، وہ سب زندہ ہو کر اپنی قبروں سے باہر نکل آئیں گے تاکہ اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہوں۔

پہلی تین آیتیں دنیا کے فنا ہونے کے بارے میں تھیں، اور یہ آیت بتاتی ہے کہ فنا کے بعد دوبارہ زندگی شروع ہوگی۔ جو لوگ موت کے بعد زندگی کا انکار کرتے ہیں، یہ آیت ان کے لیے جواب ہے۔

لفظی وضاحت: ”الْقُبُور“ یعنی قبریں، اور ”بُعْثِرَتْ“ یعنی اوپر نیچے کر دینا، اکھاڑ دینا۔
۵
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ
ترجمہ:
تو ہر شخص جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑا۔
تفسیر:

یہ آیت بتاتی ہے کہ جب اوپر کی ساری نشانیاں ظاہر ہوں گی، تو اس وقت ہر انسان کو اپنے سب اعمال کا پتہ چل جائے گا۔ ”آگے بھیجا“ سے مراد وہ نیک یا برے کام ہیں جو اس نے اپنی زندگی میں خود کیے، اور ”پیچھے چھوڑا“ سے مراد وہ اثرات ہیں جو اس کے مرنے کے بعد بھی چلتے رہے۔

مثلاً کسی نے کوئی نیک کام شروع کیا، جیسے مسجد، کنواں یا اچھی تعلیم — تو اس کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہے گا۔ اور اگر کسی نے کوئی بُری رسم یا گناہ کا راستہ چھوڑا، تو اس کا گناہ بھی چلتا رہے گا۔ اس دن یہ سب اس کے سامنے آ جائے گا، کوئی چیز چھپی نہ رہے گی۔

لفظی وضاحت: ”قَدَّمَتْ“ یعنی آگے بھیجا (جو خود کیا)، ”اَخَّرَتْ“ یعنی پیچھے چھوڑا (جس کے اثرات بعد میں رہے)۔
۶
يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ
ترجمہ:
اے انسان! تجھے اپنے کریم (نہایت مہربان) رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈالا؟
تفسیر:

یہ سورت کی سب سے پیاری اور اثر والی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ یہاں ڈانٹ کے بجائے بڑے پیار سے سوال کرتے ہیں: ”اے انسان! تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا کہ تو اپنے اتنے مہربان رب کی نافرمانی کرنے لگا؟“

غور کریں کہ اللہ نے یہاں اپنا نام ”الکریم“ (بہت کرم والا، بہت سخی) استعمال کیا۔ گویا فرما رہے ہیں کہ میری مہربانی اور بخشش کو دیکھ کر تو دلیر مت ہو۔ کچھ بزرگوں نے کہا کہ شیطان نے انسان کو دھوکا دیا، اور کچھ نے کہا کہ انسان کی اپنی نادانی اور دنیا کی محبت نے اسے دھوکے میں ڈالا۔

اس آیت میں محبت بھی ہے اور تنبیہ بھی — کہ اللہ کی مہربانی کا غلط فائدہ اٹھا کر گناہ پر بے خوف نہ ہو جاؤ۔

لفظی وضاحت: ”غَرَّكَ“ یعنی تجھے دھوکا دیا/مغرور کیا، ”الْکَرِیْم“ یعنی بہت کرم اور عزت والا۔
۷
الَّذِيْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ
ترجمہ:
جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تجھے ٹھیک بنایا، پھر تجھے درست توازن میں کیا۔
تفسیر:

پچھلی آیت میں جس کریم رب کا ذکر تھا، اب اس کی مہربانیاں گنوائی جا رہی ہیں۔ پہلی نعمت یہ کہ اللہ نے تجھے ”خَلَقَ“ یعنی عدم سے پیدا کیا، جب تو کچھ بھی نہ تھا۔

دوسری نعمت ”سَوّٰی“ یعنی تیرے سب اعضاء — ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان — مکمل اور صحیح صحیح بنائے۔ تیسری نعمت ”عَدَلَ“ یعنی تیرے جسم میں خوبصورت توازن اور تناسب رکھا — دو ہاتھ برابر، دو آنکھیں برابر، ہر چیز اپنی صحیح جگہ پر۔

