علم الصیغہ — آسان نوٹس

تیاری کے لیے سہل، صاف اور تصویری نوٹس

اشتقاق • صرف • صیغے و گردانیں • مشتقات

فہرست

📊
باب اور گردانوں کا خاکہ
صرف کا مکمل interactive خاکہ — تمام ابواب، گردانیں، اور اشتقاق ایک نظر میں دیکھیں
کھولیں ←

مقدمہ — علم الصیغہ کیا ہے؟

یہ کتاب "علم الصیغہ" دراصل دو علموں کا مجموعہ ہے، اور یہ دونوں الگ الگ فن ہیں:

علم الصرف
+
علم الاشتقاق
=
علم الصیغہ

دونوں آپس میں بہت ملتے جلتے ہیں، اور اشتقاق کے قواعد بہت تھوڑے ہیں — اِسی لیے مصنفین انہیں ایک ہی کتاب میں اکٹھا لکھ دیتے ہیں۔

غلط فہمی سے بچیں: چونکہ دونوں ساتھ پڑھائے جاتے ہیں، بعض لوگ انہیں ایک ہی چیز سمجھ بیٹھتے ہیں — حالانکہ یہ دو الگ فن ہیں۔

۱ ۔ علم الاشتقاق

۱ تعریف

هو علمٌ بتحویل الاصلِ الواحد الی امثلةٍ مختلفةٍ لمعانٍ مقصودة یہ وہ علم ہے جس میں ایک اصل کو مختلف صیغوں میں پھیر کر مختلف مقصود معنی نکالے جاتے ہیں

اشتقاق کا مطلب ایک تصویر سے: ایک ہی جڑ (مادہ) سے کئی الفاظ نکلتے ہیں —

ن ص ر اصلِ واحد (مادّہ) نَصَرَ ماضی یَنصُرُ مضارع اُنصُرْ امر نَاصِر اسم فاعل مَنصُور اسم مفعول
ایک مادہ « ن ص ر » → کئی مختلف صیغے

تعریف کے ہر لفظ کا مطلب:

عربی لفظآسان مطلب
تحویلپھیرنا، بدلنا، شکل بدلنا
الاصل الواحدبنیادی لفظ (مادہ) جس سے باقی الفاظ بنیں — یعنی مشتق منہ
امثلة مختلفةاُس اصل سے بننے والے مختلف صیغے / فروع
لمعانٍ مقصودہہر صیغے کا الگ مطلوبہ معنی
⭐ اہم نکتہ (امتحانی): یہ "اصل" آخر ہے کیا؟ — بصریین کے نزدیک مصدر، اور کوفیین کے نزدیک فعل ماضی۔ مصنف نے جان بوجھ کر عام لفظ "الاصل" لکھا تاکہ تعریف دونوں مذہبوں پر صحیح بیٹھے۔

"مختلفہ" کا مطلب: صیغے مادہ میں تو ایک جیسے ہوتے ہیں، مگر صورت اور معنی میں مختلف۔ مثلاً:

پہلوضَارِبمَضْرُوبنتیجہ
مادہ (جڑ)ض ر بض ر بایک جیسے ✓
وزن (صورت)فاعلمفعولمختلف ✗
معنیمارنے والاجس کو مارا گیامختلف ✗
🎯 حاصلِ تعریف: علم الاشتقاق وہ علم ہے جس سے معلوم ہو کہ ایک اصل سے ایسے صیغے کیسے بنائیں جو مادہ میں ایک جیسے اور صورت و معنی میں مختلف ہوں۔
یاد رکھنے کا فارمولا: جڑ ایک — شکل و معنی الگ الگ

۲ موضوع

موضوع = وہ چیز جس کے بارے میں علم بحث کرتا ہے۔

مفرداتُ کلامِ العرب من حیثُ الاصالةِ والفرعیةِ فی الجوهر عرب کے تنہا الفاظ — اِس اعتبار سے کہ کونسا اصل ہے، کونسا فرع

سب سے اہم بات: الفاظ تو کئی علم پڑھتے ہیں، مگر ہر ایک کا "زاویہ" الگ ہے۔ تعریف کا ہر لفظ ایک دوسرے علم کو خارج (احتراز) کرتا ہے:

