بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم

فوائد مکیہ — مکمل نوٹس

مقدمہ + فصل اول + فصل ثانی — تمام اہم مواد ایک جگہ

فہرست

حصہ اول — مقدمہ الکتاب (تجوید کی تعریف) حصہ دوم — فصل اول: استعاذہ اور بسملہ حصہ سوم (الف) — فصل ثانی: حروف کی اقسام (چارٹ) حصہ سوم (ب) — حروف کی اقسام: تفصیلی نوٹس حصہ چہارم — فصل ثانی: مخارج کے بیان میں

حصہ اول — مقدمۃ الکتاب

تجوید کی تعریف، اہمیت، اور لحن کی اقسام

تجوید کیوں ضروری ہے؟
قرآن مجید کو قواعدِ تجوید کے ساتھ پڑھنا نہایت ضروری ہے۔ اگر تجوید کے بغیر پڑھا جائے تو پڑھنے والا خطاکار کہلائے گا۔
اہم الفاظ کے معنی
تجوید
ہر حرف کو اس کے مخرج (نکلنے کی جگہ) سے اور اس کی تمام صفات کے ساتھ ادا کرنا۔
مخرج = وہ جگہ جہاں سے حرف نکلتا ہے، جیسے ہونٹ، دانت، زبان وغیرہ۔
موضوع
حروفِ قرآن اور ان کی تصحیح (درست کرنا) کرنا ہے۔
غایت (مقصد)
حروف کو صحیح پڑھنا اور خوش آوازی سے پڑھنا۔
غایت = مقصد، وجہ — یعنی ہم تجوید کیوں پڑھتے ہیں؟ تاکہ قرآن صحیح اور خوبصورت پڑھیں۔
غلطیوں کی دو اقسام
قسم نام کیا ہے؟ حکم
١ لَحْن جَلِی
(واضح غلطی)
بڑی اور صاف غلطی — جیسے حرف بدل دینا، کم کرنا، یا حرکت میں غلطی کرنا حرام — گناہ
٢ لَحْن خَفِی
(چھپی غلطی)
چھوٹی اور پوشیدہ غلطی — جیسے حرف کی کوئی صفت چھوٹ جائے مکروہ — برا ہے
تجوید کے احکامات
صورت حکم
تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا واجب — لازمی
لحنِ خفی (چھوٹی غلطی) مکروہ
لحنِ جلی (بڑی غلطی) حرام
قرآن پڑھنا اور سننا دونوں کا ایک ہی حکم ہے

حصہ دوم — فصل اول

استعاذہ اور بسملہ کے بیان میں

اہم الفاظ کے معنی
لفظ معنی سادہ سمجھ
باب جہاں کئی طرح کے مضامین ہوں کتاب کا ایک بڑا حصہ
فصل ایک خاص موضوع کو الگ کر کے بیان کرنا باب کے اندر ایک چھوٹا حصہ
استعاذہ / تعوذ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنا أَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيم پڑھنا
بسملہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم پڑھنا ہر سورت سے پہلے پڑھنا
مستحب جو کرنے سے ثواب ملے، نہ کرنے سے گناہ نہ ہو بہت اہم سنت
واجب جو کرنا لازمی ہو ضرور کرنا ہے
مکروہ جو کرنا برا ہو لیکن حرام نہ ہو نہیں کرنا چاہیے
استعاذہ کا حکم
قرآن شروع کرنے سے پہلے استعاذہ پڑھنا مستحب ہے (واجب نہیں)۔
بہترین الفاظ: أَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيم
رَجِیم = دھتکارا ہوا، ملعون۔ مستحب = ضرور پڑھو لیکن واجب نہیں۔
اعوذ اور بسم اللہ پڑھنے کی چار صورتیں
# صورت کیا کریں؟ حکم
١ فصل کل اعوذ پڑھ کر رکو، بسم اللہ پڑھ کر رکو، پھر سورت جائز
٢ وصل کل تینوں کو ملا کر ایک ساتھ پڑھو جائز
٣ فصل اول وصل ثانی اعوذ سے رکو، پھر بسم اللہ اور سورت ملاؤ جائز
٤ وصل اول فصل ثانی اعوذ اور بسم اللہ ملاؤ، پھر سورت سے رکو جائز نہیں
سورۃ براءت اور بسم اللہ
سورۃ براءت میں بسم اللہ نہیں:
سورۃ براءت (توبہ) کے شروع میں بالاتفاق بسم اللہ نہیں پڑھی جاتی۔
وجہ: بسم اللہ رحمت کی آیت ہے، اور سورۃ براءت غضب کی آیت سے شروع ہوئی — اس لیے دونوں کو جمع نہیں کرتے۔
قراءت کے دوران اہم باتیں
صورت کیا کریں؟
قراءت کے دوران اجنبی بات ہو جائے استعاذہ دوبارہ پڑھیں
جہری قراءت (اونچی آواز) استعاذہ بھی اونچی آواز سے
سری قراءت (آہستہ) استعاذہ بھی آہستہ — دل میں بھی ہو سکتا ہے
قراءت میں رکاوٹ آئے دوبارہ استعاذہ کریں

