تیاری کے لیے سہل، صاف اور تصویری نوٹس
اشتقاق • صرف • صیغے و گردانیں • مشتقاتیہ کتاب "علم الصیغہ" دراصل دو علموں کا مجموعہ ہے، اور یہ دونوں الگ الگ فن ہیں:
دونوں آپس میں بہت ملتے جلتے ہیں، اور اشتقاق کے قواعد بہت تھوڑے ہیں — اِسی لیے مصنفین انہیں ایک ہی کتاب میں اکٹھا لکھ دیتے ہیں۔
اشتقاق کا مطلب ایک تصویر سے: ایک ہی جڑ (مادہ) سے کئی الفاظ نکلتے ہیں —
تعریف کے ہر لفظ کا مطلب:
| عربی لفظ | آسان مطلب |
|---|---|
| تحویل | پھیرنا، بدلنا، شکل بدلنا |
| الاصل الواحد | بنیادی لفظ (مادہ) جس سے باقی الفاظ بنیں — یعنی مشتق منہ |
| امثلة مختلفة | اُس اصل سے بننے والے مختلف صیغے / فروع |
| لمعانٍ مقصودہ | ہر صیغے کا الگ مطلوبہ معنی |
"مختلفہ" کا مطلب: صیغے مادہ میں تو ایک جیسے ہوتے ہیں، مگر صورت اور معنی میں مختلف۔ مثلاً:
| پہلو | ضَارِب | مَضْرُوب | نتیجہ |
|---|---|---|---|
| مادہ (جڑ) | ض ر ب | ض ر ب | ایک جیسے ✓ |
| وزن (صورت) | فاعل | مفعول | مختلف ✗ |
| معنی | مارنے والا | جس کو مارا گیا | مختلف ✗ |
موضوع = وہ چیز جس کے بارے میں علم بحث کرتا ہے۔
سب سے اہم بات: الفاظ تو کئی علم پڑھتے ہیں، مگر ہر ایک کا "زاویہ" الگ ہے۔ تعریف کا ہر لفظ ایک دوسرے علم کو خارج (احتراز) کرتا ہے:
تعریف کے الفاظ اور احترازات:
| لفظ | کس علم کو خارج کرتا ہے | کیونکہ وہ علم دیکھتا ہے… |
|---|---|---|
| مفردات | علم النحو | الفاظ کو جملے میں (ترکیب) |
| …الاصالة والفرعیة | علم اللغة | الفاظ کا معنی (وضع) |
| فی الجوهر | علم الصرف | الفاظ کی شکل/صورت |
صرف اور اشتقاق کا باریک فرق (دونوں اصل/فرع دیکھتے ہیں، مگر کس چیز میں؟):
سوال: لفظ کی اصلی صورت کیا تھی؟
سَیْوِد ← سَیِّد
اصل شکل = سَیْوِد، پھر تعلیل سے بدل کر سَیِّد بنی۔
سوال: لفظ کے اصلی حروف کونسے، زائد کونسے؟
س ، و ، د (اصلی)
اصل = سَوَدَ، فرع (مشتق) = سَیِّد۔ (مثلاً ضارب میں الف زائد)
غرض کا آسان مطلب: ایسا ملکہ حاصل کرنا جس سے ہم درست بتا سکیں کہ کونسا لفظ اصل ہے اور کونسا فرع/مشتق۔
غایت کا آسان مطلب: اِس علم کی بدولت غلطی سے بچنا۔ اگر کسی لفظ کا مشتق منہ غلط سمجھ لیا، تو الفاظ کے استعمال اور معنی دونوں میں غلطی ہوگی۔
| پہلو | خلاصہ |
|---|---|
| تعریف | ایک اصل سے کئی صیغے (مادہ ایک، صورت و معنی مختلف) |
| موضوع | تنہا الفاظ — اصالت و فرعیت کے اعتبار سے (نحو، لغت، صرف سے الگ) |
| غرض | اصل/فرع پہچاننے کا ملکہ |
| غایت | نسبت میں غلطی سے بچاؤ |
الصرف کو التصریف بھی کہتے ہیں — دونوں کے لغوی معنی ہیں: بدلنا، پھیرنا۔
صرف کا کام ایک نظر میں: لفظ کی شکل (صورت) قاعدے کے مطابق بدلتی ہے —
