دَرسِ نظامی · علمِ نحو

هِدَايَةُ النَّحْو

اَلْمُقَدّمہ — لفظی و بامحاورہ ترجمہ کے ساتھ تفصیلی و آسان نوٹس
📖 ۳ فُصولنحو · کلمہ · کلاملفظی ترجمہ + ترجمہ + تشریح
۰

اَلْمُقَدّمہمقدمہ کا تعارف — کتاب کیوں مقدمے سے شروع ہو رہی ہے؟

متن

أَمَّا المُقَدِّمَة: فَفِي المَبَادِي الَّتِي يَجِبُ تَقْدِيمُهَا لِتَوَقُّفِ المَسَائِلِ عَلَيْهَا، وَفِيهَا فُصُولٌ ثَلَاثَةٌ۔

لفظی ترجمہ
أَمَّابہرحال
المُقَدِّمَةمقدمہ
فَفِيپس بارے میں
المَبَادِيبنیادی باتیں
الَّتِيجو
يَجِبُضروری ہے
تَقْدِيمُهَاپہلے بیان کرنا
لِتَوَقُّفِموقوف ہونے سے
المَسَائِلِمسائل کا
عَلَيْهَااُن پر
وَفِيهَااور اس میں
فُصُولٌفصلیں
ثَلَاثَةٌتین
ترجمہ
جہاں تک مقدمے کا تعلق ہے، تو وہ اُن بنیادی باتوں (مبادی) کے بیان میں ہے جن کا پہلے ذکر کرنا ضروری ہے، کیونکہ (کتاب کے اصل) مسائل اِنہی پر موقوف ہیں۔ اور اِس مقدمے میں تین فصلیں ہیں۔
تشریح

مقدمہ اُس ابتدائی حصے کو کہتے ہیں جو کتاب کے اصل مضمون سے پہلے لایا جاتا ہے تاکہ آگے کی باتیں سمجھنے میں آسانی ہو۔ مبادی وہ بنیادی باتیں ہیں جن کو جانے بغیر آگے کے مسائل سمجھ میں نہیں آتے۔

اِس مقدمے کی تین فصلیں

  • فصلِ اوّل: اَلنَّحو — تعریف، غرض اور موضوع۔
  • فصلِ دوم: اَلْکَلِمَة — کلمہ اور اس کی تین قسمیں۔
  • فصلِ سوم: اَلْکَلام — کلام/جملہ اور اسناد۔
فصل ۱

اَلنَّحْوعلمِ نحو کی تعریف، غرض اور موضوع

متن — نحو کی تعریف

النَّحْوُ: عِلْمٌ بِأُصُولٍ يُعْرَفُ بِهَا أَحْوَالُ أَوَاخِرِ الكَلِمِ الثَّلَاثِ مِنْ حَيْثُ الإِعْرَابُ وَالبِنَاءُ، وَكَيْفِيَّةُ تَرْكِيبِ بَعْضِهَا مَعَ بَعْضٍ۔

لفظی ترجمہ
النَّحْوُنحو
عِلْمٌایک علم ہے
بِأُصُولٍاصولوں والا
يُعْرَفُپہچانے جاتے ہیں
بِهَاجن سے
أَحْوَالُحالات
أَوَاخِرِآخری حصے
الكَلِمِکلمات کے
الثَّلَاثِتینوں
مِنْ حَيْثُاس اعتبار سے
الإِعْرَابُاعراب
وَالبِنَاءُاور بِنا
وَكَيْفِيَّةُاور طریقہ
تَرْكِيبِجوڑنے کا
بَعْضِهَا مَعَ بَعْضٍبعض کو بعض سے
ترجمہ
نحو ایسا علم ہے جو ایسے اصولوں پر مشتمل ہے جن کے ذریعے کلمات کی تینوں قسموں کے آخری حصّوں کے حالات معلوم ہوتے ہیں — اعراب اور بِنا کے اعتبار سے — اور یہ بھی کہ اُن کو ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جوڑا جاتا ہے۔
تشریح — تعریف کو ٹکڑوں میں سمجھیں
  • عِلمٌ بِأصول — نحو ایک باقاعدہ اصول و قواعد پر مبنی علم ہے۔
  • أحوالُ أواخرِ الکَلِم — کلمے کے آخری حرف کی حالت: زبر ـَ، زیر ـِ، پیش ـُ، جزم ـْ۔
  • الإعراب والبِنااعراب (عامل بدلنے سے حرکت بدلے) اور بِنا (حرکت ہمیشہ ایک ہی رہے)۔
  • کیفیّةُ ترکیب — کلموں کو جوڑ کر درست جملہ بنانا۔
فائدہ
نحو دو چیزیں سکھاتا ہے: (۱) ہر کلمے کے آخر پر کیا حرکت آئے گی، اور (۲) کلموں کو ملا کر صحیح جملہ کیسے بنے۔
متن — نحو کی غرض

وَالغَرَضُ مِنْهُ: صِيَانَةُ الذِّهْنِ عَنِ الخَطَأِ اللَّفْظِيِّ فِي كَلَامِ العَرَبِ۔

لفظی ترجمہ
وَالغَرَضُاور مقصد
مِنْهُاس سے
صِيَانَةُبچانا
الذِّهْنِذہن کو
عَنِ الخَطَأِغلطی سے
اللَّفْظِيِّلفظی
فِي كَلَامِ العَرَبِعرب کے کلام میں
ترجمہ
اور اِس (علمِ نحو) کا مقصد یہ ہے کہ عرب کے کلام میں ذہن کو لفظی غلطی سے بچایا جائے۔
تشریح

لفظی غلطی یعنی کلمے کے آخر پر غلط حرکت لگانا یا الفاظ کو غلط ترتیب سے جوڑنا — مثلاً جہاں زبر چاہیے وہاں زیر لگا دینا۔ اِس کے مقابلے میں معنوی غلطی کا تعلق علمِ نحو سے نہیں۔

متن — نحو کا موضوع

وَمَوْضُوعُهُ: الكَلِمَةُ وَالكَلَامُ۔

لفظی ترجمہ
وَمَوْضُوعُهُاور اس کا موضوع
الكَلِمَةُکلمہ
وَالكَلَامُاور کلام
ترجمہ
اور اِس (علمِ نحو) کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔
تشریح

موضوع وہ چیز ہے جس کے احوال پر اُس علم میں بحث ہوتی ہے۔ نحو میں کلمہ اور کلام ہی کے اعراب و ترکیب پر بات ہوتی ہے۔

فصل ۲

اَلْكَلِمَةکلمہ کی تعریف اور اس کی تین اقسام: اسم، فعل، حرف

متن — کلمہ کی تعریف

الكَلِمَةُ: لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، وَهِيَ مُنْحَصِرَةٌ فِي ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: اسْمٌ وَفِعْلٌ وَحَرْفٌ۔

لفظی ترجمہ
الكَلِمَةُکلمہ
لَفْظٌایک لفظ ہے
وُضِعَمقرر کیا گیا
لِمَعْنًىمعنی کے لیے
مُفْرَدٍاکیلے
وَهِيَاور وہ
مُنْحَصِرَةٌمحدود ہے
فِي ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍتین قسموں میں
اسْمٌاسم
وَفِعْلٌاور فعل
وَحَرْفٌاور حرف
ترجمہ
کلمہ ایسا لفظ ہے جو ایک مفرد (اکیلے) معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ اور یہ کلمہ تین قسموں میں محدود ہے: اسم، فعل اور حرف۔
تشریح
  • لفظ — منہ سے نکلنے والی آواز جو حروفِ تہجی پر مشتمل ہو۔
  • وُضِعَ — یعنی کسی معنی کے لیے مقرر کیا گیا ہو؛ بے معنی آواز کلمہ نہیں۔
  • لِمَعنًى مُفرَد — ایک اکیلے معنی کے لیے۔ "مفرد" کی قید سے جملہ نکل گیا۔
  • مُنحَصِرَة فی ثلاثة — کلمہ کی صرف تین قسمیں ہیں، چوتھی کوئی نہیں۔
متن — تین قسموں کی عقلی تقسیم

لِأَنَّهَا إِمَّا أَنْ لَا تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا، وَهُوَ: الحَرْفُ۔ أَوْ تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا وَيَقْتَرِنَ مَعْنَاهَا بِأَحَدِ الأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ، وَهُوَ الفِعْلُ۔ أَوْ تَدُلَّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا وَلَمْ يَقْتَرِنْ مَعْنَاهَا بِأَحَدِ الأَزْمِنَةِ، وَهُوَ الاسْمُ۔

ترجمہ
کیونکہ کلمہ یا تو اپنے آپ میں کسی معنی پر دلالت نہیں کرتا — یہ حرف ہے۔ یا اپنے آپ میں معنی رکھتا ہے اور اس کا معنی کسی زمانے سے ملا ہوتا ہے — یہ فعل ہے۔ یا اپنے آپ میں معنی رکھتا ہے مگر زمانے سے ملا ہوا نہیں ہوتا — یہ اسم ہے۔
کلمہ کی تین قسمیں — صرف دو سوالوں سے پہچان
اَلْكَلِمَة
سوال ۱: کیا یہ کلمہ اپنے آپ میں کوئی معنی رکھتا ہے؟
نہیں ✗
حَرْفخود معنی نہیں — مِنْ، فِی، اِلٰی
ہاں ✓
سوال ۲: کیا معنی زمانے سے ملا ہوا ہے؟
ہاں ✓فِعْلمعنی + زمانہ — ضَرَبَ
نہیں ✗اِسْممعنی، زمانہ نہیں — رَجُل
تشریح

