كِتَابُ النِّكَاحِ

عینِ کتاب سے لفظ بہ لفظ · تفصیلی اردو ترجمہ · حصہ وار سوالات | ص ۴۶۸–۵۰۱
💡 کسی عربی لفظ پر hover یا موبائل پر ٹیپ کریں — معنی ظاہر ہوں گے
ن۱

انعقادِ نکاح — ایجاب، قبول اور گواہوں کی شرط

النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقُبُولِ، بِلَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنِ الْمَاضِي، أَوْ يُعَبَّرُ بِأَحَدِهِمَا عَنِ الْمَاضِي وَالْآخَرُ عَنِ الْمُسْتَقْبَلِ، مِثْلَ أَنْ يَقُولَ: زَوِّجْنِي، فَيَقُولُ: زَوَّجْتُكَ، وَلَا يَنْعَقِدُ نِكَاحُ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بِحُضُورِ شَاهِدَيْنِ حُرَّيْنِ بَالِغَيْنِ عَاقِلَيْنِ مُسْلِمَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ، عُدُولاً كَانُوا أَوْ غَيْرَ عُدُولٍ، أَوْ مَحْدُودَيْنِ فِي قَذْفٍ. فَإِنْ تَزَوَّجَ مُسْلِمٌ ذِمِّيَّةً بِشَهَادَةِ ذِمِّيَّيْنِ جَازَالشُّهُود عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يُشْهَدَ شَاهِدَيْنِ مُسْلِمَيْنِ. وَلَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُمِّهِ وَلَا بِجَدَّاتِهِ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ،وَإِنْ عَلَوْن
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
نکاح ایجاب اور قبول سے منعقد ہوتا ہے — دو ایسے الفاظ سے جو دونوں ماضی کو ظاہر کریں، یا ایک ماضی اور دوسرا مستقبل کا ہو۔ مثلاً: «زوِّجنی» (میرا نکاح کرو)، پھر دوسرا کہے: «زوَّجتُكَ» (میں نے تجھ سے نکاح کیا)۔
مسلمانوں کا نکاح دو آزاد، بالغ، عاقل، مسلمان گواہوں کے بغیر منعقد نہیں ہوتا — یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ گواہوں کا عادل یا غیر عادل ہونا، یا قذف کی حد لگائی گئی ہونا، نکاح پر اثر نہیں ڈالتا۔
مسلمان کا ذمی عورت سے دو ذمی گواہوں کی گواہی پر نکاح: امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمہما اللہ کے نزدیک جائز۔ امام محمد رحمہ اللہ: ناجائز، دو مسلمان گواہ ضروری ہیں۔
مرد کے لیے ماں اور دادیوں/نانیوں سے نکاح حرام ہے، اگرچہ وہ کتنی ہی اوپر ہوں۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • نکاح میں ایجاب و قبول کے الفاظ ماضی کے کیوں ہونے چاہئیں؟ مستقبل کا لفظ کس صورت میں جائز ہے؟
  • گواہ کی کتنی اور کیا شرائط ہیں؟ غیر عادل گواہ کیوں کافی ہے؟
  • قذف کی حد لگائی گئی گواہ کو قابلِ قبول کیوں مانا گیا ہے؟
  • ذمی گواہوں کے مسئلے پر ائمہ کا اختلاف — دلیل کیا ہے؟
ن۲

محرماتِ نسب اور مصاہرت

وَلَا بِبِنْتِهِ وَلَا بِبِنْتِ وَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَتْ،وَإِنْ سَفَلْن — لِلْإِجْمَاع وَلَا بِأُخْتِهِ وَلَا بَنَاتِ أُخْتِهِ،وَإِنْ سَفَلْن وَلَا بِعَمَّتِهِ، وَلَا بِخَالَتِهِ، وَلَا بِبَنَاتِ أَخِيهِ، وَلَا بِأُمِّ امْرَأَتِهِ الَّتِي دَخَلَ بِابْنَتِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ، وَلَا بِابْنَةِ امْرَأَتِهِ الَّتِي دَخَلَ بِهَا،وَإِنْ عَلَتْ سَوَاءٌ كَانَتْ فِي حِجْرِهِ أَوْ فِي حِجْرِ غَيْرِهِ، وَلَا بِامْرَأَةِ أَبِيهِ وَلَا أَجْدَادِهِ، وَلَا بِامْرَأَةِ ابْنِهِ وَلَا بَنِي أَوْلَادِهِ،وَإِنْ عَلَوْن — أَيْ عَائِلَتِهِ وَلَا بِأُمِّهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَلَا بِأُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ بِنِكَاحٍ وَلَا بِمِلْكِ يَمِينٍ وَطْئًا.وَإِنْ نَزَلْن
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
بیٹی اور پوتی/نواسی سے نکاح حرام ہے، اگرچہ کتنی ہی نیچے ہوں (بالاجماع)۔ بہن اور بھانجیوں سے حرام، اگرچہ نیچے ہوں۔ پھوپھی، خالہ اور بھتیجیوں سے بھی حرام۔
سسرالی حرمت: ساس (بیوی کی ماں) سے نکاح حرام ہے، چاہے بیوی سے ہمبستری ہوئی ہو یا نہ۔ سوتیلی بیٹی سے نکاح اس وقت حرام ہے جب اس کی ماں سے ہمبستری ہو چکی ہو، چاہے وہ سوتیلی بیٹی اس کی گود میں پرورش پائی ہو یا نہیں۔
باپ/دادا کی بیویوں (سوتیلی ماؤں) اور بیٹے/پوتے کی بیویوں (بہوؤں) سے نکاح حرام ہے۔ رضاعی ماں اور رضاعی بہن سے بھی۔
دو بہنوں کو نہ نکاح میں جمع کیا جا سکتا ہے، نہ لونڈی کی ملکیت میں ہمبستری کے طور پر۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • «للإجماع» کے الفاظ سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیا اس میں کوئی خلاف ہے؟
  • ساس اور سوتیلی بیٹی کی حرمت — دخول سے مشروط کب ہے اور کب نہیں؟
  • «في حجره أو في حجر غيره» کی قید کیوں لگائی گئی؟
  • ملک یمین میں دو بہنوں کو جمع کرنے پر «وطئاً» کی قید کا کیا مطلب ہے؟
ن۳

جمع بین الأختین — اصول اور زنا کا حکم

وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، أَوْ خَالَتِهَا وَلَا ابْنَةِ أُخْتِهَا وَلَا ابْنَةِ أَخِيهَا، وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لَوْ كَانَتْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا رَجُلاً لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْأُخْرَى،أَيْ لَوْ فُرِضَتْ وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ امْرَأَةٍ وَابْنَةِ زَوْجٍ كَانَ لَهَا مِنْ قَبْلُ. وَمَنْ زَنَى بِامْرَأَةٍ حَرُمَتْ عَلَيْهِ أُمُّهَا وَابْنَتُهَا.الرَّجُل
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
عورت اور اس کی پھوپھی، خالہ، بھانجی یا بھتیجی کو ایک ساتھ بیویوں میں جمع نہیں کیا جا سکتا۔
جمع کا عمومی اصول: جن دو عورتوں میں سے اگر ایک کو فرضاً مرد مان لیا جائے تو وہ دوسری سے نکاح نہ کر سکتا ہو — ان دونوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا۔
البتہ ایک عورت اور اس کے پہلے شوہر کی بیٹی (دوسری بیوی سے) کو جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ آپس میں محرم نہیں۔
زنا کا حکم: جو مرد کسی عورت سے زنا کرے، اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو جاتی ہے — یہ حنفیہ کا مذہب ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • عورت اور اس کی پھوپھی/خالہ کو جمع کرنے کی ممانعت کی کیا دلیل ہے؟
  • «لو كانت كل واحد منهما رجلاً» والا اصول کیوں بیان کیا گیا؟ اس سے کیا نئی صورتیں نکلتی ہیں؟
  • عورت اور سابق شوہر کی بیٹی کو جمع کرنا جائز کیوں ہے؟
  • زنا سے حرمت ثابت ہونے پر حنفیہ اور دیگر فقہاء میں کیا اختلاف ہے؟
ن۴

مطلقہ کی بہن، مولی/عبد، اہلِ کتاب، صابئین اور احرام

وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَلَاقًا بَائِنًا لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُخْتِهَا، حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا. وَلَا يَجُوزُ لِلْمَوْلَى أَنْ يَتَزَوَّجَ أَمَتَهُ، وَلَا الْمَرْأَةِ عَبْدَهَا. وَيَجُوزُ تَزْوِيجُ الْكِتَابِيَّاتِ، وَلَا يَجُوزُ تَزْوِيجُ الْمَجُوسِيَّاتِ وَلَا الْوَثَنِيَّاتِ، وَيَجُوزُ تَزَوُّجُ الصَّابِيَاتِ إِنْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِنَبِيٍّ وَيُقِرُّونَ بِكِتَابٍ، وَإِنْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْكَوَاكِبَ وَلَا كِتَابَ لَهُمْ، لَمْ يَجُزْ مُنَاكَحَتُهُمْ.لِأَنَّهُمْ مُشْرِكُون وَيَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ أَنْ يَتَزَوَّجَا فِي حَالَةِ الْإِحْرَامِ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
طلاقِ بائن کے بعد بیوی کی بہن سے نکاح ناجائز ہے جب تک اس کی عدت ختم نہ ہو جائے۔ (طلاقِ رجعی میں چونکہ نکاح برقرار ہے اس لیے یہاں بائن کا ذکر کیا۔)
آقا اپنی لونڈی سے نکاح نہیں کر سکتا اور نہ عورت اپنے غلام سے (ملکیت اور زوجیت ایک وقت میں جمع نہیں ہوتیں)۔
اہلِ کتاب (یہودی اور عیسائی) عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ مجوسی اور بت پرست عورتوں سے ناجائز۔
صابئین: اگر وہ کسی نبی پر ایمان رکھتے اور کسی کتاب کو مانتے ہوں تو ان سے نکاح جائز، ورنہ ناجائز کیونکہ وہ مشرک ہیں۔
احرام کی حالت میں نکاح کرنا مرد اور عورت دونوں کے لیے جائز ہے — یہ حنفیہ کا موقف ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • طلاقِ رجعی میں بیوی کی بہن سے نکاح کا کیا حکم ہے؟ بائن میں کیوں عدت لازم ہے؟
  • آقا کا اپنی لونڈی سے نکاح کیوں ناجائز ہے؟ آزاد کرنے کے بعد کیا ہوگا؟
  • صابئیوں کے نکاح میں جواز کا معیار کیا ہے؟
  • احرام میں نکاح کے جواز پر حنفیہ کی دلیل کیا ہے؟ دیگر مذاہب کا کیا موقف ہے؟
ن۵

