منطق — مکمل نوٹس

  1. سبق اول — علم کی تعریف اور اس کی قسمیں
  2. سبق دوم — تصوّر و تصدیق کی قسمیں
  3. سبق سوم — نظر و فکر، منطق کی تعریف، غرض و موضوع
  4. سبق چہارم — دلالت، وضع اور دلالت کی قسمیں
  5. سبق پنجم — دلالت لفظیہ وضعیہ کی قسمیں
  6. سبق ششم — مفرد و مرکب
  7. سبق ہفتم — کلّی و جزئی کی بحث
  8. سبق ہشتم — حقیقت و ماہیت اور کلّی کی قسمیں
  9. سبق نہم — ذاتی اور عرضی کی قسمیں
  10. سبق دہم — اصطلاح "ماہو" کا بیان
  11. سبق یازدہم — جنس اور فصل کی قسمیں
  12. سبق دوازدہم — دو کلّیوں میں نسبت کا بیان
  13. سبق سیزدہم — معرّف اور قول شارح کا بیان
  14. اصطلاحات کی مکمل فہرست
سبق اول

علم کی تعریف اور اس کی قسمیں

علم کیا ہے؟

کسی چیز کی صورت (خیال/تصویر) کا آپ کے ذہن میں آ جانا علم ہے۔

مثال: کسی نے "زید" کہا — آپ کے ذہن میں زید کا خیال آ گیا۔ یہی زید کا علم ہے۔

علم کی دو قسمیں

علم تصوّر صرف خیال — کوئی فیصلہ نہیں مثال: "زید" یا "غلام" کا خیال آنا تصدیق خیال + فیصلہ مثال: "زید عمرو کے والد ہیں"
۱) تصوّر

وہ علم جس میں کوئی فیصلہ نہ ہو — صرف کسی چیز کا ذہن میں آنا۔

مثال: صرف "زید" یا "غلام" کا خیال آنا۔
۲) تصدیق

وہ علم جس میں فیصلہ ہو کہ "فلاں چیز ایسی ہے"۔

مثال: یہ جاننا کہ "زید، عَمرو کے والد ہیں"۔
آسان فرق
صرف خیال آئے ← تصوّر
خیال + فیصلہ ہو ← تصدیق

سوالات — مشق

نمبرسوالجواب
۱زید کا گھوڑا؟تصوّر
۲عمرو کی بیٹی؟تصوّر
۳عمرو زید کا غلام؟تصدیق
۴بکر خالد کا بیٹا ہوگا؟تصدیق
۵سرد پانی؟تصوّر
۶محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں؟تصدیق
۷جنّت حق ہے؟تصدیق
۸دوزخ کا عذاب؟تصوّر
۹قبر کا عذاب حق ہے؟تصدیق
۱۰کلمۂ معظمہ؟تصوّر
یاد رکھیں
"ہے، ہوگا، ہیں، حق ہے" جیسا فیصلہ ہو ← تصدیق
صرف ایک چیز کا نام یا خیال ہو ← تصوّر
سبق دوم

تصوّر و تصدیق کی قسمیں

علم کی دو قسمیں تصوّر تصدیق بدیہی بغیر تعریف نظری تعریف چاہیے بدیہی بغیر دلیل نظری دلیل چاہیے

تصوّر کی دو قسمیں

۱) تصوّر بدیہی

وہ چیز جو بغیر تعریف کے سمجھ آ جائے۔

مثال: پانی، آگ، گرمی، سردی۔
۲) تصوّر نظری

وہ چیز جو بغیر تعریف کے سمجھ نہ آئے۔

مثال: اسم، فعل، حرف، معرب، مبنی، جن، فرشتہ، بھوت، دیو
مختصر تعریفیں: اسم = اکیلا سمجھ آئے، زمانہ نہ ہو | فعل = اکیلا سمجھ آئے، زمانہ ہو | حرف = اکیلا سمجھ نہ آئے | معرب = آخر عامل سے بدلے | مبنی = نہ بدلے | فرشتہ = نور کا جسم | جن = آگ کا جسم | بھوت = ڈراؤنی شکل | دیو = بہت لمبا چوڑا جن

