كِتَابُ الْقِرَاءَةِ الرَّاشِدَة

اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة

مکمل نوٹس — سبق ۱ تا ۸
عبارت · ترجمہ · مشکل الفاظ
فہرستِ اسباق
اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة

كَيْفَ أَقْضِي يَوْمِي

میں اپنا دن کیسے گزارتا ہوں
عِبَارَت (مکمل عبارت)
أَنَامُ مُبَكِّراً فِي اللَّيْلِ وَأَقُومُ مُبَكِّراً فِي الصَّبَاحِ، أَسْتَيْقِظُ عَلَى اسْمِ اللهِ وَذِكْرِهِ، أَسْتَعِدُّ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ أَذْهَبُ مَعَ وَالِدِي إِلَى الْمَسْجِدِ، وَالْمَسْجِدُ قَرِيبٌ مِنْ بَيْتِي، فَأَتَوَضَّأُ وَأُصَلِّي مَعَ الْجَمَاعَةِ، وَأَرْجِعُ إِلَى الْبَيْتِ وَأَتْلُو شَيْئاً مِنَ الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الْبُسْتَانِ وَأَجْرِي، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى الْبَيْتِ فَأَشْرَبُ اللَّبَنَ وَأَسْتَعِدُّ لِلذَّهَابِ إِلَى الْمَدْرَسَةِ، وَأُفْطِرُ إِذَا كَانَتْ أَيَّامَ الصَّيْفِ، وَأَتَغَدَّى إِذَا كَانَتْ أَيَّامَ الشِّتَاءِ، وَأَصِلُ إِلَى الْمَدْرَسَةِ فِي الْمِيعَادِ.

وَأَمْكُثُ فِي الْمَدْرَسَةِ سِتَّ سَاعَاتٍ، وَأَسْمَعُ الدُّرُوسَ بِنَشَاطٍ وَرَغْبَةٍ، وَأَجْلِسُ بِأَدَبٍ وَسَكِينَةٍ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى الْوَقْتُ وَضُرِبَ الْجَرَسُ خَرَجْتُ مِنَ الْمَدْرَسَةِ وَرَجَعْتُ إِلَى الْبَيْتِ.

وَلَا أَقْرَأُ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَفِي بَعْضِ الْأَيَّامِ أَمْكُثُ فِي الْبَيْتِ، وَفِي بَعْضِ الْأَيَّامِ أَذْهَبُ إِلَى السُّوقِ وَأَشْتَرِي حَوَائِجَ الْبَيْتِ، وَفِي بَعْضِ الْأَيَّامِ أَخْرُجُ مَعَ أَبِي أَوْ أَخِي إِلَى بَعْضِ الْأَقَارِبِ، أَوْ أَلْعَبُ مَعَ إِخْوَتِي وَأَصْدِقَائِي.

وَأَتَعَشَّى مَعَ وَالِدِي وَإِخْوَتِي وَأَحْفَظُ دُرُوسِي، وَأُطَالِعُ لِلْغَدِ وَأَسْتَعِدُّ لِلدَّرْسِ، وَأَكْتُبُ مَا يَأْمُرُ بِهِ الْمُعَلِّمُ، وَأُصَلِّي الْعِشَاءَ وَأَقْرَأُ قَلِيلاً، ثُمَّ أَنَامُ عَلَى اسْمِ اللهِ وَذِكْرِهِ.

تِلْكَ عَادَتِي كُلَّ يَوْمٍ لَا أُخَالِفُهَا، وَأَقُومُ مُبَكِّراً يَوْمَ الْعُطْلَةِ أَيْضاً، وَأُصَلِّي مَعَ الْجَمَاعَةِ وَأَتْلُو الْقُرْآنَ، وَأَقْضِي الْيَوْمَ فِي مُطَالَعَةِ كِتَابٍ وَمُحَادَثَةٍ مَعَ أَبِي وَأُمِّي وَإِخْوَتِي، وَفِي زِيَارَةِ قَرِيبٍ أَوْ عِيَادَةِ مَرِيضٍ، وَأَمْكُثُ أَحْيَاناً فِي الْبَيْتِ، وَأَخْرُجُ أَحْيَاناً إِلَى الْخَارِجِ.
تَرْجَمَہ (اردو)

میں رات کو جلدی سو جاتا ہوں اور صبح سویرے اٹھتا ہوں۔ میں اللہ کے نام اور اس کے ذکر کے ساتھ بیدار ہوتا ہوں۔ میں نماز کی تیاری کرتا ہوں، پھر اپنے والد کے ساتھ مسجد جاتا ہوں، اور مسجد میرے گھر سے قریب ہے۔ پھر میں وضو کرتا ہوں اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہوں۔ میں گھر واپس آتا ہوں اور قرآنِ کریم میں سے کچھ تلاوت کرتا ہوں۔ پھر باغ کی طرف نکلتا ہوں اور دوڑتا ہوں۔ پھر گھر واپس آتا ہوں تو دودھ پیتا ہوں اور مدرسے جانے کی تیاری کرتا ہوں۔ اگر گرمی کے دن ہوں تو ناشتہ کرتا ہوں، اور اگر سردی کے دن ہوں تو دوپہر کا کھانا کھاتا ہوں، اور مقررہ وقت پر مدرسے پہنچ جاتا ہوں۔

اور میں مدرسے میں چھ گھنٹے رہتا ہوں، اور سبق چستی اور شوق سے سنتا ہوں، اور ادب و سکون کے ساتھ بیٹھتا ہوں۔ یہاں تک کہ جب وقت ختم ہو جاتا ہے اور گھنٹی بجائی جاتی ہے تو میں مدرسے سے نکلتا ہوں اور گھر واپس آ جاتا ہوں۔

اور میں عصر کی نماز سے مغرب تک نہیں پڑھتا۔ بعض دنوں میں گھر پر رہتا ہوں، بعض دنوں میں بازار جاتا ہوں اور گھر کی ضروریات خریدتا ہوں، اور بعض دنوں میں اپنے ابا یا بھائی کے ساتھ کچھ رشتہ داروں کے پاس جاتا ہوں، یا اپنے بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ کھیلتا ہوں۔

اور میں اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ رات کا کھانا کھاتا ہوں اور اپنے اسباق یاد کرتا ہوں، کل کے لیے مطالعہ کرتا ہوں اور سبق کی تیاری کرتا ہوں، اور جو استاد نے لکھنے کا حکم دیا ہو وہ لکھتا ہوں۔ عشاء کی نماز پڑھتا ہوں اور تھوڑا پڑھتا ہوں، پھر اللہ کے نام اور اس کے ذکر پر سو جاتا ہوں۔

یہ ہر روز میری عادت ہے، میں اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ چھٹی کے دن بھی سویرے اٹھتا ہوں، جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہوں اور قرآن کی تلاوت کرتا ہوں۔ دن کتاب کے مطالعے میں اور اپنے ابا، اماں اور بھائیوں سے گفتگو میں گزارتا ہوں۔ کسی رشتہ دار سے ملنے یا مریض کی عیادت کو جاتا ہوں۔ کبھی گھر میں رہتا ہوں اور کبھی باہر نکل جاتا ہوں۔

لُغَات (لفظی معنی)
أَنَامُمیں سوتا ہوں
مُبَكِّراًجلدی، سویرے
اللَّيْلرات
أَقُومُمیں اٹھتا ہوں
الصَّبَاحصبح
أَسْتَيْقِظُمیں بیدار ہوتا ہوں
اسْم اللهِاللہ کا نام
ذِكْریاد، ذکر
أَسْتَعِدُّمیں تیاری کرتا ہوں
الصَّلَاةنماز
أَذْهَبُمیں جاتا ہوں
وَالِدوالد، باپ
الْمَسْجِدمسجد
قَرِيبقریب، نزدیک
بَيْتگھر
أَتَوَضَّأُمیں وضو کرتا ہوں
أُصَلِّيمیں نماز پڑھتا ہوں
الْجَمَاعَةجماعت
أَرْجِعُمیں واپس آتا ہوں
أَتْلُومیں تلاوت کرتا ہوں
شَيْئاًکچھ، تھوڑا سا
الْقُرْآن الْكَرِيمقرآنِ کریم
أَخْرُجُمیں نکلتا ہوں
الْبُسْتَانباغ
أَجْرِيمیں دوڑتا ہوں
أَشْرَبُمیں پیتا ہوں
اللَّبَندودھ
الذَّهَابجانا
الْمَدْرَسَةمدرسہ، اسکول
أُفْطِرُمیں ناشتہ کرتا ہوں
أَيَّامدن (جمع)
الصَّيْفگرمی، موسمِ گرما
أَتَغَدَّىدوپہر کا کھانا کھاتا ہوں
الشِّتَاءسردی، موسمِ سرما
أَصِلُمیں پہنچتا ہوں
الْمِيعَادمقررہ وقت
أَمْكُثُمیں ٹھہرتا / رہتا ہوں
سِتّچھ
سَاعَاتگھنٹے
أَسْمَعُمیں سنتا ہوں
الدُّرُوساسباق، سبق (جمع)
نَشَاطچستی، سرگرمی
رَغْبَةشوق، رغبت
أَجْلِسُمیں بیٹھتا ہوں
أَدَبادب، تہذیب
سَكِينَةسکون، اطمینان
انْتَهَىختم ہوا
الْوَقْتوقت
ضُرِبَ الْجَرَسگھنٹی بجائی گئی
خَرَجْتُمیں نکلا
رَجَعْتُمیں واپس آیا
الْعَصْرعصر (نماز)
الْمَغْرِبمغرب (نماز)
السُّوقبازار
أَشْتَرِيمیں خریدتا ہوں
حَوَائِجضروریات، سامان
أَخ / أَخِيبھائی / میرا بھائی
الْأَقَارِبرشتہ دار (جمع)
أَلْعَبُمیں کھیلتا ہوں
إِخْوَة / إِخْوَتِيبھائی (جمع) / میرے بھائی
أَصْدِقَاءدوست (جمع)
أَتَعَشَّىرات کا کھانا کھاتا ہوں
أَحْفَظُمیں یاد کرتا ہوں
أُطَالِعُمیں مطالعہ کرتا ہوں
الْغَدکل (آنے والا دن)
أَكْتُبُمیں لکھتا ہوں
يَأْمُرُحکم دیتا ہے
الْمُعَلِّماستاد، معلم
الْعِشَاءعشاء (نماز)، رات
قَلِيلاًتھوڑا، کم
عَادَةعادت، دستور
أُخَالِفُمیں خلاف کرتا ہوں
الْعُطْلَةچھٹی، تعطیل
أَقْضِيمیں گزارتا ہوں
مُطَالَعَةمطالعہ، پڑھنا
مُحَادَثَةگفتگو، بات چیت
أُمّ / أُمِّيماں / میری ماں
زِيَارَةملاقات، زیارت
قَرِيب (رشتہ دار)رشتہ دار
عِيَادَةمریض کی عیادت
مَرِيضمریض، بیمار
أَحْيَاناًکبھی کبھی
الْخَارِجباہر
القراءة الراشدة · سبق ۱
اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة
( ۲ )