عورت کی رضامندی، ولایت اور کنواری کا اذن

وَيَنْعَقِدُ نِكَاحُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ الْبَالِغَةِ الْعَاقِلَةِ بِرِضَائِهَا وَإِنْ لَمْ يَعْقِدْ عَلَيْهَا وَلِيٌّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله، بِكْرًا كَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا. وَقَالَا: لَا يَنْعَقِدُ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيٍّ. وَلَا يَجُوزُ لِلْوَلِيِّ إِجْبَارُ الْبِكْرِ الْبَالِغَةِ الْعَاقِلَةِ، وَإِذَا اسْتَأْذَنَهَا الْوَلِيُّ فَسَكَتَتْ أَوْ ضَحِكَتْ أَوْ بَكَتْ بِغَيْرِ صَوْتٍ فَذَلِكَ إِذْنٌ مِنْهَا،غَيْرَ مُسْتَهْزِئَة وَإِنْ أَبَتْ لَمْ يُزَوِّجْهَا، وَإِذَا اسْتَأْذَنَ الثَّيِّبَ فَلَا بُدَّ مِنْ رِضَائِهَا بِالْقَوْلِ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
آزاد، بالغ اور عاقل عورت کا نکاح اس کی اپنی رضامندی سے منعقد ہو جاتا ہے، چاہے ولی نے عقد نہ کیا ہو — امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، خواہ کنواری ہو یا ثیّبہ۔ صاحبین: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
ولی کے لیے بالغہ عاقلہ کنواری کو نکاح پر مجبور کرنا جائز نہیں۔
جب ولی کنواری سے اجازت مانگے اور وہ خاموش رہے، ہنس دے، یا بغیر آواز کے رو دے (مذاق کے طور پر نہیں) — تو یہ اس کی اجازت ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو ولی نکاح نہیں کرا سکتا۔
ثیّبہ (بیوہ یا مطلقہ) سے اجازت لیتے وقت زبانی رضامندی ضروری ہے، محض خاموشی کافی نہیں۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • امام ابو حنیفہ اور صاحبین کا اختلاف: کنواری بالغہ کے نکاح میں ولایت شرطِ صحت ہے یا شرطِ کمال؟
  • کنواری کی خاموشی کو اجازت کیوں مانا گیا جبکہ ثیّبہ کے لیے زبانی اجازت لازم ہے؟
  • «غير مستهزئة» کی قید کا کیا عملی اثر ہے؟
  • ولی کے لیے بالغہ کنواری کو مجبور کرنا ناجائز ہے، تو نابالغ کنواری کا کیا حکم ہے؟
ن۶

بکارت کے مسائل، قسم اور نکاح کے الفاظ

وَإِذَا زَالَتْ بَكَارَتُهَا بِوَثْبَةٍ أَوْ حَيْضَةٍ أَوْ جَرَاحَةٍ أَوْ تَعْنِيسٍ، فَهِيَ فِي حُكْمِ الْأَبْكَارِ، وَإِنْ زَالَتْ بَكَارَتُهَا بِالزِّنَا، فَهِيَ كَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله. وَقَالَا: هِيَ فِي حُكْمِ الثَّيِّبِ. وَإِذَا قَالَ الزَّوْجُ لِلْبِكْرِ: بَلَغَكِ النِّكَاحُ فَسَكَتِّ، وَقَالَتْ: بَلْ رَدَدْتُّ، فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا.مُجِيبَةً لَهُ لَا وَلَا يَمِينَ عَلَيْهَا، وَلَا يُسْتَحْلَفُ فِي النِّكَاحِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله، وَقَالَا: يُسْتَحْلَفُ فِيهِ. وَيَنْعَقِدُ النِّكَاحُ بِلَفْظِ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ وَالتَّمْلِيكِ وَالْهِبَةِ وَالصَّدَقَةِ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
اگر کنواری کی بکارت کودنے، حیض، زخم یا بڑھاپے (تعنیس) کی وجہ سے زائل ہو — وہ کنواریوں کے حکم میں ہے۔ اگر زنا کی وجہ سے زائل ہو: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک پھر بھی کنواریوں کے حکم میں۔ صاحبین: ثیّبہ کے حکم میں۔
اگر شوہر کنواری سے کہے «تمہیں نکاح پہنچا اور تم خاموش رہیں» اور وہ کہے «نہیں، میں نے رد کیا» — تو اس کی بات مانی جائے گی اور اس پر قسم نہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ: نکاح میں قسم نہیں دلائی جاتی۔ صاحبین: دلائی جائے گی۔
نکاح ان الفاظ سے منعقد ہوتا ہے: نکاح، تزویج، تملیک، ہبہ، صدقہ (ان میں سے کوئی ایک کافی ہے)۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • زنا سے زوالِ بکارت پر امام ابو حنیفہ اور صاحبین کی رائے کا عملی فرق نکاح کی کون سی صورت میں ظاہر ہوتا ہے؟
  • کنواری کا قول نکاح کے انکار میں کیوں مانا جاتا ہے؟ «مجيبة له لا» سے کیا مراد ہے؟
  • نکاح میں قسم کے جواز پر ائمہ کا اختلاف کیا ہے اور اس کی دلیل؟
  • ہبہ اور صدقہ نکاح کے الفاظ کیسے بن سکتے ہیں؟
ن۷

اجارہ کا لفظ، نابالغ کا نکاح، خیارِ بلوغ اور غیبتِ منقطعہ

وَلَا يَنْعَقِدُ بِلَفْظِ الْإِجَارَةِ وَالْإِعَارَةِ وَالْإِبَاحَةِ، وَيَجُوزُ نِكَاحُ الصَّغِيرِ وَالصَّغِيرَةِ إِذَا زَوَّجَهُمَا الْوَلِيُّ،النِّكَاح بِكْرًا كَانَتِ الصَّغِيرَةُ أَوْ ثَيِّبًا، وَالْوَلِيُّ هُوَ الْعَصَبَةُ، فَإِنْ زَوَّجَهُمَا الْأَبُ أَوِ الْجَدُّ، فَلَا خِيَارَ لَهُمَا بَعْدَ الْبُلُوغِ،الصَّغِيرُ وَالصَّغِيرَة — فِي النِّكَاح وَإِنْ زَوَّجَهُمَا غَيْرُ الْأَبِ وَالْجَدِّ، فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْخِيَارُ: إِنْ شَاءَ أَقَامَ عَلَى النِّكَاحِ، وَإِنْ شَاءَ فَسَخَ،أَيْ بَعْدَ بُلُوغِهِمَا وَلَا وِلَايَةَ لِعَبْدٍ، وَلَا لِصَغِيرٍ، وَلَا لِمَجْنُونٍ، وَلَا لِكَافِرٍ عَلَى مُسْلِمَةٍ. وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رحمه الله: يَجُوزُ لِغَيْرِ الْعَصَبَاتِ مِنَ الْأَقَارِبِ التَّزْوِيجُ، مِثْلَ الْأُخْتِ وَالْأُمِّ وَالْخَالَةِ. وَمَنْ لَا وَلِيَّ لَهَا إِذَا زَوَّجَهَا مَوْلَاهَا الَّذِي أَعْتَقَهَا جَازَ، وَإِذَا غَابَ الْوَلِيُّ الْأَقْرَبُ غَيْبَةً مُنْقَطِعَةً جَازَ لِمَنْ هُوَ أَبْعَدُ مِنْهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا، وَالْغَيْبَةُ الْمُنْقَطِعَةُ أَنْ يَكُونَ فِي بَلَدٍ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ الْقَوَافِلُ فِي السَّنَةِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
نکاح اجارہ (کرائے)، اعارہ (ادھار) اور اباحہ کے الفاظ سے منعقد نہیں ہوتا۔
نابالغ لڑکے اور لڑکی کا نکاح ولی کے کرانے پر جائز ہے، چاہے لڑکی کنواری ہو یا ثیّبہ۔ ولی سے مراد عصبہ ہے۔ اگر باپ یا دادا نے نکاح کرایا تو بلوغت کے بعد خیار نہیں۔ اگر کسی اور نے کرایا تو بلوغت کے بعد ہر ایک کو خیار ہوگا: نکاح برقرار رکھے یا فسخ کرے۔
غلام، نابالغ، مجنون اور کافر کو مسلمان عورت پر ولایت نہیں۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ: عصبہ کے علاوہ بہن، ماں، خالہ جیسے رشتے دار بھی نکاح کرا سکتے ہیں۔
جس عورت کا کوئی ولی نہ ہو، اسے آزاد کرنے والا آقا نکاح کرا سکتا ہے۔ اگر قریب ترین ولی «غیبتِ منقطعہ» میں ہو — یعنی ایسے شہر میں کہ سال میں صرف ایک بار قافلہ وہاں پہنچے — تو دور والا ولی نکاح کرا سکتا ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • اجارہ کے الفاظ سے نکاح کیوں نہیں ہوتا جبکہ ہبہ اور صدقہ سے ہوتا ہے؟
  • خیارِ بلوغ کا مطلب کیا ہے؟ باپ/دادا کے نکاح میں یہ کیوں نہیں؟
  • غیبتِ منقطعہ کی تعریف اور اس کا عملی اثر کیا ہے؟
  • امام ابو حنیفہ نے غیر عصبہ رشتے داروں کو ولایت کیوں دی؟
ن۸

کفاءت اور مہر کی صحت

وَالْكَفَاءَةُ فِي النِّكَاحِ مُعْتَبَرَةٌ، فَإِذَا تَزَوَّجَتِ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ كُفْءٍ، فَلِلْأَوْلِيَاءِ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَهُمَا، وَالْكَفَاءَةُ تُعْتَبَرُ فِي النَّسَبِ وَالدِّينِ وَالْمَالِ،لِأَنَّهُ يَقَعُ بِهِ التَّفَاخُر — أَيِ الدِّيَانَة وَهُوَ أَنْ يَكُونَ مَالِكًا لِلْمَهْرِ وَالنَّفَقَةِ، وَتُعْتَبَرُ فِي الصَّنَائِعِ، وَإِذَا تَزَوَّجَتِ الْمَرْأَةُ وَنَقَصَتْ مِنْ مَهْرِ مِثْلِهَا، فَلِلْأَوْلِيَاءِ الِاعْتِرَاضُ عَلَيْهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله حَتَّى يُتِمَّ لَهَا مَهْرَ مِثْلِهَا أَوْ يُفَرِّقَهَا. وَإِذَا زَوَّجَ الْأَبُ ابْنَتَهُ الصَّغِيرَةَ وَنَقَصَ مِنْ مَهْرِ مِثْلِهَا، أَوِ ابْنَهُ الصَّغِيرَ وَزَادَ فِي مَهْرِ امْرَأَتِهِ، جَازَ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا، وَلَا يَجُوزُ ذَلِكَ لِغَيْرِ الْأَبِ وَالْجَدِّ. وَيَصِحُّ النِّكَاحُ إِذَا سَمَّى فِيهِ مَهْرًا، وَيَصِحُّ النِّكَاحُ وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ فِيهِ مَهْرًا، وَأَقَلُّ الْمَهْرِ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
کفاءت (برابری) نکاح میں معتبر ہے۔ اگر عورت غیر کفو سے نکاح کرے تو اولیاء تفریق کرا سکتے ہیں۔ کفاءت نسب، دین (دینداری) اور مال میں دیکھی جاتی ہے — مال سے مراد مہر اور نفقہ ادا کرنے کی استطاعت — اور پیشے میں بھی۔
اگر عورت نے مہرِ مثل سے کم پر نکاح کیا تو اولیاء اعتراض کر سکتے ہیں (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ) یہاں تک کہ مہرِ مثل پورا ہو جائے یا تفریق ہو جائے۔
اگر باپ نے نابالغ بیٹی کا نکاح مہرِ مثل سے کم پر، یا نابالغ بیٹے کا زیادہ مہر پر کرایا — دونوں پر نافذ ہوگا۔ لیکن باپ/دادا کے علاوہ کوئی اور یہ نہیں کر سکتا۔
نکاح مہر مقرر کرنے کے ساتھ بھی صحیح ہے اور مقرر کیے بغیر بھی۔ کم از کم مہر دس درہم ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • کفاءت کن امور میں معتبر ہے اور کن میں نہیں؟ بیوی کی کفاءت معتبر کیوں نہیں؟
  • اولیاء کے اعتراض کا حق کب ختم ہو جاتا ہے؟ دخول کے بعد کیا ہوگا؟
  • باپ کی خصوصیت (نابالغ کے مہر میں کمی بیشی) دادا کو کیوں حاصل ہے؟
  • نکاح بغیر مہر کے صحیح — پھر «أقل المهر» کا حکم کب لاگو ہوتا ہے؟
ن۹