تصدیق کی دو قسمیں

۱) تصدیق بدیہی

وہ فیصلہ جسے ماننے کے لیے دلیل کی ضرورت نہ ہو۔

مثال: دو، چار کا آدھا ہے۔
۲) تصدیق نظری

وہ فیصلہ جسے ماننے کے لیے دلیل چاہیے ہو۔

مثال: پریاں موجود ہیں۔ اس عالَم کو بنانے والی ایک پاک ذات ہے۔
آسان فرق
تصوّر بدیہیبغیر تعریف سمجھ آئے — پانی، چاند
تصوّر نظریتعریف چاہیے — جنّت، پُل صراط
تصدیق بدیہیبغیر دلیل مان لیں — آفتاب روشن ہے
تصدیق نظریدلیل چاہیے — دوزخ موجود ہے

سوالات — مشق

نمبرسوالجواب
۱پُل صراط؟تصوّر نظری
۲جنّت؟تصوّر نظری
۳قبر کا عذاب؟تصوّر نظری
۴چاند؟تصوّر بدیہی
۵آسمان؟تصوّر بدیہی
۶دوزخ موجود ہے؟تصدیق نظری
۷ترازو اعمال کا؟تصوّر نظری (فیصلہ نہیں، صرف نام)
۸جنّت کے خزانے؟تصوّر نظری
۹عمرو کا بیٹا کھڑا ہے؟تصدیق نظری (دیکھنا پڑتا ہے)
۱۰کوثر جنّت کا حوض ہے؟تصدیق نظری (قرآن و حدیث سے)
۱۱آفتاب روشن ہے؟تصدیق بدیہی
سبق سوم

نظر و فکر، منطق کی تعریف، غرض و موضوع

نظر و فکر کیا ہے؟

دو یا زیادہ معلوم باتوں کو ملا کر نامعلوم بات معلوم کرنا۔ یہ دو طرح کا ہوتا ہے:

نظر و فکر (معلوم باتیں ملانا) تعریف معلوم تصوروں سے نیا تصور حیوان + ناطق = انسان دلیل / حجّت معلوم تصدیقوں سے نئی تصدیق انسان جاندار + جاندار جسم والا = انسان جسم والا
منطق کی تعریف

وہ علم جس سے تعریف اور دلیل بنانے میں غلطی سے بچا جائے۔

غرض (مقصد)

فکر و غور کا صحیح ہونا۔

موضوع

تعریفات اور دلیلیں — جن سے نامعلوم تصور اور تصدیق حاصل ہو۔

سبق چہارم

دلالت، وضع اور دلالت کی قسمیں

دلالت

کسی چیز کا ایسا ہونا کہ اسے جانتے ہی دوسری چیز کا علم ہو جائے۔ پتا دینے والا = دال، جس کا پتا چلے = مدلول۔

مثال: دھواں (دال) → آگ (مدلول)
وضع

ایک چیز کو دوسری کے لیے خاص مقرر کر دینا۔ مقرر کی گئی = موضوع، جس کے لیے مقرر = موضوع لہ۔

مثال: لفظ "چاقو" کو دستہ و پھل والے آلے کے لیے مقرر کیا۔

دلالت کی چھ قسمیں

دو سوال: (۱) دال لفظ ہے یا نہیں؟ (۲) پتا کس وجہ سے چلا؟

وضعیہ (طے کرنے سے)طبعیہ (فطرت سے)عقلیہ (عقل سے)
لفظیہ
دال = لفظ
لفظ "زید" → خود زید
طے کیا گیا ہے
"آہ، اُف" → تکلیف
طبیعت نکلواتی ہے
دیوار کے پیچھے آواز → بولنے والا
عقل نتیجہ نکالتی ہے
غیر لفظیہ
دال ≠ لفظ
لکھا "زید" → لفظ پر
لکھائی علامت ہے
گھوڑے کا ہنہنانا → گھاس
فطری آواز
دھواں → آگ
عقل نتیجہ نکالتی ہے
یاد رکھنے کا طریقہ
دال لفظ ہے؟ → ہاں = لفظیہ، نہیں = غیر لفظیہ
پتا کیوں چلا؟ → طے کرنے سے = وضعیہ | فطرت سے = طبعیہ | عقل سے = عقلیہ

سوالات — مشق

نمبرسوالدالمدلولقسم
۱سر کا ہلاناسر کا ہلاناہاں یا نہیںغیر لفظیہ وضعیہ
۲سرخ جھنڈی، ریل کا ٹھہرناسرخ جھنڈیریل رکےغیر لفظیہ وضعیہ
۳تار کے کھٹکے کی آوازکھٹکاتار آیاغیر لفظیہ عقلیہ
۴لفظ قلم، تختی، مدرسہیہ الفاظان کے معنیلفظیہ وضعیہ
۵دھوپدھوپگرمیغیر لفظیہ عقلیہ
۶آہ، اوہیہ آوازیںرنج و تکلیفلفظیہ طبعیہ
سبق پنجم