لَمَّا بَلَغْتُ السَّابِعَةَ مِنْ عُمْرِي

جب میں سات سال کا ہوا
عِبَارَت (مکمل عبارت)
لَمَّا بَلَغْتُ السَّابِعَةَ مِنْ عُمْرِي أَمَرَنِي أَبِي بِالصَّلَاةِ، وَكُنْتُ تَعَلَّمْتُ كَثِيراً مِنَ الْأَدْعِيَةِ وَحَفِظْتُ سُوَراً مِنَ الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ مِنْ أُمِّي، وَكَانَتْ أُمِّي تَتَكَلَّمُ مَعِي كُلَّ لَيْلَةٍ عِنْدَ الْمَنَامِ فَتَقُصُّ عَلَيَّ قِصَصَ الْأَنْبِيَاءِ، وَكُنْتُ أَسْمَعُ هَذِهِ الْقِصَصَ بِنَشَاطٍ وَرَغْبَةٍ.

وَبَدَأْتُ أَذْهَبُ مَعَ أَبِي إِلَى الْمَسْجِدِ، وَأَقُومُ فِي صَفِّ الْأَطْفَالِ خَلْفَ صَفِّ الرِّجَالِ، وَلَمَّا بَلَغْتُ الْعَاشِرَةَ مِنْ عُمْرِي قَالَ لِي مَرَّةً: قَدْ أَكْمَلْتَ الْآنَ مِنْ عُمْرِكَ تِسْعَ سِنِينَ، وَالْآنَ أَنْتَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا تَرَكْتَ صَلَاةً ضَرَبْتُكَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:
↩ حدیثِ نبوی ﷺ مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ.
وَقَصَّ عَلَيَّ أَبِي قِصَصَ الْأَطْفَالِ الَّذِينَ حَافَظُوا عَلَى الصَّلَاةِ فِي الصِّغَرِ، وَكَانَ لَهُمْ شَأْنٌ فِي الْكِبَرِ.

قُلْتُ: يَا أَبِي! إِنَّكَ لَا تَحْتَاجُ إِلَى أَنْ تَضْرِبَنِي وَسَأُحَافِظُ عَلَى الصَّلَوَاتِ، وَكَذَلِكَ فَعَلْتُ، فَقَدْ كُنْتُ أُصَلِّي أَيْنَمَا كُنْتُ، كُنْتُ إِذَا ذَهَبْتُ إِلَى السُّوقِ أَوْ كُنْتُ فِي شُغُلٍ وَأَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ فِي مَكَانٍ صَلَّيْتُ، لِأَنِّي أَرَى النَّاسَ لَا يَخْجَلُونَ مِنَ الْأَكْلِ إِذَا جَاعُوا، وَاللَّعِبِ إِذَا أَرَادُوا، فَلِمَاذَا أَخْجَلُ مِنَ الصَّلَاةِ؟ وَإِنَّ الصَّلَاةَ لَفَرِيضَةٌ، وَإِنَّ الصَّلَاةَ لَشَرَفٌ لِلْمُسْلِمِ.

وَخَرَجْتُ مَرَّةً إِلَى مُبَارَاةٍ وَكَانَ الزِّحَامُ شَدِيداً، وَأَدْرَكَتْنِي صَلَاةُ الْعَصْرِ وَكُنْتُ عَلَى وُضُوءٍ، فَقُمْتُ أُصَلِّي وَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيَّ وَيَتَعَجَّبُونَ، وَأَكْمَلْتُ صَلَاتِي بِسَكِينَةٍ وَاعْتِدَالٍ وَرَجَعْتُ إِلَى الْمُبَارَاةِ.

وَلَمَّا انْتَهَتِ الْمُبَارَاةُ جَاءَ إِلَيَّ رَجُلٌ وَسَأَلَنِي عَنِ اسْمِي وَاسْمِ وَالِدِي، وَسَأَلَنِي عَنْ سِنِّي فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَثْنَى عَلَى أَبِي خَيْراً، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: مَا رَأَيْتُ وَلَداً يُصَلِّي فِي الْمُبَارَاةِ وَيَتْرُكُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْوَقْتِ، فَحَمِدْتُ اللهَ وَشَكَرْتُ أَبِي.

وَلَا أَتْرُكُ الصَّلَاةَ إِذَا كُنْتُ مُسَافِراً وَأَرَى كَثِيراً مِنَ النَّاسِ يُصَلُّونَ فِي الْحَضَرِ وَيَتْرُكُونَ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ، وَيُصَلُّونَ فِي الصِّحَّةِ وَلَا يُصَلُّونَ فِي الْمَرَضِ، مَعَ أَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَسْقُطُ عَنْ أَحَدٍ.

وَأَرَى كَثِيراً مِنَ النَّاسِ لَا يُصَلُّونَ بِاعْتِدَالٍ وَسَكِينَةٍ وَيُسْرِعُونَ كَثِيراً، وَلَا أَذْكُرُ أَنِّي تَرَكْتُ صَلَاةً فِي هَذِهِ السَّنَوَاتِ الْأَرْبَعِ، وَإِذَا نِمْتُ عَنْهَا أَوْ نَسِيتُهَا صَلَّيْتُهَا إِذَا تَذَكَّرْتُ.

وَإِنِّي أَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى التَّوْفِيقَ وَالثَّبَاتَ.
تَرْجَمَہ (اردو)

جب میں سات سال کی عمر کو پہنچا تو میرے ابا نے مجھے نماز کا حکم دیا۔ میں اپنی اماں سے بہت سی دعائیں سیکھ چکا تھا اور قرآنِ کریم کی سورتیں حفظ کر چکا تھا۔ میری اماں ہر رات سوتے وقت مجھ سے باتیں کرتی تھیں اور انبیاء کے قصے سناتی تھیں، اور میں یہ قصے چستی اور شوق سے سنتا تھا۔

اور میں نے اپنے ابا کے ساتھ مسجد جانا شروع کیا اور مردوں کی صف کے پیچھے بچوں کی صف میں کھڑا ہوتا تھا۔ جب میں دس سال کی عمر کو پہنچا تو ابا نے ایک بار مجھ سے فرمایا: "تم نے اب اپنی عمر کے نو سال پورے کر لیے ہیں، اور اب تم دس سال کے بیٹے ہو، اگر تم نے نماز چھوڑی تو میں تمہیں ماروں گا، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں، اور انہیں اس پر مارو جب وہ دس سال کے ہوں۔" اور ابا نے مجھے ان بچوں کے قصے سنائے جنہوں نے بچپن میں نماز کی حفاظت کی اور بڑی عمر میں ان کا بڑا مقام ہوا۔

میں نے کہا: "ابا جان! آپ کو مجھے مارنے کی ضرورت نہیں، میں خود نمازوں کی حفاظت کروں گا۔" اور میں نے ایسا ہی کیا۔ میں جہاں کہیں بھی ہوتا نماز پڑھتا تھا۔ جب بازار جاتا یا کسی کام میں ہوتا اور نماز کا وقت آ جاتا تو جہاں ہوتا وہیں پڑھ لیتا، کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ بھوک لگنے پر کھانے سے نہیں شرماتے اور جب چاہیں کھیلتے ہیں، تو میں نماز سے کیوں شرماؤں؟ بے شک نماز فرض ہے اور نماز مسلمان کا شرف ہے۔