حصہ سوم — فصل ثانی

حروف کی اقسام کے بیان میں

حروف کی 13 اقسام — ایک نظر میں
# قسم کا نام حروف سادہ سمجھ
١ اَشِدّ طلق (سب سے نرم) الف، ہمزہ، ھاء بالکل نرم، ہوا جیسے نکلتے ہیں
٢ وسطی طلق (درمیانے نرم) ع، ح نرم، لیکن پہلی سے تھوڑا سخت
٣ ادنیٰ طلق (سخت نرم) غین، خاء نرم لیکن تھوڑی سختی ہے
٤ متوسط (درمیانی) قاف، الف، واؤ نہ نرم نہ سخت — بیچ میں
٥ تاف (سخت) ظاء سخت، زبان میں تھکاوٹ
٦ وسطلان جیم، شین، یاء درمیانی — متوازن
٧ زبان کے محافظ دال، ضاد زبان کی حفاظت کرتے ہیں
٨ زبان میں جگہ والے راء، لام، ڈال زبان میں گہرائی سے نکلتے ہیں
٩ زبان کی نوک سے ط، د، ت زبان کی نوک + اوپر کے دانت
١٠ اوپر کے دانتوں سے ط، د، ت اوپر کے دانتوں کے انداز سے
١١ درمیانی نوک سے ص، ز، س درمیانی نوک + درمیانی دانت
١٢ نیچے کے ہونٹ سے ف نیچے کا ہونٹ + اوپر کے دانت
١٣ دونوں ہونٹوں سے ب، م، و دونوں ہونٹ آپس میں ملتے ہیں
١٤ خیشوم (ناک) نون مخفی، مد مع اخفاء ناک سے غنہ کی آواز نکلتی ہے
حروف کی صفتیں (خصوصیات)
صفت کا نام معنی مثال کے حروف
شِدّت (سختی) حرف سخت اور مضبوط ہے ب، ت، ج، د، ض، ط، ق، ک
رِخاوت (نرمی) حرف نرم اور ہلکا ہے الف، ع، غ، ف، ہ
توسط (درمیانی) نہ بہت سخت نہ بہت نرم ل، ن، ر، م، و
جَہر (واضح) آواز صاف اور مکمل نکلتی ہے ب، ج، د، ض، ع، ق، ل، م، ن، ر
ہَمس (خفیف) آواز ہلکی اور دبی ہوئی ف، ح، ث، ہ، ش، خ، س، ت، ص
استعلاء (اوپر) آواز منہ کے اوپری حصے سے ص، ض، ط، ظ، غ، خ، ق
استفال (نیچے) آواز منہ کے نیچے سے باقی تمام حروف
اطباق (بند کرنا) زبان اور تالو آپس میں ملتے ہیں ص، ض، ط، ظ