یہ ایک عقلی تقسیم ہے جو ثابت کرتی ہے کہ قسمیں صرف تین ہی ہو سکتی ہیں۔ بنیاد دو باتوں پر: (۱) کیا کلمہ خود با معنی ہے؟ (۲) اگر ہے، تو کیا معنی کے ساتھ کوئی زمانہ بھی ہے؟

  • خود با معنی نہیںحرف (مِنْ
  • با معنی + زمانہ ساتھ → فعل (ضَرَبَ = مارا)۔
  • با معنی + زمانہ نہیںاسم (رَجُل = آدمی)۔
تین زمانے
اَلْمَاضِی (گزرا) · اَلْحَال (موجودہ) · اَلِاسْتِقْبَال (آنے والا)۔
متن — حدِّ اِسم (تعریف)

فَحَدُّ الاسْمِ: أَنَّهُ كَلِمَةٌ تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا غَيْرَ مُقْتَرِنٍ بِأَحَدِ الأَزْمِنَةِ الثَّلَاثَةِ، أَعْنِي المَاضِيَ وَالحَالَ وَالاسْتِقْبَالَ، كَـ"رَجُل" وَ"عِلْم"۔

لفظی ترجمہ
فَحَدُّ الاسْمِپس اسم کی حد
أَنَّهُیہ کہ وہ
كَلِمَةٌ تَدُلُّایسا کلمہ جو دلالت کرے
عَلَى مَعْنًىکسی معنی پر
فِي نَفْسِهَااپنے آپ میں
غَيْرَ مُقْتَرِنٍملا ہوا نہ ہو
بِأَحَدِ الأَزْمِنَةِکسی زمانے سے
أَعْنِيیعنی
المَاضِيَماضی
وَالحَالَاور حال
وَالاسْتِقْبَالَاور مستقبل
كَرَجُلجیسے "آدمی"
وَعِلْماور "علم"
ترجمہ
پس اسم کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایسا کلمہ ہے جو اپنے آپ میں کسی معنی پر دلالت کرے، اِس حال میں کہ وہ تینوں زمانوں — ماضی، حال اور مستقبل — میں سے کسی کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو۔ جیسے "رَجُل" (آدمی) اور "عِلْم"۔
تشریح

اسم کی پہچان دو شرطوں سے ہے: (۱) خود با معنی ہو، (۲) اُس معنی کے ساتھ کوئی زمانہ شامل نہ ہو۔ جیسے رَجُل کا معنی واضح ہے مگر کوئی زمانہ ساتھ نہیں — یہی چیز اسے فعل سے الگ کرتی ہے۔

⤴ یاد رکھیں
"غَیْرَ مُقْتَرِنٍ" کی قید نے فعل کو نکالا؛ اور "تَدُلُّ … فی نفسہا" کی قید نے حرف کو نکالا۔
متن — اِسم کی علامات

وَعَلَامَتُهُ: أَنْ يَصِحَّ الإِخْبَارُ عَنْهُ وَبِهِ، كَـ"زَيْدٌ قَائِمٌ"، وَالإِضَافَةُ، كَـ"غُلَامُ زَيْدٍ"، وَدُخُولُ لَامِ التَّعْرِيفِ، كَـ"الرَّجُل"، وَالجَرُّ وَالتَّنْوِينُ نَحْوُ: "بِزَيْدٍ"، وَالتَّثْنِيَةُ وَالجَمْعُ وَالنَّعْتُ وَالتَّصْغِيرُ وَالنِّدَاءُ، فَإِنَّ كُلَّ هَذِهِ مِنْ خَوَاصِّ الاسْمِ۔

لفظی ترجمہ
وَعَلَامَتُهُاور اس کی علامت
أَنْ يَصِحَّیہ کہ درست ہو
الإِخْبَارُ عَنْهُاس کے بارے میں خبر
وَبِهِاور اس کے ذریعے
الإِضَافَةُاضافت
لَامِ التَّعْرِيفِلامِ تعریف (الـ)
الجَرُّجر (زیر)
وَالتَّنْوِينُاور تنوین
التَّثْنِيَةُتثنیہ (دو)
وَالجَمْعُاور جمع
وَالنَّعْتُاور نعت (صفت)
وَالتَّصْغِيرُاور چھوٹا بنانا
وَالنِّدَاءُاور پکارنا
خَوَاصِّ الاسْمِاسم کی خصوصیات
ترجمہ
اور اسم کی علامتیں: اس کے بارے میں اور اس کے ذریعے خبر دینا درست ہو ("زَیْدٌ قَائِمٌ")؛ اضافت ("غُلَامُ زَیْدٍ")؛ لامِ تعریف کا داخل ہونا ("اَلرَّجُل")؛ جر و تنوین ("بِزَیْدٍ")؛ اور تثنیہ، جمع، نعت، تصغیر اور ندا — یہ سب اسم کی خصوصیات ہیں۔
تشریح — اسم کی علامتیں جدول میں
علامتمطلبمثال
اِخبار عَنہاس کے بارے میں کچھ بتایا جا سکےزَیْدٌ قائمٌ
اِخبار بِہاس کے ذریعے خبر دی جا سکےزیدٌ قائمٌ
اِضافتکسی کی طرف نسبت/ملکیتغُلَامُ زَیْدٍ
لامِ تعریفشروع میں "الـ" آ سکےاَلرَّجُل
جر (زیر)آخر پر زیر آ سکےبـِزَیْدٍ
تنوینآخر پر دوہری حرکتزَیْدٌ
تثنیہدو کا صیغہ بنےرَجُل ← رَجُلَانِ
جمعجمع کا صیغہ بنےرَجُل ← رِجَال
نعتاس کی صفت لائی جا سکےرجلٌ عَالِمٌ
تصغیرچھوٹا بنایا جا سکےرَجُل ← رُجَیْل
ندااسے پکارا جا سکےیَا زَیْدُ
متن — اِخبار کا مطلب اور "اسم" نام کیوں؟

وَمَعْنَى الإِخْبَارِ عَنْهُ: أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا عَلَيْهِ، لِكَوْنِهِ فَاعِلًا أَوْ مَفْعُولًا أَوْ مُبْتَدَأً۔ وَيُسَمَّى اسْمًا؛ لِسُمُوِّهِ عَلَى قَسِيمَيْهِ، لَا لِكَوْنِهِ وَسْمًا عَلَى المَعْنَى۔

لفظی ترجمہ
وَمَعْنَى الإِخْبَارِ عَنْهُخبر عنہ کا مطلب
أَنْ يَكُونَیہ کہ وہ ہو
مَحْكُومًا عَلَيْهِجس پر حکم لگے
لِكَوْنِهِاس وجہ سے کہ وہ
فَاعِلًافاعل
أَوْ مَفْعُولًایا مفعول
أَوْ مُبْتَدَأًیا مبتدأ
وَيُسَمَّى اسْمًااور "اسم" کہلاتا ہے
لِسُمُوِّهِاس کی بلندی سے
عَلَى قَسِيمَيْهِدو بھائیوں پر
لَا لِكَوْنِهِ وَسْمًانہ کہ نشان ہونے سے
عَلَى المَعْنَىمعنی پر
ترجمہ
"خبر عنہ" کا مطلب یہ ہے کہ وہ محکوم علیہ ہو (اس کے بارے میں کوئی بات بیان ہو)، اِس حیثیت سے کہ وہ فاعل یا مفعول یا مبتدأ ہو۔ اور اسے "اسم" اِس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے دو قسم-بھائیوں (فعل و حرف) پر بلند ہے — نہ اِس لیے کہ یہ معنی پر کوئی نشان ہو۔
تشریح

محکوم علیہ یعنی وہ چیز جس کے بارے میں کچھ کہا جائے۔ اسم جملے میں فاعل، مفعول یا مبتدأ بن کر آتا ہے۔

"اسم" نام کیوں؟ — دو قول

  • پہلا قول (مصنف کا اختیار): "اسم" لفظ سُمُوّ (بلندی) سے ہے، کیونکہ یہ فعل و حرف پر بلند ہے۔
  • دوسرا قول: "اسم" لفظ وَسْم (نشان) سے ہے۔ مصنف نے اِسے ترجیح نہیں دی۔
حاشیہ (کتاب کا): «لِسُمُوِّهِ» پر لکھا ہے «لِعُلُوِّهِ» — یعنی بلندی کی وجہ سے۔ اور «وَسْمًا» پر لکھا ہے «أَيْ عَلَامَةً» — یعنی علامت/نشان۔
متن — حدِّ فعل (تعریف)

وَحَدُّ الفِعْلِ: كَلِمَةٌ تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا دَلَالَةً مُقْتَرِنَةً بِزَمَانِ ذَلِكَ المَعْنَى، كَـ"ضَرَبَ، يَضْرِبُ، اضْرِبْ"۔

لفظی ترجمہ
وَحَدُّ الفِعْلِاور فعل کی حد
كَلِمَةٌ تَدُلُّایسا کلمہ جو دلالت کرے
عَلَى مَعْنًىکسی معنی پر
فِي نَفْسِهَااپنے آپ میں
دَلَالَةً مُقْتَرِنَةًملی ہوئی دلالت
بِزَمَانِ ذَلِكَ المَعْنَىاس معنی کے زمانے سے
كَضَرَبَجیسے "مارا"
يَضْرِبُمارتا ہے
اضْرِبْمار (حکم)
ترجمہ
اور فعل کی تعریف: وہ ایسا کلمہ ہے جو اپنے آپ میں کسی معنی پر اِس طرح دلالت کرے کہ وہ دلالت اُس معنی کے زمانے کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ جیسے "ضَرَبَ" (مارا — ماضی)، "یَضْرِبُ" (مارتا ہے)، "اِضْرِبْ" (مار)۔
تشریح