دلالت لفظیہ وضعیہ کی قسمیں

دلالت لفظیہ وضعیہ لفظ اپنے معنی کے کس حصے پر دلالت کرے؟ مطابقہ پورے معنی پر انسان → حیوان ناطق تضمّن معنی کے جزء پر انسان → صرف حیوان التزام معنی سے باہر لازمی انسان → قابلیتِ علم
۱) مطابقہ — پورے معنی پر
مثال: لفظ "انسان" → پورے حیوان ناطق پر۔
۲) تضمّن — معنی کے جزء پر
مثال: لفظ "انسان" → صرف حیوان پر (معنی کا ایک حصہ)۔
۳) التزام — معنی سے باہر لازمی چیز پر
مثال: لفظ "انسان" → قابلیتِ علم پر (لازمہ ہے، معنی کا حصہ نہیں)۔
آسان فرق
مطابقہپورا مطلب → پورے معنی پر
تضمّنایک حصہ → معنی کے جزء پر
التزاملازمی چیز → معنی سے باہر لازمی

سوالات — مشق

نمبردالمدلولقسم
۱نابیناآنکھتضمّن
۲لنگڑاٹانگتضمّن
۳درختشاخیںتضمّن
۴نکتاناکتضمّن (ناک معنی کا حصہ)
۵ہدایہکتاب الصّومتضمّن
۶ہدایہاِنُّو، مقصد اولالتزام
۷چاقواس کا دستہتضمّن (دستہ جزء ہے)
سبق ششم

مفرد و مرکب

لفظ مفرد جزء سے معنی کا ارادہ نہ ہو — مثال: زید، احمد مرکب جزء سے معنی کا ارادہ ہو — مثال: زید کھڑا ہے

مفرد کی چار قسمیں

۱) کوئی جزء ہی نہ ہو
مثال: "ک"، "ر"
۲) جزء ہو مگر معنی نہ دے
مثال: "انسان" کے "الف"، "نون" — اکیلے کچھ نہیں بتاتے۔
۳) جزء معنی دے مگر ارادہ نہ ہو
مثال: "عبداللہ" — نام ہے، اجزاء سے معنی مراد نہیں۔
۴) جزء معنی دے، دلالت بھی ہو، مگر ارادہ اتفاقاً ہو
مثال: "حیوان ناطق" کسی کا نام رکھ دیا — ارادہ نہیں کیا۔

مرکب

جزء سے معنی کا ارادہ کیا جائے۔

مثال: "زید کھڑا ہے"
آسان فرق
ارادہ نہ ہو ← مفرد | ارادہ ہو ← مرکب

سوالات — مشق

نمبرسوالجوابوجہ
۱احمدمفردنام ہے
۲مظفر نگرمرکبدونوں کے معنی ارادہً
۳اسلام آبادمرکبدونوں ارادہً ملائے
۴عبدالرحمٰنمفردنام ہے
۵ظہر کی نمازمرکبہر جزء ارادہً
۶رمضان کا روزہمرکبہر جزء ارادہً
۷ماہ رمضانمرکبہر جزء ارادہً
۸جامع مسجدمرکبدونوں کے معنی ارادہً
۹دہلی کی جامع مسجد اللہ کا گھر ہےمرکبپوری جملہ، ہر جزء ارادہً
سبق ہفتم

کلّی و جزئی کی بحث

مفہوم کلّی کئی چیزوں پر فٹ ہو (شرکت ہو) مثال: آدمی، درخت، شہر جزئی صرف ایک پر فٹ ہو (شرکت نہ ہو) مثال: زید، لاہور، میری بکری
۱) کلّی

کئی چیزوں پر صادق آئے — شرکت ہو سکے۔

مثال: "آدمی" — زید، عمرو، بکر سب پر فٹ۔
۲) جزئی

صرف ایک چیز پر صادق آئے — شرکت نہ ہو۔

مثال: "زید" — صرف زید پر فٹ۔
یاد رکھیں
اکیلا عام لفظ → کلّی | "یہ"، "میرا"، "زید کا" لگے → جزئی