مفرداتِ کلامِ عرب (تنہا الفاظ) علم النحو جملے میں استعمال علم الاشتقاق اصل یا فرع؟ علم اللغة لفظ کا معنی موضوعِ اشتقاق باقی علوم سے احتراز (خارج)
ایک ہی مادہ "الفاظ" — تین مختلف زاویے

تعریف کے الفاظ اور احترازات:

لفظکس علم کو خارج کرتا ہےکیونکہ وہ علم دیکھتا ہے…
مفرداتعلم النحوالفاظ کو جملے میں (ترکیب)
…الاصالة والفرعیةعلم اللغةالفاظ کا معنی (وضع)
فی الجوهرعلم الصرفالفاظ کی شکل/صورت
یعنی یہ تعریف جامع و مانع ہے — تینوں ملتے جلتے علوم کو الگ کر دیتی ہے۔

صرف اور اشتقاق کا باریک فرق (دونوں اصل/فرع دیکھتے ہیں، مگر کس چیز میں؟):

علم الصرف — شکل کا زاویہ

سوال: لفظ کی اصلی صورت کیا تھی؟

سَیْوِد ← سَیِّد

اصل شکل = سَیْوِد، پھر تعلیل سے بدل کر سَیِّد بنی۔

علم الاشتقاق — حروف کا زاویہ

سوال: لفظ کے اصلی حروف کونسے، زائد کونسے؟

س ، و ، د (اصلی)

اصل = سَوَدَ، فرع (مشتق) = سَیِّد۔ (مثلاً ضارب میں الف زائد)

۳ غرض و غایت

غرض: تحصیلُ ملکةٍ یُقتدَر بها علی الانتساب علی وجهِ الصواب ایسا ملکہ (پختہ صلاحیت) حاصل کرنا جس سے درست نسبت کی جا سکے

غرض کا آسان مطلب: ایسا ملکہ حاصل کرنا جس سے ہم درست بتا سکیں کہ کونسا لفظ اصل ہے اور کونسا فرع/مشتق۔

غایت: الاحترازُ عن الخللِ فی الانتساب اصل/فرع کی نسبت میں غلطی سے بچ جانا

غایت کا آسان مطلب: اِس علم کی بدولت غلطی سے بچنا۔ اگر کسی لفظ کا مشتق منہ غلط سمجھ لیا، تو الفاظ کے استعمال اور معنی دونوں میں غلطی ہوگی۔

مثال: اِسْتَغْفَرَ کا اصل غ-ف-ر ہے۔ اگر اصلی حروف غلط سمجھے، تو نہ لغت میں صحیح جگہ ملے گی، نہ معنی صحیح سمجھ آئے گا۔
ملکہ حاصل کرنا
(غرض)
درست نسبت
غلطی سے بچاؤ
(غایت)
صحیح استعمال و معنی

🔁 علم الاشتقاق — فوری دہرائی

پہلوخلاصہ
تعریفایک اصل سے کئی صیغے (مادہ ایک، صورت و معنی مختلف)
موضوعتنہا الفاظ — اصالت و فرعیت کے اعتبار سے (نحو، لغت، صرف سے الگ)
غرضاصل/فرع پہچاننے کا ملکہ
غایتنسبت میں غلطی سے بچاؤ

۲ ۔ علم الصرف

۱ تعریف

الصرف کو التصریف بھی کہتے ہیں — دونوں کے لغوی معنی ہیں: بدلنا، پھیرنا۔

هو علمٌ یُبحَثُ فیه عن الاعراضِ الذاتیةِ لمفرداتِ کلامِ العرب من حیثُ صُوَرِها وهیئاتِها کالاعلالِ والادغام یہ وہ علم ہے جس میں عربی تنہا الفاظ کے ذاتی عوارض پر، اُن کی صورت و ہیئت کے اعتبار سے بحث ہوتی ہے — جیسے اعلال و ادغام

صرف کا کام ایک نظر میں: لفظ کی شکل (صورت) قاعدے کے مطابق بدلتی ہے —

قَوَلَ
اصل صورت
اعلال
(قاعدہ لگا)
قَالَ
بدلی صورت

یعنی صرف الفاظ کی صورت پر آنے والی تبدیلیوں (عوارضِ ذاتیہ) سے بحث کرتا ہے۔ یہ تبدیلیاں اِن پانچ مشہور مباحث میں آتی ہیں:

اعلالادغامابدالقلبِ مکانیاوزان
مبحثکیا ہوتا ہے؟مثال
اعلالعلت والے حروف (و، ی، ا) میں تبدیلیقَوَلَ ← قَالَ
ادغامدو ہم جنس حروف کو ملا دینامَدَدَ ← مَدَّ
ابدالایک حرف کی جگہ دوسرا لانااِصْتَبَرَ ← اِصْطَبَرَ
قلبِ مکانیحروف کی ترتیب آگے پیچھے کرنایَئِسَ ← اَیِسَ
اوزانکلمات کے پیمانے/سانچےفَعَلَ، فَاعِل، مَفعُول

احترازات (اشتقاق کی طرح، مگر یہاں زاویہ "صورت" ہے):

لفظکس علم کو خارج کرتا ہےکیونکہ وہ دیکھتا ہے…
مفرداتعلم النحوجملے/مرکبات
…من حیث صورهاعلم اللغةلفظ کا معنی
(وہی) صورهاعلم الاشتقاقجوہر/حروف
🎯 حاصلِ تعریف: علم الصرف وہ علم ہے جس میں الفاظ کے اُن عوارضِ ذاتیہ سے بحث ہو جو صورت/شکل سے متعلق ہیں — نہ جوہر سے، نہ معنی سے۔ (مثلاً قَوَلَ ← قَالَ)

⚖️ اشتقاق اور صرف کا فرق (سب سے اہم!)

دونوں اصل/فرع دیکھتے ہیں، مگر کس چیز میں؟ — یہی فرق پکڑ لیں:

پہلوعلم الاشتقاقعلم الصرف
زاویہجوہر (حروف)صورت (شکل/ہیئت)
سوالکونسے حروف اصلی، کونسے زائد؟لفظ کی شکل کیسے بدلی؟
مثالضارب: ض ر ب اصلی، الف زائدقَوَلَ ← قَالَ
مباحثاصل/فرع کی پہچاناعلال، ادغام، ابدال، قلب، اوزان

۲ موضوع، غرض و غایت

پہلوعربیآسان مطلب
موضوعالمفردات المخصوصہ من الحیثیۃ المذکورہتنہا الفاظ — صورت کے اعتبار سے
غرضتحصیلُ ملکۃٍ…ایسا ملکہ جس سے الفاظ کے صورتی عوارض پہچانے جا سکیں
غایتالاحترازُ عن الخطأ…اِس پہچان میں غلطی سے بچاؤ
دیکھیں! صرف اور اشتقاق کا موضوع/غرض/غایت کا ڈھانچہ بالکل ایک جیسا ہے — صرف زاویہ بدل گیا (صرف میں "صورت"، اشتقاق میں "جوہر")۔

۳ ۔ فنِ صرف کا مدوّنِ اول

؟ ایک نئی تحقیق

سوال: صرف کو سب سے پہلے ایک مستقل فن کے طور پر کس نے مدوّن (مرتب) کیا؟ یہاں دو رائے ہیں:

① مشہور قول

ابو عثمان المازنیؒ (متوفی ۲۴۹ھ)

ان سے پہلے صرف الگ فن نہ تھا، بلکہ نحو کے ضمن میں آتا تھا۔ یہ قول کشف الظنون اور مفتاح السعادۃ میں ہے۔

② مصنف کی تحقیق

امام اعظم ابو حنیفہؒ (متوفی ۱۵۰ھ)

یعنی مازنی سے تقریباً ایک صدی پہلے! دلیل: ان کا صرف پر مستقل رسالہ "المقصود" (۱۹۴۰ء میں مصر سے طبع)۔

تحقیق کے دلائل:

نتیجہ: اگر یہ نسبت صحیح ہے (اور غالباً صحیح ہے) تو امام ابو حنیفہؒ فقہ کے ساتھ ساتھ صرف کے بھی مدوّنِ اول ہیں۔ واللہ اعلم