فعل اور اسم کا بنیادی فرق زمانہ ہے۔ فعل میں معنی کے ساتھ زمانہ لازماً ہوتا ہے۔

  • ضَرَبَ = مارا → ماضی۔
  • یَضْرِبُ = مارتا ہے/مارے گا → حال یا مستقبل۔
  • اِضْرِبْ = مار → امر۔
متن — فعل کی علامات

وَعَلَامَتُهُ: أَنْ يَصِحَّ الإِخْبَارُ بِهِ لَا عَنْهُ، وَدُخُولُ "قَدْ وَالسِّينِ وَسَوْفَ وَالجَزْمِ"، وَالتَّصْرِيفُ إِلَى المَاضِي وَالمُضَارِعِ، وَكَوْنُهُ أَمْرًا أَوْ نَهْيًا، وَاتِّصَالُ الضَّمَائِرِ البَارِزَةِ المَرْفُوعَةِ، نَحْوُ: "ضَرَبْتُ"، وَتَاءُ التَّأْنِيثِ السَّاكِنَةُ، نَحْوُ: "ضَرَبَتْ"، وَنُونَا التَّأْكِيدِ؛ فَإِنَّ كُلَّ هَذِهِ مِنْ خَوَاصِّ الفِعْلِ۔

لفظی ترجمہ
وَعَلَامَتُهُاور اس کی علامت
الإِخْبَارُ بِهِاس کے ذریعے خبر
لَا عَنْهُاس کے بارے میں نہیں
دُخُولُ قَدْ"قد" کا داخل ہونا
وَالسِّينِاور سین (سَـ)
وَسَوْفَاور سوف
وَالجَزْمِاور جزم
التَّصْرِيفُگردان ہونا
إِلَى المَاضِي وَالمُضَارِعِماضی و مضارع کی طرف
أَمْرًا أَوْ نَهْيًاامر یا نہی ہونا
اتِّصَالُ الضَّمَائِرِضمیروں کا ملنا
البَارِزَةِ المَرْفُوعَةِظاہر مرفوع
ضَرَبْتُمیں نے مارا
تَاءُ التَّأْنِيثِ السَّاكِنَةُساکن تائے تانیث
ضَرَبَتْاس (عورت) نے مارا
نُونَا التَّأْكِيدِدونوں نونِ تاکید
خَوَاصِّ الفِعْلِفعل کی خصوصیات
ترجمہ
اور فعل کی علامتیں: اس کے ذریعے خبر دینا درست ہو، اس کے بارے میں نہیں؛ اس پر "قد، سین، سوف، جزم" داخل ہو؛ یہ ماضی و مضارع کی طرف گردان ہو؛ امر یا نہی ہو؛ اس کے ساتھ ظاہر مرفوع ضمیریں ملیں ("ضَرَبْتُ")؛ تائے تانیثِ ساکنہ ملے ("ضَرَبَتْ")؛ اور دونوں نونِ تاکید — یہ سب فعل کی خصوصیات ہیں۔
تشریح — فعل کی علامتیں جدول میں
علامتوضاحتمثال
اِخبار بِہ، نہ عَنہاس کے ذریعے خبر دی جائےضَرَبَ زیدٌ
قَدْتحقیق/تقلیل کے لیےقَدْ ضَرَبَ
سین / سوفمستقبل کے لیے (مضارع پر)سَیَضْرِبُ، سَوْفَ یَضْرِبُ
جزمآخر پر جزم آ سکےلَمْ یَضْرِبْ
تصریفماضی/مضارع کی گردانضَرَبَ ← یَضْرِبُ
امر / نہیحکم یا روکنے کا صیغہاِضْرِبْ، لَا تَضْرِبْ
ضمیرِ بارز مرفوعظاہر فاعل ضمیر کا ملناضَرَبْتُ، ضَرَبْنَا
تائے تانیث ساکنہمؤنث کی ساکن "تْ"ضَرَبَتْ
نونِ تاکیدخفیفہ و ثقیلہاِضْرِبَنْ، اِضْرِبَنَّ
متن — اِخبار بہ کا مطلب اور "فعل" نام کیوں؟

وَمَعْنَى الإِخْبَارِ بِهِ: أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا بِهِ۔ وَيُسَمَّى فِعْلًا بِاسْمِ أَصْلِهِ وَهُوَ المَصْدَرُ؛ لِأَنَّ المَصْدَرَ هُوَ فِعْلُ الفَاعِلِ حَقِيقَةً۔

لفظی ترجمہ
وَمَعْنَى الإِخْبَارِ بِهِخبر بہ کا مطلب
أَنْ يَكُونَیہ کہ وہ ہو
مَحْكُومًا بِهِجس کے ذریعے حکم لگے
وَيُسَمَّى فِعْلًااور "فعل" کہلاتا ہے
بِاسْمِ أَصْلِهِاپنی اصل کے نام پر
وَهُوَ المَصْدَرُاور وہ مصدر ہے
لِأَنَّ المَصْدَرَکیونکہ مصدر
هُوَ فِعْلُ الفَاعِلِفاعل کا کام ہے
حَقِيقَةًحقیقتاً
ترجمہ
"خبر بہ" کا مطلب یہ ہے کہ وہ محکوم بہ ہو (اُس کے ذریعے کسی پر حکم لگے)۔ اور اسے "فعل" اپنی اصل (مصدر) کے نام پر کہا جاتا ہے — کیونکہ مصدر ہی حقیقتاً فاعل کا کام ہے۔
تشریح

محکوم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعے کسی پر حکم لگے (خبر/مسند بنے)۔ جیسے "زیدٌ ضَرَبَ" میں ضَرَبَ کے ذریعے زید پر "مارنے" کا حکم لگا۔

"فعل" نام کیوں؟ لغت میں "فعل" کا معنی "کام/کرنا" ہے، اور یہ دراصل مصدر کا معنی ہے (ضَرْب = مارنا)۔ چونکہ مصدر ہی اصل میں فاعل کا کام ہے، اِسی نسبت سے اِس قسم کو "فعل" کہا گیا۔

متن — حدِّ حرف (تعریف)

وَحَدُّ الحَرْفِ: كَلِمَةٌ لَا تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي نَفْسِهَا، بَلْ تَدُلُّ عَلَى مَعْنًى فِي غَيْرِهَا، نَحْوُ: "مِنْ" فَإِنَّ مَعْنَاهَا الابْتِدَاءُ، وَهِيَ لَا تَدُلُّ عَلَيْهِ إِلَّا بَعْدَ ذِكْرِ مَا مِنْهُ الابْتِدَاءُ، كَالبَصْرَةِ وَالكُوفَةِ، مَثَلًا تَقُولُ: "سِرْتُ مِنَ البَصْرَةِ إِلَى الكُوفَةِ"۔

لفظی ترجمہ
وَحَدُّ الحَرْفِاور حرف کی حد
كَلِمَةٌ لَا تَدُلُّایسا کلمہ جو دلالت نہ کرے
فِي نَفْسِهَااپنے آپ میں
بَلْ تَدُلُّبلکہ دلالت کرے
مَعْنًى فِي غَيْرِهَادوسرے میں معنی پر
مِنْ"سے"
مَعْنَاهَا الابْتِدَاءُاس کا معنی ابتدا
لَا تَدُلُّ عَلَيْهِاس پر دلالت نہیں
إِلَّا بَعْدَ ذِكْرِمگر ذکر کے بعد
مَا مِنْهُ الابْتِدَاءُجس سے ابتدا ہو
سِرْتُمیں چلا
مِنَ البَصْرَةِبصرہ سے
إِلَى الكُوفَةِکوفہ تک
ترجمہ
اور حرف کی تعریف: وہ ایسا کلمہ ہے جو اپنے آپ میں کسی معنی پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ کسی دوسری چیز میں معنی ظاہر کرتا ہے۔ جیسے "مِنْ" (سے)، اس کا معنی "ابتدا" ہے، مگر یہ اُس ابتدا پر تب تک دلالت نہیں کرتا جب تک اُس چیز کا ذکر نہ ہو جس سے ابتدا ہو رہی ہے۔ مثلاً: "سِرْتُ مِنَ البَصْرَةِ إِلَی الکُوفَةِ" (میں بصرہ سے کوفہ تک چلا)۔
تشریح

حرف کی پہچان یہ ہے کہ وہ اکیلے میں با معنی نہیں ہوتا۔ اس کا معنی تب کھلتا ہے جب اسے کسی اسم یا فعل سے ملایا جائے۔ "سِرْتُ مِنَ البصرة" میں "مِنْ" نے اپنا معنی (ابتدا) "بصرہ" میں ظاہر کیا — یہی معنًی فی غیرہا ہے۔

متن — حرف کی علامت

وَعَلَامَتُهُ: أَنْ لَا يَصِحَّ الإِخْبَارُ عَنْهُ وَلَا بِهِ، وَأَنْ لَا يَقْبَلَ عَلَامَاتِ الأَسْمَاءِ وَلَا عَلَامَاتِ الأَفْعَالِ۔

لفظی ترجمہ
وَعَلَامَتُهُاور اس کی علامت
أَنْ لَا يَصِحَّیہ کہ درست نہ ہو
الإِخْبَارُ عَنْهُاس کے بارے میں خبر
وَلَا بِهِاور نہ اس کے ذریعے
وَأَنْ لَا يَقْبَلَاور قبول نہ کرے
عَلَامَاتِ الأَسْمَاءِاسموں کی علامتیں
وَلَا عَلَامَاتِ الأَفْعَالِنہ فعلوں کی
ترجمہ
اور حرف کی علامت یہ ہے کہ نہ اس کے بارے میں خبر دینا درست ہو اور نہ اس کے ذریعے، اور یہ نہ اسم کی علامتیں قبول کرے اور نہ فعل کی۔
تشریح