سوالات — مشق

نمبرسوالجوابوجہ
۱گھوڑا؟کلّیہزاروں پر فٹ
۲بکری؟کلّیہزاروں پر فٹ
۳میری بکری؟جزئی"میری" سے ایک خاص
۴زید کا غلام؟جزئی"زید کا" سے ایک خاص
۵سورج؟جزئیایک ہی سورج ہے
۶یہ سورج؟جزئی"یہ" سے ایک خاص
۷آسمان؟کلّیکئی آسمانوں پر فٹ
۸یہ آسمان؟جزئی"یہ" سے ایک خاص
۹سفید چادر؟کلّیکئی پر فٹ
۱۰سیاہ کرتا؟کلّیکئی پر فٹ
۱۱ستارہ؟کلّیلاکھوں پر فٹ
۱۲دیوار؟کلّیکئی پر فٹ
۱۳یہ مسجد؟جزئی"یہ" سے ایک خاص
۱۴یہ پانی؟جزئی"یہ" سے ایک خاص
۱۵میرا قلم؟جزئی"میرا" سے ایک خاص
سبق ہشتم

حقیقت و ماہیت اور کلّی کی قسمیں

حقیقت یا ماہیت

کسی شے کی وہ چیزیں جن سے وہ شے بنتی ہے — ایک بھی نہ ہو تو شے نہ ہو۔

مثال: انسان = حیوان ناطق
عوارض

جو چیزیں حقیقت کے علاوہ ہوں — ان کے بغیر بھی شے رہے۔

مثال: کالا، گورا، عالم، جاہل ہونا — انسان کے عوارض۔

کلّی کی دو قسمیں

۱) کلّی ذاتی

جزئیات کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جزء ہو۔

مثال (پوری): "انسان" — زید، عمرو کی حقیقت۔
مثال (جزء): "حیوان" — انسان، بکری کی حقیقت کا جزء۔
۲) کلّی عرضی

جزئیات کی نہ حقیقت ہو نہ حقیقت کا جزء — باہر کا عارض ہو۔

مثال: "ضاحک" (ہنسنے والا) — انسان کی حقیقت نہیں، عارض ہے۔
آسان فرق
اکیلا لفظ ← ذاتی | ساتھ صفت (تیز، سخت، سرخ) ← عرضی

سوالات — مشق

نمبرسوالجواب
۱جسم نامی؟کلّی ذاتی
۲درخت؟کلّی ذاتی
۳میٹھا انار؟کلّی عرضی
۴سرخ انار؟کلّی عرضی
۵حیوان؟کلّی ذاتی
۶فرس؟کلّی ذاتی
۷قوی گھوڑا؟کلّی عرضی
۸کشادہ مسجد؟کلّی عرضی
۹جسم؟کلّی ذاتی
۱۰پتھر؟کلّی ذاتی
۱۱سخت پتھر؟کلّی عرضی
۱۲لوہا؟کلّی ذاتی
۱۳چاقو؟کلّی ذاتی
۱۴تیز چاقو؟کلّی عرضی
۱۵تلوار؟کلّی ذاتی
۱۶تیز تلوار؟کلّی عرضی
سبق نہم

ذاتی اور عرضی کی قسمیں

کلّی کی پانچ قسمیں ذاتی (۳ قسمیں) عرضی (۲ قسمیں) جنس حقیقتیں الگ مثال: حیوان نوع حقیقت ایک مثال: انسان فصل دوسروں سے جدا مثال: ناطق خاصہ ایک حقیقت کے ساتھ مثال: ضاحک عرض عام کئی حقیقتوں پر مثال: ماشی

ذاتی کی تین قسمیں

۱) جنس

جزئیات کی حقیقتیں الگ الگ ہوں۔

مثال: "حیوان" — انسان، بقر، غنم کی حقیقت جدا ہے۔
۲) نوع

جزئیات کی حقیقت ایک ہو۔

مثال: "انسان" — زید، عمرو، بکر کی حقیقت ایک ہے۔
۳) فصل

جزئیات کو دوسری حقیقتوں سے جدا کرے۔

مثال: "ناطق" — انسان کو بقر، غنم سے جدا کرتا ہے۔

عرضی کی دو قسمیں

۱) خاصہ

ایک حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہو۔

مثال: "ضاحک" — صرف انسان کا خاصہ۔
۲) عرض عام

کئی حقیقتوں کے افراد پر صادق آئے۔

مثال: "ماشی" — انسان پر بھی، بقر پر بھی۔
خلاصہ — پانچ قسمیں
جنسذاتی — حقیقتیں الگ الگ (حیوان)
نوعذاتی — حقیقت ایک (انسان)
فصلذاتی — دوسروں سے جدا کرے (ناطق)
خاصہعرضی — ایک حقیقت کے ساتھ (ضاحک)
عرض عامعرضی — کئی حقیقتوں پر (ماشی)