یعنی صرف الفاظ کی صورت پر آنے والی تبدیلیوں (عوارضِ ذاتیہ) سے بحث کرتا ہے۔ یہ تبدیلیاں اِن پانچ مشہور مباحث میں آتی ہیں:
| مبحث | کیا ہوتا ہے؟ | مثال |
|---|---|---|
| اعلال | علت والے حروف (و، ی، ا) میں تبدیلی | قَوَلَ ← قَالَ |
| ادغام | دو ہم جنس حروف کو ملا دینا | مَدَدَ ← مَدَّ |
| ابدال | ایک حرف کی جگہ دوسرا لانا | اِصْتَبَرَ ← اِصْطَبَرَ |
| قلبِ مکانی | حروف کی ترتیب آگے پیچھے کرنا | یَئِسَ ← اَیِسَ |
| اوزان | کلمات کے پیمانے/سانچے | فَعَلَ، فَاعِل، مَفعُول |
احترازات (اشتقاق کی طرح، مگر یہاں زاویہ "صورت" ہے):
| لفظ | کس علم کو خارج کرتا ہے | کیونکہ وہ دیکھتا ہے… |
|---|---|---|
| مفردات | علم النحو | جملے/مرکبات |
| …من حیث صورها | علم اللغة | لفظ کا معنی |
| (وہی) صورها | علم الاشتقاق | جوہر/حروف |
دونوں اصل/فرع دیکھتے ہیں، مگر کس چیز میں؟ — یہی فرق پکڑ لیں:
| پہلو | علم الاشتقاق | علم الصرف |
|---|---|---|
| زاویہ | جوہر (حروف) | صورت (شکل/ہیئت) |
| سوال | کونسے حروف اصلی، کونسے زائد؟ | لفظ کی شکل کیسے بدلی؟ |
| مثال | ضارب: ض ر ب اصلی، الف زائد | قَوَلَ ← قَالَ |
| مباحث | اصل/فرع کی پہچان | اعلال، ادغام، ابدال، قلب، اوزان |
| پہلو | عربی | آسان مطلب |
|---|---|---|
| موضوع | المفردات المخصوصہ من الحیثیۃ المذکورہ | تنہا الفاظ — صورت کے اعتبار سے |
| غرض | تحصیلُ ملکۃٍ… | ایسا ملکہ جس سے الفاظ کے صورتی عوارض پہچانے جا سکیں |
| غایت | الاحترازُ عن الخطأ… | اِس پہچان میں غلطی سے بچاؤ |
سوال: صرف کو سب سے پہلے ایک مستقل فن کے طور پر کس نے مدوّن (مرتب) کیا؟ یہاں دو رائے ہیں:
ابو عثمان المازنیؒ (متوفی ۲۴۹ھ)
ان سے پہلے صرف الگ فن نہ تھا، بلکہ نحو کے ضمن میں آتا تھا۔ یہ قول کشف الظنون اور مفتاح السعادۃ میں ہے۔
امام اعظم ابو حنیفہؒ (متوفی ۱۵۰ھ)
یعنی مازنی سے تقریباً ایک صدی پہلے! دلیل: ان کا صرف پر مستقل رسالہ "المقصود" (۱۹۴۰ء میں مصر سے طبع)۔
تحقیق کے دلائل:
یہ "علم الصیغہ" کے مصنف ہیں (اور حُسنُ الصِّیغہ اسی کا اردو ترجمہ ہے)۔ نسب: عنایت احمد بن محمد بخش بن غلام محمد بن لطف اللہ۔ ان کی زندگی ایک ٹائم لائن میں:
چند مشہور تصانیف (کل ~۱۸):
نمایاں شاگرد: ① مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ ② مولانا سید حسین شاہ بخاریؒ
کلمہ = ایک بامعنیٰ لفظ۔ اس کی تین قسمیں ہیں:
| قسم | پہچان | مثال |
|---|---|---|
| اِسم | بامعنیٰ، مگر زمانے سے آزاد | رَجُل، ضَارِب |
| فعل | معنیٰ + زمانہ (ماضی/حال/مستقبل) | ضَرَبَ، یَضْرِبُ |
| حرف | معنیٰ صرف دوسرے لفظ کے ساتھ | مِنْ، هَلْ |