حرف کی علامت "سلبی" (نفی والی) ہے — یعنی اس میں نہ اسم کی خصوصیات ہوں، نہ فعل کی۔

⤴ آسان اصول
پہلے دیکھیں: اسم کی علامتیں ملیں؟ → اسم۔ فعل کی علامتیں ملیں؟ → فعل۔ دونوں میں سے کوئی نہیں؟ → حرف۔
متن — حرف کے فوائد

وَلِلْحَرْفِ فِي كَلَامِ العَرَبِ فَوَائِدُ، كَالرَّبْطِ بَيْنَ الاسْمَيْنِ، نَحْوُ: "زَيْدٌ فِي الدَّارِ"، أَوِ الفِعْلَيْنِ، نَحْوُ: "أُرِيدُ أَنْ تَضْرِبَ"، أَوِ اسْمٍ وَفِعْلٍ، كَـ"ضَرَبْتُ بِالخَشَبَةِ"، أَوِ الجُمْلَتَيْنِ، نَحْوُ: "إِنْ جَاءَنِي زَيْدٌ أَكْرَمْتُهُ"، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الفَوَائِدِ الَّتِي تَعْرِفُهَا فِي القِسْمِ الثَّالِثِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى۔

لفظی ترجمہ
وَلِلْحَرْفِاور حرف کے لیے
فَوَائِدُکئی فائدے
كَالرَّبْطِجیسے جوڑنا
بَيْنَ الاسْمَيْنِدو اسموں کے درمیان
زَيْدٌ فِي الدَّارِزید گھر میں ہے
أَوِ الفِعْلَيْنِیا دو فعلوں کے
أُرِيدُ أَنْ تَضْرِبَچاہتا ہوں تو مارے
اسْمٍ وَفِعْلٍاسم و فعل
ضَرَبْتُ بِالخَشَبَةِلکڑی سے مارا
أَوِ الجُمْلَتَيْنِیا دو جملوں کے
إِنْ جَاءَنِي زَيْدٌاگر زید آیا
أَكْرَمْتُهُاس کی عزت کروں گا
القِسْمِ الثَّالِثِتیسرا حصہ
ترجمہ
اور عرب کے کلام میں حرف کے کئی فائدے ہیں، جیسے دو اسموں کو جوڑنا ("زَیْدٌ فِی الدَّارِ")؛ یا دو فعلوں کو ("أُرِیدُ أَنْ تَضْرِبَ")؛ یا اسم و فعل کو ("ضَرَبْتُ بِالخَشَبَةِ")؛ یا دو جملوں کو ("إِنْ جَاءَنِي زَیْدٌ أَکْرَمْتُهُ")؛ اور دوسرے فائدے بھی جنہیں تم تیسرے حصے میں جان لو گے، ان شاء اللہ۔
تشریح — حرف سے ربط کی چار صورتیں
کس کس کو جوڑامثالترجمہ
اسم ↔ اسمزَیْدٌ فِی الدَّارِزید گھر میں ہے
فعل ↔ فعلأُرِیدُ أَنْ تَضْرِبَچاہتا ہوں کہ تو مارے
اسم ↔ فعلضَرَبْتُ بِالخَشَبَةِمیں نے لکڑی سے مارا
جملہ ↔ جملہإِنْ جَاءَنِي زَیْدٌ أَکْرَمْتُهُاگر زید آیا تو عزت کروں گا

مصنف فرماتے ہیں کہ حرف کے اور بھی فائدے تیسرے حصے (اقسامِ حرف) میں آئیں گے، ان شاء اللہ۔

متن — "حرف" نام کیوں رکھا گیا؟

وَيُسَمَّى حَرْفًا؛ لِوُقُوعِهِ فِي الكَلَامِ حَرْفًا أَيْ طَرَفًا؛ إِذْ لَيْسَ مَقْصُودًا بِالذَّاتِ، مِثْلَ المُسْنَدِ وَالمُسْنَدِ إِلَيْهِ۔

لفظی ترجمہ
وَيُسَمَّى حَرْفًااور "حرف" کہلاتا ہے
لِوُقُوعِهِاس کے واقع ہونے سے
فِي الكَلَامِکلام میں
حَرْفًا أَيْ طَرَفًاحرف یعنی کنارے پر
إِذْ لَيْسَکیونکہ نہیں ہے
مَقْصُودًا بِالذَّاتِبذاتِ خود مقصود
مِثْلَجیسے
المُسْنَدِ وَالمُسْنَدِ إِلَيْهِمسند و مسند الیہ
ترجمہ
اور اسے "حرف" اِس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کلام میں "حرف" یعنی کنارے (طرف) پر واقع ہوتا ہے، اِس لیے کہ یہ بذاتِ خود مقصود نہیں ہوتا — جس طرح مسند اور مسند الیہ (مقصود ہوتے ہیں)۔
تشریح

لغت میں "حرف" کا ایک معنی "کنارہ/طرف" بھی ہے۔ چونکہ یہ قسم کلام میں اصل مقصود نہیں بلکہ کنارے پر، آلے کے طور پر آتی ہے، اِسی نسبت سے اسے "حرف" کہا گیا۔

  • مسند الیہ = جس کی طرف نسبت کی جائے (تقریباً فاعل/مبتدأ)۔
  • مسند = جو نسبت کیا جائے (تقریباً فعل/خبر)۔

یہ دونوں اصل مقصود ہوتے ہیں، جبکہ حرف صرف جوڑنے کا ذریعہ — اِسی لیے "کنارہ"۔

فصل ۳

اَلْكَلَامکلام کی تعریف، اسناد اور جملے کی قسمیں

متن — کلام اور اسناد کی تعریف

الكَلَامُ: لَفْظٌ تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ بِالإِسْنَادِ، وَالإِسْنَادُ نِسْبَةُ إِحْدَى الكَلِمَتَيْنِ إِلَى الأُخْرَى، بِحَيْثُ تُفِيدُ المُخَاطَبَ فَائِدَةً تَامَّةً يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَا، نَحْوُ: "زَيْدٌ قَائِمٌ، وَقَامَ زَيْدٌ"، وَيُسَمَّى جُمْلَةً۔

لفظی ترجمہ
الكَلَامُکلام
لَفْظٌ تَضَمَّنَایسا لفظ جو شامل ہو
كَلِمَتَيْنِدو کلموں کو
بِالإِسْنَادِاسناد کے ساتھ
وَالإِسْنَادُاور اسناد
نِسْبَةُنسبت دینا
إِحْدَى الكَلِمَتَيْنِایک کلمے کی
إِلَى الأُخْرَىدوسرے کی طرف
بِحَيْثُ تُفِيدُاس طرح کہ فائدہ دے
المُخَاطَبَمخاطب کو
فَائِدَةً تَامَّةًمکمل فائدہ
يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَاجس پر خاموشی درست ہو
وَيُسَمَّى جُمْلَةًاور "جملہ" کہلاتا ہے
ترجمہ
کلام ایسا لفظ ہے جو اسناد کے طریقے پر دو کلموں کو شامل ہو۔ اور اسناد کا مطلب: دو کلموں میں سے ایک کو دوسرے کی طرف اِس طرح نسبت کرنا کہ وہ مخاطب کو ایسا مکمل فائدہ دے جس پر خاموشی درست ہو (بات پوری ہو جائے)۔ جیسے "زَیْدٌ قَائِمٌ" اور "قَامَ زَیْدٌ" — اور اسے "جملہ" بھی کہتے ہیں۔
تشریح
  • کلمتین + اسناد — کلام کے لیے کم از کم دو کلمے چاہئیں جن میں ایک کو دوسرے سے جوڑا (اسناد) جائے۔
  • فائدہ تامہ — بات اِتنی مکمل ہو کہ سننے والا منتظر نہ رہے۔
  • یَصِحُّ السُّکُوت — کہنے والا چپ ہو جائے تو بھی بات ادھوری محسوس نہ ہو۔ جیسے "زیدٌ قائمٌ" مکمل ہے؛ مگر صرف "زیدٌ" کہہ کر چپ ہو جائیں تو بات ادھوری ہے۔
نوٹ
کلام اور جملہ یہاں ہم معنی ہیں۔ (آگے کے فن میں ان میں باریک فرق بھی بیان ہوتا ہے، مگر یہاں دونوں ایک ہی ہیں۔)
متن — جملے کی دو قسمیں

فَعُلِمَ أَنَّ الكَلَامَ لَا يَحْصُلُ إِلَّا مِنِ اسْمَيْنِ، نَحْوُ: "زَيْدٌ قَائِمٌ" وَيُسَمَّى جُمْلَةً اسْمِيَّةً، أَوْ مِنْ فِعْلٍ وَاسْمٍ، نَحْوُ: "قَامَ زَيْدٌ" وَيُسَمَّى جُمْلَةً فِعْلِيَّةً؛ إِذْ لَا يُوجَدُ المُسْنَدُ وَالمُسْنَدُ إِلَيْهِ مَعًا فِي غَيْرِهِمَا، وَلَابُدَّ لِلْكَلَامِ مِنْهُمَا۔