سوالات — مشق

نمبرسوالجوابوجہ
۱حیوان، فرسجنسحیوان فرس کی حقیقت کا جزء، حقیقتیں الگ
۲جسم نامی، شجر انارجنسجسم نامی شجر انار کی حقیقت کا جزء
۳حیوان حساسنوعحقیقت ایک ہے
۴فرس صاہلخاصہصرف گھوڑے کا خاصہ
۵انسان کاتبخاصہصرف انسان کا خاصہ
۶انسان قائمعرض عامانسان اور گھوڑے دونوں پر
۷جسم مطلق، فرسجنسحقیقت کا جزء، حقیقتیں الگ
۸غنم ماشیعرض عامغنم، انسان، گھوڑے سب پر
۹حمار، ناطقفصلانسان کو گدھے سے جدا کرتا ہے
۱۰انسان ہندیعرض عامانسان، گھوڑے، بکری سب پر آ سکتا ہے
سبق دہم

اصطلاح "ماہو" کا بیان

"ماہو" کیا ہے؟

منطق کی اصطلاح — مطلب: "کیا ہے وہ؟" یعنی کسی شے کی حقیقت پوچھنا۔

مثال: "الانسان ماہو؟" = انسان کیا ہے؟

سوال کی دو صورتیں

۱) ایک چیز کا سوال

جواب = اس کی مخصوص حقیقت۔

سوال: انسان ماہو؟ → جواب: حیوان ناطق
۲) کئی چیزوں کا سوال

جواب = ان سب میں مشترک حقیقت۔

سوال: انسان، بیل، بکری ماھم؟ → جواب: حیوان
سوال: انار کا درخت، پتھر ماھی؟ → جواب: جسم
یاد رکھیں
ایک چیز ← مخصوص حقیقت | کئی چیزیں ← مشترک حقیقت

سوالات — مشق

نمبرسوالجوابوجہ
۱فرس وانسانحیوانمشترک حقیقت
۲فرس غنمحیوانمشترک حقیقت
۳درخت انگور و حجرجسمدونوں جسم ہیں
۴آسمان، زمین، زیدجسمتینوں جسم ہیں
۵شمس، قمر، درخت انبہجسمسب جسم ہیں
۶مکھی، چڑیا، گدھاحیوانمشترک حقیقت
۷انسانحیوان ناطقمخصوص حقیقت
۸فرسحیوان صاہلمخصوص حقیقت
۹حمارحیوان ناہقمخصوص حقیقت
۱۰بکری، اینٹ، پتھر، ستارہجسمچاروں جسم ہیں
۱۱پانی، ہوا، حیوانجسمتینوں جسم ہیں
سبق یازدہم

جنس اور فصل کی قسمیں

جنس کی دو قسمیں

۱) جنس قریب

دو جزئی سے سوال کریں تو وہی جنس جواب میں آئے۔

مثال: انسان کی جنس قریب = حیوان — زید، عمرو سے پوچھیں تو حیوان ہی آئے گا۔
۲) جنس بعید

دو جزئی سے سوال کریں تو اس کا آنا ضروری نہ ہو۔

مثال: انسان کی جنس بعید = جسم نامی — انسان، فرس، درخت سے پوچھیں تو آئے گا، مگر صرف انسان، فرس سے پوچھیں تو نہیں آئے گا۔

فصل کی دو قسمیں

۱) فصل قریب

جنس قریب کی جزئیات میں شریک ہو اور انہیں دوسری ماہیت سے جدا کرے۔

مثال: انسان کا فصل قریب = ناطق — حیوان میں انسان کو بقر، غنم سے جدا کرتا ہے۔
۲) فصل بعید

جنس بعید کی جزئیات میں شریک ہو اور جنس قریب میں جو شریک ہیں ان سے جدا کرے۔

مثال: انسان کا فصل بعید = حساس — جسم نامی میں حیوان کو درخت سے جدا کرتا ہے۔
خلاصہ — انسان کی مثال
جنس قریبحیوان
جنس بعیدجسم نامی
فصل قریبناطق
فصل بعیدحساس

سوالات — مشق

نمبرسوالجوابوجہ
۱ناطق؟فصل قریبجنس قریب میں انسان کو جدا کرتا ہے
۲جسم نامی؟جنس بعیدانسان، فرس، درخت سے سوال پر آئے
۳ناہق؟فصل قریبجنس قریب میں گدھے کو جدا کرتا ہے
۴صاہل؟فصل قریبجنس قریب میں گھوڑے کو جدا کرتا ہے
۵حساس؟فصل بعیدجنس بعید میں حیوان کو درخت سے جدا کرتا ہے
۶نامی؟جنس قریبحیوان کے افراد سے سوال پر یہی جواب آئے
سبق دوازدہم