حصہ سوم (ب) — حروف کی اقسام — تفصیلی نوٹس

ہر قسم الگ سمجھائی گئی ہے — مثالوں کے ساتھ

١ اَشِدّ طلق — سب سے نرم حروف
کون سے حروف؟
الف ہمزہ ھاء
خصوصیت: یہ حروف بالکل نرم ہیں۔ انہیں سب سے کم زور لگتا ہے۔
سمجھنے کے لیے: جیسے ہوا بہت خفیف ہوتی ہے — انہیں بھی ایسے ہی ادا کرو۔ کوئی سختی نہ ہو، بس نرمی سے نکالو۔
٢ وسطی طلق — درمیانے نرم
کون سے حروف؟
ع ح
خصوصیت: پہلی قسم سے تھوڑا سخت، لیکن پھر بھی نرم ہیں۔
یاد رکھو: وسطی = درمیان میں۔ یعنی نرمی اور سختی دونوں کے بیچ میں۔
٣ ادنیٰ طلق — سب سے سخت نرم
کون سے حروف؟
غین خاء
خصوصیت: یہ نرم تو ہیں، لیکن اوپر والوں سے زیادہ سخت ہیں۔
مثال: "غ" اور "خ" کو نرمی کے ساتھ، لیکن ہلکی سختی کے ساتھ نکالو۔
٤ متوسط — درمیانی قسم
کون سے حروف؟
قاف الف واؤ
خصوصیت: نہ بہت نرم، نہ بہت سخت — بالکل درمیان میں۔
یاد رکھو: متوسط = بیچ میں۔ توازن رکھتے ہیں۔
٥ تاف — سخت حروف
کون سے حروف؟
ظاء
خصوصیت: یہ سخت ہیں اور زبان میں تھکاوٹ آتی ہے۔
سمجھو: جب "ظ" بولو تو زبان زور لگاتی ہے — اسی لیے سخت کہلاتے ہیں۔
٦ وسطلان — درمیانی سختی
کون سے حروف؟
جیم شین یاء
خصوصیت: نہ بہت نرم، نہ بہت سخت — بیچ میں ہیں۔
سادہ الفاظ: وسطلان = درمیانی نرمی والے۔ توازن سے بولو۔
٧ زبان کے محافظ
کون سے حروف؟
دال ضاد
خصوصیت: یہ حروف زبان کی ایک جگہ محفوظ رکھتے ہیں۔
سمجھو: حفاظت = محفوظ رکھنا۔ یہ حروف زبان کو اپنی جگہ پر رکھتے ہیں۔
٨ زبان میں جگہ والے (ظرفِ لسان)
کون سے حروف؟
راء لام نون
خصوصیت: یہ حروف زبان کے اندر جگہ رکھتے ہیں — ان سے زبان میں گہرائی آتی ہے۔
یاد رکھو: ظرف = برتن، جگہ۔ یہ حروف زبان میں جگہ لیتے ہیں۔
٩ زبان کی نوک سے نکلنے والے
کون سے حروف؟
ط د ت
خصوصیت: زبان کی نوک (سرے) سے نکلتے ہیں اور اوپر کے دانتوں سے لگتے ہیں۔
مثال: جب "ت" بولو تو زبان کی نوک اوپر کے دانتوں سے لگ جاتی ہے۔
١٠ اوپر کے دانتوں کے کنارے سے
کون سے حروف؟
ظ ذ ث
خصوصیت: زبان کی نوک اوپر کے دانتوں کے کنارے سے لگ کر نکالتے ہیں۔
سادہ الفاظ: کنارہ = دانتوں کا باہری حصہ۔ زبان باہر کی طرف نکل کر لگتی ہے۔
١١ درمیانی نوک سے — نیچے کے دانتوں کے ساتھ
کون سے حروف؟
ص ز س
خصوصیت: زبان کی درمیانی نوک نیچے کے دانتوں سے ملا کر نکالتے ہیں۔
مثال: "س" بولتے وقت زبان نیچے کے دانتوں کے ساتھ ہلکی سی رگڑ ہوتی ہے۔
١٢ نیچے کے ہونٹ سے
کون سے حروف؟
ف
خصوصیت: نیچے کا ہونٹ اوپر کے دانتوں کے کنارے سے لگا کر نکالتے ہیں۔
یاد رکھو: "ف" بولتے وقت نیچے کا ہونٹ اوپر کے دانتوں سے لگتا ہے۔
١٣ دونوں ہونٹوں سے
کون سے حروف؟
ب م و
خصوصیت: یہ تینوں حروف دونوں ہونٹوں کو ملا کر نکالتے ہیں۔
مثال: "ب" بولتے وقت دونوں ہونٹ آپس میں ملتے ہیں پھر الگ ہوتے ہیں۔
١٤ خیشوم — ناک سے
کون سے حروف؟
نون مخفی مدّ مع اخفاء
خصوصیت: ناک سے غنہ کی آواز نکلتی ہے — یہ زبان یا ہونٹ سے نہیں بلکہ ناک سے ہے۔
یاد رکھو: خیشوم = ناک کا اندرونی حصہ۔ غنہ = ناک کی گنگناہٹ والی آواز۔