لفظی ترجمہ
فَعُلِمَپس معلوم ہوا
أَنَّ الكَلَامَکہ کلام
لَا يَحْصُلُ إِلَّاحاصل نہیں ہوتا مگر
مِنِ اسْمَيْنِدو اسموں سے
جُمْلَةً اسْمِيَّةًجملہ اسمیہ
أَوْ مِنْ فِعْلٍ وَاسْمٍیا فعل و اسم سے
قَامَ زَيْدٌزید کھڑا ہوا
جُمْلَةً فِعْلِيَّةًجملہ فعلیہ
إِذْ لَا يُوجَدُکیونکہ نہیں پایا جاتا
المُسْنَدُ وَالمُسْنَدُ إِلَيْهِمسند و مسند الیہ
مَعًا فِي غَيْرِهِمَادونوں ان کے سوا میں
وَلَابُدَّ لِلْكَلَامِ مِنْهُمَااور کلام کو دونوں لازم
ترجمہ
پس معلوم ہوا کہ کلام صرف دو اسموں سے بنتا ہے ("زَیْدٌ قَائِمٌ") — اور اسے جملہ اسمیہ کہتے ہیں؛ یا فعل و اسم سے ("قَامَ زَیْدٌ") — اور اسے جملہ فعلیہ کہتے ہیں۔ کیونکہ مسند اور مسند الیہ دونوں اِن (اسم و فعل) کے سوا کہیں اکٹھے نہیں پائے جاتے، اور کلام کو اِن دونوں کا ہونا لازم ہے۔
تشریح — دونوں جملوں کا فرق
قسمکس سے بنےپہچانمثال
جملہ اسمیہاسم + اسماسم سے شروعزَیْدٌ قَائِمٌ
جملہ فعلیہفعل + اسمفعل سے شروعقَامَ زَیْدٌ

ہر جملے میں دو رکن لازمی ہیں: مسند الیہ (جس کی طرف نسبت ہو) اور مسند (جو نسبت کیا جائے)۔ "زیدٌ قائمٌ" میں زیدٌ مسند الیہ اور قائمٌ مسند ہے۔ یہ جوڑا صرف اسم و فعل ہی میں بنتا ہے، حرف میں نہیں — اِسی لیے کلام کے لیے کم از کم اِن کا ہونا ضروری ہے۔

متن — نِدا والا اشکال اور اس کا جواب

فَإِنْ قِيلَ: قَدْ نُوقِضَ بِالنِّدَاءِ، نَحْوُ: "يَا زَيْدُ"۔ قُلْنَا: حَرْفُ النِّدَاءِ قَائِمٌ مَقَامَ "أَدْعُو" وَ"أَطْلُبُ" وَهُوَ الفِعْلُ، فَلَا نَقْضَ عَلَيْهِ۔

لفظی ترجمہ
فَإِنْ قِيلَاگر یہ کہا جائے
قَدْ نُوقِضَنقض کیا گیا ہے
بِالنِّدَاءِندا کے ذریعے
يَا زَيْدُاے زید!
قُلْنَاہم کہتے ہیں
حَرْفُ النِّدَاءِحرفِ ندا
قَائِمٌ مَقَامَقائم مقام ہے
أَدْعُومیں بلاتا ہوں
وَأَطْلُبُاور میں طلب کرتا ہوں
وَهُوَ الفِعْلُاور یہ فعل ہے
فَلَا نَقْضَ عَلَيْهِپس اس پر کوئی نقض نہیں
ترجمہ
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اِس قاعدے پر ندا کے ذریعے نقض آتا ہے — جیسے "یَا زَیْدُ" (اے زید!) — (یہاں تو ایک ہی اسم سے بات بن گئی، دو سے نہیں)۔ تو ہم جواب دیتے ہیں: حرفِ ندا ("یا") "أَدْعُو" (میں بلاتا ہوں) اور "أَطْلُبُ" (میں طلب کرتا ہوں) کے قائم مقام ہے، اور یہ فعل ہے — پس (گویا یہاں بھی فعل اور اسم دونوں موجود ہیں، اِس لیے) اِس پر کوئی نقض نہیں آتا۔
تشریح — اشکال اور جواب آسان لفظوں میں

اشکال (اعتراض)

ابھی کہا گیا تھا کہ کلام کم از کم دو کلموں سے بنتا ہے۔ مگر "یَا زَیْدُ" میں تو بظاہر صرف ایک اسم (زَیْد) ہے اور بات مکمل بھی ہو گئی — تو قاعدہ ٹوٹ گیا (نقض)۔

جواب

"یا" (حرفِ ندا) دراصل ایک چھپے ہوئے فعل کے قائم مقام ہے — یعنی أَدْعُو (میں بلاتا ہوں) یا أَطْلُبُ (میں طلب کرتا ہوں)۔ گویا اصل جملہ ہے "أَدْعُو زَیْدًا" (میں زید کو بلاتا ہوں) — جس میں فعل بھی ہے اور اسم بھی۔ اِس لیے قاعدہ نہیں ٹوٹا۔

حاشیہ (کتاب کا): «قَائِمٌ مَقَامَ أَدْعُو وَأَطْلُبُ» پر لکھا ہے «أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أَدْعُو وَأَطْلُبُ» — یعنی حرفِ ندا اِن دونوں (أَدْعُو اور أَطْلُبُ) میں سے ہر ایک کے قائم مقام ہے۔
متن — مقدمے کا اختتام

وَإِذَا فَرَغْنَا مِنَ المُقَدِّمَةِ فَلْنَشْرَعْ فِي الأَقْسَامِ الثَّلَاثَةِ، وَاللهُ المُوَفِّقُ وَالمُعِينُ۔

لفظی ترجمہ
وَإِذَا فَرَغْنَااور جب ہم فارغ ہوئے
مِنَ المُقَدِّمَةِمقدمے سے
فَلْنَشْرَعْتو ہم شروع کریں
فِي الأَقْسَامِ الثَّلَاثَةِتینوں قسموں میں
وَاللهُاور اللہ
المُوَفِّقُتوفیق دینے والا
وَالمُعِينُاور مدد کرنے والا
ترجمہ
اور جب ہم مقدمے سے فارغ ہو گئے، تو اب ہم تینوں قسموں (اسم، فعل، حرف) کا بیان شروع کرتے ہیں۔ اور اللہ ہی توفیق دینے والا اور مدد کرنے والا ہے۔
تشریح

یہاں مصنفؒ مقدمہ مکمل کر کے اعلان کرتے ہیں کہ اب کتاب کا اصل حصہ — اقسامِ ثلاثہ (اسم، فعل، حرف کی تفصیل) — شروع ہو رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے توفیق و مدد طلب کرتے ہیں۔

خُلاصہپورے مقدمے کا نچوڑ — ایک نظر میں یاد کر لیں

جدول ۱ — اسم، فعل، حرف کا موازنہ
پہلواِسمفِعلحَرف
خود معنی؟ہاںہاںنہیں (دوسرے میں)
زمانہ ساتھ؟نہیںہاں
اہم علامتاِخبار عنہ و بہ، الـ، تنوین، جر، نداقد/سین/سوف/جزم، امر و نہی، تائے تانیثنہ اسم کی علامت، نہ فعل کی
جملے میں کردارمحکوم علیہ (فاعل/مفعول/مبتدأ)محکوم بہ (مسند)صرف ربط/جوڑنا
نام کی وجہسُمُوّ = بلندیمصدر (اصلِ فعل)طرف = کنارہ
مثالرَجُل، عِلْم، زَیْدضَرَبَ، یَضْرِبُ، اِضْرِبْمِنْ، فِی، یَا
جدول ۲ — جملے کی دو قسمیں
قسمساختپہچانمثال
جملہ اسمیہاسم + اسماسم سے شروعزَیْدٌ قَائِمٌ
جملہ فعلیہفعل + اسمفعل سے شروعقَامَ زَیْدٌ
جدول ۳ — اہم اصطلاحات کی لغت
اصطلاحآسان مطلب
اِعرابعامل بدلنے سے کلمے کی آخری حرکت کا بدلنا
بِناکلمے کی آخری حرکت کا ہمیشہ ایک جیسا رہنا
اِخبار عنہکسی کے بارے میں خبر دینا (وہ مبتدأ بنے)
اِخبار بہکسی کے ذریعے خبر دینا (وہ خبر بنے)
محکوم علیہجس پر حکم لگے (مسند الیہ)
محکوم بہجس کے ذریعے حکم لگے (مسند)
اسنادایک کلمے کو دوسرے کی طرف نسبت کرنا
فائدہ تامہاِتنی مکمل بات کہ سننے والا منتظر نہ رہے
مصدرفعل کی اصل (جیسے ضَرْب = مارنا)
✦ ایک جملے میں پورا مقدمہ
نحو وہ علم ہے جو کلمے کے آخر کی حالت اور جملے کی ترکیب سکھاتا ہے؛ کلمہ تین ہیں — اسم، فعل، حرف؛ اور دو کلموں کے اسناد سے کلام (جملہ) بنتا ہے، جو اسمیہ یا فعلیہ ہوتا ہے۔
کتاب کا اصل آغاز · حصّہ اوّل

اَلْقِسْمُ الأَوَّلُ فِی الاِسْم

اسم کی تفصیل — معرب و مبنی، اور اسم کے اعراب کی نو اصناف
متن — اسم کی دو قسمیں اور کتاب کا نقشہ

وَقَدْ مَرَّ تَعْرِيفُهُ، وَهُوَ يَنْقَسِمُ إِلَى المُعْرَبِ وَالمَبْنِيِّ، فَلْنَذْكُرْ أَحْكَامَهُ فِي بَابَيْنِ وَخَاتِمَةٍ۔