ایک بار میں کھیل کے ایک مقابلے میں گیا اور بھیڑ بہت زیادہ تھی۔ مجھے عصر کی نماز آ گئی اور میں وضو پر تھا، پس میں نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا۔ لوگ مجھے دیکھنے اور تعجب کرنے لگے، اور میں نے اپنی نماز سکون اور اعتدال سے پوری کی اور مقابلے کی طرف واپس آ گیا۔

جب مقابلہ ختم ہوا تو ایک آدمی میرے پاس آیا اور میرا نام اور میرے والد کا نام پوچھا، اور میری عمر پوچھی تو میں نے بتایا۔ اس نے میرے ابا کی تعریف کی اور میرے لیے برکت کی دعا دی، اور کہا: "میں نے کوئی بچہ نہیں دیکھا جو مقابلے میں نماز پڑھے جبکہ بہت سے لوگ اس وقت نماز چھوڑ دیتے ہیں۔" پس میں نے اللہ کا شکر کیا اور اپنے ابا کا شکریہ ادا کیا۔

اور میں سفر میں بھی نماز نہیں چھوڑتا۔ میں بہت سے لوگوں کو دیکھتا ہوں جو گھر میں نماز پڑھتے ہیں اور سفر میں چھوڑ دیتے ہیں، صحت میں پڑھتے ہیں اور بیماری میں نہیں پڑھتے، حالانکہ نماز کسی سے بھی ساقط نہیں ہوتی۔

اور میں بہت سے لوگوں کو دیکھتا ہوں جو اعتدال اور سکون سے نماز نہیں پڑھتے اور بہت جلدی کرتے ہیں۔ اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے ان چار سالوں میں کوئی نماز چھوڑی ہو، اور اگر سو جاؤں یا بھول جاؤں تو جب یاد آئے پڑھ لیتا ہوں۔

اور میں اللہ تعالیٰ سے توفیق اور ثبات کا سوال کرتا ہوں۔

لُغَات (لفظی معنی)
لَمَّاجب
بَلَغْتُمیں پہنچا، میں ہوا
السَّابِعَةساتواں / ساتویں
عُمْرعمر
أَمَرَنِيمجھے حکم دیا
تَعَلَّمْتُمیں نے سیکھا
الْأَدْعِيَةدعائیں (جمع)
حَفِظْتُمیں نے حفظ کیا
سُوَرسورتیں (جمع)
تَتَكَلَّمُبات کرتی ہے
الْمَنَامسوتے وقت، نیند
تَقُصُّسناتی ہے (قصہ)
قِصَصکہانیاں (جمع)
الْأَنْبِيَاءانبیاء، نبی (جمع)
بَدَأْتُمیں نے شروع کیا
صَفّصف، قطار
الْأَطْفَالبچے (جمع)
الرِّجَالمرد (جمع)
الْعَاشِرَةدسواں / دسویں
أَكْمَلْتَتو نے پورا کیا
سِنِين / سَنَوَاتسال (جمع)
تَرَكْتَتو نے چھوڑا
ضَرَبْتُكَمیں تجھے ماروں گا
مُرُواحکم دو (جمع)
اضْرِبُوهُمْانہیں مارو (جمع)
حَافَظُواانہوں نے حفاظت کی
الصِّغَربچپن، چھوٹی عمر
شَأْنمقام، رتبہ
الْكِبَربڑی عمر، بڑھاپا
تَحْتَاجُضرورت ہے
سَأُحَافِظُمیں حفاظت کروں گا
الصَّلَوَاتنمازیں (جمع)
أَيْنَمَاجہاں کہیں بھی
شُغُلکام، مصروفیت
أَدْرَكَتْنِيمجھے آ پکڑا
يَخْجَلُونَشرماتے ہیں
جَاعُواوہ بھوکے ہوئے
أَخْجَلُمیں شرماؤں
فَرِيضَةفرض
شَرَفعزت، شرف
مُبَارَاةکھیل کا مقابلہ، میچ
الزِّحَامبھیڑ، ہجوم
شَدِيدسخت، زیادہ
وُضُوءوضو
يَتَعَجَّبُونَتعجب کرتے ہیں
اعْتِدَالاعتدال، سیدھا رہنا
انْتَهَتِختم ہوئی
سِنّعمر
أَثْنَىتعریف کی
بَرَكَةبرکت
يَتْرُكُچھوڑتا ہے
حَمِدْتُمیں نے حمد کی، شکر کیا
شَكَرْتُمیں نے شکریہ ادا کیا
مُسَافِرمسافر، سفر میں
الْحَضَرگھر میں، اقامت کی حالت
السَّفَرسفر
الصِّحَّةصحت، تندرستی
الْمَرَضبیماری
تَسْقُطُساقط ہوتی ہے، معاف ہوتی ہے
يُسْرِعُونَجلدی کرتے ہیں
نِمْتُ عَنْهَامیں اس سے سو گیا (قضا ہوئی)
نَسِيتُهَامیں اسے بھول گیا
تَذَكَّرْتُمیں نے یاد کیا
التَّوْفِيقتوفیق، ہدایت
الثَّبَاتثبات، استقامت
القراءة الراشدة · سبق ۲
اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة
( ۳ )

اَلنَّمْلَةُ

چیونٹی
✦ نَظْم ✦
نَظْم (اشعار)
طَالَ سَعْيِي بِالْأَمَلْ
لَسْتُ أَرْضَى بِالْكَسَلْ
غَايَتِي نَيْلُ الطَّلَبْ
لَا أُبَالِي بِالتَّعَبْ
أَبْتَنِي الْبَيْتَ الْحَسَنْ
بِنِظَامٍ لِلسَّكَنْ
وَلِقُوتِي أَذْهَبُ
لَسْتُ يَوْماً أَلْعَبُ
كُلَّ صَيْفٍ أَجْمَعُ
لِي طَعَاماً يُشْبِعُ
فَإِذَا جَاءَ الْمَطَرْ
كَانَ لِي بَيْتِي الْمُقَرّْ
ذَاكَ شَأْنِي فِي الصِّغَرْ
وَنِظَامِي فِي الْكِبَرْ
إِنَّنِي نِعْمَ الْمَثَلْ
بِاجْتِهَادِي فِي الْعَمَلْ
مَبَادِئُ الْقِرَاءَةِ الرَّاشِدَة
تَرْجَمَہ (اردو — شعر بہ شعر)
امید سے میری محنت لمبی ہے
سستی سے مجھے رضا نہیں
میرا مقصد مطلوب کو پانا ہے
تھکاوٹ کی پرواہ نہیں کرتی
میں خوبصورت گھر بناتی ہوں
رہنے کے لیے ترتیب سے
اپنی خوراک کے لیے نکلتی ہوں
کبھی بھی کھیل نہیں کرتی
ہر گرمی میں جمع کرتی ہوں
اپنے لیے سیر کرنے والا کھانا
جب بارش آتی ہے
میرا گھر میرا ٹھکانہ ہوتا ہے
یہ بچپن میں میرا حال ہے
اور یہی میرا نظام بڑی عمر میں
بے شک میں کیا خوب مثال ہوں
کام میں اپنی محنت کی وجہ سے
لُغَات (لفظی معنی)
النَّمْلَةچیونٹی
طَالَلمبا ہوا، بڑھا
سَعْيکوشش، محنت
الْأَمَلامید، آرزو
أَرْضَىراضی ہوتا ہوں
الْكَسَلسستی، کاہلی
غَايَةمقصد، ہدف
نَيْلحاصل کرنا، پانا
الطَّلَبطلب، مقصود
أُبَالِيپرواہ کرتا ہوں
التَّعَبتھکاوٹ، مشقت
أَبْتَنِيمیں بناتی ہوں
الْبَيْت الْحَسَنخوبصورت گھر
نِظَامنظام، ترتیب
السَّكَنرہنے کی جگہ، مسکن
قُوت / لِقُوتِيخوراک / اپنی خوراک کے لیے
أَلْعَبُمیں کھیلتی ہوں
الصَّيْفگرمی کا موسم
أَجْمَعُمیں جمع کرتی ہوں
طَعَامکھانا، غذا
يُشْبِعُسیر کر دے، کافی ہو
الْمَطَربارش
الْمُقَرّٹھکانا، آرام کی جگہ
شَأْنمعاملہ، حال
الصِّغَربچپن، چھوٹی عمر
الْكِبَربڑھاپا، بڑی عمر
نِعْمَکیا خوب! بہترین ہے
الْمَثَلمثال، نمونہ
اجْتِهَادمحنت، کوشش
الْعَمَلکام، عمل
القراءة الراشدة · سبق ۳
اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة
( ٤ )