مہر کے احکام (۱) — نصف، مہرِ مثل اور متعہ

فَإِنْ سَمَّى أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةٍ، فَلَهَا عَشَرَةٌ، وَمَنْ سَمَّى مَهْرًا عَشَرَةً فَمَا زَادَ فَعَلَيْهِ الْمُسَمَّى إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا، فَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَالْخَلْوَةِ فَلَهَا نِصْفُ الْمُسَمَّى، وَإِنْ تَزَوَّجَهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا أَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى أَنْ لَا مَهْرَ لَهَا، فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا. وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا وَالْخَلْوَةِ فَلَهَا الْمُتْعَةُ، وَهِيَ ثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ مِنْ كِسْوَةِ مِثْلِهَا، وَهِيَ دِرْعٌ وَخِمَارٌ وَمِلْحَفَةٌ.قَمِيص
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
دس سے کم مہر مقرر کرنے پر بھی عورت کو دس ملیں گے۔ دس یا زیادہ مقرر کرے: دخول یا وفات پر پورا مقررہ مہر۔ دخول اور خلوت سے پہلے طلاق دے تو نصف مقررہ مہر۔
بغیر مہر مقرر کیے یا «کوئی مہر نہیں» کی شرط پر نکاح: دخول یا وفات پر مہرِ مثل واجب۔ دخول اور خلوت سے پہلے طلاق پر متعہ۔
متعہ: تین کپڑے جو اس جیسی عورت کو پہنائے جاتے ہوں — یعنی درع (قمیص)، خمار (اوڑھنی) اور ملحفہ (چادر)۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • دخول اور خلوت الگ الگ ذکر کیے گئے — دونوں کا نصف مہر پر الگ اثر کیا ہے؟
  • «تزوجها على أن لا مهر لها» — اس شرط کے باوجود مہرِ مثل کیوں واجب ہوتا ہے؟
  • متعہ واجب ہے یا مستحب؟ یہ کب واجب اور کب مستحب ہوتا ہے؟
  • مہرِ مثل کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟
ن۱۰

مہر کے احکام (۲) — خمر و خنزیر، اضافہ، خلوتِ صحیحہ

وَإِنْ تَزَوَّجَهَا الْمُسْلِمُ عَلَى خَمْرٍ أَوْ خِنْزِيرٍ فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ، وَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا. وَإِنِالْمَرْأَة تَزَوَّجَهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا ثُمَّ تَرَاضَيَا عَلَى تَسْمِيَةِ مَهْرٍ فَهُوَ إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا وَالْخَلْوَةِ فَلَهَا الْمُتْعَةُ. وَإِنْ زَادَ فِي الْمَهْرِ بَعْدَ الْعَقْدِ لَزِمَتْهُ الزِّيَادَةُ إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا، وَتَسْقُطُ الزِّيَادَةُ بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ، فَإِنْ حَطَّتْ مِنْ مَهْرِهَا صَحَّ الْحَطُّ. وَإِذَا خَلَا الزَّوْجُ بِامْرَأَتِهِ وَلَيْسَ هُنَاكَ مَانِعٌ مِنَ الْوَطْءِ ثُمَّ طَلَّقَهَا فَلَهَا كَمَالُ مَهْرِهَا، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا مَرِيضًا، أَوْ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ أَوْ مُحْرِمًا بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَوْ كَانَتْ حَائِضًا فَلَيْسَتْ بِخَلْوَةٍ صَحِيحَةٍ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
شراب یا خنزیر مہر میں رکھ کر نکاح کیا: نکاح جائز، عورت کو مہرِ مثل ملے گا۔ بغیر مہر کے نکاح کے بعد دونوں نے مہر مقرر کر لیا: دخول یا وفات پر وہ مہر واجب؛ پہلے طلاق پر متعہ۔
عقد کے بعد مہر بڑھایا: دخول یا وفات پر اضافہ بھی لازم؛ دخول سے پہلے طلاق پر اضافہ ساقط۔ عورت نے مہر کم کر دیا: یہ کمی درست ہے۔
خلوتِ صحیحہ: شوہر نے بیوی کے ساتھ تنہائی اختیار کی اور ہمبستری میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، پھر طلاق دی — پورا مہر واجب۔ اگر دونوں میں سے ایک بیمار ہو، یا رمضان کا روزہ دار ہو، یا حج/عمرہ کے احرام میں ہو، یا عورت حائضہ ہو — تو خلوتِ صحیحہ نہیں۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • شراب کو مہر میں رکھنے پر نکاح باطل کیوں نہیں؟ مہرِ مثل کیوں؟
  • عقد کے بعد مہر میں اضافہ: یہ نیا وعدہ ہے یا مہر کا حصہ؟ دخول سے مشروط کیوں؟
  • خلوتِ صحیحہ کی کیا شرائط ہیں؟ ان رکاوٹوں میں کیا حکمت ہے؟
  • عورت کا مہر معاف کرنا یا کم کرنا — اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
ن۱۱

مجبوب کی خلوت، متعہ مستحب، شغار اور خدمت بطور مہر

وَلَوْ طَلَّقَهَا، فَيَجِبُ نِصْفُ الْمُهْرِ، وَإِذَا خَلَا الْمَجْبُوبُ بِامْرَأَتِهِ ثُمَّ طَلَّقَهَا، فَلَهَا كَمَالُ الْمَهْرِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله، وَيُسْتَحَبُّ الْمُتْعَةُ لِكُلِّ مُطَلَّقَةٍ إِلَّا لِمُطَلَّقَةٍ وَاحِدَةٍ، وَهِيَ الَّتِي طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا.وَهِيَ الْمُفَوَّضَة وَإِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الرَّجُلُ أُخْتَهُ أَوْ بِنْتَهُ لِيَكُونَ أَحَدُ الْعَقْدَيْنِ عِوَضًا عَنِ الْآخَرِ فَالْعَقْدَانِ جَائِزَانِ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مَهْرُ مِثْلِهَا. وَإِنْ تَزَوَّجَ حُرٌّ امْرَأَةً عَلَى خِدْمَتِهِ سَنَةً أَوْ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ جَازَ،
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
(خلوتِ صحیحہ کے بغیر خلوت میں) اگر طلاق دی تو نصف مہر واجب۔ مجبوب (جس کا عضو کٹا ہو) نے خلوت کی پھر طلاق دی: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک پورا مہر واجب۔
متعہ ہر مطلقہ کے لیے مستحب ہے، سوائے «مفوّضہ» کے — یعنی وہ جسے دخول سے پہلے بغیر مہر مقرر کیے طلاق دی گئی ہو۔ (اس کے لیے متعہ واجب ہے۔)
شِغار: ایک شخص اپنی بیٹی اس شرط پر دے کہ دوسرا اپنی بہن/بیٹی دے — دونوں عقد جائز، لیکن ہر ایک کو مہرِ مثل ملے گا (کیونکہ عورت مہر کی جگہ نہیں بن سکتی)۔
آزاد مرد نے ایک سال کی اپنی خدمت یا قرآن کی تعلیم کے عوض نکاح کیا: جائز ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • مجبوب کی خلوت پر پورا مہر — حالانکہ دخول ممکن نہیں؟ امام ابو حنیفہ کی دلیل کیا ہے؟
  • مفوّضہ کے لیے متعہ واجب اور دوسری مطلقہ کے لیے مستحب کیوں؟
  • شغار میں نصف مہر (بدل) کیوں باطل مانا گیا؟ لیکن عقد جائز کیوں؟
  • قرآن کی تعلیم یا خدمت بطور مہر — نکاح جائز لیکن مہرِ مثل کیوں؟
ن۱۲

خدمتِ غلام، مجنونہ کا ولی اور غلام کا نکاح

فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا. وَإِنْ تَزَوَّجَ عَبْدٌ امْرَأَةً حُرَّةً بِإِذْنِ مَوْلَاهُ عَلَى خِدْمَتِهِ سَنَةً جَازَ، وَلَهَاسَنَة خِدْمَتُهُ. وَإِذَا اجْتَمَعَ فِي الْمَجْنُونَةِ أَبُوهَا وَابْنُهَا، فَالْوَلِيُّ فِي نِكَاحِهَا ابْنُهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَسَنَة وَأَبِي يُوسُفَ رحمهما، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رحمه الله: أَبُوهَا. وَلَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ إِلَّا بِإِذْنِ مَوْلَاهُمَا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلَاهُ فَالْمَهْرُ دَيْنٌ فِي رَقَبَتِهِ يُبَاعُ فِيهِ، وَإِذَا زَوَّجَ الْمَوْلَى أَمَتَهُ
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
آزاد مرد کی خدمت/تعلیم بطور مہر: عورت کو مہرِ مثل ملے گا (کیونکہ آزاد مرد کی خدمت متعین نہیں ہو سکتی)۔
غلام نے آقا کی اجازت سے آزاد عورت سے ایک سال کی خدمت بطور مہر نکاح کیا: جائز، اور عورت اس کی خدمت کی حقدار ہوگی (غلام کی خدمت متعین ہو سکتی ہے)۔
مجنونہ کا ولی — باپ اور بیٹا دونوں موجود ہوں: امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمہما اللہ کے نزدیک بیٹا ولی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ: باپ ولی ہے۔
غلام اور لونڈی کا نکاح آقا کی اجازت کے بغیر ناجائز۔ غلام نے آقا کی اجازت سے نکاح کیا: مہر اس کی گردن پر قرض ہے اور اس کے لیے اسے بیچا جا سکتا ہے۔ آقا نے اپنی لونڈی کا نکاح کیا...
❓ اس حصے سے سوالات
  • آزاد مرد کی خدمت مہرِ مثل کا سبب بنتی ہے لیکن غلام کی خدمت خود مہر ہے — فرق کی وجہ؟
  • مجنونہ کے ولی میں باپ یا بیٹے کا اختلاف — دلائل کیا ہیں؟
  • غلام کا مہر «دین في رقبته» — اس کا عملی مطلب اور مالی ذمہ داری کیا ہے؟
  • آقا کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کا کیا حکم ہے؟
ن۱۳

لونڈی کا بیت، شرط والا مہر، غیر موصوف مال اور نکاحِ متعہ

فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُبَوِّئَهَا بَيْتًا لِلزَّوْجِ، وَلَكِنَّهَا تَخْدُمُ الْمَوْلَى، وَيُقَالُ لِلزَّوْجِ: مَتَى ظَفِرْتَ بِهَا وَطِئْتَهَا. وَإِنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى أَلْفِ دِرْهَمٍ عَلَى أَنْ لَا يُخْرِجَهَا مِنَ الْبَلَدِ، أَوْ عَلَى أَنْ لَا يَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا امْرَأَةً، فَإِنْ وَفَى بِالشَّرْطِ فَلَهَا الْمُسَمَّى، وَإِنْ تَزَوَّجَ عَلَيْهَا أَوْ أَخْرَجَهَا مِنَ الْبَلَدِ فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا. وَإِنْ تَزَوَّجَهَا عَلَى حَيَوَانٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ صَحَّتِ التَّسْمِيَةُ، وَلَهَا الْوَسَطُ مِنْهُ،بِالْجَيِّادَةِ وَالرَّدَاءَة وَالزَّوْجُ مُخَيَّرٌ: إِنْ شَاءَ أَعْطَاهَا ذَلِكَ، وَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهَا قِيمَتَهُ.الْجِنْسُ الْمُسَمَّى — الْوَسَط وَلَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى ثَوْبٍ غَيْرِ مَوْصُوفٍ فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا. وَنِكَاحُ الْمُتْعَةِ وَالْمُؤَقَّتِ بَاطِلٌ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
آقا پر لونڈی کو شوہر کے لیے گھر دینا لازم نہیں، بلکہ وہ آقا کی خدمت کرتی رہے گی۔ شوہر سے کہا جائے گا: جب موقع ملے ہمبستری کر سکتے ہو۔
ہزار درہم اس شرط پر: اگر شرط وفا کی تو مقررہ، ورنہ مہرِ مثل۔ (شرط شوہر پر لازم ہے لیکن اس کی خلاف ورزی پر عقد باطل نہیں، بلکہ مہر بدل جاتا ہے۔)
غیر موصوف جانور بطور مہر: تسمیہ درست، درمیانہ درجہ واجب۔ شوہر کو اختیار: وہی جانور دے یا اس کی قیمت۔ لیکن غیر موصوف کپڑا بطور مہر: مہرِ مثل (کیونکہ جانور کا وسط متعین کیا جا سکتا ہے، کپڑے کا مشکل)۔
نکاحِ متعہ اور مؤقت نکاح باطل ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • آقا لونڈی کو شوہر کے گھر کیوں نہیں بھیجتا؟ اس کی شرعی بنیاد کیا ہے؟
  • شرط کے ساتھ مہر: شرط توڑنے پر مہرِ مثل — کیا یہ تعزیری حکم ہے؟
  • غیر موصوف جانور اور غیر موصوف کپڑے کے حکم میں فرق کیوں ہے؟
  • نکاحِ متعہ اور نکاحِ مؤقت میں کیا فرق ہے؟
ن۱۴