① بلحاظِ زمانہ — فعل کی تین قسمیں:
② بلحاظِ آواز (کام کس کی طرف؟):
| قسم | نسبت | مثال |
|---|---|---|
| معروف (active) | کام کرنے والے (فاعل) کی طرف | ضَرَبَ — مارا |
| مجہول (passive) | جس پر کام ہوا (مفعول) کی طرف | ضُرِبَ — مارا گیا |
نوٹ: ثبوت پر دلالت کرے تو اثبات (ضَرَبَ)، اور نفی پر دلالت کرے تو نفی (مَا ضَرَبَ)۔ امر عموماً معروف ہی ہوتا ہے۔
③ بلحاظِ حروفِ اصلیہ: ثلاثی (۳ حروف، جیسے نَصَرَ) اور رباعی (۴ حروف، جیسے بَعْثَرَ)۔ پھر ہر ایک یا تو مجرد (کوئی زائد حرف نہیں) یا مزید فیہ (زائد حرف موجود)۔
| قسم | مثال |
|---|---|
| ثلاثی مجرد | نَصَرَ |
| ثلاثی مزید فیہ | اَکْرَمَ، اِجْتَنَبَ |
| رباعی مجرد | بَعْثَرَ |
| رباعی مزید فیہ | تَشَیْطَنَ، اِبْرَنْشَقَ |
④ بلحاظِ نوعِ حروف (۷ خاص قسمیں): حروفِ علت = و ا ی (مجموعہ "وَای")۔
| قسم | پہچان | مثال |
|---|---|---|
| صحیح | نہ ہمزہ، نہ علت، نہ تکرار | نَصَرَ |
| مہموز | کوئی اصلی حرف ہمزہ | أَمَرَ، سَأَلَ، قَرَأَ |
| مثال (معتل الفاء) | پہلا حرف علت | وَعَدَ |
| اجوف (معتل العین) | درمیانی حرف علت | قَالَ |
| ناقص (معتل اللام) | آخری حرف علت | دَعَا، رَمَی |
| لفیف | دو حرفِ علت | طَوَی، وَقَی |
| مضاعف | دو اصلی حرف ہم جنس | مَدَّ، فَرَّ |
یاد رکھنے کا شعر: صحیح است و مثال است و مضاعف | لفیف و ناقص و مہموز و اجوف
| قسم | پہچان | مثال |
|---|---|---|
| مصدر | کام پر دلالت؛ فارسی ترجمہ "دن/تن" پر ختم | الضَّرْب = زدن |
| مشتق | فعل سے نکلا ہوا | ضَارِب، مَنْصُور |
| جامد | نہ مصدر، نہ مشتق | رَجُل، جَعفَر |
چونکہ فعل میں تبدیلیاں (تصریفات) سب سے زیادہ ہوتی ہیں، اسم میں کم اور حرف میں بالکل نہیں — اس لیے علمِ صرف کی توجہ زیادہ تر فعل پر رہتی ہے۔
فعل ماضی تین وزن (فَعَلَ، فَعِلَ، فَعُلَ) پر آتا ہے، اور مضارع کے فرق سے چھ باب بنتے ہیں:
| باب | ماضی | مضارع | مثال | عینِ مضارع |
|---|---|---|---|---|
| ۱) نَصَرَ | فَعَلَ | یَفْعُلُ | نَصَرَ یَنْصُرُ | ضمہ |
| ۲) ضَرَبَ | فَعَلَ | یَفْعِلُ | ضَرَبَ یَضْرِبُ | کسرہ |
| ۳) فَتَحَ | فَعَلَ | یَفْعَلُ | فَتَحَ یَفْتَحُ | فتحہ |
| ۴) سَمِعَ | فَعِلَ | یَفْعَلُ | سَمِعَ یَسْمَعُ | فتحہ |
| ۵) حَسِبَ | فَعِلَ | یَفْعِلُ | حَسِبَ یَحْسِبُ | کسرہ |
| ۶) کَرُمَ | فَعُلَ | یَفْعُلُ | کَرُمَ یَکْرُمُ | ضمہ |
ہر فعل کے ۱۳ صیغے (گردان) ہوتے ہیں۔ ترتیب یہ ہے — ہر خانہ تین حالتوں (واحد، تثنیہ، جمع) میں:
| — | تعداد |
|---|---|
| غائب مذکر + غائب مؤنث | ۳ + ۳ |
| حاضر مذکر + حاضر مؤنث | ۳ + ۲* |