فِي السُّوقِ

بازار میں
✦ مُکَالَمَہ ✦
عِبَارَت (مکمل مکالمہ)
عَمْرو
خَالِد
صَاحِبُ الدُّكَّان
عَمْرو: هَلْ زُرْتَ سُوقَ هَذَا الْبَلَدِ يَا صَدِيقِي؟
خَالِد: لَا يَا أَخِي، فَإِنِّي غَرِيبٌ فِي هَذَا الْبَلَدِ لَا أَعْرِفُ الطَّرِيقَ.
عَمْرو: تَعَالَ مَعِي فَإِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى السُّوقِ لِأَشْتَرِيَ بَعْضَ الْحَوَائِجِ وَنَرْجِعُ قَبْلَ الْمَغْرِبِ إِنْ شَاءَ اللهُ، فَإِنَّ السُّوقَ غَيْرُ بَعِيدَةٍ.
خَالِد: مَا شَاءَ اللهُ هَذِهِ سُوقٌ كَبِيرَةٌ وَالدَّكَاكِينُ نَظِيفَةٌ جَمِيلَةٌ، وَمَا هَذَا الدُّكَّانُ الْجَمِيلُ إِلَى الْيَمِينِ يَا عَمْرُو؟
عَمْرو: هَذَا دُكَّانٌ فَاكِهَانِيٌّ، أَلَا تَرَى إِلَى الْفَوَاكِهِ وَتَرَى النَّاسَ يُسَاوِمُونَ الْفَاكِهَانِيَّ فِيهَا.
خَالِد: أَنَا أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ شَيْئاً مِنَ الْفَوَاكِهِ، الْمَوْزَ وَالْجَوَّافَةَ وَالْبُرْتُقَالَ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ بَعْضَ الْإِخْوَانِ إِلَى الْفُطُورِ بُكْرَةً.
عَمْرو: الْجَوَّافَةُ غَالِيَةٌ جِدّاً فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ، وَالْبُرْتُقَالُ حَامِضٌ وَلَا بَأْسَ بِالْمَوْزِ.
خَالِد: تَفَضَّلْ يَا أَخِي نُسَاوِمُ الْفَاكِهَانِيَّ.
عَمْرو: أَحْسَنُ أَنْ نَشْتَرِيَ الْفَوَاكِهَ مِنْ سُوقِ الْخُضَرِ بُكْرَةً، فَإِنَّ الْفَوَاكِهَ وَالثِّمَارَ فِيهَا كَثِيرَةٌ وَرَخِيصَةٌ.
خَالِد: هَذَا هُوَ الرَّأْيُ، وَمَا هَذِهِ الدَّكَاكِينُ يَا عَمْرُو؟
عَمْرو: هَذِهِ دَكَاكِينُ الْقُمَاشِ، أَلَا تَرَى كَيْفَ بَسَطُوا أَنْوَاعاً مِنَ الْقُمَاشِ وَكَيْفَ يَلْمِسُهَا النَّاسُ وَيُسَاوِمُونَ فِيهَا التُّجَّارَ، تَعَالَ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ حِذَاءً.
خَالِد: تَفَضَّلْ فَإِنِّي صَاحِبُكَ.
عَمْرو: مِنْ فَضْلِكَ أَخْرِجْ لِي حِذَاءً مُطَابِقاً.
صَاحِبُ الدُّكَّان: هَذَا حِذَاءٌ جَمِيلٌ وَمَتِينٌ.
عَمْرو: نَعَمْ! وَلَكِنَّهُ وَاسِعٌ قَلِيلاً.
صَاحِبُ الدُّكَّان: وَهَذَا الْآخَرُ مُطَابِقٌ تَمَاماً.
عَمْرو: بِكَمْ هُوَ؟
صَاحِبُ الدُّكَّان: بِسِتِّ رُبَيَّاتٍ.
عَمْرو: أَلَا تَنْزِلُ فِي الثَّمَنِ؟
صَاحِبُ الدُّكَّان: لَنْ تَجِدَ يَا سَيِّدِي أَرْخَصَ مِنْ هَذَا فِي السُّوقِ.
عَمْرو: أُصَدِّقُكَ لِأَنَّكَ مُسْلِمٌ وَالْمُسْلِمُ لَا يَكْذِبُ وَلَا يَغُشُّ.
خَالِد: وَمَا هَذَا الْمَكَانُ الَّذِي يَأْكُلُ فِيهِ النَّاسُ؟
عَمْرو: هَذَا مَطْعَمٌ يَأْكُلُ فِيهِ النَّاسُ، وَالْمَطَاعِمُ فِي الْبَلَدِ كَثِيرَةٌ.
خَالِد: مَالِي لَمْ أَرَ مَطْعَماً فِي الْقَرْيَةِ؟
عَمْرو: لِأَنَّ الْبَلَدَ فِيهِ غُرَبَاءُ وَمُسَافِرُونَ لَيْسَ لَهُمْ بُيُوتٌ يُقِيمُونَ فِيهَا وَيَأْكُلُونَ فِيهَا، فَيَأْكُلُونَ فِي الْمَطَاعِمِ، أَمَّا الْقَرْيَةُ فَالْغَرِيبُ فِيهَا قَلِيلٌ فَلَا حَاجَةَ فِي الْقَرْيَةِ إِلَى الْمَطْعَمِ.
خَالِد: وَأَيْنَ نَجِدُ الْوَرَقَ وَالْحِبْرَ وَالْقَلَمَ وَالْمِرْسَمَ وَالنَّشَّافَةَ وَأَدَوَاتِ الْكِتَابَةِ؟
عَمْرو: هَذَا دُكَّانٌ وَرَّاقٌ تَجِدُ فِيهِ جَمِيعَ حَوَائِجِ الْمَدْرَسَةِ.
خَالِد: أَشْكُرُكَ يَا صَدِيقِي الْكَرِيمَ فَقَدْ أَفَدْتَنِي كَثِيراً، وَأَرَى أَنْ نَرْجِعَ الْآنَ إِلَى الْبَيْتِ وَنُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ هُنَا.
عَمْرو: نَعَمْ! وَمَا بَقِيَ لِي شُغُلٌ.
تَرْجَمَہ (اردو)
عمرو: کیا تم نے اس شہر کا بازار دیکھا ہے، میرے دوست؟
خالد: نہیں، میرے بھائی، میں اس شہر میں اجنبی ہوں، راستہ نہیں جانتا۔
عمرو: میرے ساتھ آ، میں بازار جا رہا ہوں کچھ ضروریات خریدنے کے لیے، اور ان شاء اللہ مغرب سے پہلے واپس آئیں گے، بازار دور نہیں ہے۔
خالد: ماشاء اللہ، یہ بہت بڑا بازار ہے اور دکانیں صاف اور خوبصورت ہیں۔ اور دائیں طرف یہ خوبصورت دکان کیا ہے، عمرو؟
عمرو: یہ پھل فروش کی دکان ہے۔ کیا تم پھل نہیں دیکھ رہے اور لوگوں کو پھل والے سے مول بھاؤ کرتے نہیں دیکھ رہے؟
خالد: میں پھلوں میں سے کچھ خریدنا چاہتا ہوں — کیلا، امرود اور سنترہ — کیونکہ میں کچھ بھائیوں کو کل صبح ناشتے پر بلانا چاہتا ہوں۔
عمرو: امرود ان دنوں بہت مہنگا ہے، سنترہ کھٹا ہے، اور کیلے میں کوئی حرج نہیں۔
خالد: چلو، بھائی، پھل والے سے مول بھاؤ کرتے ہیں۔
عمرو: بہتر یہ ہے کہ ہم صبح سبزی منڈی سے پھل خریدیں، وہاں پھل اور میوے بہت ہیں اور سستے بھی۔
خالد: یہی رائے ٹھیک ہے۔ اور یہ دکانیں کیا ہیں، عمرو؟
عمرو: یہ کپڑے کی دکانیں ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ انہوں نے مختلف قسم کے کپڑے بچھائے ہیں اور لوگ انہیں چھو رہے ہیں اور تاجروں سے مول بھاؤ کر رہے ہیں؟ آ، میں جوتا خریدنا چاہتا ہوں۔
خالد: چلو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔
عمرو: براہِ کرم میرے لیے ناپ کا جوتا نکالیں۔
دکاندار: یہ جوتا خوبصورت اور مضبوط ہے۔
عمرو: ہاں! لیکن یہ تھوڑا چوڑا ہے۔
دکاندار: اور یہ دوسرا بالکل فٹ ہے۔
عمرو: یہ کتنے میں ہے؟
دکاندار: چھ روپے میں۔
عمرو: کیا قیمت میں کچھ کمی نہیں کریں گے؟
دکاندار: جناب، آپ کو اس بازار میں اس سے سستا نہیں ملے گا۔
عمرو: میں تم پر یقین کرتا ہوں کیونکہ تم مسلمان ہو اور مسلمان نہ جھوٹ بولتا ہے اور نہ دھوکہ دیتا ہے۔
خالد: اور یہ کون سی جگہ ہے جہاں لوگ کھانا کھا رہے ہیں؟
عمرو: یہ ریستوران ہے جہاں لوگ کھانا کھاتے ہیں، اور شہر میں ریستوران بہت ہیں۔
خالد: میں نے گاؤں میں کوئی ریستوران کیوں نہیں دیکھا؟
عمرو: کیونکہ شہر میں اجنبی اور مسافر ہوتے ہیں جن کے پاس رہنے اور کھانے کے لیے گھر نہیں ہوتے، اس لیے وہ ریستورانوں میں کھاتے ہیں۔ لیکن گاؤں میں اجنبی کم ہوتے ہیں اس لیے وہاں ریستوران کی ضرورت نہیں۔
خالد: کاغذ، سیاہی، قلم، پنسل، سوکھنے والا کاغذ اور لکھنے کا سامان کہاں ملے گا؟
عمرو: یہ کتب فروش کی دکان ہے جہاں مدرسے کی تمام ضروریات ملتی ہیں۔
خالد: میرے کریم دوست، تمہارا شکریہ، تم نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا۔ میرا خیال ہے کہ اب گھر واپس جائیں اور یہاں مغرب کی نماز پڑھیں۔
عمرو: ہاں! اور میرا بھی کوئی کام باقی نہیں۔
لُغَات (مشکل الفاظ)
السُّوقبازار
زُرْتَتم نے دیکھا، ملنے گئے
غَرِيباجنبی، پردیسی
الطَّرِيقراستہ
تَعَالَآ جا (حکم)
الْحَوَائِجضروریات، سامان
الدَّكَاكِيندکانیں (جمع)
الْيَمِيندائیں طرف
فَاكِهَانِيّپھل فروش
يُسَاوِمُونَمول بھاؤ کرتے ہیں
الْمَوْزکیلا
الْجَوَّافَةامرود
الْبُرْتُقَالسنترہ
الْفُطُورناشتہ
بُكْرَةصبح سویرے، کل صبح
غَالِيَةمہنگی
حَامِضکھٹا
لَا بَأْسَکوئی حرج نہیں
سُوق الْخُضَرسبزی منڈی
الثِّمَارمیوے، پھل (جمع)
رَخِيصَةسستی
الرَّأْيرائے
الْقُمَاشکپڑا
بَسَطُواانہوں نے بچھایا
أَنْوَاعقسمیں (جمع)
يَلْمِسُچھوتا ہے
التُّجَّارتاجر (جمع)
حِذَاءجوتا
مُطَابِقفٹ، ناپ کا
مَتِينمضبوط، پائیدار
وَاسِعچوڑا، کشادہ
رُبَيَّاتروپے (کرنسی)
الثَّمَنقیمت
أَرْخَصسب سے سستا
أُصَدِّقُمیں سچ مانتا ہوں
يَغُشُّدھوکہ دیتا ہے
مَطْعَمریستوران، کھانے کی جگہ
الْقَرْيَةگاؤں
غُرَبَاءاجنبی لوگ (جمع)
يُقِيمُونَرہتے ہیں، قیام کرتے ہیں
الْوَرَقکاغذ
الْحِبْرسیاہی، روشنائی
الْمِرْسَمپنسل
النَّشَّافَةسوکھنے والا کاغذ، eraser
أَدَوَات الْكِتَابَةلکھنے کا سامان
وَرَّاقکتب فروش، اسٹیشنری والا
أَفَدْتَنِيتم نے مجھے فائدہ پہنچایا
القراءة الراشدة · سبق ٤
اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة
( ٥ )