نکاحِ موقوف

وَتَزْوِيجُ الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهُمَا مَوْقُوفٌ: فَإِنْ أَجَازَهُ الْمَوْلَى جَازَ، وَإِنْ رَدَّهُ بَطَلَ، وَكَذَلِكَ إِنْ زَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً بِغَيْرِ رِضَاهَا، أَوْ رَجُلاً بِغَيْرِ رِضَاهُ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
آقا کی اجازت کے بغیر غلام یا لونڈی کا نکاح موقوف (معلق) ہے: آقا نے اجازت دی تو جائز، رد کیا تو باطل۔ اسی طرح اگر کسی نے عورت کو اس کی رضامندی کے بغیر نکاح میں دیا، یا مرد کو اس کی رضامندی کے بغیر — وہ بھی موقوف ہے: رضامندی پر نافذ، انکار پر باطل۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • نکاحِ موقوف، نکاحِ باطل اور نکاحِ فاسد میں کیا بنیادی فرق ہے؟
  • موقوف نکاح میں رضامندی کب تک دی جا سکتی ہے؟
  • اگر موقوف نکاح میں دخول ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
  • فضولی اور ولی کے بغیر نکاح کا موقوف ہونا — دونوں ایک جیسے کیوں؟
ن۱۵

ابنِ عم، وکالت، ضمانتِ مہر اور نکاحِ فاسد

وَيَجُوزُ لِابْنِ الْعَمِّ أَنْ يُزَوِّجَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ نَفْسِهِ، وَإِذَا أَذِنَتِ الْمَرْأَةُ لِلرَّجُلِ أَنْ يُزَوِّجَهَا فَعَقَدَ بِحَضْرَةِ شَاهِدَيْنِ جَازَ. وَإِذَا ضَمِنَ الْوَلِيُّ الْمَهْرَ لِلْمَرْأَةِ صَحَّ ضَمَانُهُ، وَلِلْمَرْأَةِ الْخِيَارُ فِي مُطَالَبَةِ زَوْجِهَا أَوْ وَلِيِّهَا.الْوَلِيّ وَإِذَا فَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ فِي النِّكَاحِ الْفَاسِدِ قَبْلَ الدُّخُولِ فَلَا مَهْرَ لَهَا، وَكَذَلِكَ بَعْدَ الْخَلْوَةِ، وَإِذَا دَخَلَ بِهَا فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا، وَلَا يُزَادُ عَلَى الْمُسَمَّى، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ،
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
ابنِ عم اپنی چچا زاد بہن کا نکاح اپنے ساتھ خود کرا سکتا ہے (وہ بیک وقت ولی اور زوج ہے)۔ عورت نے کسی کو وکیل بنایا، اس نے دو گواہوں کے سامنے عقد کیا — جائز ہے۔ ولی کی ضمانتِ مہر درست ہے، اور عورت کو اختیار ہے کہ شوہر سے مطالبہ کرے یا ولی سے۔
نکاحِ فاسد: دخول سے پہلے قاضی نے تفریق کرائی — کوئی مہر نہیں، اسی طرح خلوت کے بعد (بغیر دخول)۔ دخول ہو جانے پر مہرِ مثل واجب، لیکن مقررہ مہر سے زیادہ نہیں۔ عدت بھی واجب ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • ابنِ عم اپنا وکیل خود کیوں ہو سکتا ہے؟ دیگر ولی کیوں نہیں؟
  • ولی کی ضمانتِ مہر: یہ ضمانت کیسے کام کرتی ہے؟ ولی کا مہر دینا واجب ہے یا اختیاری؟
  • نکاحِ فاسد میں خلوت کے بعد دخول سے پہلے تفریق — مہر کیوں نہیں؟
  • نکاحِ فاسد میں دخول کے بعد مہرِ مثل — «لا يزاد على المسمى» کی قید کیوں؟
ن۱۶

مہرِ مثل کا تعین، لونڈی کا نکاح اور تعدادِ ازواج

وَيَثْبُتُ نَسَبُ وَلَدِهَا مِنْهُ. وَمَهْرُ مِثْلِهَا يُعْتَبَرُ بِأَخَوَاتِهَا وَعَمَّاتِهَا وَبَنَاتِ عَمِّهَا، وَلَا يُعْتَبَرُ بِأُمِّهَا وَخَالَتِهَا إِذَا لَمْ تَكُونَا مِنْ قَبِيلَتِهَا، وَيُعْتَبَرُ فِي مَهْرِ الْمِثْلِ أَنْ يَتَسَاوَى الْمَرْأَتَانِ فِي السِّنِّ وَالْجَمَالِ وَالْمَالِ وَالْعَقْلِ وَالدِّينِ وَالْبَلَدِ وَالْعَصْرِ. وَيَجُوزُ تَزْوِيجُ الْأَمَةِ مُسْلِمَةً كَانَتْ أَوْ كِتَابِيَّةً، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أَمَةً عَلَى حُرَّةٍ، وَيَجُوزُ تَزْوِيجُ الْحُرَّةِ عَلَيْهَا.وَالْبَكَارَةُ وَالثُّيُوبَة — لِلْحُرّ وَلِلْحُرِّ أَنْ يَتَزَوَّجَ أَرْبَعًا مِنَ الْحَرَائِرِ وَالْإِمَاءِ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَلَا يَتَزَوَّجُ الْعَبْدُ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْنِ. فَإِنْ طَلَّقَ الْحُرُّ إِحْدَى الْأَرْبَعِ طَلَاقًا بَائِنًا لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ رَابِعَةً حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا. وَإِذَا زَوَّجَ الْأَمَةَ مَوْلَاهَا ثُمَّ أُعْتِقَتْ، فَلَهَا الْخِيَارُ حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا،
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
(نکاحِ فاسد سے جاری) اور عورت کے بچے کا نسب اس مرد سے ثابت ہوگا۔
مہرِ مثل: بہنوں، پھوپھیوں اور چچا زاد بہنوں سے اندازہ لگایا جائے۔ ماں اور خالہ سے اندازہ نہیں اگر وہ اس کے قبیلے کی نہ ہوں۔ برابری ان اوصاف میں ضروری ہے: عمر، خوبصورتی، مال، عقل، دین، شہر اور زمانہ۔
لونڈی کا نکاح جائز، مسلمان ہو یا اہلِ کتاب۔ آزاد بیوی کے ہوتے لونڈی سے نکاح ناجائز۔ لونڈی کے ہوتے آزاد سے جائز۔
آزاد مرد چار تک نکاح کر سکتا ہے (آزاد اور لونڈیاں ملا کر)۔ غلام دو سے زیادہ نہیں۔ چار میں سے کسی کو طلاقِ بائن دی تو اس کی عدت تک چوتھی نہیں کر سکتا۔ آقا نے لونڈی کا نکاح کرایا، پھر وہ آزاد ہو گئی — خیار ہوگا چاہے شوہر آزاد ہو یا غلام۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • مہرِ مثل میں ماں کو کیوں نہیں شامل کیا جاتا؟
  • آزاد بیوی پر لونڈی سے نکاح ناجائز لیکن لونڈی پر آزاد جائز — حکمت کیا ہے؟
  • آزاد مرد چار اور غلام دو کی حد — شرعی بنیاد کیا ہے؟
  • خیارِ عتق: آزادی کے بعد خیار کیوں؟ کیا وہ نکاح فسخ کرنے پر مجبور ہے؟
ن۱۷

مکاتبہ، دو عورتیں ایک عقد، عیوب اور عنّین

وَكَذَلِكَ الْمُكَاتَبَةُ. وَإِنْ تَزَوَّجَتْ أَمَةٌ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهَا ثُمَّ أُعْتِقَتْ صَحَّ النِّكَاحُ، وَلَا خِيَارَ لَهَا. وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَتَيْنِ فِي عَقْدَةٍ وَاحِدَةٍ إِحْدَاهُمَا لَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُهَا، صَحَّ نِكَاحُ الَّتِي يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُهَا، وَبَطَلَ نِكَاحُ الْأُخْرَى. وَإِذَا كَانَ بِالزَّوْجَةِ عَيْبٌ فَلَا خِيَارَ لِزَوْجِهَا، وَإِذَا كَانَ بِالزَّوْجِ جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ بَرَصٌ، فَلَا خِيَارَ لِلْمَرْأَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رحمه الله: لَهَا الْخِيَارُ، وَإِذَا كَانَ الزَّوْجُ عِنِّينًا أَجَّلَهُ الْحَاكِمُ حَوْلاً، فَإِنْ وَصَلَ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَإِلَّا فَرَّقَ بَيْنَهُمَا إِنْ طَلَبَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ. وَالْفُرْقَةُ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ.دَفْعًا لِلضَّرَر — حَصَلَ مُرَادُهَا
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
مکاتبہ کو بھی آزادی کے بعد خیار ملتا ہے۔ لیکن اگر لونڈی نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، پھر آزاد ہو گئی — نکاح صحیح ہوگا اور اسے خیار نہیں (کیونکہ موقوف نکاح آزادی سے نافذ ہوا)۔
ایک ہی عقد میں دو عورتیں، ایک حرام: حلال والی کا نکاح صحیح، حرام والی کا باطل۔
بیوی میں عیب: شوہر کو خیار نہیں۔ شوہر میں جنون، جذام یا برص: امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمہما اللہ کے نزدیک عورت کو خیار نہیں؛ امام محمد رحمہ اللہ: اسے خیار ہے۔
عنّین: حاکم ایک سال کی مہلت دے۔ ہمبستری ہو گئی تو خیار نہیں؛ نہ ہوئی تو عورت کے مطالبے پر تفریق۔ یہ تفریق ایک طلاقِ بائن ہوگی (ضرر دفع کرنے کے لیے، اور عورت کا مقصد حاصل ہو گیا)۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کے بعد آزاد ہو گئی — نکاح صحیح لیکن خیار کیوں نہیں؟
  • بیوی کے عیب پر شوہر کو خیار کیوں نہیں جبکہ شوہر کے عیب پر بھی بقول جمہور نہیں؟
  • عنّین کو ایک سال کی مہلت کی حکمت کیا ہے؟
  • اس تفریق کو «تطليقة بائنة» کیوں کہا گیا؟ فسخ کیوں نہیں؟
ن۱۸