| متکلم (واحد + جمع) | ۲ |
* حاضر کا تثنیہ (مذکر و مؤنث کے لیے ایک ہی صیغہ) مشترک ہونے کی وجہ سے کل مختلف صیغے ۱۳ بنتے ہیں۔ ہر گردان میں اوّل عین کی تین حرکتیں (پہلے تین صیغے) دیکھی جاتی ہیں۔
| جمع | تثنیہ | واحد | |
|---|---|---|---|
| غائب مذکر | فَعَلُوْا | فَعَلَا | فَعَلَ |
| غائب مؤنث | فَعَلْنَ | فَعَلَتَا | فَعَلَتْ |
| حاضر مذکر | فَعَلْتُمْ | فَعَلْتُمَا | فَعَلْتَ |
| حاضر مؤنث | فَعَلْتُنَّ | فَعَلْتُمَا | فَعَلْتِ |
| متکلم | فَعَلْنَا | فَعَلْتُ | |
ماضی مجہول = وہی گردان، مگر وزن فُعِلَ (فُعِلَ، فُعِلَا، فُعِلُوْا … فُعِلْنَا)۔
| جمع | تثنیہ | واحد | |
|---|---|---|---|
| غائب مذکر | یَفْعُلُوْنَ | یَفْعُلَانِ | یَفْعُلُ |
| غائب مؤنث | یَفْعُلْنَ | تَفْعُلَانِ | تَفْعُلُ |
| حاضر مذکر | تَفْعُلُوْنَ | تَفْعُلَانِ | تَفْعُلُ |
| حاضر مؤنث | تَفْعُلْنَ | تَفْعُلَانِ | تَفْعُلِیْنَ |
| متکلم | نَفْعُلُ | أَفْعُلُ | |
مضارع مجہول = وزن یُفْعَلُ (یُفْعَلُ، یُفْعَلَانِ، یُفْعَلُوْنَ …)۔ کچھ صیغے آپس میں مشترک ہوتے ہیں (جیسے واحد مؤنث غائب = واحد مذکر حاضر = تَفْعُلُ)۔
| جمع | تثنیہ | واحد | |
|---|---|---|---|
| مذکر | اِفْعُلُوْا | اِفْعُلَا | اِفْعُلْ |
| مؤنث | اِفْعُلْنَ | اِفْعُلَا | اِفْعُلِیْ |
امر بنانے کا طریقہ: مضارع سے علامت (تَـ) ہٹا کر آخر کو ساکن کریں، شروع میں ہمزۂ وصل لگائیں (عین مضموم ہو تو ہمزہ مضموم، ورنہ مکسور)۔ امرِ غائب/متکلم کے لیے لامِ امر: لِیَفْعُلْ (وہ کرے)۔
نہی (منع): لَا + مضارع مجزوم → لَا تَفْعُلْ (مت کرو)۔ گردان: لَا تَفْعُلْ، لَا تَفْعُلَا، لَا تَفْعُلُوْا …
| حرف | کام | اثر | مثال |
|---|---|---|---|
| مَا | نفی (ماضی/حال) | — | مَا فَعَلَ |
| لَا | نفی (حال/مستقبل) | — | لَا یَفْعُلُ |
| لَنْ | نفیِ تاکید (مستقبل) | نصب | لَنْ یَفْعُلَ |
| لَمْ | نفیِ جحد (ماضی بنا دے) | جزم | لَمْ یَفْعُلْ |
| لَمَّا | "ابھی تک نہیں" | جزم | لَمَّا یَفْعُلْ |
| لِـ | لامِ امر (غائب/متکلم) | جزم | لِیَفْعُلْ |
| اسمِ مشتق | وزن (ثلاثی مجرد سے) | مطلب | مثال |
|---|---|---|---|
| اسم فاعل | فَاعِل | کام کرنے والا | ضَارِب، نَاصِر |
| اسم مفعول | مَفْعُول | جس پر کام ہوا | مَضْرُوب، مَنْصُور |
| اسم تفضیل | أَفْعَل | زیادتی/برتری | أَکْبَر، أَفْضَل |
| صفت مشبہہ | فَعِیل، فَعِل، أَفْعَل… | پائیدار/دائمی صفت | حَسَن، کَرِیم، أَحْمَر |
| اسم آلہ | مِفْعَل، مِفْعَلَة، مِفْعَال | اوزار/آلہ | مِنْصَر، مِنْصَرَة، مِنْصَار |
| اسم ظرف | مَفْعَل / مَفْعِل | کام کی جگہ یا وقت | مَنْصَر |