۴ ۔ مصنّفِ علم الصیغہ کے حالات

مفتی عنایت احمد صاحبؒ

یہ "علم الصیغہ" کے مصنف ہیں (اور حُسنُ الصِّیغہ اسی کا اردو ترجمہ ہے)۔ نسب: عنایت احمد بن محمد بخش بن غلام محمد بن لطف اللہ۔ ان کی زندگی ایک ٹائم لائن میں:

۱۲۲۸ھ
پیدائش — قصبہ دیوبہ (ضلع محمد آباد)۔
۱۳ سال کی عمر
رام پور آئے — سید محمد بریلویؒ سے نحو و صرف پڑھی۔
پھر
دہلی: شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ سے علمِ حدیث۔ علی گڑھ: علومِ عقلیہ کی تکمیل۔
بعد ازاں
عہدے: تدریس → مفتی → قاضی → صدر الامین (بریلی) → صدر الصدور۔
۱۸۵۷ء
جنگِ آزادی: انگریزوں کے خلاف مجاہدین کی مالی امداد کا فتویٰ دیا۔
جلا وطنی
جزیرہ انڈیمان (کالا پانی): یہیں "علم الصیغہ" سمیت کئی کتب — بغیر کسی کتاب کے، صرف حافظے سے — تصنیف کیں!
۱۲۸۷ھ
رہائی → کانپور میں مستقل قیام، مدرسہ "فیض عام" قائم کیا۔
۱۲۸۹ھ
وفات: حج کے سفر میں جدہ کے قریب جہاز ڈوب گیا — مفتی صاحب اور رفقاء غرق ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
💡 سب سے یادگار بات: "علم الصیغہ" جیسی کتاب "کالا پانی" کی جلاوطنی میں، بغیر کسی کتاب کے، صرف غیر معمولی یادداشت کے بل پر لکھی گئی!

چند مشہور تصانیف (کل ~۱۸):

علم الفرائضعلم الصیغہالدر الفرید اخلاق المجیبخجستہ بہارترجمہ تقویم البلدان

نمایاں شاگرد: ① مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ   ② مولانا سید حسین شاہ بخاریؒ

۵ ۔ مقدمہ: تقسیمِ کلمہ

کلمہ اور اس کی تین قسمیں

کلمہ = ایک بامعنیٰ لفظ۔ اس کی تین قسمیں ہیں:

کلمہ اِسم بغیر زمانہ — رَجُل فعل زمانے کے ساتھ — ضَرَبَ حرف دوسرے کے ساتھ — مِنْ
قسمپہچانمثال
اِسمبامعنیٰ، مگر زمانے سے آزادرَجُل، ضَارِب
فعلمعنیٰ + زمانہ (ماضی/حال/مستقبل)ضَرَبَ، یَضْرِبُ
حرفمعنیٰ صرف دوسرے لفظ کے ساتھمِنْ، هَلْ

فعل کی اقسام (چار اعتبار سے)

① بلحاظِ زمانہ — فعل کی تین قسمیں:

فعل بلحاظِ زمانہ ماضی گزرا وقت — ضَرَبَ مضارع حال/مستقبل — یَضْرِبُ امر حکم — اِضْرِبْ

② بلحاظِ آواز (کام کس کی طرف؟):

قسمنسبتمثال
معروف (active)کام کرنے والے (فاعل) کی طرفضَرَبَ — مارا
مجہول (passive)جس پر کام ہوا (مفعول) کی طرفضُرِبَ — مارا گیا

نوٹ: ثبوت پر دلالت کرے تو اثبات (ضَرَبَ)، اور نفی پر دلالت کرے تو نفی (مَا ضَرَبَ)۔ امر عموماً معروف ہی ہوتا ہے۔

③ بلحاظِ حروفِ اصلیہ: ثلاثی (۳ حروف، جیسے نَصَرَ) اور رباعی (۴ حروف، جیسے بَعْثَرَ)۔ پھر ہر ایک یا تو مجرد (کوئی زائد حرف نہیں) یا مزید فیہ (زائد حرف موجود)۔