دو کلّیوں میں نسبت کا بیان

دو کلّیوں میں چار میں سے ایک نسبت ضرور ہوگی: تساوی، تباین، عموم وخصوص مطلق، عموم وخصوص من وجہ۔
تساوی تباین عموم خصوص مطلق عموم خصوص من وجہ
۱) تساوی

دونوں بالکل برابر — ایک کا ہر فرد دوسری پر بھی فٹ ہو۔

مثال: انسان اور ناطق — جو انسان وہ ناطق، جو ناطق وہ انسان۔
۲) تباین

دونوں بالکل جدا — ایک کا کوئی فرد دوسری پر نہ ہو۔

مثال: انسان اور فرس — کوئی انسان گھوڑا نہیں۔
۳) عموم وخصوص مطلق

ایک بڑی (عام)، دوسری چھوٹی (خاص) — چھوٹی بڑی کے اندر۔

مثال: حیوان (بڑی) اور انسان (چھوٹی) — ہر انسان حیوان، مگر ہر حیوان انسان نہیں۔
۴) عموم وخصوص من وجہ

دونوں کہیں ملتی ہوں، کہیں نہیں۔

مثال: حیوان اور ابیض (سفید) — کچھ حیوان سفید ہیں، کچھ نہیں۔ کچھ سفید چیزیں حیوان نہیں۔

سوالات — مشق

نمبرسوالجوابوجہ
۱حیوان، فرسعموم خصوص مطلقحیوان بڑا، فرس چھوٹا
۲انسان، حجرتباینکوئی انسان پتھر نہیں
۳حمار، حیوانعموم خصوص مطلقحیوان بڑا، حمار چھوٹا
۴حیوان، اسودعموم خصوص من وجہکچھ حیوان کالے، کچھ نہیں
۵جسم نامی، شجر نخلعموم خصوص مطلقجسم نامی بڑا
۶حجر، جسمعموم خصوص مطلقجسم بڑا، حجر چھوٹا
۷انسان، غنمتباینکوئی انسان بھیڑ نہیں
۸رومی، انسانعموم خصوص مطلقانسان بڑا، رومی چھوٹا
۹غنم، حمارتباینکوئی بھیڑ گدھا نہیں
۱۰فرس، صاہلتساویہر فرس صاہل، ہر صاہل فرس
۱۱حساس، حیوانتساویہر حساس حیوان، ہر حیوان حساس
سبق سیزدہم

معرّف اور قول شارح کا بیان

جب معلوم تصوروں کو ملا کر نامعلوم تصور معلوم کریں تو اسے معرّف یا قول شارح کہتے ہیں۔
مثال: "حیوان ناطق" = انسان کا معرّف۔

معرّف کی چار قسمیں

۱) حد تام

جنس قریب + فصل قریب دونوں مرکب ہوں۔

مثال: حیوان ناطق — انسان کی حد تام۔ حیوان = جنس قریب، ناطق = فصل قریب۔
۲) حد ناقص

جنس بعید + فصل یا صرف فصل ہو۔

مثال: جسم ناطق یا صرف ناطق — انسان کی حد ناقص۔
۳) رسم تام

جنس قریب + خاصہ مل کر بنے۔

مثال: حیوان ضاحک — انسان کی رسم تام۔ حیوان = جنس قریب، ضاحک = خاصہ۔
۴) رسم ناقص

جنس بعید + خاصہ یا صرف خاصہ مل کر بنے۔

مثال: جسم ضاحک یا صرف ضاحک — انسان کی رسم ناقص۔

آسان فرق — جدول

فصل (ناطق) سے بنےخاصہ (ضاحک) سے بنے
جنس قریب (حیوان) کے ساتھ
حد تام
حیوان ناطق
رسم تام
حیوان ضاحک
جنس بعید (جسم) یا اکیلا
حد ناقص
جسم ناطق / صرف ناطق
رسم ناقص
جسم ضاحک / صرف ضاحک
یاد رکھیں
حد = فصل سے | رسم = خاصہ سے | تام = جنس قریب کے ساتھ | ناقص = جنس بعید یا اکیلا