ذرا سوچیے، اگر ایک آنکھ ماتھے پر اور ایک ٹھوڑی پر ہوتی، یا ہاتھ چھوٹے بڑے ہوتے، تو کیا ہوتا؟ یہ سب اللہ کی مہربانی ہے جسے انسان عام سمجھ کر بھول جاتا ہے۔

لفظی وضاحت: ”سَوّٰى“ یعنی برابر اور درست بنایا، ”عَدَلَ“ یعنی توازن اور تناسب پیدا کیا۔
۸
فِيْٓ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ
ترجمہ:
جس صورت میں چاہا، تجھے جوڑ کر بنا دیا۔
تفسیر:

اللہ نے اپنی حکمت اور مرضی سے انسان کو جیسی چاہی شکل و صورت دی۔ کسی کو مرد بنایا، کسی کو عورت؛ کسی کو لمبا، کسی کو چھوٹا؛ کسی کا رنگ گورا، کسی کا سانولا؛ کسی کی شکل ماں سے ملتی ہے، کسی کی باپ سے۔ یہ سب اللہ کی مرضی اور قدرت سے ہوا۔

مطلب یہ کہ تیری اپنی شکل و صورت میں تیرا کوئی کمال نہیں، یہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ پھر انسان کو چاہیے کہ اپنے بنانے والے کا شکر ادا کرے، نہ کہ اس سے منہ پھیرے۔

لفظی وضاحت: ”صُوْرَة“ یعنی شکل، ”رَکَّبَ“ یعنی جوڑنا، ترتیب سے بنانا۔
۹
كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ
ترجمہ:
ہرگز نہیں! بلکہ تم جزا کے دن کو جھٹلاتے ہو۔
تفسیر:

”کَلَّا“ کا مطلب ہے ”ہرگز نہیں“ — یعنی تمہارے پاس نافرمانی کا کوئی صحیح بہانہ نہیں ہے۔ اصل خرابی کی جڑ کیا ہے؟ اللہ بتاتے ہیں کہ تم لوگ ”دین“ یعنی جزا و سزا کے دن کو سچ نہیں مانتے۔

جب انسان کے دل میں یہ یقین نہ رہے کہ ایک دن حساب ہونا ہے، تو وہ بے خوف ہو کر گناہ کرنے لگتا ہے۔ یہی سب گناہوں کی اصل وجہ ہے — آخرت کو بھول جانا۔ اگر انسان کو پکا یقین ہو کہ مرنے کے بعد حساب ہوگا، تو وہ کبھی بُرے کام پر دلیر نہ ہو۔

لفظی وضاحت: ”تُکَذِّبُوْن“ یعنی جھٹلاتے ہو، ”الدِّیْن“ یہاں مراد جزا و سزا کا دن (قیامت) ہے۔
۱۰
وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ
ترجمہ:
حالانکہ تم پر نگہبان (فرشتے) مقرر ہیں۔
تفسیر:

انسان شاید سمجھتا ہے کہ جو کرتا ہے کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ اللہ یہاں بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں — ہر انسان پر فرشتے مقرر ہیں جو اس کی نگرانی کرتے ہیں اور اس کے ہر کام کو محفوظ کر لیتے ہیں۔

یہ فرشتے دو طرح کے کام کرتے ہیں: ایک طرف انسان کی حفاظت کرتے ہیں، اور دوسری طرف اس کے اعمال لکھتے ہیں۔ اس لیے یہ سوچنا کہ ”کوئی نہیں دیکھ رہا“ بالکل غلط ہے۔

لفظی وضاحت: ”حٰفِظِیْن“ یعنی حفاظت اور نگرانی کرنے والے۔
۱۱
كِرَامًا كَاتِبِيْنَ
ترجمہ:
جو معزز لکھنے والے ہیں۔
تفسیر:

یہ نگہبان فرشتے اللہ کے ہاں بہت عزت اور مرتبے والے ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کے ہر عمل کو — چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اچھا ہو یا برا — پوری ایمانداری سے لکھتے رہتے ہیں۔ ایک فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا برائیاں۔

یہی اعمال نامہ قیامت کے دن انسان کے سامنے رکھا جائے گا اور اس میں ہر چیز موجود ہوگی۔ اس لیے انسان کو ہر وقت محتاط رہنا چاہیے۔