لفظی ترجمہ
وَقَدْ مَرَّاور گزر چکی
تَعْرِيفُهُاس (اسم) کی تعریف
وَهُوَاور وہ
يَنْقَسِمُتقسیم ہوتا ہے
إِلَى المُعْرَبِمعرب کی طرف
وَالمَبْنِيِّاور مبنی کی طرف
فَلْنَذْكُرْپس ہم ذکر کریں
أَحْكَامَهُاس کے احکام
فِي بَابَيْنِدو بابوں میں
وَخَاتِمَةٍاور ایک خاتمہ میں
ترجمہ
اور اسم کی تعریف (مقدمے میں) گزر چکی۔ یہ دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے: معرب اور مبنی۔ پس ہم اس کے احکام دو بابوں اور ایک خاتمے میں بیان کرتے ہیں۔
تشریح
  • معرب — وہ اسم جس کا آخر مختلف عاملوں کے آنے سے بدلتا رہے (جیسے زَیْدٌ، زَیْداً، زَیْدٍ)۔
  • مبنی — وہ اسم جس کا آخر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے، بدلے نہیں (جیسے ضمیریں، اسمائے اشارہ: ھٰذا، ھٰؤلاء)۔
📋 اِس قسم کا نقشہ
باب ۱: اسمِ معرب (یہی آگے تفصیل سے) · باب ۲: اسمِ مبنی · خاتمہ — پھر اسم کا بیان مکمل۔
باب ۱

فِی الاِسْمِ المُعْرَباسمِ معرب کا باب — اس میں مقدمہ، تین مقاصد اور خاتمہ ہے

متن — باب اوّل کا نقشہ

البَابُ الأَوَّلُ: فِی الاِسْمِ المُعْرَبِ، وَفِيهِ مُقَدِّمَةٌ وَثَلَاثَةُ مَقَاصِدَ وَخَاتِمَةٌ۔ أَمَّا المُقَدِّمَةُ: فَفِيهَا فُصُولٌ۔

لفظی ترجمہ
البَابُ الأَوَّلُپہلا باب
فِی الاِسْمِ المُعْرَبِاسمِ معرب کے بارے میں
وَفِيهِاور اس میں
مُقَدِّمَةٌایک مقدمہ
وَثَلَاثَةُ مَقَاصِدَاور تین مقاصد
وَخَاتِمَةٌاور ایک خاتمہ
أَمَّا المُقَدِّمَةُبہرحال مقدمہ
فَفِيهَا فُصُولٌپس اس میں کئی فصلیں
ترجمہ
پہلا باب اسمِ معرب کے بارے میں ہے، اور اس میں ایک مقدمہ، تین مقاصد اور ایک خاتمہ ہے۔ بہرحال (اس باب کا) مقدمہ — اس میں کئی فصلیں ہیں۔
تشریح

باب اوّل کی ترتیب: مقدمہ (چند فصلیں) + تین مقاصد + خاتمہ۔ ہم ابھی مقدمے کی فصلیں پڑھیں گے۔

حاشیہ (کتاب کا): یہ خاتمہ «فی بیان التوابع» ہے — یعنی توابع (نعت، تاکید، بدل، عطف وغیرہ) کے بیان میں۔
فصل ۱

تَعْرِيفُ الاِسْمِ المُعْرَباسمِ معرب کس کو کہتے ہیں؟ (دوسرا نام: متمکّن)

متن — تعریفِ اسمِ معرب

فَصْلٌ: فِی تَعْرِيفِ الاِسْمِ المُعْرَبِ، وَهُوَ: كُلُّ اسْمٍ رُكِّبَ مَعَ غَيْرِهِ، وَلَا يُشْبِهُ مَبْنِيَّ الأَصْلِ، أَعْنِي الحَرْفَ وَالأَمْرَ الحَاضِرَ وَالمَاضِيَ، نَحْوُ: "زَيْدٌ" فِی "قَامَ زَيْدٌ" لَا "زَيْد" وَحْدَهُ؛ لِعَدَمِ التَّرْكِيبِ، وَلَا "هَؤُلَاءِ" فِی "قَامَ هَؤُلَاءِ"؛ لِوُجُودِ الشَّبَهِ، وَيُسَمَّى مُتَمَكِّنًا۔

لفظی ترجمہ
كُلُّ اسْمٍہر وہ اسم
رُكِّبَجو مرکب کیا گیا
مَعَ غَيْرِهِاپنے غیر کے ساتھ
وَلَا يُشْبِهُاور مشابہ نہ ہو
مَبْنِيَّ الأَصْلِاصل میں مبنی کے
أَعْنِيیعنی
الحَرْفَحرف
وَالأَمْرَ الحَاضِرَاور فعلِ امرِ حاضر
وَالمَاضِيَاور فعلِ ماضی
زَيْدٌ فِی قَامَ زَيْدٌ"قام زید" والا زیدٌ
لَا زَيْد وَحْدَهُنہ اکیلا "زید"
لِعَدَمِ التَّرْكِيبِترکیب نہ ہونے سے
وَلَا هَؤُلَاءِاور نہ "ھٰؤلاء"
لِوُجُودِ الشَّبَهِشباہت موجود ہونے سے
وَيُسَمَّى مُتَمَكِّنًااور "متمکّن" کہلاتا ہے
ترجمہ
فصل: اسمِ معرب کی تعریف۔ وہ ہر ایسا اسم ہے جو کسی دوسرے (کلمے) کے ساتھ مرکب ہو، اور اصل میں مبنی — یعنی حرف، فعلِ امرِ حاضر اور فعلِ ماضی — کے مشابہ نہ ہو۔ جیسے "زَیْدٌ" جب "قَامَ زَیْدٌ" میں ہو — نہ کہ اکیلا "زید" (کیونکہ اس میں ترکیب نہیں)؛ اور نہ "ھٰؤلاء" جب "قَامَ ھٰؤلاء" میں ہو (کیونکہ اس میں [مبنی سے] شباہت موجود ہے)۔ اور اسمِ معرب کو "متمکّن" بھی کہتے ہیں۔
تشریح — تعریف کی دو قیدیں

قید ۱: «رُکّب مع غیرہ» (دوسرے کے ساتھ مرکب ہو)

اسم تب معرب کہلاتا ہے جب وہ جملے میں کسی دوسرے لفظ کے ساتھ مل کر آئے۔ صرف اکیلا "زید" (بغیر جملے کے) ابھی معرب نہیں، کیونکہ اس میں ترکیب (جوڑ) نہیں۔

قید ۲: «لا یشبہ مبنیّ الأصل» (اصل کے مبنیوں سے مشابہ نہ ہو)

اصل میں مبنی تین چیزیں ہیں: (۱) حرف، (۲) فعلِ امرِ حاضر، (۳) فعلِ ماضی۔ جو اسم اِن میں سے کسی کے مشابہ ہو جائے، وہ بھی مبنی بن جاتا ہے — جیسے ھٰؤلاء (اسمِ اشارہ) حرف کے مشابہ ہے، اِس لیے "قام ھٰؤلاء" میں بھی اس کا آخر نہیں بدلتا۔

✦ خلاصہ
معرب = جملے میں آئے اور مبنی چیزوں جیسا نہ ہو۔ اِسی کا دوسرا نام متمکّن ہے (یعنی اپنی اسمیت میں جما ہوا/راسخ)۔
فصل ۲

حُكْمُ المُعْرَب وَتَعْرِيفُ الإِعْرَابمعرب کا حکم (آخر کا بدلنا) اور اعراب کی تعریف

متن — حکمِ معرب

فَصْلٌ: وَحُكْمُهُ أَنْ يَخْتَلِفَ آخِرُهُ بِاخْتِلَافِ العَوَامِلِ اخْتِلَافًا لَفْظِيًّا، نَحْوُ: "جَاءَنِي زَيْدٌ وَرَأَيْتُ زَيْدًا وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ"، أَوْ تَقْدِيرِيًّا، نَحْوُ: "جَاءَنِي مُوسَى، وَرَأَيْتُ مُوسَى، وَمَرَرْتُ بِمُوسَى"۔

لفظی ترجمہ
وَحُكْمُهُاور اس کا حکم
أَنْ يَخْتَلِفَیہ کہ بدلے
آخِرُهُاس کا آخر
بِاخْتِلَافِ العَوَامِلِعاملوں کے بدلنے سے
اخْتِلَافًا لَفْظِيًّالفظی طور پر
جَاءَنِي زَيْدٌمیرے پاس زید آیا
وَرَأَيْتُ زَيْدًامیں نے زید کو دیکھا
وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍمیں زید کے پاس سے گزرا
أَوْ تَقْدِيرِيًّایا تقدیری طور پر
جَاءَنِي مُوسَىمیرے پاس موسیٰ آیا
وَرَأَيْتُ مُوسَىمیں نے موسیٰ کو دیکھا
وَمَرَرْتُ بِمُوسَىمیں موسیٰ کے پاس سے گزرا
ترجمہ
فصل: اور اسمِ معرب کا حکم یہ ہے کہ عاملوں کے بدلنے سے اس کا آخر بدلتا رہے — یا تو لفظی طور پر (ظاہر ہو کر)، جیسے "جاءني زیدٌ (رفع)، رأیتُ زیداً (نصب)، مررتُ بزیدٍ (جر)"؛ یا تقدیری طور پر (اندر ہی اندر، ظاہر نہ ہو)، جیسے "جاءني موسیٰ، رأیتُ موسیٰ، مررتُ بموسیٰ" (یہاں موسیٰ کا آخر تینوں حالتوں میں ایک جیسا رہا، مگر اعراب تقدیراً موجود ہے)۔
تشریح — دو طرح کی تبدیلی
  • لفظی (ظاہر): آخری حرکت آنکھ سے نظر آئے — زَیْدٌ / زَیْداً / زَیْدٍ۔
  • تقدیری (چھپا): آخر پر حرکت نظر نہ آئے کیونکہ تلفّظ بھاری ہوتا ہے، مگر فرض (تقدیر) کی جاتی ہے — جیسے مُوسیٰ (الف مقصورہ والا)؛ تینوں حالتوں میں شکل ایک، اعراب اندرونی۔
رفع (لفظی)ضمّہزَیْدٌ
نصب (لفظی)فتحہزَیْداً
جر (لفظی)کسرہزَیْدٍ
رفع (تقدیری)مقدّرمُوسَى
نصب (تقدیری)مقدّرمُوسَى
جر (تقدیری)مقدّرمُوسَى
متن — اعراب، اس کی تین انواع، عامل اور محل