سوالات — مشق

نمبرسوالجوابوجہ
۱جوہر ناطقحد ناقصجوہر = جنس بعید، ناطق = فصل قریب
۲جسم نامی ناطقحد ناقصجسم نامی = جنس بعید، ناطق = فصل قریب
۳جسم حساسحد ناقصجسم = جنس بعید، حساس = فصل بعید
۴جسم متحرک بالارادہرسم ناقصجسم = جنس بعید، متحرک بالارادہ = خاصہ
۵حیوان صاہلرسم تامحیوان = جنس قریب، صاہل = خاصہ
۶حیوان ناہقرسم تامحیوان = جنس قریب، ناہق = خاصہ
۷جسم ناہقرسم ناقصجسم = جنس بعید، ناہق = خاصہ
۸حساس (اکیلا)حد ناقصصرف فصل بعید
۹ناطق (اکیلا)حد ناقصصرف فصل قریب
۱۰جسم ضاحکرسم ناقصجسم = جنس بعید، ضاحک = خاصہ

منطق کی اہم اصطلاحات — مکمل فہرست

تمام اصطلاحات آسان الفاظ میں — یاد کریں اور دہرائیں۔

علمکسی چیز کی صورت (خیال) کا ذہن میں آ جانا۔مثال: "زید" سنتے ہی ذہن میں زید کا خیال آنا
تصوّروہ علم جس میں صرف خیال ہو، کوئی فیصلہ نہ ہو۔مثال: "زید" یا "گھوڑا" کا خیال آنا
تصدیقوہ علم جس میں خیال کے ساتھ کوئی فیصلہ بھی ہو۔مثال: "زید عمرو کے والد ہیں"
تصوّر بدیہیوہ تصوّر جو بغیر تعریف کے سمجھ آ جائے۔مثال: پانی، آگ، گرمی
تصوّر نظریوہ تصوّر جو بغیر تعریف کے سمجھ نہ آئے۔مثال: اسم، فعل، جن، فرشتہ
تصدیق بدیہیوہ فیصلہ جسے بغیر دلیل کے مان لیا جائے۔مثال: دو، چار کا آدھا ہے
تصدیق نظریوہ فیصلہ جسے ماننے کے لیے دلیل چاہیے ہو۔مثال: پریاں موجود ہیں
نظر و فکرمعلوم باتوں کو ملا کر نامعلوم بات معلوم کرنا۔مثال: حیوان + ناطق → انسان
منطقوہ علم جو تعریف اور دلیل بنانے میں غلطی سے بچائے۔سوچنے کو صحیح رکھنے والا علم
موضوع منطقوہ چیز جس پر منطق بحث کرے = تعریفات اور دلیلیں۔
غرض منطقمنطق کا مقصد = فکر و غور کا صحیح ہونا۔
دلالتایک چیز کا ایسا ہونا کہ اسے جانتے ہی دوسری چیز کا علم ہو جائے۔مثال: دھواں → آگ کا علم
دالپتا دینے والی چیز۔مثال: دھواں (دال ہے)
مدلولجس کا پتا چلے۔مثال: آگ (مدلول ہے)
وضعایک چیز کو دوسری کے لیے مقرر کر دینا۔مثال: لفظ "چاقو" کو آلے کے لیے مقرر کرنا
موضوعوہ چیز جو مقرر کی گئی (لفظ)۔
موضوع لہجس کے لیے مقرر کی گئی (معنی)۔
دلالت لفظیہجب دال (پتا دینے والا) لفظ ہو۔مثال: لفظ "زید" → خود زید
دلالت غیر لفظیہجب دال لفظ نہ ہو۔مثال: دھواں → آگ
دلالت لفظیہ وضعیہلفظ کا وضع (طے کرنے) کی وجہ سے پتا دینا۔مثال: لفظ "زید" → زید
دلالت لفظیہ طبعیہلفظ کا فطرت کی وجہ سے پتا دینا۔مثال: "آہ" → تکلیف
دلالت لفظیہ عقلیہلفظ کا عقل کی وجہ سے پتا دینا۔مثال: دیوار کے پیچھے آواز → بولنے والا ہے
دلالت غیر لفظیہ وضعیہغیر لفظی علامت کا وضع سے پتا دینا۔مثال: سرخ جھنڈی → ریل رکے
دلالت غیر لفظیہ طبعیہغیر لفظی علامت کا فطرت سے پتا دینا۔مثال: گھوڑے کا ہنہنانا → گھاس کی طلب
دلالت غیر لفظیہ عقلیہغیر لفظی علامت کا عقل سے پتا دینا۔مثال: دھواں → آگ
دلالت مطابقہلفظ کا اپنے پورے معنی پر دلالت کرنا۔مثال: انسان → حیوان ناطق (پورا)