مجبوب، خصی اور اسلام لانے کے احکام

وَلَهَا كَمَالُ الْمَهْرِ إِذَا كَانَ قَدْ خَلَا بِهَا، وَإِنْ كَانَ مَجْبُوبًا فَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَهُمَا فِي الْحَالِ وَلَمْ يُؤَجِّلْهُ. وَالْخَصِيُّ يُؤَجَّلُ كَمَا يُؤَجَّلُ الْعِنِّينُ. وَإِذَا أَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا كَافِرٌ عَرَضَ عَلَيْهِ الْقَاضِي الْإِسْلَامَ، فَإِنْ أَسْلَمَ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ أَبَى عَنِ الْإِسْلَامِ فَرَّقَ بَيْنَهُمَالِعَدَمِ الْمُنَافِي وَكَانَ ذَلِكَ طَلَاقًا بَائِنًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رحمهما، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رحمه الله: وَهُوَ الْفُرْقَةُ بِغَيْرِ طَلَاقٍ، وَإِنْ أَسْلَمَ الزَّوْجُ وَتَحْتَهُ مَجُوسِيَّةٌ عُرِضَ عَلَيْهَا الْإِسْلَامُ، فَإِنْ أَسْلَمَتْ فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ أَبَتْ فَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَهُمَا، وَلَمْ تَكُنِ الْفُرْقَةُ طَلَاقًا.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
(عنّین کے مسئلے سے جاری) اگر عنّین نے خلوت کی ہو تو عورت کو پورا مہر ملے گا۔
مجبوب (مردانہ عضو کٹا ہو): قاضی فوری تفریق کرائے گا، مہلت نہیں (کیونکہ کوئی امید نہیں)۔ خصی (آختہ): عنّین کی طرح ایک سال کی مہلت ملے گی (کیونکہ ہمبستری ممکن ہے)۔
بیوی مسلمان ہو جائے اور شوہر کافر رہے: قاضی شوہر پر اسلام پیش کرے گا۔ اگر قبول کرے: نکاح برقرار۔ اگر انکار کرے: تفریق — امام ابو حنیفہ اور محمد رحمہما اللہ: یہ طلاقِ بائن ہے؛ ابو یوسف رحمہ اللہ: طلاق کے بغیر فرقت۔
شوہر مسلمان ہو اور اس کی مجوسی بیوی ہو: اس پر اسلام پیش ہوگا۔ قبول کرے: نکاح برقرار؛ انکار کرے: تفریق — اور یہ طلاق نہیں ہوگی۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • مجبوب اور خصی کے احکام میں فرق کیوں ہے؟
  • «لعدم المنافي» کی اصطلاح کا کیا مطلب ہے؟ اس سے تفریق کی تعلیل کیسے ہوتی ہے؟
  • بیوی کے اسلام پر تفریق — طلاق یا فسخ؟ اس اختلاف کا عملی اثر کیا ہے؟
  • شوہر کے اسلام پر مجوسی بیوی سے تفریق — اسے طلاق کیوں نہیں مانا گیا؟
ن۱۹

مجوسیہ کا مہر، دارالحرب میں عورت کا اسلام اور کتابیہ کا شوہر

فَإِنْ كَانَ قَدْ دَخَلَ بِهَا، فَلَهَا كَمَالُ الْمَهْرِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا فَلَا مَهْرَ لَهَا. وَإِذَا أَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ فِي دَارِ الْحَرْبِ لَمْ تَقَعِ الْفُرْقَةُ عَلَيْهَا حَتَّى تَحِيضَ ثَلَاثَ حِيَضٍ، فَإِذَا حَاضَتْ بَانَتْ مِنْ زَوْجِهَا. وَإِذَا أَسْلَمَ زَوْجُ الْكِتَابِيَّةِ فَهُمَا عَلَى نِكَاحِهِمَا.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
(گزشتہ مجوسی بیوی کے مسئلے سے متصل) اگر شوہر نے اس سے دخول کر لیا تھا تو عورت کو پورا مہر ملے گا، اور اگر دخول نہیں کیا تھا تو کوئی مہر نہیں۔
اگر عورت دارالحرب میں مسلمان ہو جائے تو اس پر فوراً فرقت واقع نہیں ہوتی جب تک اسے تین حیض نہ آ جائیں؛ جب تین حیض گزر جائیں تو وہ اپنے شوہر سے جدا ہو جائے گی۔
اور اگر کتابیہ (یہودی/عیسائی) عورت کا شوہر مسلمان ہو جائے تو دونوں اپنے نکاح پر برقرار رہیں گے — کیونکہ مسلمان مرد کا کتابیہ سے نکاح ابتداءً بھی جائز ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • دارالحرب میں عورت کے اسلام پر فوری فرقت کیوں نہیں ہوتی؟ تین حیض کی شرط کی حکمت کیا ہے؟
  • کتابیہ کے شوہر کے مسلمان ہونے پر نکاح برقرار کیوں رہتا ہے جبکہ مجوسیہ کے معاملے میں تفریق ہوتی ہے؟
  • مجوسی بیوی کے مسئلے میں دخول اور عدمِ دخول کا مہر پر کیا اثر ہے؟
  • دارالاسلام اور دارالحرب میں عورت کے اسلام کے حکم میں کیا فرق ہے؟
ن۲۰

دارالحرب سے نکلنا، اسیری اور مہاجرہ کا فوری نکاح

وَإِذَا خَرَجَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ إِلَيْنَا مِنْ دَارِ الْحَرْبِ مُسْلِمًاأَيْ إِلَى دَارِ الْإِسْلَام وَقَعَتِ الْبَيْنُونَةُ بَيْنَهُمَا، وَإِنْ سُبِيَ أَحَدُهُمَا وَقَعَتِ الْبَيْنُونَةُلِتَبَايُنِ الدَّارَيْن بَيْنَهُمَا، وَإِنْ سُبِيَا مَعًا لَمْ تَقَعِ الْبَيْنُونَةُ، وَإِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ إِلَيْنَا مُهَاجِرَةًالْمُهَاجِرَة جَازَ لَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ فِي الْحَالِ، وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله، فَإِنْ كَانَتْ حَامِلًا لَمْ تَتَزَوَّجْ حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک دارالحرب سے مسلمان ہو کر ہماری طرف (دارالاسلام) نکل آئے تو ان کے درمیان بینونت (مکمل جدائی) واقع ہو جاتی ہے۔
اسی طرح اگر دونوں میں سے کوئی ایک قیدی بنا لیا جائے تو بھی بینونت واقع ہو جاتی ہے — دونوں کے دار (علاقوں) کے الگ ہو جانے (تباینِ دارین) کی وجہ سے۔ لیکن اگر دونوں ایک ساتھ قیدی بنائے جائیں تو بینونت واقع نہیں ہوتی، کیونکہ دونوں کا دار ایک ہی رہا۔
اور جب عورت ہجرت کر کے ہماری طرف آ جائے تو اسے فوراً نکاح کرنے کی اجازت ہے، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر کوئی عدت نہیں۔ البتہ اگر وہ حاملہ ہو تو وضعِ حمل تک نکاح نہیں کر سکتی۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • بینونت کس وجہ سے واقع ہوتی ہے؟ «تباین الدارین» کا اصول کیا ہے؟
  • دونوں کے ایک ساتھ قیدی بننے پر بینونت کیوں واقع نہیں ہوتی؟
  • مہاجرہ عورت پر عدت کیوں نہیں؟ امام ابو حنیفہ اور صاحبین کا اس میں کیا اختلاف ہے؟
  • حاملہ مہاجرہ کے لیے وضعِ حمل کی شرط کیوں لگائی گئی؟
ن۲۱

ارتداد سے بینونت اور مہر کے احکام

وَإِذَا ارْتَدَّ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَقَعَتِ الْبَيْنُونَةُ بَيْنَهُمَا وَكَانَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا بِغَيْرِ طَلَاقٍ، فَإِنْ كَانَ الزَّوْجُ هُوَ الْمُرْتَدَّ وَقَدْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا كَمَالُ الْمَهْرِ، وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلَهَا نِصْفُ الْمَهْرِ، وَإِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ هِيَ الْمُرْتَدَّةَ، فَإِنْ كَانَتْ قَبْلَ الدُّخُولِ فَلَا مَهْرَ لَهَا، وَإِنْ كَانَتِ الرِّدَّةُ بَعْدَ الدُّخُولِ فَلَهَا الْمَهْرُ، وَإِنِ ارْتَدَّا مَعًا ثُمَّ أَسْلَمَا مَعًاأَوْ لَمْ يُعْلَمِ السَّبْق، فَهُمَا عَلَى نِكَاحِهِمَا.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
جب میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام سے مرتد ہو جائے تو ان کے درمیان بینونت واقع ہو جاتی ہے، اور یہ فرقت بغیر طلاق کے ہوتی ہے (یعنی فسخ ہے، طلاق شمار نہیں ہوتی)۔
اگر شوہر مرتد ہوا اور اس نے دخول کر لیا تھا تو عورت کو پورا مہر ملے گا، اور اگر دخول نہیں کیا تھا تو نصف مہر۔
اور اگر عورت مرتد ہوئی: دخول سے پہلے ہو تو کوئی مہر نہیں (کیونکہ فرقت اسی کی طرف سے آئی)، اور اگر ارتداد دخول کے بعد ہوا تو پورا مہر ملے گا (دخول سے مہر پختہ ہو چکا)۔
اور اگر دونوں ایک ساتھ مرتد ہوئے پھر دونوں ایک ساتھ مسلمان ہو گئے (یا یہ معلوم نہ ہو کہ کون پہلے مرتد ہوا)، تو وہ اپنے نکاح پر برقرار رہیں گے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • ارتداد سے ہونے والی فرقت طلاق کیوں نہیں شمار ہوتی؟ اس کا عملی اثر کیا ہے؟
  • شوہر کے ارتداد اور بیوی کے ارتداد میں مہر کے حکم کا فرق کیوں ہے؟
  • بیوی کے دخول سے پہلے ارتداد پر مہر کیوں ساقط ہو جاتا ہے؟
  • دونوں کے بیک وقت ارتداد اور پھر اسلام پر نکاح برقرار کیوں؟ «أو لم يُعلم السبق» کی قید کا کیا فائدہ ہے؟
ن۲۲

مرتد و مرتدہ کا نکاح اور اولاد کا دین

وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ الْمُرْتَدُّ مُسْلِمَةً وَلَا مُرْتَدَّةً وَلَا كَافِرَةً، وَكَذَلِكَ الْمُرْتَدَّةُ لَا يَتَزَوَّجُهَا مُسْلِمٌ وَلَا كَافِرٌ وَلَا مُرْتَدٌّ. وَإِذَا كَانَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ مُسْلِمًا، فَالْوَلَدُ عَلَى دِينِهِ، وَكَذَلِكَ إِنْ أَسْلَمَ أَحَدُهُمَا وَلَهُ وَلَدٌ صَغِيرٌ صَارَ وَلَدُهُ مُسْلِمًا بِإِسْلَامِهِ. وَإِنْ كَانَ أَحَدُ الْأَبَوَيْنِ كِتَابِيًّا وَالْآخَرُ مَجُوسِيًّا، فَالْوَلَدُ كِتَابِيٌّ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
مرتد کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان عورت سے نکاح کرے، نہ مرتدہ سے، نہ کافرہ سے (کیونکہ مرتد کا کوئی دین قابلِ اقرار نہیں)۔ اسی طرح مرتدہ سے نہ کوئی مسلمان نکاح کر سکتا ہے، نہ کافر، نہ مرتد۔
اور جب میاں بیوی میں سے ایک مسلمان ہو تو اولاد دین کے اعتبار سے مسلمان (یعنی بہتر دین والے) کے تابع ہوگی۔ اسی طرح اگر والدین میں سے ایک مسلمان ہو جائے اور اس کا نابالغ بچہ ہو تو وہ بچہ بھی اس کے اسلام کے سبب مسلمان شمار ہوگا۔
اور اگر والدین میں سے ایک کتابی اور دوسرا مجوسی ہو تو بچہ کتابی شمار ہوگا — کیونکہ کتابیت دونوں کفر میں بہتر ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • مرتد اور مرتدہ کا کسی سے بھی نکاح کیوں ناجائز ہے؟
  • اولاد کو ہمیشہ بہتر دین والے کے تابع کیوں کیا جاتا ہے؟
  • ایک والد کے مسلمان ہونے پر نابالغ بچے کا مسلمان ہونا — اس کی بنیاد کیا ہے؟ بالغ اولاد کا کیا حکم؟
  • کتابی اور مجوسی والدین کی اولاد کو کتابی کیوں قرار دیا گیا؟
ن۲۳