اَلطَّائِرُ

پرندہ
✦ نَظْم ✦
نَظْم (اشعار)
اَلْحَبْسُ لَيْسَ مَذْهَبِي
وَلَيْسَ فِيهِ طَرَبِي
فَلَسْتُ أَرْضَى قَفَصاً
وَإِنْ يَكُنْ مِنْ ذَهَبٍ
غَابَاتُ رَبِّي غَايَتِي
وَالْعَيْشُ فِيهَا مَطْلَبِي
قَدْ طَابَ فِيهَا مَطْعَمِي
وَرَاقَ فِيهَا مَشْرَبِي
أَذْهَبُ فِيهَا أَسْتَقِي
مِنْ مَاءِ نَبْعٍ أَعْذَبِ
أَصْدَحُ فِيهَا مُطْلَقاً
فَالْحَبْسُ لَيْسَ مَذْهَبِي
مَدَارِجُ الْقِرَاءَةِ
تَرْجَمَہ (اردو — شعر بہ شعر)
قید میرا مسلک نہیں
اور نہ اس میں میری خوشی
میں پنجرے پر راضی نہیں
چاہے وہ سونے کا ہی ہو
میرے رب کے جنگل میری منزل ہیں
اور ان میں بسنا میری آرزو ہے
وہاں میرا کھانا خوشگوار ہے
اور وہاں میرا پینا لذیذ ہے
میں وہاں جا کر پانی پیتا ہوں
میٹھے ترین چشمے کے پانی سے
میں وہاں آزادانہ چہچہاتا ہوں
کیونکہ قید میرا مسلک نہیں
لُغَات (مشکل الفاظ)
الطَّائِرپرندہ
الْحَبْسقید، بندش
مَذْهَبمسلک، طریقہ، راستہ
طَرَبخوشی، سرور
أَرْضَىراضی ہوتا ہوں
قَفَصپنجرہ
ذَهَبسونا
غَابَاتجنگل، گھنے درخت (جمع)
رَبّرب، پروردگار
غَايَةمنزل، مقصد
الْعَيْشزندگی، بسنا
مَطْلَبآرزو، مقصود
طَابَخوشگوار ہوا، اچھا لگا
مَطْعَمکھانا، خوراک
رَاقَلذیذ ہوا، پسند آیا
مَشْرَبپینے کی جگہ، پانی
أَسْتَقِيمیں پانی پیتا ہوں
نَبْعچشمہ، سرچشمہ
أَعْذَبسب سے میٹھا، شیریں
أَصْدَحمیں چہچہاتا ہوں، گاتا ہوں
مُطْلَقاًآزادانہ، بغیر روک کے
القراءة الراشدة · سبق ۵
اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة
( ٦ )

نُزْهَةٌ وَطَبْخٌ

سیر اور پکانا
عِبَارَت (مکمل عبارت)

كَانَ يَوْمُ الثُّلَاثَاءِ الْمَاضِي يَوْمَ عُطْلَةٍ فِي الْمَدْرَسَةِ. جَاءَ إِلَيَّ دَاوُدُ صَبَاحاً وَقَالَ: أَلَا نَخْرُجُ إِلَى بُسْتَانٍ، أَوْ مَكَانٍ فِي ضَوَاحِي الْمَدِينَةِ نَرْتَعُ وَنَلْعَبُ، وَنَطْبُخُ مِنَ الطَّعَامِ مَا نَشْتَهِي وَنَأْكُلُ، وَنَرْجِعُ فِي الْمَسَاءِ. قُلْتُ: هَوَ كَذَلِكَ! وَأَنَا كُنْتُ أَفَكِّرُ أَيْضاً كَيْفَ أَقْضِي هَذَا الْيَوْمَ، وَلَكِنْ كَلِّمْ أَخَاكَ سُلَيْمَانَ وَالْأَخَ هَاشِماً وَالسَّيِّدَ عُمَرَ لَعَلَّهُمْ يَخْرُجُونَ مَعَنَا.

وَافَقَ دَاوُدُ عَلَى ذَلِكَ وَكَلَّمَهُمْ، وَفَرِحُوا جِدّاً وَجَاءُوا إِلَى بَيْتِي مِنْ سَاعَتِهِمْ وَصَدِيقُنَا خَالِدٌ فَفَرِحْنَا بِهِ وَقُلْنَا: مَرْحَباً.

اجْتَمَعْنَا وَقُلْنَا: هَلْ نَقْصِدُ بُسْتَاناً مِنْ بَسَاتِينِ الْمَدِينَةِ أَوْ نَتَوَجَّهُ إِلَى ضَاحِيَةٍ مِنْ ضَوَاحِي الْمَدِينَةِ.

قَالَ دَاوُدُ وَعُمَرُ: بَلْ نَقْصِدُ الْبُسْتَانَ الْكَبِيرَ فِي وَسَطِ الْمَدِينَةِ، فَإِنَّ الْبُسْتَانَ قَرِيبٌ فَلَا يَضِيعُ وَقْتُنَا فِي الذَّهَابِ إِلَى ضَاحِيَةٍ مِنْ ضَوَاحِي الْبَلَدِ.

وَقَالَ سُلَيْمَانُ وَهَاشِمٌ وَأَنَا مَعَهُمَا: بَلْ نَتَوَجَّهُ إِلَى بَعْضِ الضَّوَاحِي لِأَنَّنَا نُرِيدُ أَنْ نَطْبُخَ الطَّعَامَ وَنَقْضِيَ النَّهَارَ فِي النُّزْهَةِ وَالطَّبْخِ.

فَاسْتَقَرَّ رَأْيُنَا عَلَى الذَّهَابِ إِلَى الضَّاحِيَةِ، فَاكْتَرَيْنَا مَرْكَبَةً وَوَصَلْنَا مِنْ سَاعَتِنَا إِلَى الضَّاحِيَةِ.

وَكُنَّا أَخَذْنَا مَعَنَا الرُّزَّ وَاللَّحْمَ وَالتَّوَابِلَ وَالسَّمْنَ وَالْخُضَرَ وَأَخَذْنَا قِدْرَيْنِ وَأَوَانِيَ، وَكُنَّا عَلِمْنَا أَنَّ فِي الْمَحَلِّ خَبَّازاً فَقُلْنَا نَشْتَرِي الرَّغِيفَ فَإِنَّ الرَّغِيفَ فِيهِ تَعَبٌ.

اخْتَرْنَا مَكَاناً ظَلِيلاً وَكَانَ السَّيِّدُ عُمَرُ وَالسَّيِّدُ هَاشِمٌ يُحْسِنَانِ الطَّبْخَ فَتَوَلَّيَا أَمْرَ الطَّبْخِ وَسَاعَدَهُمَا دَاوُدُ وَسُلَيْمَانُ.

