ن۱
انعقادِ نکاح — ایجاب، قبول اور گواہوں کی شرط
▾
النِّكَاحُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقُبُولِ، بِلَفْظَيْنِ يُعَبَّرُ بِهِمَا عَنِ الْمَاضِي، أَوْ يُعَبَّرُ بِأَحَدِهِمَا عَنِ الْمَاضِي وَالْآخَرُ عَنِ الْمُسْتَقْبَلِ، مِثْلَ أَنْ يَقُولَ: زَوِّجْنِي، فَيَقُولُ: زَوَّجْتُكَ، وَلَا يَنْعَقِدُ نِكَاحُ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بِحُضُورِ شَاهِدَيْنِ حُرَّيْنِ بَالِغَيْنِ عَاقِلَيْنِ مُسْلِمَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ، عُدُولاً كَانُوا أَوْ غَيْرَ عُدُولٍ، أَوْ مَحْدُودَيْنِ فِي قَذْفٍ. فَإِنْ تَزَوَّجَ مُسْلِمٌ ذِمِّيَّةً بِشَهَادَةِ ذِمِّيَّيْنِ جَازَالشُّهُود عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يُشْهَدَ شَاهِدَيْنِ مُسْلِمَيْنِ. وَلَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِأُمِّهِ وَلَا بِجَدَّاتِهِ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ،وَإِنْ عَلَوْن
📖 تفصیلی اردو ترجمہ
نکاح ایجاب اور قبول سے منعقد ہوتا ہے — دو ایسے الفاظ سے جو دونوں ماضی کو ظاہر کریں، یا ایک ماضی اور دوسرا مستقبل کا ہو۔ مثلاً: «زوِّجنی» (میرا نکاح کرو)، پھر دوسرا کہے: «زوَّجتُكَ» (میں نے تجھ سے نکاح کیا)۔
مسلمانوں کا نکاح دو آزاد، بالغ، عاقل، مسلمان گواہوں کے بغیر منعقد نہیں ہوتا — یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ گواہوں کا عادل یا غیر عادل ہونا، یا قذف کی حد لگائی گئی ہونا، نکاح پر اثر نہیں ڈالتا۔
مسلمان کا ذمی عورت سے دو ذمی گواہوں کی گواہی پر نکاح: امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمہما اللہ کے نزدیک جائز۔ امام محمد رحمہ اللہ: ناجائز، دو مسلمان گواہ ضروری ہیں۔
مرد کے لیے ماں اور دادیوں/نانیوں سے نکاح حرام ہے، اگرچہ وہ کتنی ہی اوپر ہوں۔
مسلمانوں کا نکاح دو آزاد، بالغ، عاقل، مسلمان گواہوں کے بغیر منعقد نہیں ہوتا — یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ گواہوں کا عادل یا غیر عادل ہونا، یا قذف کی حد لگائی گئی ہونا، نکاح پر اثر نہیں ڈالتا۔
مسلمان کا ذمی عورت سے دو ذمی گواہوں کی گواہی پر نکاح: امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمہما اللہ کے نزدیک جائز۔ امام محمد رحمہ اللہ: ناجائز، دو مسلمان گواہ ضروری ہیں۔
مرد کے لیے ماں اور دادیوں/نانیوں سے نکاح حرام ہے، اگرچہ وہ کتنی ہی اوپر ہوں۔
❓ اس حصے سے سوالات
- نکاح میں ایجاب و قبول کے الفاظ ماضی کے کیوں ہونے چاہئیں؟ مستقبل کا لفظ کس صورت میں جائز ہے؟
- گواہ کی کتنی اور کیا شرائط ہیں؟ غیر عادل گواہ کیوں کافی ہے؟
- قذف کی حد لگائی گئی گواہ کو قابلِ قبول کیوں مانا گیا ہے؟
- ذمی گواہوں کے مسئلے پر ائمہ کا اختلاف — دلیل کیا ہے؟