قسممثال
ثلاثی مجردنَصَرَ
ثلاثی مزید فیہاَکْرَمَ، اِجْتَنَبَ
رباعی مجردبَعْثَرَ
رباعی مزید فیہتَشَیْطَنَ، اِبْرَنْشَقَ

④ بلحاظِ نوعِ حروف (۷ خاص قسمیں): حروفِ علت = و ا ی (مجموعہ "وَای")۔

قسمپہچانمثال
صحیحنہ ہمزہ، نہ علت، نہ تکرارنَصَرَ
مہموزکوئی اصلی حرف ہمزہأَمَرَ، سَأَلَ، قَرَأَ
مثال (معتل الفاء)پہلا حرف علتوَعَدَ
اجوف (معتل العین)درمیانی حرف علتقَالَ
ناقص (معتل اللام)آخری حرف علتدَعَا، رَمَی
لفیفدو حرفِ علتطَوَی، وَقَی
مضاعفدو اصلی حرف ہم جنسمَدَّ، فَرَّ

یاد رکھنے کا شعر: صحیح است و مثال است و مضاعف  |  لفیف و ناقص و مہموز و اجوف

اسم کی اقسام

قسمپہچانمثال
مصدرکام پر دلالت؛ فارسی ترجمہ "دن/تن" پر ختمالضَّرْب = زدن
مشتقفعل سے نکلا ہواضَارِب، مَنْصُور
جامدنہ مصدر، نہ مشتقرَجُل، جَعفَر

چونکہ فعل میں تبدیلیاں (تصریفات) سب سے زیادہ ہوتی ہیں، اسم میں کم اور حرف میں بالکل نہیں — اس لیے علمِ صرف کی توجہ زیادہ تر فعل پر رہتی ہے۔

۶ ۔ باب اوّل: صیغے و گردانیں

چھ ابوابِ ثلاثی مجرد (سب سے اہم جدول)

فعل ماضی تین وزن (فَعَلَ، فَعِلَ، فَعُلَ) پر آتا ہے، اور مضارع کے فرق سے چھ باب بنتے ہیں:

بابماضیمضارعمثالعینِ مضارع
۱) نَصَرَفَعَلَیَفْعُلُنَصَرَ یَنْصُرُضمہ
۲) ضَرَبَفَعَلَیَفْعِلُضَرَبَ یَضْرِبُکسرہ
۳) فَتَحَفَعَلَیَفْعَلُفَتَحَ یَفْتَحُفتحہ
۴) سَمِعَفَعِلَیَفْعَلُسَمِعَ یَسْمَعُفتحہ
۵) حَسِبَفَعِلَیَفْعِلُحَسِبَ یَحْسِبُکسرہ
۶) کَرُمَفَعُلَیَفْعُلُکَرُمَ یَکْرُمُضمہ
یاد رکھیں: ماضی مجہول ہمیشہ فُعِلَ اور مضارع مجہول ہمیشہ یُفْعَلُ کے وزن پر — چھوں ابواب میں ایک ہی۔

گردانوں کا نظام

ہر فعل کے ۱۳ صیغے (گردان) ہوتے ہیں۔ ترتیب یہ ہے — ہر خانہ تین حالتوں (واحد، تثنیہ، جمع) میں:

تعداد
غائب مذکر + غائب مؤنث۳ + ۳
حاضر مذکر + حاضر مؤنث۳ + ۲*
متکلم (واحد + جمع)۲

* حاضر کا تثنیہ (مذکر و مؤنث کے لیے ایک ہی صیغہ) مشترک ہونے کی وجہ سے کل مختلف صیغے ۱۳ بنتے ہیں۔ ہر گردان میں اوّل عین کی تین حرکتیں (پہلے تین صیغے) دیکھی جاتی ہیں۔

گردان: ماضی معروف

جمعتثنیہواحد
غائب مذکرفَعَلُوْافَعَلَافَعَلَ
غائب مؤنثفَعَلْنَفَعَلَتَافَعَلَتْ
حاضر مذکرفَعَلْتُمْفَعَلْتُمَافَعَلْتَ
حاضر مؤنثفَعَلْتُنَّفَعَلْتُمَافَعَلْتِ
متکلمفَعَلْنَافَعَلْتُ