وَالإِعْرَابُ: مَا بِهِ يَخْتَلِفُ آخِرُ المُعْرَبِ، كَالضَّمَّةِ وَالفَتْحَةِ وَالكَسْرَةِ، وَالوَاوِ وَالأَلِفِ وَاليَاءِ۔ وَإِعْرَابُ الاِسْمِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَنْوَاعٍ: رَفْعٌ وَنَصْبٌ وَجَرٌّ۔ وَالعَامِلُ: مَا يَحْصُلُ بِهِ رَفْعٌ وَنَصْبٌ وَجَرٌّ۔ وَمَحَلُّ الإِعْرَابِ مِنَ الاِسْمِ هُوَ الحَرْفُ الآخِرُ۔ مِثَالُ الكُلِّ: نَحْوُ: "قَامَ زَيْدٌ" فَـ"قَامَ" عَامِلٌ، وَ"زَيْدٌ" مُعْرَبٌ، وَالضَّمَّةُ إِعْرَابٌ، وَالدَّالُ مَحَلُّ الإِعْرَابِ۔ وَاعْلَمْ: أَنَّهُ لَا يُعْرَبُ فِی كَلَامِ العَرَبِ إِلَّا الاِسْمُ المُتَمَكِّنُ وَالفِعْلُ المُضَارِعُ، وَسَيَجِيءُ حُكْمُهُ فِی القِسْمِ الثَّانِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى۔

لفظی ترجمہ
وَالإِعْرَابُاور اعراب
مَا بِهِ يَخْتَلِفُجس سے بدلے
آخِرُ المُعْرَبِمعرب کا آخر
كَالضَّمَّةِ وَالفَتْحَةِ وَالكَسْرَةِجیسے پیش، زبر، زیر
وَالوَاوِ وَالأَلِفِ وَاليَاءِاور واو، الف، یاء
عَلَى ثَلَاثَةِ أَنْوَاعٍتین انواع پر
رَفْعٌ وَنَصْبٌ وَجَرٌّرفع، نصب، جر
وَالعَامِلُاور عامل
مَا يَحْصُلُ بِهِجس سے حاصل ہو
وَمَحَلُّ الإِعْرَابِاور اعراب کی جگہ
هُوَ الحَرْفُ الآخِرُآخری حرف ہے
مِثَالُ الكُلِّسب کی مثال
فَقَامَ عَامِلٌپس "قام" عامل
وَزَيْدٌ مُعْرَبٌاور "زید" معرب
وَالضَّمَّةُ إِعْرَابٌاور ضمّہ اعراب
وَالدَّالُ مَحَلُّ الإِعْرَابِاور "د" محلِ اعراب
وَاعْلَمْاور جان لو
لَا يُعْرَبُاعراب نہیں ہوتا
إِلَّا الاِسْمُ المُتَمَكِّنُمگر اسمِ متمکّن
وَالفِعْلُ المُضَارِعُاور فعلِ مضارع
فِی القِسْمِ الثَّانِيقسمِ ثانی میں
ترجمہ
اور اعراب وہ چیز ہے جس کے سبب معرب کا آخر بدلتا ہے — جیسے پیش، زبر، زیر (حرکتیں) اور واو، الف، یاء (حروف)۔ اور ہر اسم کا اعراب تین انواع پر ہے: رفع، نصب، جر۔ اور عامل وہ چیز ہے جس کے ذریعے رفع/نصب/جر حاصل ہو۔ اور اسم میں اعراب کا محل اس کا آخری حرف ہے۔ سب کی مثال: "قَامَ زَیْدٌ" — پس "قَامَ" عامل ہے، "زَیْدٌ" معرب، ضمّہ اعراب، اور "د" (زید کا آخری حرف) محلِ اعراب۔ اور جان لو کہ عرب کے کلام میں صرف دو چیزیں معرب ہوتی ہیں: اسمِ متمکّن اور فعلِ مضارع — اور (فعلِ مضارع کا) حکم قسمِ ثانی میں آئے گا، ان شاء اللہ۔
تشریح
  • اعراب کی دو شکلیں: حرکتیں (ضمّہ/فتحہ/کسرہ) اور حروف (واو/الف/یاء — جیسے اسمائے ستہ، مثنّیٰ، جمع میں)۔
  • تین انواع: رفع (عموماً فاعلی حالت)، نصب (مفعولی)، جر (صرف اسم میں — حرفِ جر یا اضافت سے)۔
  • عامل: وہ لفظ (فعل، حرف وغیرہ) جو اسم پر اعراب لاتا ہے۔
  • محلِ اعراب: اعراب ہمیشہ آخری حرف پر ظاہر ہوتا ہے۔
تجزیہ: "قَامَ زَیْدٌ"
قَامَعامل (جس نے اعراب دیا)
زَیْدٌمعرب (جس کا آخر بدلا)
ضمّہ ( ُ )اعراب (یہاں رفع)
دمحلِ اعراب (آخری حرف)
اہم قاعدہ
پورے عربی کلام میں صرف دو چیزیں معرب ہیں: اسمِ متمکّن اور فعلِ مضارع۔ باقی سب (حروف، فعلِ ماضی، فعلِ امر، مبنی اسماء) مبنی ہیں۔
فصل ۳

أَصْنَافُ إِعْرَابِ الاِسْماسم کے اعراب کی نو اصناف — ہر صنف میں رفع/نصب/جر کی الامت الگ

متن — کتنی اصناف؟

فَصْلٌ فِی أَصْنَافِ إِعْرَابِ الاِسْمِ: وَهِيَ تِسْعَةُ أَصْنَافٍ۔

ترجمہ
فصل: اسم کے اعراب کی اقسام — یہ نو (۹) اصناف ہیں۔ (ہر صنف میں رفع، نصب اور جر کی الامت مختلف ہوتی ہے، اور ہر صنف کچھ خاص اسماء کے لیے مخصوص ہے۔)
ℹ نوٹ
نیچے تمام ۹ اصناف ترتیب سے موجود ہیں — پہلی ۶ لفظی اعراب والی (حرکات و حروف) اور آخری ۳ تقدیری اعراب والی (مقصور، منقوص، اور جمع مذکر سالم مضاف الی یاءِ متکلم)۔
۱

اَلصِّنْفُ الأَوَّل — حرکات سے (اصل اعراب)

متن

الأَوَّلُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ بِالفَتْحَةِ، وَالجَرُّ بِالكَسْرَةِ، وَيَخْتَصُّ بِـالاِسْمِ المُفْرَدِ المُنْصَرِفِ الصَّحِيحِ — وَهُوَ عِنْدَ النُّحَاةِ: مَا لَا يَكُونُ فِی آخِرِهِ حَرْفُ عِلَّةٍ، كَـ"زَيْد" — وَبِالجَارِي مَجْرَى الصَّحِيحِ — وَهُوَ مَا يَكُونُ فِی آخِرِهِ وَاوٌ أَوْ يَاءٌ مَا قَبْلَهُمَا سَاكِنٌ، كَـ"دَلْو وَظَبْي" — وَبِالجَمْعِ المُكَسَّرِ المُنْصَرِفِ، كَـ"رِجَال"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي زَيْدٌ وَدَلْوٌ وَظَبْيٌ وَرِجَالٌ، وَرَأَيْتُ زَيْدًا وَدَلْوًا وَظَبْيًا وَرِجَالًا، وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ وَدَلْوٍ وَظَبْيٍ وَرِجَالٍ"۔

لفظی ترجمہ (قاعدے کے الفاظ)
الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِرفع پیش سے
وَالنَّصْبُ بِالفَتْحَةِنصب زبر سے
وَالجَرُّ بِالكَسْرَةِجر زیر سے
وَيَخْتَصُّاور مخصوص ہے
الاِسْمِ المُفْرَدِاسمِ مفرد
المُنْصَرِفِمنصرف
الصَّحِيحِصحیح
حَرْفُ عِلَّةٍحرفِ علت (ا و ی)
الجَارِي مَجْرَى الصَّحِيحِصحیح کے حکم میں
دَلْو وَظَبْيدول اور ہرن
الجَمْعِ المُكَسَّرِجمع مکسر
رِجَالمرد (جمع)
ترجمہ
پہلی صنف: رفع پیش سے، نصب زبر سے، جر زیر سے ہو۔ یہ مخصوص ہے: اسمِ مفرد منصرف صحیح (نحاۃ کے نزدیک: جس کے آخر میں حرفِ علت نہ ہو، جیسے "زید")، اور جاری مجری الصحیح (جس کے آخر میں واو یا یاء ہو اور اس سے پہلے ساکن ہو، جیسے "دَلْو، ظَبْي")، اور جمع مکسر منصرف (جیسے "رِجال") کے ساتھ۔ تم کہتے ہو: "جاءني زیدٌ ودلوٌ وظبيٌ ورجالٌ (سب رفع)، رأیتُ زیداً ودلواً وظبیاً ورجالاً (سب نصب)، مررتُ بزیدٍ ودلوٍ وظبيٍ ورجالٍ (سب جر)"۔
تشریح
رفعضمّہزَیْدٌ
نصبفتحہزَیْداً
جرکسرہزَیْدٍ