کفار کے نکاح کا اقرار اور مجوسی کے محرَّم نکاح

وَإِذَا تَزَوَّجَ الْكَافِرُ بِغَيْرِ شُهُودٍ أَوْ فِي عِدَّةِ كَافِرٍ، وَذَلِكَ فِي دِينِهِمْ جَائِزٌ ثُمَّ أَسْلَمَ أُقِرَّا عَلَيْهِ. وَإِنْ تَزَوَّجَ الْمَجُوسِيُّ أُمَّهُ أَوِ ابْنَتَهُ ثُمَّ أَسْلَمَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
اگر کافر نے گواہوں کے بغیر نکاح کیا، یا کسی کافر عورت سے اس کی عدت کے دوران نکاح کیا — اور یہ ان کے دین میں جائز ہو — پھر وہ مسلمان ہو گئے، تو ان کا نکاح برقرار رکھا جائے گا (انہیں اسی پر قائم رہنے دیا جائے گا)۔
لیکن اگر مجوسی نے اپنی ماں یا بیٹی سے نکاح کیا، پھر دونوں مسلمان ہو گئے، تو ان کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی — کیونکہ یہ محرمِ ابدی ہے، جس کی حرمت ہر دین و شریعت میں ثابت ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • کفار کے باہمی نکاحوں کو اسلام کے بعد برقرار کیوں رکھا جاتا ہے؟ اس کا اصول کیا ہے؟
  • گواہوں کے بغیر یا عدت میں نکاح — مسلمان کے لیے باطل لیکن کافر کے لیے اسلام کے بعد برقرار، کیوں؟
  • مجوسی کے ماں/بیٹی سے نکاح پر تفریق کیوں؟ یہ پچھلے حکم سے مختلف کیوں ہے؟
  • «أُقِرّا عليه» اور «فُرّق بينهما» کے درمیان اصولی فرق کیا ہے؟
ن۲۴

ازواج کے درمیان عدل — قسم (باری) کے احکام

وَإِنْ كَانَ لِلرَّجُلِ امْرَأَتَانِ حُرَّتَانِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَهُمَا فِي الْقَسْمِ، بِكْرَيْنِ كَانَتَا أَوْ ثَيِّبَيْنِ، أَوْ أَحَدُهُمَا بِكْرًا وَالْأُخْرَى ثَيِّبًا. وَإِنْ كَانَتْ إِحْدَاهُمَا حُرَّةً وَالْأُخْرَى أَمَةً، فَلِلْحُرَّةِ الثُّلُثَانِ وَلِلْأَمَةِ الثُّلُثُلِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَاه، وَلَا حَقَّ لَهُنَّالزَّوْجَات فِي الْقَسْمِ فِي حَالَةِ السَّفَرِدَفْعًا لِلْحَرَج،
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
اگر کسی مرد کی دو آزاد بیویاں ہوں تو اس پر لازم ہے کہ باری (قسم) میں ان کے درمیان عدل کرے — خواہ دونوں کنواری ہوں، یا دونوں ثیّبہ، یا ایک کنواری اور دوسری ثیّبہ؛ سب کا حق برابر ہے۔
اور اگر ایک آزاد اور دوسری لونڈی ہو تو آزاد کے لیے دو تہائی اور لونڈی کے لیے ایک تہائی باری ہوگی۔
اور سفر کی حالت میں بیویوں کا قسم (باری) میں کوئی حق نہیں — تنگی اور حرج دور کرنے کے لیے، کیونکہ سفر میں سب کو ساتھ لے جانا دشوار ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • قسم میں عدل واجب ہے — کیا یہ صرف رات گزارنے میں ہے یا دلی محبت میں بھی؟
  • کنواری اور ثیّبہ کا قسم میں حق برابر کیوں ہے؟
  • آزاد اور لونڈی کے درمیان ۲:۱ کی تقسیم کی دلیل کیا ہے؟
  • سفر میں قسم کا حق ساقط کیوں ہو جاتا ہے؟
ن۲۵

سفر میں قرعہ اور حقِ قسم سے دستبرداری

وَيُسَافِرُ الزَّوْجُ بِمَنْ شَاءَ مِنْهُنَّ، وَالْأَوْلَى أَنْ يُقْرِعَ بَيْنَهُنَّ، فَيُسَافِرَ بِمَنْ خَرَجَتْ قُرْعَتُهَا، وَإِذَا رَضِيَتْ إِحْدَى الزَّوْجَاتِ بِتَرْكِ قَسْمِهَا لِصَاحِبَتِهَا جَازَ، وَلَهَا أَنْ تَرْجِعَ فِي ذَلِكَ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
شوہر اپنی بیویوں میں سے جسے چاہے سفر میں ساتھ لے جا سکتا ہے۔ البتہ بہتر (اولیٰ) یہ ہے کہ ان کے درمیان قرعہ ڈالے، اور جس کا قرعہ نکلے اسے ساتھ لے جائے — تاکہ کسی کی دل شکنی نہ ہو۔
اور اگر کوئی بیوی اپنی باری اپنی سوکن کے حق میں چھوڑنے پر راضی ہو جائے تو یہ جائز ہے۔ لیکن اسے یہ حق حاصل ہے کہ بعد میں اپنے اس فیصلے سے رجوع کر لے، کیونکہ یہ اس کا حق تھا جسے اس نے بطورِ احسان چھوڑا تھا۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • سفر میں قرعہ ڈالنا «اولیٰ» (مستحب) ہے یا واجب؟ اس کی حکمت کیا ہے؟
  • بیوی کا اپنی باری چھوڑنا جائز ہے — کیا اس کے بدلے کوئی معاوضہ لینا درست ہے؟
  • باری چھوڑنے کے بعد رجوع کا حق کیوں باقی رہتا ہے؟
  • قرعہ کے باوجود شوہر کسی اور کو ساتھ لے جا سکتا ہے — تو قرعہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
كِتَابُ الرَّضَاعِ
ص ۴۹۲–۴۹۵
ر۱

مدتِ رضاعت اور حرمت کا اصول

قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ إِذَا حَصَلَ فِي مُدَّةِ الرَّضَاعِ تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ، وَمُدَّةُ الرَّضَاعِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله ثَلَاثُونَ شَهْرًا وَعِنْدَهُمَا سَنَتَانِ، وَإِذَا مَضَتْ مُدَّةُ الرَّضَاعِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِالرَّضَاعِ التَّحْرِيمُ. وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ إِلَّا أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ الرَّضَاعِ، فَإِنَّهُ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
رضاعت کم ہو یا زیادہ — اگر مدتِ رضاعت کے اندر ہو تو حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ مدتِ رضاعت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تیس (۳۰) مہینے ہے، اور صاحبین کے نزدیک دو سال۔ جب مدتِ رضاعت گزر جائے تو پھر رضاعت سے حرمت نہیں ثابت ہوتی۔
رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں — سوائے رضاعی بہن کی ماں کے، کیونکہ اس سے نکاح جائز ہے (نسبی بہن کی ماں سے ناجائز ہوتا ہے)۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • مدتِ رضاعت میں ائمہ کا اختلاف — ۳۰ مہینے بمقابلہ ۲ سال — ہر ایک کی دلیل کیا ہے؟
  • «قلیل وکثیر» — کیا ایک گھونٹ دودھ سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟
  • رضاعت سے وہی حرمت کیوں جو نسب سے ثابت ہوتی ہے؟ قرآن و حدیث کی بنیاد کیا ہے؟
  • رضاعی بہن کی ماں سے نکاح جائز لیکن نسبی بہن کی ماں سے ناجائز — اس فرق کی وجہ کیا ہے؟
ر۲

رضاعی محرمات — خاص استثنائی صورتیں

وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّ أُخْتِهِ مِنَ النَّسَبِ، وَأُخْتُ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُخْتَ ابْنِهِ مِنَ النَّسَبِ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةَ ابْنِهِ مِنَ الرَّضَاعِ كَمَا لَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةَ ابْنِهِ مِنَ النَّسَبِ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
نسبی بہن کی ماں سے نکاح ناجائز ہے۔
رضاعی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز ہے — لیکن نسبی بیٹے کی بہن سے ناجائز۔
رضاعی بیٹے کی بیوی سے نکاح ناجائز ہے — بالکل ویسے جیسے نسبی بیٹے کی بیوی (بہو) سے ناجائز ہے۔
خلاصہ: رضاعت اور نسب میں بعض رشتے ایک جیسے حرام ہیں (جیسے بیٹے کی بیوی)، البتہ بعض میں فرق ہے — رضاعی بیٹے کی بہن محرم نہیں بنتی کیونکہ وہ رضاعت میں اس شخص سے نہیں بلکہ اس کے بیٹے سے جڑی ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • رضاعی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز لیکن رضاعی بیٹے کی بیوی سے ناجائز — اس فرق کی فقہی توجیہ کیا ہے؟
  • نسبی بہن کی ماں اور رضاعی بہن کی ماں میں حکم کا فرق کیوں ہے؟
  • «کما لا یجوز» — رضاعت اور نسب کو برابر رکھنے کا اصول کیا ہے؟
  • رضاعی رشتوں میں حرمت کے لیے بنیادی شرط کیا ہے؟
ر۳

لبنُ الفَحل اور أخت الأخ من الرضاع

وَلَبَنُ الْفَحْلِ يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ، وَهُوَ أَنْ تَرْضَعَ الْمَرْأَةُ صَبِيَّةً، فَتَحْرُمُ هَذِهِ الصَّبِيَّةُ عَلَى زَوْجِهَا وَعَلَى آبَائِهِ وَأَبْنَائِهِ،المرضعة وَيَصِيرُ الزَّوْجُ الَّذِي نَزَلَ لَهَا اللَّبَنُ أَبًا لِلْمُرْضَعَةِ. وَيَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ الرَّضَاعِ، كَمَا يَجُوزُ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُخْتِ أَخِيهِ مِنَ النَّسَبِ، وَذَلِكَ مِثْلُ الْأَخِ مِنَ الْأَبِ إِذَا كَانَ لَهُ أُخْتٌ مِنْ أُمِّهِ: جَازَ لِأَخِيهِ مِنْ أَبِيهِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
لبنِ فحل سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی عورت کسی بچی کو دودھ پلائے — تو یہ بچی اس عورت کے شوہر پر اور اس کے آباء و اولاد پر حرام ہو جاتی ہے، اور وہ شوہر جس کی وجہ سے دودھ اترا، دودھ پینے والی بچی کا «رضاعی باپ» بن جاتا ہے۔
رضاعی بھائی کی بہن سے نکاح جائز ہے — جیسے نسبی بھائی کی بہن سے جائز ہے۔ مثال: باپ کی طرف سے بھائی ہے، اس بھائی کی ماں کی طرف سے الگ بہن ہے — باپ والے بھائی کے لیے اس بہن سے نکاح جائز ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • لبنِ فحل کیا ہے؟ اس سے حرمت کیوں ثابت ہوتی ہے جبکہ دودھ عورت کا ہے؟
  • اس بچی کے شوہر کے آباء (دادا) پر کیوں حرام ہوئی؟
  • رضاعی بھائی کی بہن سے نکاح جائز کیوں ہے؟ یہاں حرمت کیوں نہ ہوئی؟
  • لبنِ فحل کا اصول آج کے دور میں «بینک ملک» (milk bank) کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے؟
ر۴