لفظی وضاحت: ”کِرَامًا“ یعنی معزز/بزرگ، ”کَاتِبِیْن“ یعنی لکھنے والے۔
۱۲
يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ
ترجمہ:
وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔
تفسیر:

یہ فرشتے تمہارے سب کاموں سے باخبر رہتے ہیں — وہ بھی جو تم سب کے سامنے کرتے ہو، اور وہ بھی جو تم چھپ کر اکیلے میں کرتے ہو۔ کوئی عمل ان سے پوشیدہ نہیں رہتا۔

اور یاد رہے، یہ فرشتے تو محض لکھنے والے ہیں؛ اللہ تو خود ہر چیز کا جاننے والا ہے، یہاں تک کہ دل کے خیالات کا بھی۔ اس لیے انسان کو یہ سوچ کر جینا چاہیے کہ اللہ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔

لفظی وضاحت: ”یَعْلَمُوْن“ یعنی وہ جانتے ہیں، ”تَفْعَلُوْن“ یعنی جو تم کرتے ہو۔
۱۳
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ
ترجمہ:
بے شک نیک لوگ نعمتوں (والی جنت) میں ہوں گے۔
تفسیر:

اب سورت کے آخری حصے میں دو طرح کے لوگوں کا انجام بتایا جا رہا ہے۔ پہلے ”الْاَبْرَار“ یعنی نیک لوگ — وہ جو اللہ پر ایمان لائے، نیک کام کیے، اور گناہوں سے بچے۔ ان کا انجام جنت کی دائمی نعمتیں اور راحت ہوگی۔

جنت میں نہ کوئی غم ہوگا، نہ تکلیف، نہ موت۔ بس ہمیشہ کی خوشی اور آرام۔ یہ ان کی نیکیوں کا انعام ہوگا جو اللہ اپنی مہربانی سے انہیں دے گا۔

لفظی وضاحت: ”الْاَبْرَار“ یعنی نیک اور فرمانبردار لوگ، ”نَعِیْم“ یعنی نعمتیں، راحت۔
۱۴
وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍ
ترجمہ:
اور بے شک بدکار لوگ بھڑکتی آگ میں ہوں گے۔
تفسیر:

دوسری طرف ”الْفُجَّار“ یعنی بدکار اور نافرمان لوگ — وہ جنہوں نے اللہ کا انکار کیا، گناہوں کی زندگی گزاری اور آخرت کو بھلا دیا۔ ان کا ٹھکانہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔

یہاں نیک اور بد لوگوں کا انجام ساتھ ساتھ بیان کیا گیا تاکہ فرق صاف نظر آئے اور انسان سوچے کہ وہ کس راستے پر چل رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”الْفُجَّار“ یعنی کھلے گناہ گار، نافرمان، ”جَحِیْم“ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ۔
۱۵
يَّصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّيْنِ
ترجمہ:
وہ جزا کے دن اس (آگ) میں داخل ہوں گے۔
تفسیر:

یہ بدکار لوگ قیامت کے دن، جسے ”یوم الدین“ یعنی بدلے کا دن کہا گیا ہے، اس آگ میں داخل کیے جائیں گے اور اس کی شدید گرمی اور تکلیف کا مزہ چکھیں گے۔

دنیا میں انہوں نے سمجھا تھا کہ کبھی حساب نہ ہوگا، مگر اس دن انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا، جب کہ تب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

لفظی وضاحت: ”یَصْلَوْنَ“ یعنی آگ میں داخل ہونا/جھلسنا، ”یَوْمُ الدِّیْن“ یعنی حساب اور بدلے کا دن۔
۱۶
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِيْنَ
ترجمہ:
اور وہ اس (آگ) سے کبھی غائب نہ ہو سکیں گے۔
تفسیر:

یہ بات بہت سخت ہے۔ وہ لوگ نہ اس آگ سے کہیں بھاگ سکیں گے، نہ چھپ سکیں گے، نہ تھوڑی دیر کے لیے باہر نکل سکیں گے۔ ان کا عذاب ہمیشہ کا ہوگا، اس سے کوئی راہِ فرار نہ ہوگی۔