ماضی مجہول = وہی گردان، مگر وزن فُعِلَ (فُعِلَ، فُعِلَا، فُعِلُوْا … فُعِلْنَا)۔

گردان: مضارع معروف (بابِ نصر — یَفْعُلُ)

جمعتثنیہواحد
غائب مذکریَفْعُلُوْنَیَفْعُلَانِیَفْعُلُ
غائب مؤنثیَفْعُلْنَتَفْعُلَانِتَفْعُلُ
حاضر مذکرتَفْعُلُوْنَتَفْعُلَانِتَفْعُلُ
حاضر مؤنثتَفْعُلْنَتَفْعُلَانِتَفْعُلِیْنَ
متکلمنَفْعُلُأَفْعُلُ

مضارع مجہول = وزن یُفْعَلُ (یُفْعَلُ، یُفْعَلَانِ، یُفْعَلُوْنَ …)۔ کچھ صیغے آپس میں مشترک ہوتے ہیں (جیسے واحد مؤنث غائب = واحد مذکر حاضر = تَفْعُلُ)۔

گردان: امر (حاضر، معروف) — اِفْعُلْ

جمعتثنیہواحد
مذکراِفْعُلُوْااِفْعُلَااِفْعُلْ
مؤنثاِفْعُلْنَاِفْعُلَااِفْعُلِیْ

امر بنانے کا طریقہ: مضارع سے علامت (تَـ) ہٹا کر آخر کو ساکن کریں، شروع میں ہمزۂ وصل لگائیں (عین مضموم ہو تو ہمزہ مضموم، ورنہ مکسور)۔   امرِ غائب/متکلم کے لیے لامِ امر: لِیَفْعُلْ (وہ کرے)۔

نفی اور مضارع پر آنے والے حروف

نہی (منع): لَا + مضارع مجزوم → لَا تَفْعُلْ (مت کرو)۔ گردان: لَا تَفْعُلْ، لَا تَفْعُلَا، لَا تَفْعُلُوْا …

حرفکاماثرمثال
مَانفی (ماضی/حال)مَا فَعَلَ
لَانفی (حال/مستقبل)لَا یَفْعُلُ
لَنْنفیِ تاکید (مستقبل)نصبلَنْ یَفْعُلَ
لَمْنفیِ جحد (ماضی بنا دے)جزملَمْ یَفْعُلْ
لَمَّا"ابھی تک نہیں"جزملَمَّا یَفْعُلْ
لِـلامِ امر (غائب/متکلم)جزملِیَفْعُلْ
لام و نون تاکید: لَـ (لامِ تاکید) کے ساتھ نونِ ثقیلہ (ـَنَّ) یا خفیفہ (ـَنْ) لگانے سے مضارع زوردار بن جاتا ہے (مستقبل کے معنیٰ میں): لَیَفْعُلَنَّ / لَیَفْعُلَنْ = "وہ ضرور کرے گا"۔

۷ ۔ فصلِ دوم: اسماءِ مشتقہ

فعل سے بننے والے چھ مشتق

اسمِ مشتقوزن (ثلاثی مجرد سے)مطلبمثال
اسم فاعلفَاعِلکام کرنے والاضَارِب، نَاصِر
اسم مفعولمَفْعُولجس پر کام ہوامَضْرُوب، مَنْصُور
اسم تفضیلأَفْعَلزیادتی/برتریأَکْبَر، أَفْضَل
صفت مشبہہفَعِیل، فَعِل، أَفْعَل…پائیدار/دائمی صفتحَسَن، کَرِیم، أَحْمَر
اسم آلہمِفْعَل، مِفْعَلَة، مِفْعَالاوزار/آلہمِنْصَر، مِنْصَرَة، مِنْصَار
اسم ظرفمَفْعَل / مَفْعِلکام کی جگہ یا وقتمَنْصَر
مصدر کے بارے میں: ثلاثی مجرد کے مصدروں کا کوئی مقررہ وزن نہیں (سماعی ہیں — سن کر یاد کرنے ہوتے ہیں)۔ البتہ غیر ثلاثی (مزید فیہ و رباعی) کے مصدر مقرر ہیں۔ (ثلاثی مجرد کے اوزان ایک نظم میں آگے آئیں گے)۔