دو صبیّین اور مرضعہ کی حرمتیں

وَكُلُّ صَبِيَّيْنِ اجْتَمَعَا عَلَى ثَدْيٍ وَاحِدٍ لَمْ يَجُزْ لِأَحَدِهِمَا أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْآخَرِ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ تَتَزَوَّجَ الْمُرْضِعَةُ أَحَدًا مِنْ وَلَدِ الَّتِي أَرْضَعَتْ، وَلَا يَتَزَوَّجَ الصَّبِيُّ الْمُرْضَعُ أُخْتَ زَوْجِ الْمُرْضِعَةِ؛أَيْ أُخْتَ الزَّوْج لِأَنَّهَا عَمَّتُهُ مِنَ الرَّضَاعِ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
جو دو بچے ایک ہی پستان سے دودھ پیتے ہوں، ان میں سے کسی ایک کا دوسرے سے نکاح جائز نہیں — کیونکہ وہ رضاعی بہن بھائی بن گئے۔
دودھ پلانے والی عورت (مرضعہ) کے لیے جائز نہیں کہ اس عورت کے کسی بیٹے سے نکاح کرے جسے اس نے دودھ پلایا — کیونکہ وہ رضاعی ماں بن گئی۔
دودھ پینے والا بچہ اپنی رضاعی ماں کے شوہر کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا — کیونکہ وہ اس کی رضاعی پھوپھی ہے (رضاعی باپ کی بہن)۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • ایک پستان سے دودھ پینے والے دونوں بچوں کے درمیان نکاح ناجائز کیوں؟
  • مرضعہ کے لیے اس کے رضاعی فرزند کی ماں کے بیٹوں سے نکاح کیوں ناجائز؟
  • رضاعی پھوپھی کیسے وجود میں آتی ہے؟ مثال سے سمجھائیں۔
  • ان مسائل میں نسب اور رضاعت کے درمیان مشابہت کا اصول کیسے کام کرتا ہے؟
ر۵

اختلاطِ لبن — پانی، کھانا، دوائی اور بکری

وَإِذَا اخْتَلَطَ اللَّبَنُ بِالْمَاءِ، وَاللَّبَنُ هُوَ الْغَالِبُ يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ،عَلَى الْمَاء فَإِنْ غَلَبَ الْمَاءُ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ. وَإِذَا اخْتَلَطَ بِالطَّعَامِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ وَإِنْ كَانَ اللَّبَنُ غَالِبًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله. وَقَالَا: يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ. وَإِذَا اخْتَلَطَ بِالدَّوَاءِ وَاللَّبَنُ غَالِبٌ تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ. وَإِذَا حُلِبَ اللَّبَنُ مِنَ الْمَرْأَةِ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأُوجِرَ بِهِ الصَّبِيُّ تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ. وَإِذَا اخْتَلَطَ لَبَنُ الْمَرْأَةِ بِلَبَنِ شَاةٍ وَلَبَنُ الْمَرْأَةِ هُوَ الْغَالِبُ تَعَلَّقَ بِهِ التَّحْرِيمُ، وَإِنْ غَلَبَ لَبَنُ الشَّاةِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ. وَإِذَا اخْتَلَطَ لَبَنُ امْرَأَتَيْنِ يَتَعَلَّقُ التَّحْرِيمُ بِأَكْثَرِهِمَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رحمه الله.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
پانی کے ساتھ: دودھ غالب ہو → حرمت ثابت؛ پانی غالب ہو → حرمت نہیں۔
کھانے کے ساتھ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ: حرمت نہیں، چاہے دودھ غالب ہو؛ صاحبین: حرمت ثابت ہوتی ہے۔
دوائی کے ساتھ: دودھ غالب ہو → حرمت ثابت۔
وفات کے بعد: عورت کی موت کے بعد دودھ دوہا گیا پھر بچے کو پلایا → حرمت ثابت۔
بکری کے دودھ کے ساتھ: عورت کا دودھ غالب → حرمت؛ بکری کا غالب → حرمت نہیں۔
دو عورتوں کا دودھ ملا: امام ابو یوسف رحمہ اللہ: جس کا دودھ زیادہ ہو اس سے حرمت۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • «غلبہ» کا معیار کیا ہے — مقدار سے ناپیں گے یا رنگ/بو سے؟
  • کھانے کے ساتھ اختلاط میں امام ابو حنیفہ اور صاحبین کے موقف کی دلیل کیا ہے؟
  • وفات کے بعد دوہے ہوئے دودھ سے حرمت — اس کی وجہ اور حکمت کیا ہے؟
  • دو عورتوں کے دودھ کے اختلاط پر ابو یوسف اور محمد رحمہما اللہ کا اختلاف؟
ر۶

لبنِ بکر، لبنِ رجل، صغیرہ کبیرہ اور شہادتِ رضاع

وَقَالَ مُحَمَّدٌ رحمه الله: يَتَعَلَّقُ بِهِمَا التَّحْرِيمُ. وَإِذْ نَزَلَ لِلْبَكْرِ لَبَنٌ فَأَرْضَعَتْ صَبِيًّا يَتَعَلَّقُ بِهِ التَّحْرِيمُ. وَإِذَا نَزَلَ لِلرَّجُلِ لَبَنٌ فَأَرْضَعَ بِهِ صَبِيًّا لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ التَّحْرِيمُ. وَإِذَا شَرِبَ صَبِيَّانِ مِنْ لَبَنِ شَاةٍ فَلَا رَضَاعَ بَيْنَهُمَا. وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ صَغِيرَةً وَكَبِيرَةً فَأَرْضَعَتِ الْكَبِيرَةُ الصَّغِيرَةَ حَرُمَتَا عَلَى الزَّوْجِ، فَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ بِالْكَبِيرَةِ فَلَا مَهْرَ لَهَا، وَلِلصَّغِيرَةِ نِصْفُ الْمَهْرِ وَيَرْجِعُ بِهِ الزَّوْجُ عَلَى الْكَبِيرَةِ إِنْ كَانَتْ تَعَمَّدَتْ بِهِ الْفَسَادَ، وَإِنْ لَمْ تَتَعَمَّدْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا. وَلَا تُقْبَلُ فِي الرَّضَاعِ شَهَادَةُ النِّسَاءِ مُنْفَرِدَاتٍ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
امام محمد رحمہ اللہ: دونوں عورتوں کے دودھ کے اختلاط سے دونوں کی حرمت ثابت ہوگی۔
کنواری (بکر) عورت کے سینے میں دودھ اترا اور اس نے بچے کو پلایا → حرمت ثابت۔ مرد کے سینے میں دودھ اترا اور بچے کو پلایا → حرمت نہیں (کیونکہ رضاعت صرف عورت سے ثابت ہوتی ہے)۔ دو بچوں نے بکری کا دودھ پیا → آپس میں رضاعت نہیں (حیوان کے دودھ سے حرمت نہیں)۔
شوہر نے چھوٹی اور بڑی سے نکاح کیا، بڑی نے چھوٹی کو دودھ پلایا → دونوں شوہر پر حرام۔ اگر بڑی سے دخول نہ ہوا تھا: اسے مہر نہیں؛ چھوٹی کو آدھا مہر، اور اگر بڑی نے جان بوجھ کر (ارادۂ فساد سے) دودھ پلایا تو شوہر اس سے آدھا مہر واپس لے سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
رضاعت صرف عورتوں کی گواہی سے ثابت نہیں ہوتی — دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • کنواری کا دودھ حرمت ثابت کرتا ہے — بغیر شوہر کے لبنِ فحل کا حکم کیا ہوگا؟
  • مرد کے دودھ سے حرمت کیوں نہیں؟ دلیل کیا ہے؟
  • بڑی نے چھوٹی کو دودھ پلایا — شوہر کی غلطی نہ ہونے کے باوجود دونوں حرام کیوں ہوئیں؟ اور بڑی سے آدھا مہر واپس لینے کی شرط کیا ہے؟
  • رضاعت میں اکیلی عورتوں کی گواہی ناقابلِ قبول کیوں؟
كِتَابُ الطَّلَاقِ
ص ۴۹۶ — (جاری)
ط۱

اقسامِ طلاق — احسن، سنت اور بدعت

الطَّلَاقُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ: أَحْسَنُ الطَّلَاقِ، وَطَلَاقُ السُّنَّةِ، وَطَلَاقُ الْبِدْعَةِ. فَأَحْسَنُ الطَّلَاقِ: أَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ لَمْ يُجَامِعْهَا فِيهِ وَيَتْرُكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتَهَا. وَطَلَاقُ السُّنَّةِ: أَنْ يُطَلِّقَ الْمَدْخُولَ بِهَا ثَلَاثًا فِي ثَلَاثَةِ أَطْهَارٍ. وَطَلَاقُ الْبِدْعَةِ: أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ ثَلَاثًا فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
طلاق کی تین قسمیں ہیں: احسنُ الطلاق، طلاقِ سنت، اور طلاقِ بدعت۔
احسنُ الطلاق: شوہر بیوی کو ایک ایسے طہر (حیض کے بعد کی پاکی) میں ایک طلاق دے جس میں ہمبستری نہ کی ہو، پھر اسے یونہی چھوڑ دے یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔ (رجعت کا موقع باقی رہتا ہے۔)
طلاقِ سنت: مدخول بہا (جس سے دخول ہو چکا ہو) کو تین الگ الگ طہروں میں ایک ایک طلاق دے — یعنی تین طلاقیں تین مختلف طہروں میں۔
طلاقِ بدعت: ایک ہی کلمے میں تین طلاقیں دے (مثلاً «تجھے تین طلاقیں»)، یا ایک ہی طہر میں تین دے — یہ گناہ اور حرام ہے، لیکن واقع ہو جاتی ہے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • احسنُ الطلاق میں ہمبستری نہ ہونے کی شرط کیوں؟ اس میں کیا حکمت ہے؟
  • طلاقِ سنت اور احسنُ الطلاق میں فرق کیا ہے؟ کون سا افضل ہے اور کیوں؟
  • طلاقِ بدعت حرام ہے — پھر بھی واقع کیوں ہوتی ہے؟ فقہی اصول کیا ہے؟
  • «طُہر» کی تعریف کیا ہے؟ مدخول بہ نہ ہو تو طلاقِ سنت کا حکم کیا ہے؟
ط۲