دنیا کی تکلیف تو کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتی ہے، مگر یہ عذاب ایسا ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی لیے انسان کو ابھی، اسی دنیا میں، سنبھل جانا چاہیے۔

لفظی وضاحت: ”غَآئِبِیْن“ یعنی غائب ہونے والے، نکل بھاگنے والے۔
۱۷
وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ
ترجمہ:
اور تجھے کیا معلوم کہ جزا کا دن کیا ہے؟
تفسیر:

یہ سوال انسان کو سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: تجھے کیا خبر کہ وہ دن کتنا بڑا، کتنا سخت اور کتنا ہولناک ہوگا؟ یہ انداز اس دن کی عظمت اور ڈر کو دل میں بٹھانے کے لیے ہے۔

یعنی اس دن کی سختی انسانی عقل اور تصور سے بہت اوپر ہے، اسے الفاظ میں پوری طرح بیان نہیں کیا جا سکتا۔

لفظی وضاحت: ”مَآ اَدْرٰىكَ“ یعنی تجھے کیا معلوم/خبر؟
۱۸
ثُمَّ مَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ
ترجمہ:
پھر (دوبارہ) تجھے کیا معلوم کہ جزا کا دن کیا ہے؟
تفسیر:

یہی بات دوبارہ کہی گئی۔ قرآن میں جب کوئی بات دہرائی جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ بات بہت اہم ہے اور اس پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ یہاں دہرانے کا مقصد اس دن کی ہیبت کو دل میں اور گہرا کرنا ہے۔

گویا اللہ بار بار جھنجھوڑ رہے ہیں کہ اے انسان! اس دن کو معمولی مت سمجھ، یہ بہت بڑا دن ہے، اس کی تیاری کر لے۔

لفظی وضاحت: ”ثُمَّ“ یعنی پھر — یہاں بات کو دہرانے اور تاکید کے لیے آیا ہے۔
۱۹
يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا ۭ وَالْاَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ
ترجمہ:
وہ دن جب کوئی جان کسی دوسری جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی، اور اس دن سارا حکم اللہ ہی کا ہوگا۔
تفسیر:

یہ سورت کا آخری اور بہت اہم پیغام ہے۔ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آ سکے گا — نہ باپ بیٹے کے، نہ ماں بچے کے، نہ دوست دوست کے۔ ہر ایک کو اپنا حساب خود دینا ہوگا اور اپنے اعمال کا خود سامنا کرنا ہوگا۔

دنیا میں تو لوگ ایک دوسرے کی سفارش اور مدد کر لیتے ہیں، مگر اس دن کسی کی اپنی مرضی نہ چلے گی۔ سارا اختیار، سارا حکم اور ساری بادشاہی صرف اللہ کی ہوگی۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش تک نہ کر سکے گا۔

یہ آیت انسان کو سکھاتی ہے کہ آج ہی اپنے رب سے تعلق جوڑ لے اور نیک اعمال جمع کر لے، کیونکہ اس دن صرف اپنے اعمال ہی کام آئیں گے۔

لفظی وضاحت: ”لَا تَمْلِکُ“ یعنی اختیار نہ رکھے گی، ”الْاَمْر“ یعنی حکم/اختیار، ”لِلّٰہ“ یعنی صرف اللہ کے لیے۔

سورت کا خلاصہ اور اہم اسباق

  • قیامت یقینی ہے — آسمان پھٹے گا، ستارے بکھریں گے، سمندر بہیں گے اور مُردے زندہ ہوں گے۔
  • اللہ کریم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور توازن میں بنایا، اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
  • گناہوں کی اصل جڑ آخرت کو بھول جانا ہے؛ جو حساب کے دن پر یقین رکھے، وہ گناہ سے بچتا ہے۔
  • فرشتے ہمارے ہر عمل کو لکھتے ہیں، اس لیے ہمیشہ اچھے کام کرنے چاہئیں۔
  • نیک لوگوں کے لیے جنت کی نعمتیں اور بدکاروں کے لیے جہنم کی آگ ہے۔
  • قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، صرف اپنے نیک اعمال اور اللہ کا حکم چلے گا۔
سورۃ الانفطار — تفصیلی مگر آسان تفسیر  •  وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