دلالت تضمّنیہلفظ کا اپنے معنی کے کسی حصے پر دلالت کرنا۔مثال: انسان → صرف حیوان
دلالت التزامیہلفظ کا اپنے معنی سے باہر لازمی چیز پر دلالت کرنا۔مثال: انسان → قابلیتِ علم
لازموہ چیز جو ہمیشہ کسی کے ساتھ ہو، اس کی حقیقت کا حصہ نہ ہو۔مثال: قابلیتِ علم انسان کا لازم ہے
مفردوہ لفظ جس کے جزء سے معنی کے جزء پر دلالت کا ارادہ نہ ہو۔مثال: زید، احمد، عبداللہ
مرکبوہ لفظ جس کے جزء سے معنی کے جزء پر دلالت کا ارادہ ہو۔مثال: زید کھڑا ہے، ماہ رمضان
مفہوموہ چیز جو ذہن میں آتی ہے — کلّی یا جزئی ہو سکتی ہے۔
کلّیوہ مفہوم جو کئی چیزوں پر فٹ ہو — شرکت ہو سکے۔مثال: آدمی، درخت، شہر
جزئیوہ مفہوم جو صرف ایک چیز پر فٹ ہو — شرکت نہ ہو۔مثال: زید، لاہور، میری بکری
حقیقت و ماہیتکسی شے کی وہ چیزیں جن سے وہ شے بنتی ہے — ایک بھی نہ ہو تو شے نہ ہو۔مثال: انسان کی حقیقت = حیوان ناطق
کلّی ذاتیجزئیات کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جزء ہو۔مثال: انسان، حیوان، ناطق
کلّی عرضیحقیقت سے باہر کا عارض ہو۔مثال: ضاحک، کالا، تیز
جنسوہ کلّی ذاتی جس کی جزئیات کی حقیقتیں الگ الگ ہوں۔مثال: حیوان — انسان، بقر، غنم کی حقیقتیں جدا
نوعوہ کلّی ذاتی جس کی جزئیات کی حقیقت ایک ہو۔مثال: انسان — زید، عمرو، بکر کی حقیقت ایک
فصلوہ کلّی ذاتی جو جزئیات کو دوسری حقیقتوں سے جدا کرے۔مثال: ناطق — انسان کو بقر، غنم سے جدا کرتا ہے
خاصہوہ کلّی عرضی جو ایک حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہو۔مثال: ضاحک — صرف انسان ہنستا ہے
عرض عاموہ کلّی عرضی جو کئی حقیقتوں کے افراد پر صادق آئے۔مثال: ماشی — انسان، بقر، فرس سب چلتے ہیں
جنس قریبوہ جنس جو دو جزئی سے سوال پر جواب میں ضرور آئے۔مثال: انسان کی جنس قریب = حیوان
جنس بعیدوہ جنس جو دو جزئی سے سوال پر آنا ضروری نہ ہو۔مثال: انسان کی جنس بعید = جسم نامی
فصل قریبوہ فصل جو جنس قریب کی جزئیات میں فرق کرے۔مثال: انسان کا فصل قریب = ناطق
فصل بعیدوہ فصل جو جنس بعید کی جزئیات میں فرق کرے۔مثال: انسان کا فصل بعید = حساس
تساویدو کلّیاں بالکل برابر ہوں — ایک کا ہر فرد دوسری پر بھی فٹ۔مثال: انسان = ناطق
تبایندو کلّیاں بالکل جدا — ایک کا کوئی فرد دوسری پر نہ ہو۔مثال: انسان ≠ فرس
عموم خصوص مطلقایک بڑی، ایک چھوٹی — چھوٹی بڑی کے اندر۔مثال: حیوان (بڑی) ← انسان (چھوٹی)
عموم خصوص من وجہکہیں ملتی ہوں، کہیں نہیں۔مثال: حیوان اور ابیض (سفید)
معرّف وقول شارحمعلوم تصوروں کو ملا کر نامعلوم تصور معلوم کرنا۔مثال: "حیوان ناطق" = انسان کا معرّف
حد تامجنس قریب + فصل قریب سے بنے۔مثال: حیوان ناطق (انسان کی حد تام)
حد ناقصجنس بعید + فصل یا صرف فصل سے بنے۔مثال: جسم ناطق / صرف ناطق
رسم تامجنس قریب + خاصہ سے بنے۔مثال: حیوان ضاحک (انسان کی رسم تام)
رسم ناقصجنس بعید + خاصہ یا صرف خاصہ سے بنے۔مثال: جسم ضاحک / صرف ضاحک