طلاقِ بدعت کا حکم اور سنت کی دو قسمیں

فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَبَانَتِ امْرَأَتُهُ مِنْهُ، وَكَانَ عَاصِيًا.أَيِ الثَّلَاث وَالسُّنَّةُ فِي الطَّلَاقِ مِنْ وَجْهَيْنِ: سُنَّةٌ فِي الْوَقْتِ، وَسُنَّةٌ فِي الْعَدَدِ. فَالسُّنَّةُ فِي الْعَدَدِ يَسْتَوِي فِيهَا الْمَدْخُولُ بِهَا وَغَيْرُ الْمَدْخُولِ بِهَا، وَالسُّنَّةُ فِي الْوَقْتِ تَثْبُتُ فِي حَقِّ الْمَدْخُولِ بِهَا خَاصَّةً، وَهُوَ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَاحِدَةً فِي طُهْرٍ لَمْ يُجَامِعْهَا فِيهِ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
طلاقِ بدعت کرنے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، بیوی جدا (بائن) ہو جاتی ہے، اور شوہر گنہگار ہوتا ہے۔
طلاق میں سنت دو طرح کی ہے: سنتِ وقت اور سنتِ عدد۔
سنتِ عدد (ایک طلاق دینا) میں مدخول بہا اور غیر مدخول بہا برابر ہیں۔
سنتِ وقت صرف مدخول بہا (جس سے دخول ہو چکا) کے حق میں ثابت ہوتی ہے — یعنی ایسے طہر میں طلاق دے جس میں ہمبستری نہ کی ہو۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • طلاقِ بدعت گناہ ہونے کے باوجود واقع کیوں ہو جاتی ہے؟
  • سنتِ وقت اور سنتِ عدد میں کیا فرق ہے؟
  • غیر مدخول بہا پر سنتِ وقت کیوں لاگو نہیں؟
  • «عاصیاً» کی قید سے کیا ثابت ہوتا ہے؟
ط۳

غیر حائضہ اور حاملہ کی طلاقِ سنت

وَغَيْرُ الْمَدْخُولِ بِهَا أَنْ يُطَلِّقَهَا فِي حَالِ الطُّهْرِ وَالْحَيْضِ. وَإِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَحِيضُ مِنْ صِغَرٍ أَوْ كِبَرٍ، فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا لِلسُّنَّةِ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً، فَإِذَا مَضَى شَهْرٌ طَلَّقَهَا أُخْرَى، فَإِذَا مَضَى شَهْرٌ طَلَّقَهَا أُخْرَى، وَيَجُوزُ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَلَا يَفْصِلَ بَيْنَ وَطْئِهَا وَطَلَاقِهَا بِزَمَانٍ. وَطَلَاقُ الْحَامِلِ يَجُوزُ عَقِيبَ الْجِمَاعِ، وَيُطَلِّقُهَا لِلسُّنَّةِ ثَلَاثًا، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ تَطْلِيقَتَيْنِ بِشَهْرٍالْحَامِل عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رحمهما الله. وَقَالَ مُحَمَّدٌ رحمه الله: لَا يُطَلِّقُهَا لِلسُّنَّةِ إِلَّا وَاحِدَةً.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
غیر مدخول بہا کو طہر اور حیض دونوں حالتوں میں طلاق دے سکتا ہے (سنت کے مطابق)۔
عورت کو صغر یا کبر کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو اور طلاقِ سنت دینا ہو: پہلی طلاق دے، ایک ماہ بعد دوسری، ایک ماہ بعد تیسری — اور اس پر لازم نہیں کہ ہمبستری اور طلاق کے درمیان وقفہ رکھے۔
حاملہ کی طلاق: ہمبستری کے فوراً بعد بھی جائز ہے۔ سنت کے مطابق تین طلاقیں دینا ہوں تو امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمہما اللہ: ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک مہینے کا وقفہ۔ امام محمد رحمہ اللہ: حاملہ کو سنت کے مطابق صرف ایک طلاق دے۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • حیض نہ آنے والی عورت کے لیے ماہانہ وقفے کا اصول کہاں سے آیا؟
  • حاملہ کو ہمبستری کے بعد فوری طلاق کیوں جائز ہے؟
  • حاملہ کی طلاقِ سنت پر ائمہ کا اختلاف — ہر ایک کی دلیل؟
  • «لا یفصل بین وطئها وطلاقها بزمان» — اس کا مطلب کیا ہے؟
ط۴

حیض میں طلاق، رجوع اور شرطِ وقوع

وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي حَالِ الْحَيْضِ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ وَحَاضَتْ وَطَهُرَتْ فَهُوَ مُخَيَّرٌ: إِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا. وَيَقَعُ طَلَاقُ كُلِّ زَوْجٍ إِذَا كَانَ عَاقِلًا بَالِغًا. وَلَا يَقَعُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ وَالنَّائِمِ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
اگر شوہر نے حیض کی حالت میں طلاق دی تو طلاق واقع ہو جاتی ہے (اگرچہ گناہ ہوا)۔ مستحب یہ ہے کہ رجوع کرے۔ پھر جب پاک ہو، حیض آئے، دوبارہ پاک ہو — تو شوہر مخیّر ہے: طلاق دے یا روکے۔
ہر عاقل بالغ شوہر کی طلاق واقع ہوتی ہے۔ نابالغ، مجنون اور سوئے ہوئے شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • حیض میں طلاق گناہ ہے لیکن واقع ہو جاتی ہے — رجوع کو مستحب کیوں کہا گیا؟
  • «طهرت وحاضت وطهرت» — اس ترتیب کی کیا حکمت ہے؟
  • نائم (سوئے ہوئے) کی طلاق کیوں نہیں ہوتی؟
  • عقل اور بلوغ — طلاق کے لیے دونوں کیوں ضروری ہیں؟
ط۵

عبد کی طلاق اور صریح الطلاق

وَإِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلَاهُ ثُمَّ طَلَّقَ وَقَعَ طَلَاقُهُ، وَلَا يَقَعُ طَلَاقُ مَوْلَاهُ عَلَى امْرَأَتِهِ. وَالطَّلَاقُ عَلَى ضَرْبَيْنِ: صَرِيحٌ، وَكِنَايَةٌ. فَالصَّرِيحُ قَوْلُهُ: أَنْتِ طَالِقٌ، وَمُطَلَّقَةٌ، وَطَلَّقْتُكِ، فَهَذَا يَقَعُ بِهِ الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ، وَلَا يَقَعُ بِهِ إِلَّا وَاحِدَةٌ وَإِنْ نَوَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَلَا يَفْتَقِرُ بِهَذِهِ الْأَلْفَاظِ إِلَى نِيَّةٍ.الْوَاحِدَةُ الرَّجْعِيَّة وَقَوْلُهُ: أَنْتِ الطَّلَاقُ، وَأَنْتِ طَالِقٌ الطَّلَاقَ أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ طَلَاقًا، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ فَهِيَ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ، وَإِنْ نَوَى ثِنْتَيْنِ لَا يَقَعُ إِلَّا وَاحِدَةٌ، وَإِنْ نَوَى بِهِ ثَلَاثًا كَانَ ثَلَاثًا.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
غلام نے آقا کی اجازت سے نکاح کیا پھر طلاق دی — طلاق واقع ہوگی۔ آقا کی طلاق غلام کی بیوی پر واقع نہیں ہوتی۔
طلاق دو قسم کی ہے: صریح اور کنایہ۔
صریح: «أنت طالق»، «مطلقة»، «طلقتك» — ان سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، صرف ایک (چاہے زیادہ کی نیت ہو)، اور نیت کی ضرورت نہیں۔
«أنت الطلاق»، «أنت طالق الطلاق»، «أنت طالق طلاقاً» — نیت نہ ہو: ایک رجعی؛ دو کی نیت ہو: پھر بھی ایک؛ تین کی نیت ہو: تین واقع۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • آقا غلام کی بیوی کو طلاق کیوں نہیں دے سکتا؟
  • صریح الفاظ میں نیت کی ضرورت کیوں نہیں؟
  • «أنت طالق» سے دو کی نیت پر بھی ایک واقع — کیوں؟
  • «أنت الطلاق» سے تین کی نیت پر تین واقع کیوں؟ جبکہ «أنت طالق» سے نہیں؟
ط۶

کنایاتِ طلاق — رجعی الفاظ اور بائن الفاظ

وَالضَّرْبُ الثَّانِي الْكِنَايَاتُ، وَلَا يَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ إِلَّا بِالنِّيَّةِ أَوْ بِدَلَالَةِ حَالٍ. وَهِيَ عَلَى ضَرْبَيْنِ: مِنْهَا ثَلَاثَةُ أَلْفَاظٍ يَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ وَلَا يَقَعُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةٌ، وَهِيَ: اعْتَدِّي، وَاسْتَبْرِئِي رَحِمَكِ، وَأَنْتِ وَاحِدَةٌ. وَبَقِيَّةُ الْكِنَايَاتِ إِذَا نَوَى بِهَا الطَّلَاقَ كَانَتْ وَاحِدَةً بَائِنَةً، وَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا كَانَتْ ثَلَاثًا، وَإِنْ نَوَى ثِنْتَيْنِ كَانَتْ وَاحِدَةً، وَهَذِهِ مِثْلُ قَوْلِهِ: أَنْتِ بَائِنٌ، وَبَتَّةٌ وَبَتْلَةٌ، وَحَرَامٌ، وَحَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، وَالْحَقِي بِأَهْلِكِ، وَخَلِيَّةٌ، وَبَرِيَّةٌ، وَوَهَبْتُكِ لِأَهْلِكِ، وَسَرَّحْتُكِ، وَاخْتَارِي، وَفَارَقْتُكِ، وَأَنْتِ حُرَّةٌ، وَتَقَنَّعِي وَاسْتَتِرِي، وَاغْرُبِي، وَابْتَغِي الْأَزْوَاجَ. فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نِيَّةُ الطَّلَاقِ لَمْ يَقَعْ بِهَذِهِ الْأَلْفَاظِ طَلَاقٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَا فِي مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ، فَيَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ فِي الْقَضَاءِ. وَإِنْ لَمْ يَكُونَا فِي مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ وَكَانَا فِي غَضَبٍ أَوْ خُصُومَةٍ وَقَعَ الطَّلَاقُ بِكُلِّ لَفْظَةٍلِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ غَيْرَه لَا يُقْصَدُ بِهَا السَّبُّ وَالشَّتِيمَةُ، وَلَمْ يَقَعْ بِمَا يُقْصَدُ بِهَا السَّبُّ وَالشَّتِيمَةُ إِلَّا أَنْ يَنْوِيَهُ.
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
کنایہ الفاظ سے طلاق صرف نیت یا دلالتِ حال سے واقع ہوتی ہے۔ یہ دو قسم کے ہیں:
قسم اول (رجعی — صرف ایک): «اعتدّی» (عدت گزار)، «استبرئی رحمک» (اپنا رحم پاک کر)، «أنتِ واحدة» (تو ایک ہے)۔
قسم دوم (بائن): باقی تمام کنایات — نیت ہو تو ایک بائن؛ تین کی نیت ہو تو تین؛ دو کی نیت ہو تو پھر بھی ایک۔ یہ الفاظ ہیں: بائن، بتّہ، بتلہ، حرام، حبلک علی غاربک، الحقی بأھلک، خلیّہ، بریّہ، وھبتک لأھلک، سرّحتک، اختاری، فارقتک، أنتِ حرّہ، تقنّعی، استتری، اغربی، ابتغی الأزواج۔
اگر طلاق کی نیت نہ ہو: طلاق نہیں — مگر جب «مذاکرۂ طلاق» (طلاق کی گفتگو) میں ہوں تو قضاءً واقع۔ اگر غصہ یا جھگڑے میں کہا: جن الفاظ سے گالی کا قصد نہ ہو وہاں طلاق واقع؛ جن سے گالی کا قصد ہو وہاں نہیں، مگر نیت کرے تو واقع۔
❓ اس حصے سے سوالات
  • کنایہ میں «بدلالة حال» کیا ہے؟ مثال دیں۔
  • قسمِ اول کے تین الفاظ سے رجعی کیوں، بائن کیوں نہیں؟
  • «مذاکرۂ طلاق» میں قضاءً واقع لیکن دیانةً نہیں — اس فرق کی کیا اہمیت ہے؟
  • غصے اور جھگڑے میں بعض الفاظ سے طلاق واقع اور بعض سے نہیں — اصول کیا ہے؟