وَتَوَلَّيْتُ أَمْرَ الْحَطَبِ فَذَهَبْتُ إِلَى الْغَابَةِ الْقَرِيبَةِ وَجِئْتُ بِالْحَطَبِ مِنْ سَاعَتِي، وَدَقَّ خَالِدٌ التَّوَابِلَ وَذَهَبْتُ أَنَا إِلَى الْخَبَّازِ فَاشْتَرَيْتُ الْأَرْغِفَةَ.

وَأَدْرَكَ الطَّعَامُ فِي السَّاعَةِ الْحَادِيَةَ عَشَرَةَ، وَقَدْ غَلَبَنَا الْجُوعُ وَاشْتَهَيْنَا الطَّعَامَ فَأَكَلْنَا بِرَغْبَةٍ، وَكَانَ الطَّعَامُ شَهِيّاً لَذِيذاً.

وَجَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ حَتَّى كَانَ وَقْتُ الظُّهْرِ فَأَذَّنْتُ وَصَلَّيْنَا جَمَاعَةً.

وَخَرَجْنَا بَعْدَ الصَّلَاةِ نَزُورُ بَعْضَ الْآثَارِ، وَفِي الْعَصْرِ رَجَعْنَا إِلَى الْبَلَدِ مَسْرُورِينَ.

تَرْجَمَہ (اردو)

گزشتہ منگل کا دن مدرسے میں چھٹی کا دن تھا۔ داؤد صبح میرے پاس آیا اور کہا: "کیا ہم کسی باغ میں یا شہر کے مضافات میں کسی جگہ نہ چلیں؟ سیر کریں، کھیلیں، اپنی پسند کا کھانا پکائیں اور کھائیں اور شام کو واپس آئیں۔" میں نے کہا: "بالکل ٹھیک! میں بھی سوچ رہا تھا کہ یہ دن کیسے گزاروں۔ لیکن اپنے بھائی سلیمان، بھائی ہاشم اور صاحب عمر سے بھی بات کرو، شاید وہ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔"

داؤد نے اس پر اتفاق کیا اور ان سے بات کی۔ وہ بہت خوش ہوئے اور فوری طور پر میرے گھر آ گئے۔ ہمارے دوست خالد بھی آئے تو ہم بہت خوش ہوئے اور کہا: "خوش آمدید!"

ہم سب جمع ہوئے اور کہا: "کیا ہم شہر کے کسی باغ میں جائیں یا شہر کے مضافات کی طرف روانہ ہوں؟"

داؤد اور عمر نے کہا: "بلکہ شہر کے درمیان میں بڑے باغ کا ارادہ کریں، کیونکہ باغ قریب ہے اور شہر کے مضافات تک جانے میں وقت ضائع نہ ہو۔"

سلیمان، ہاشم اور میں نے کہا: "بلکہ ہم مضافات میں چلتے ہیں کیونکہ ہم کھانا پکانا چاہتے ہیں اور دن سیر اور پکانے میں گزارنا چاہتے ہیں۔"

آخر میں مضافات جانے پر رائے قائم ہوئی۔ ہم نے ایک گاڑی کرائے پر لی اور فوری طور پر مضافات پہنچ گئے۔

ہم اپنے ساتھ چاول، گوشت، مسالے، گھی اور سبزی لے گئے تھے اور دو ہانڈیاں اور برتن بھی لیے۔ ہمیں علم تھا کہ محلے میں نانبائی ہے اس لیے ہم نے کہا روٹی وہیں سے خریدیں گے کیونکہ روٹی پکانے میں محنت لگتی ہے۔

ہم نے ایک سایہ دار جگہ چنی۔ صاحب عمر اور صاحب ہاشم کھانا پکانا جانتے تھے، انہوں نے پکانے کی ذمہ داری سنبھالی اور داؤد اور سلیمان نے ان کی مدد کی۔

میں نے لکڑی کا بندوبست کیا، قریبی جنگل سے گیا اور فوری طور پر لکڑی لے آیا۔ خالد نے مسالے کوٹے اور میں نانبائی کے پاس گیا اور روٹیاں خرید لیا۔

کھانا گیارہ بجے تیار ہو گیا۔ ہم پر بھوک غالب آ چکی تھی اور ہمارا کھانے کو بہت جی چاہ رہا تھا، سو ہم نے شوق سے کھایا۔ کھانا بہت لذیذ اور مزیدار تھا۔

ہم بیٹھ کر باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔ میں نے اذان دی اور ہم نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔

نماز کے بعد ہم کچھ آثارِ قدیمہ دیکھنے نکلے، اور عصر کے وقت ہم خوشی خوشی شہر واپس آ گئے۔

لُغَات (مشکل الفاظ)
نُزْهَةسیر، چہل قدمی
طَبْخپکانا، طبخ
الثُّلَاثَاءمنگل
الْمَاضِيگزشتہ، پچھلا
عُطْلَةچھٹی، تعطیل
ضَوَاحِيمضافات (جمع)
نَرْتَعُہم آزادانہ پھریں
نَطْبُخُہم پکائیں
نَشْتَهِيہم خواہش کریں
أُفَكِّرُمیں سوچتا ہوں
وَافَقَاتفاق کیا، راضی ہوا
مِنْ سَاعَتِهِمْفوری طور پر
اجْتَمَعْنَاہم جمع ہوئے
نَقْصِدُہم ارادہ کریں
بَسَاتِينباغات (جمع)
نَتَوَجَّهُہم روانہ ہوں
ضَاحِيَةمضافات، شہر کے باہر کا علاقہ
يَضِيعُضائع ہو
اسْتَقَرَّ الرَّأْيُرائے قائم ہو گئی
اكْتَرَيْنَاہم نے کرائے پر لیا
مَرْكَبَةگاڑی، سواری
الرُّزّچاول
التَّوَابِلمسالے (جمع)
السَّمْنگھی
الْخُضَرسبزیاں (جمع)
قِدْر / قِدْرَانہانڈی / دو ہانڈیاں
أَوَانِيبرتن (جمع)
خَبَّازنانبائی، روٹی پکانے والا
الرَّغِيف / الْأَرْغِفَةروٹی / روٹیاں (جمع)
ظَلِيلسایہ دار
يُحْسِنَانِوہ دونوں اچھا جانتے ہیں
تَوَلَّىذمہ داری سنبھالی
الْحَطَبلکڑی، ایندھن
الْغَابَةجنگل
دَقَّکوٹا، پیسا
أَدْرَكَ الطَّعَامُکھانا تیار ہو گیا
السَّاعَة الْحَادِيَة عَشَرَةگیارہ بجے
غَلَبَنَا الْجُوعُہم پر بھوک غالب ہوئی
شَهِيّ لَذِيذمزیدار، لذیذ
أَذَّنْتُمیں نے اذان دی
الْآثَارآثارِ قدیمہ (جمع)
مَسْرُورِينخوشی خوشی، مسرور
القراءة الراشدة · سبق ۶
اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة
( ٧ )

مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟

تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟
عِبَارَت (مکمل عبارت)
رَسُولُ اللهِ ﷺ
اَلْمُشْرِك

خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي غَزْوَةٍ! هَلْ تَعْرِفُونَ مَا هِيَ الْغَزْوَةُ؟ لَعَلَّكُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا يَخْرُجُونَ لِلْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ وَكَانُوا يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِينَ وَالْكُفَّارَ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى، وَلَعَلَّكُمْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَةَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَخْرُجُ أَحْيَاناً مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَحْيَاناً يَمْكُثُ فِي الْمَدِينَةِ لِشُغُلٍ أَوْ مَصْلَحَةٍ وَيَبْعَثُ جُنْداً مِنَ الْمُسْلِمِينَ.

فَالْغَزْوَةُ مَا خَرَجَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي جُنْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لِلْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ.

نَعَمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي غَزْوَةٍ وَرَجَعَ عَنْهَا فِي الظَّهِيرَةِ وَكَانَتْ أَيَّامَ الصَّيْفِ فَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ يَسْتَرِيحَ.

وَلَيْسَ فِي الْبَرِّيَّةِ مَكَانٌ يَسْتَرِيحُ فِيهِ الْإِنْسَانُ إِلَّا الشَّجَرُ.

وَلَيْسَ فِي الْبَرِّيَّةِ فِي بِلَادِ الْعَرَبِ شَجَرٌ كَثِيرٌ وَلَيْسَ فِيهَا إِلَّا السَّمُرُ.

فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ تَحْتَ سَمُرَةٍ وَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَنَامُوا، وَنَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ تَحْتَ السَّمُرَةِ.

وَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللهِ ﷺ مُعَلَّقٌ بِالسَّمُرَةِ وَهُوَ فِي غِمْدِهِ.

فَأَخَذَ الْمُشْرِكُ السَّيْفَ وَسَلَّهُ مِنْ غِمْدِهِ وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ ﷺ.

اَلْمُشْرِك: تَخَافُنِي؟
رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَا!
اَلْمُشْرِك: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟
رَسُولُ اللهِ ﷺ: اللهُ!

فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِ الْمُشْرِكِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ ﷺ السَّيْفَ.

رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟
اَلْمُشْرِك: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ!
رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ؟
اَلْمُشْرِك: لَا! وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ!

فَخَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ سَبِيلَهُ.

فَأَتَى الْمُشْرِكُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ.

[مُلْتَقَطٌ مِنَ الصَّحِيحَيْنِ وَصَحِيحِ أَبِي بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيِّ]
تَرْجَمَہ (اردو)

رسول اللہ ﷺ ایک غزوے میں نکلے! کیا آپ جانتے ہیں غزوہ کیا ہوتا ہے؟ شاید آپ جانتے ہوں کہ مسلمان اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے تھے اور مشرکین و کافروں سے اللہ کے لیے لڑتے تھے۔ اور شاید آپ اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت جانتے ہوں؟ نبی ﷺ کبھی مسلمانوں کے ساتھ نکلتے اور کبھی کسی کام یا مصلحت کی وجہ سے مدینے میں ٹھہرتے اور مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجتے۔

غزوہ وہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ خود مسلمانوں کے لشکر میں اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں۔

ہاں، تو رسول اللہ ﷺ ایک غزوے میں نکلے اور دوپہر کو واپس آئے، گرمی کے دن تھے، رسول اللہ ﷺ نے آرام کرنا چاہا۔

اور صحرا میں آرام کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی سوائے درخت کے۔

اور عرب کے صحرا میں درخت زیادہ نہیں ہوتے، وہاں صرف کیکر کے درخت ہوتے ہیں۔

تو رسول اللہ ﷺ ایک کیکر کے درخت کے نیچے اترے، اپنی تلوار اس سے لٹکائی، لوگ منتشر ہو گئے اور سو گئے، اور رسول اللہ ﷺ اسی کیکر کے نیچے سو گئے۔

ایک مشرک آیا اور رسول اللہ ﷺ کی تلوار کیکر سے لٹکی تھی اپنی میان میں۔

مشرک نے تلوار اٹھائی اور میان سے کھینچ لی، اور رسول اللہ ﷺ بیدار ہو گئے۔

مشرک: کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟
رسول اللہ ﷺ: نہیں!
مشرک: تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟
رسول اللہ ﷺ: اللہ!

تو تلوار مشرک کے ہاتھ سے گر پڑی اور رسول اللہ ﷺ نے تلوار اٹھا لی۔

رسول اللہ ﷺ: اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟
مشرک: بہترین لینے والے بن جاؤ (یعنی معاف کر دو)!
رسول اللہ ﷺ: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟
مشرک: نہیں! لیکن میں تم سے عہد کرتا ہوں کہ نہ تم سے لڑوں گا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گا جو تم سے لڑتے ہیں!

تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔

وہ مشرک اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا: "میں تمہارے پاس سب سے بہترین انسان کے پاس سے آیا ہوں۔"

لُغَات (مشکل الفاظ)
يَمْنَعُبچاتا ہے، روکتا ہے
غَزْوَةغزوہ (نبی ﷺ کی قیادت میں جنگ)
الْجِهَادجہاد، اللہ کی راہ میں لڑنا
الْمُشْرِكُونمشرکین (جمع)
الْكُفَّارکافر (جمع)
فَضِيلَةفضیلت، درجہ
يَمْكُثُٹھہرتا ہے، رہتا ہے
مَصْلَحَةمصلحت، بھلائی
يَبْعَثُبھیجتا ہے
جُنْدلشکر، فوج
الظَّهِيرَةدوپہر
يَسْتَرِيحآرام کرتا ہے
الْبَرِّيَّةصحرا، بیابان
السَّمُرَةکیکر کا درخت
عَلَّقَلٹکایا
سَيْفتلوار
تَفَرَّقَمنتشر ہو گئے
مُعَلَّقلٹکا ہوا
غِمْدمیان (تلوار کا غلاف)
سَلَّهُکھینچا (میان سے)
اسْتَيْقَظَبیدار ہوا
تَخَافُنِيکیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟
سَقَطَگرا
خَيْرَ آخِذٍبہترین لینے والا (یعنی معاف کرنے والا)
أَتَشْهَدُکیا تم گواہی دیتے ہو؟
أُعَاهِدُمیں عہد کرتا ہوں
أُقَاتِلَمیں لڑوں
خَلَّى سَبِيلَهُاسے چھوڑ دیا، آزاد کیا
أَصْحَابساتھی، دوست (جمع)
خَيْرُ النَّاسِسب سے بہترین انسان
مُلْتَقَطچنا ہوا، منتخب
الصَّحِيحَيْنبخاری و مسلم
القراءة الراشدة · سبق ۷
اَلْقِرَاءَةُ الرَّاشِدَة
( ٨ )

سَفَرُ الْقِطَارِ

ریل گاڑی کا سفر
عِبَارَت (مکمل عبارت)

لَا أَنْسَى سَفَرِي الْأَوَّلَ، عَلِمْتُ أَنِّي مُسَافِرٌ بُكْرَةً مَعَ أُمِّي وَإِخْوَتِي، فَاسْتَيْقَظْتُ قَبْلَ السَّحَرِ وَبَقِيتُ أَنْتَظِرُ سَاعَةَ السَّفَرِ، وَاسْتَيْقَظَ أَهْلُ الْبَيْتِ مُبَكِّرِينَ، وَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ، وَجَاءَ عَمِّي وَبَدَأَتْ فِي الْبَيْتِ حَرَكَةٌ وَأَصْوَاتٌ، هَذَا يَجْرِي وَذَلِكَ يَلُفُّ الْفِرَاشَ وَهَذَا يُنَادِي وَذَلِكَ يُجِيبُ، وَالْعَمُّ يَغْضَبُ وَيَسْتَعْجِلُ، وَالْوَالِدُ قَائِمٌ يَأْمُرُ وَيَنْهَى، وَيَغْضَبُ وَيُرْشِدُ، وَالْخَادِمُ يُهَيِّئُ الزَّادَ، حَتَّى كَانَ وَقْتُ الْخُرُوجِ مِنَ الْبَيْتِ وَقَرُبَ مِيعَادُ الْقِطَارِ.

جَاءَتْ مَرْكَبَتَانِ فَرَكِبْنَاهُمَا، وَسَلَّمْتُ عَلَى أَبِي فَوَدَّعَنِي وَدَعَا لِي، وَوَصَلْنَا إِلَى الْمَحَطَّةِ فَأَخَذَ الْحَمَّالُونَ الْحَوَائِجَ وَالْمَتَاعَ، وَكَانَتْ أَيَّامَ شِتَاءٍ فَكَانَتِ الْفُرُوشُ كَبِيرَةً، وَذَهَبَ عَمِّي فَاشْتَرَى تَذَاكِرَ الْقِطَارِ.

وَسَأَلْتُ عَمِّي عَنِ النَّوْلِ فَقَالَ: إِنَّ النَّوْلَ ثَلَاثُ رُبَيَّاتٍ، وَرُبَيَّةٌ وَنِصْفٌ لَكَ.

وَقُلْتُ لِعَمِّي: أَعْطِنِي تَذْكِرَتِي. فَقَالَ عَمِّي: إِنَّكَ تُضَيِّعُ تَذْكِرَتَكَ. فَقُلْتُ: لَا! سَأُحَافِظُ عَلَى تَذْكِرَتِي إِنْ شَاءَ اللهُ. فَأَعْطَانِي تَذْكِرَتِي وَوَضَعْتُهَا عِنْدِي.

دَخَلْنَا الْمَحَطَّةَ فَرَأَيْنَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً وَأَطْفَالاً وَرَأَيْنَا زِحَاماً شَدِيداً وَسَمِعْنَا أَصْوَاتَ النَّاسِ وَالْأَطْفَالِ وَصَيْحَةَ الْحَمَّالِينَ وَصَفِيرَ الْقَاطِرَةِ.

وَكَانَ قِطَارُنَا مُتَأَخِّراً فَذَهَبْنَا إِلَى الْمَنْظَرَةِ وَجَلَسْنَا قَلِيلاً، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الرَّصِيفِ لِأَرَى هَلْ جَاءَ الْقِطَارُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْمَنْظَرَةِ.

وَبَعْدَ قَلِيلٍ جَاءَ الْقِطَارُ فَخَرَجْنَا مِنَ الْمَنْظَرَةِ، وَقَامَ النَّاسُ كُلُّهُمْ عَلَى الرَّصِيفِ وَوَقَفَ الْقِطَارُ، وَنَزَلَ أُنَاسٌ وَرَكِبَ أُنَاسٌ وَرَكِبْنَا.

وَكُنْتُ أُطِلُّ مِنَ الْقِطَارِ وَأَرَى الْمَنَاظِرَ، وَكَانَ الزِّحَامُ شَدِيداً فِي الْقِطَارِ، وَجَاءَ الْبَاعَةُ وَجَعَلَ النَّاسُ يَشْتَرُونَ وَيَأْكُلُونَ، وَاشْتَرَى بَعْضُ النَّاسِ مِنَ الْبَاعَةِ هَدَايَا لِأَصْدِقَائِهِمْ وَأَقَارِبِهِمْ.