حصہ چہارم — فصل ثانی: مخارج کے بیان میں

مخرج کیا ہے اور حروف کہاں سے نکلتے ہیں؟

مخرج کیا ہوتا ہے؟
مخرج
وہ جگہ جہاں سے حرف نکلتا ہے — جیسے ہونٹ، دانت، زبان، حلق یا ناک۔
مخرج = نکلنے کی جگہ۔ جیسے "ب" ہونٹوں سے نکلتا ہے — تو ہونٹ اس کا مخرج ہے۔
مخارج حروف کے چودہ (14) ہیں — یعنی منہ کی 14 مختلف جگہوں سے حروف نکلتے ہیں۔
14 مخارج — مکمل چارٹ
# مخرج کا نام کہاں سے؟ حروف
١ اَقصٰی حلق حلق (گلے) کی سب سے گہری جگہ سے ء، ہ، ا
٢ وسطِ حلق حلق کے درمیان سے ع، ح
٣ ادنیٰ حلق حلق کی سب سے اوپر والی جگہ سے غ، خ
٤ اقصٰی لسان زبان کی جڑ اور اوپر کا تالو ق
٥ قاف کے مخرج سے ذرا آگے قاف کی جگہ سے تھوڑا آگے — ق اور ک قریب ہیں اس لیے انہیں حروفِ لہویہ کہتے ہیں ک
٦ وسطِ لسان زبان کے درمیان سے ج، ش، ی
٧ حافۂ لسان زبان کا کنارہ اور ڈاڑھوں کی جڑ ض
٨ طرفِ لسان زبان کا سرا اور دانتوں کی جڑ ل، ن، ر
٩ نوکِ زبان + ثنایا علیا کی جڑ زبان کی نوک اور اوپر کے سامنے کے دانتوں کی جڑ ط، د، ت
١٠ نوکِ زبان + ثنایا علیا کا کنارہ زبان کی نوک اور اوپر کے دانتوں کے کنارے سے ظ، ذ، ث
١١ نوکِ زبان + ثنایا سفلیٰ کا اتصال زبان کی نوک اور نیچے کے دانتوں سے ملا کر ص، ز، س
١٢ نیچے کا لب + ثنایا علیا کا کنارہ نیچے کا ہونٹ اور اوپر کے دانتوں کے کنارے سے ف
١٣ دونوں لب (ہونٹ) دونوں ہونٹوں کو ملا کر ب، م، و
١٤ خیشوم (ناک) ناک سے غنہ کی آواز نون مخفی، مدّ مع اخفاء
مخارج کو سمجھنے کا آسان طریقہ
حصہ جگہ نکلنے والے حروف
حلق (گلا) گلے کی تین جگہیں — گہری، درمیان، اوپر ء، ہ، ا، ع، ح، غ، خ
لسان (زبان) زبان کی جڑ، درمیان، کنارہ، نوک ق، ک، ج، ش، ی، ض، ل، ن، ر، ط، د، ت، ظ، ذ، ث، ص، ز، س
شفتان (ہونٹ) نیچے کا ہونٹ + دانت، یا دونوں ہونٹ ف، ب، م، و
خیشوم (ناک) ناک کا اندرونی حصہ غنہ (نون مخفی وغیرہ)
فائدہ — حروفِ لہویہ:
قاف (ق) اور کاف (ک) کو حروفِ لہویہ کہتے ہیں کیونکہ یہ دونوں قریبی جگہ سے نکلتے ہیں — قاف زبان کی جڑ سے اور کاف اس سے تھوڑا آگے سے۔
لہات = گلے کی وہ گوشت جو منہ کے پچھلے حصے میں لٹکی ہوتی ہے — وہاں کے قریب سے یہ دونوں نکلتے ہیں۔
فائدہ — الف اور ہمزہ کا مخرج:
فرّاء کے مذہب میں الف اور ہمزہ کا مخرج ایک ہے۔ الف چونکہ جوفِ حلق سے نکلتا ہے اس لیے اسے حلقیہ نہیں بلکہ جوفیہ یا ہوائیہ کہتے ہیں۔
جوف = خالی جگہ۔ الف کو منہ کی خالی جگہ سے بھی نکالا جاتا ہے اس لیے جوفیہ کہتے ہیں۔