وَبَعْدَ قَلِيلٍ صَفَرَ أَمِينُ الْقِطَارِ وَهَزَّ الْعَلَمَ الْأَخْضَرَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ وَدَخَلُوا فِي الْقِطَارِ، وَتَحَرَّكَتِ الْقَاطِرَةُ وَسَارَ الْقِطَارُ.

وَدَخَلَ نَقَّابٌ فِي عَرَبَتِنَا فَنَقَبَ تَذَاكِرَنَا وَرَدَّهَا إِلَيْنَا.

وَفِي الطَّرِيقِ تَغَدَّيْنَا بِالزَّادِ وَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا وَحَمِدْنَا اللهَ.

وَلَمْ يَزَلِ الْقِطَارُ يَقِفُ عَلَى الْمَحَطَّاتِ وَيَسِيرُ حَتَّى وَصَلَ وَقْتُ الظُّهْرِ فَتَوَضَّأْنَا بِسُرْعَةٍ عَلَى مَحَطَّةٍ وَصَلَّيْنَا صَلَاةَ السَّفَرِ، صَلَّيْنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمْنَا، وَصَفَرَ أَمِينُ الْقِطَارِ فَرَكِبْنَا سَرِيعاً.

↩ عمّ کی بات لَوْ كَانَ الْقِطَارُ لِلْمُسْلِمِينَ لَكَانَ فِيهِ مَكَانٌ لِلْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ، نُؤَذِّنُ فِيهِ وَنُصَلِّي جَمَاعَةً.

وَفِي الْعَصْرِ وَصَلَ الْقِطَارُ إِلَى مَحَطَّتِنَا، وَكُنْتُ أُطِلُّ مِنَ النَّافِذَةِ فَرَأَيْتُ هَاشِماً وَسَعِيداً عَلَى الرَّصِيفِ وَعَرَفْتُهُمَا وَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَا عَلَيَّ.

وَوَصَلْتُ إِلَى قَرْيَتِي وَقَابَلْتُ أَصْدِقَائِي وَإِخْوَانِي وَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُمْ حَدِيثَ الْبَلَدِ وَأُخْبِرُهُمْ بِعَجَائِبِهِ وَأَحْكِي لَهُمْ مَا رَأَيْتُ فِي السَّفَرِ.

تَرْجَمَہ (اردو)

میں اپنا پہلا سفر نہیں بھولتا۔ مجھے معلوم ہوا کہ میں اپنی اماں اور بھائیوں کے ساتھ صبح سویرے سفر پر جانے والا ہوں۔ میں سحر سے پہلے اٹھ گیا اور سفر کے وقت کا انتظار کرتا رہا۔ گھر کے سب لوگ سویرے اٹھے، ہم نے فجر پڑھی، چچا آئے اور گھر میں ہل چل اور آوازیں شروع ہو گئیں — کوئی بھاگ رہا ہے، کوئی بستر لپیٹ رہا ہے، کوئی آواز دے رہا ہے کوئی جواب دے رہا ہے، چچا ناراض ہو رہے ہیں اور جلدی کر رہے ہیں، والد صاحب کھڑے حکم دے رہے ہیں اور منع کر رہے ہیں، ناراض ہو رہے ہیں اور رہنمائی کر رہے ہیں، خادم زاد و توشہ تیار کر رہا ہے — یہاں تک کہ گھر سے نکلنے کا وقت آ گیا اور ٹرین کا وقت قریب ہو گیا۔

دو گاڑیاں آئیں، ہم سوار ہوئے۔ میں نے ابا کو سلام کیا، انہوں نے مجھے الوداع کہا اور دعا دی۔ ہم اسٹیشن پہنچے، قلیوں نے سامان اور بوجھ اٹھا لیا۔ سردیوں کے دن تھے اس لیے بستر بڑے تھے۔ چچا گئے اور ریل کے ٹکٹ خرید لائے۔

میں نے چچا سے کرائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: "کرایہ تین روپے ہے اور تمہارے لیے ڈیڑھ روپیہ۔"

میں نے چچا سے کہا: "میرا ٹکٹ دے دیں۔" چچا نے کہا: "تم ٹکٹ کھو دو گے۔" میں نے کہا: "نہیں! ان شاء اللہ میں ٹکٹ کی حفاظت کروں گا۔" انہوں نے مجھے ٹکٹ دے دیا اور میں نے اپنے پاس رکھ لیا۔

ہم اسٹیشن کے اندر گئے تو بہت سے مرد، عورتیں اور بچے نظر آئے، بھیڑ بہت زیادہ تھی۔ لوگوں، بچوں، قلیوں کی آوازیں اور انجن کی سیٹی سنائی دی۔

ہماری ریل دیر سے آنے والی تھی تو ہم ویٹنگ روم میں گئے اور تھوڑی دیر بیٹھے۔ پھر میں پلیٹ فارم پر گیا دیکھنے کہ ریل آئی یا نہیں، پھر ویٹنگ روم واپس آ گیا۔

تھوڑی دیر بعد ریل آ گئی، ہم ویٹنگ روم سے نکلے۔ سب لوگ پلیٹ فارم پر کھڑے تھے، ریل رکی، کچھ لوگ اترے کچھ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہو گئے۔

میں ریل سے باہر جھانک کر مناظر دیکھتا رہا۔ ریل میں بہت بھیڑ تھی۔ بیچنے والے آئے اور لوگ خریدنے اور کھانے لگے۔ کچھ لوگوں نے بیچنے والوں سے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے تحفے بھی خریدے۔

تھوڑی دیر بعد گارڈ نے سیٹی بجائی اور سبز جھنڈا لہرایا۔ لوگ جلدی سے ریل میں داخل ہو گئے، انجن چلا اور ریل روانہ ہو گئی۔

ہمارے ڈبے میں ٹکٹ چیکر آیا، اس نے ٹکٹیں چیک کیں اور واپس کر دیں۔

راستے میں ہم نے لایا ہوا کھانا کھایا، پیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

ریل اسٹیشنوں پر رکتی اور چلتی رہی یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔ ہم نے ایک اسٹیشن پر جلدی سے وضو کیا اور سفر کی نماز پڑھی — ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیرا۔ گارڈ نے سیٹی بجائی تو ہم جلدی سے سوار ہو گئے۔

چچا نے کہا: "کاش ریل مسلمانوں کی ہوتی تو اس میں وضو اور نماز کی جگہ ہوتی، ہم اذان دیتے اور جماعت سے نماز پڑھتے۔"

عصر کے وقت ریل ہمارے اسٹیشن پر پہنچی۔ میں کھڑکی سے جھانک رہا تھا تو پلیٹ فارم پر ہاشم اور سعید کو دیکھا، انہیں پہچانا، انہیں سلام کیا اور انہوں نے مجھے سلام کیا۔

میں اپنے گاؤں پہنچا، دوستوں اور بھائیوں سے ملا اور شہر کی باتیں سنانے لگا، اس کے عجائبات بتانے لگا اور سفر میں جو دیکھا وہ انہیں بیان کرنے لگا۔

لُغَات (مشکل الفاظ)
الْقِطَارریل گاڑی
لَا أَنْسَىمیں نہیں بھولتا
السَّحَرسحری کا وقت، صبح سویرے
مِيعَادمقررہ وقت
يَلُفُّ الْفِرَاشبستر لپیٹتا ہے
يُنَادِيآواز دیتا ہے
يَسْتَعْجِلجلدی کرتا ہے
يُرْشِدرہنمائی کرتا ہے
الْخَادِمنوکر، خادم
يُهَيِّئُتیار کرتا ہے
الزَّادسفر کا کھانا، توشہ
وَدَّعَنِياس نے مجھے الوداع کہا
الْمَحَطَّةاسٹیشن
الْحَمَّالُونقلی، بوجھ اٹھانے والے (جمع)
الْمَتَاعسامان، اسباب
الْفُرُوشبستر (جمع)
تَذَاكِرٹکٹ (جمع)
النَّوْلکرایہ، بھاڑا
رُبَيَّةروپیہ (کرنسی)
تُضَيِّعضائع کرتے ہو، کھو دیتے ہو
صَيْحَةچیخ، آواز
صَفِيرسیٹی کی آواز
الْقَاطِرَةانجن، لوکوموٹو
مُتَأَخِّردیر سے، لیٹ
الْمَنْظَرَةویٹنگ روم
الرَّصِيفپلیٹ فارم
أُطِلُّمیں جھانکتا ہوں
الْمَنَاظِرمناظر، نظارے (جمع)
الْبَاعَةبیچنے والے (جمع)
هَدَايَاتحفے (جمع)
صَفَرَسیٹی بجائی
أَمِين الْقِطَارگارڈ، ریل کا ذمہ دار
هَزَّ الْعَلَمجھنڈا لہرایا
تَحَرَّكَتِچل پڑی، حرکت کی
نَقَّابٹکٹ چیکر
عَرَبَةڈبہ، بوگی
نَقَبَٹکٹ چیک کیا، پنچ کیا
صَلَاةُ السَّفَرسفر کی نماز (قصر)
رَكْعَتَاندو رکعتیں
النَّافِذَةکھڑکی
عَجَائِبعجائبات، حیرانگیاں (جمع)
أَحْكِيمیں بیان کرتا ہوں
القراءة الراشدة · سبق ۸