یہ اصل/بنیادی اعراب ہے۔ تین قسم کے اسماء کے لیے: (۱) مفرد منصرف صحیح (نہ تثنیہ نہ جمع، تنوین قبول کرے، آخر میں ا/و/ی نہ ہو)، (۲) جاری مجری الصحیح (دَلْو، ظَبْي — آخر میں و/ی مگر اس سے پہلے سکون)، (۳) جمع مکسر منصرف (رِجال)۔

حاشیہ (کتاب کا): مثال والے جملے پر اشارہ ہے کہ "جاءني..." جملہ فعلیہ ہے جسے مفرد خبر کی تاویل میں لیا گیا ہے۔
۲

اَلصِّنْفُ الثَّانِي — جمع مؤنث سالم

متن

الثَّانِي: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِالكَسْرَةِ، وَيَخْتَصُّ بِـجَمْعِ المُؤَنَّثِ السَّالِمِ، كَـ"مُسْلِمَات"۔ تَقُولُ: "جَاءَتْنِي مُسْلِمَاتٌ، وَرَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍ، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمَاتٍ"۔

لفظی ترجمہ
الثَّانِيدوسری
الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِرفع پیش سے
وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِالكَسْرَةِنصب و جر زیر سے
جَمْعِ المُؤَنَّثِ السَّالِمِجمع مؤنث سالم
مُسْلِمَاتمسلمان عورتیں
جَاءَتْنِي مُسْلِمَاتٌمیرے پاس مسلمان عورتیں آئیں
رَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍمیں نے انہیں دیکھا
مَرَرْتُ بِمُسْلِمَاتٍمیں ان کے پاس سے گزرا
ترجمہ
دوسری صنف: رفع پیش سے، اور نصب و جر دونوں زیر سے ہوں۔ یہ جمع مؤنث سالم (جیسے "مسلمات") کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءتني مسلماتٌ (رفع)، رأیتُ مسلماتٍ (نصب)، مررتُ بمسلماتٍ (جر)"۔
تشریح
رفعضمّہمُسْلِمَاتٌ
نصبکسرہمُسْلِمَاتٍ
جرکسرہمُسْلِمَاتٍ

خاص بات: جمع مؤنث سالم میں نصب فتحہ سے نہیں، بلکہ کسرہ سے ہوتا ہے — یہی اِس صنف کی پہچان ہے۔

حاشیہ (کتاب کا): اِس مقام پر "مسلمات" کے اوپر «مبتدأ» لکھا ہے (یعنی نحوی تجزیے کا اشارہ)۔
۳

اَلصِّنْفُ الثَّالِث — غیر منصرف

متن

الثَّالِثُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِالفَتْحَةِ، وَيَخْتَصُّ بِـغَيْرِ المُنْصَرِفِ، كَـ"عُمَر"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي عُمَرُ، وَرَأَيْتُ عُمَرَ، وَمَرَرْتُ بِعُمَرَ"۔

لفظی ترجمہ
الثَّالِثُتیسری
الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِرفع پیش سے
وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِالفَتْحَةِنصب و جر زبر سے
غَيْرِ المُنْصَرِفِغیر منصرف
عُمَرعُمر (نام)
جَاءَنِي عُمَرُمیرے پاس عُمر آیا
رَأَيْتُ عُمَرَمیں نے عُمر کو دیکھا
مَرَرْتُ بِعُمَرَمیں عُمر کے پاس سے گزرا
ترجمہ
تیسری صنف: رفع پیش سے، اور نصب و جر دونوں زبر سے ہوں۔ یہ غیر منصرف (جیسے "عُمَر") کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني عمرُ (رفع)، رأیتُ عمرَ (نصب)، مررتُ بعمرَ (جر)"۔
تشریح
رفعضمّہعُمَرُ
نصبفتحہعُمَرَ
جرفتحہعُمَرَ

خاص بات: غیر منصرف وہ اسم ہے جو تنوین قبول نہیں کرتا، اور جر کی حالت میں کسرہ کے بجائے فتحہ لیتا ہے (بعمرَ، نہ بعمرٍ)۔ رفع پیش سے، نصب و جر دونوں زبر سے۔

۴

اَلصِّنْفُ الرَّابِع — اسمائے ستہ (چھ اسم)

متن

الرَّابِعُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالوَاوِ، وَالنَّصْبُ بِالأَلِفِ، وَالجَرُّ بِاليَاءِ، وَيَخْتَصُّ بِـالأَسْمَاءِ السِّتَّةِ مُكَبَّرَةً مُوَحَّدَةً مُضَافَةً إِلَى غَيْرِ يَاءِ المُتَكَلِّمِ، وَهِيَ: أَخُوكَ وَأَبُوكَ وَحَمُوكَ وَهَنُوكَ وَفُوكَ وَذُو مَالٍ۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي أَخُوكَ، وَرَأَيْتُ أَخَاكَ، وَمَرَرْتُ بِأَخِيكَ"، وَكَذَا البَوَاقِي۔

لفظی ترجمہ
الرَّابِعُچوتھی
الرَّفْعُ بِالوَاوِرفع واو سے
وَالنَّصْبُ بِالأَلِفِنصب الف سے
وَالجَرُّ بِاليَاءِجر یاء سے
الأَسْمَاءِ السِّتَّةِچھ اسم
مُكَبَّرَةًبڑی شکل میں
مُوَحَّدَةًمفرد ہوں
مُضَافَةًمضاف ہوں
إِلَى غَيْرِ يَاءِ المُتَكَلِّمِیائے متکلم کے سوا کی طرف
أَخُوكَتیرا بھائی
وَأَبُوكَتیرا باپ
وَحَمُوكَتیرا سُسر
وَهَنُوكَتیری فلاں چیز
وَفُوكَتیرا منہ
وَذُو مَالٍمال والا
وَكَذَا البَوَاقِياور باقی اسی طرح
ترجمہ
چوتھی صنف: رفع واو سے، نصب الف سے، جر یاء سے ہو۔ یہ اسمائے ستہ کے ساتھ مخصوص ہے، اِس شرط کے ساتھ کہ وہ مکبّر (بڑی شکل)، مفرد، اور یائے متکلم کے سوا کسی کی طرف مضاف ہوں۔ وہ ہیں: أخوک، أبوک، حموک، هنوک، فوک، ذو مال۔ تم کہتے ہو: "جاءني أخوكَ (رفع)، رأیتُ أخاكَ (نصب)، مررتُ بأخيكَ (جر)" — اور باقی پانچ بھی اسی طرح۔
تشریح
رفعواوأَخُوكَ
نصبالفأَخَاكَ
جریاءأَخِيكَ

یہ چھ اسم حرکات کے بجائے حروف سے اعراب پاتے ہیں۔ مگر تین شرطیں ضروری ہیں:

  • مکبّر ہوں (چھوٹی/تصغیر کی شکل نہ ہو)۔
  • مفرد (موحّد) ہوں (تثنیہ/جمع نہ ہوں)۔
  • مضاف ہوں، اور وہ بھی یائے متکلم کے سوا کسی کی طرف (یعنی "أخي" نہیں)۔
✦ چھ اسم یاد رکھیں
أخ (بھائی) · أب (باپ) · حم (سُسر) · هن (فلاں چیز) · فو (منہ) · ذو (والا/مالک)۔
۵

اَلصِّنْفُ الخَامِس — مثنّیٰ، کلا/کلتا، اثنان

متن

الخَامِسُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالأَلِفِ، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِـاليَاءِ المَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا، وَيَخْتَصُّ بِـالمُثَنَّى، وَ"كِلَا وَكِلْتَا" مُضَافَيْنِ إِلَى ضَمِيرٍ، وَ"اثْنَانِ وَاثْنَتَانِ"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي الرَّجُلَانِ كِلَاهُمَا وَاثْنَانِ، وَرَأَيْتُ الرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَا وَاثْنَيْنِ، وَمَرَرْتُ بِالرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَا وَاثْنَيْنِ"۔

لفظی ترجمہ
الخَامِسُپانچویں
الرَّفْعُ بِالأَلِفِرفع الف سے
وَالنَّصْبُ وَالجَرُّنصب و جر
اليَاءِ المَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَایاء جس سے پہلے زبر
المُثَنَّىمثنّیٰ (دو کا صیغہ)
كِلَا وَكِلْتَاکلا و کلتا (دونوں)
مُضَافَيْنِ إِلَى ضَمِيرٍضمیر کی طرف مضاف
اثْنَانِ وَاثْنَتَانِدو (مذکر و مؤنث)
الرَّجُلَانِدو مرد
كِلَاهُمَاوہ دونوں
الرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَادو مردوں دونوں کو
ترجمہ
پانچویں صنف: رفع الف سے، اور نصب و جر اُس یاء سے ہوں جس سے پہلے زبر ہو۔ یہ مثنّیٰ کے ساتھ مخصوص ہے، نیز "کِلا و کِلتا" جب ضمیر کی طرف مضاف ہوں، اور "اثنان و اثنتان"۔ تم کہتے ہو: "جاءني الرّجلانِ کلاهما واثنانِ (رفع)، رأیتُ الرّجلینِ کلیهما واثنینِ (نصب)، مررتُ بالرّجلینِ کلیهما واثنینِ (جر)"۔
تشریح
رفعالفالرَّجُلَانِ
نصبیاءالرَّجُلَيْنِ
جریاءالرَّجُلَيْنِ

مثنّیٰ (دو کا صیغہ) میں رفع الف سے (الرّجلانِ)، نصب و جر یاء سے جس سے پہلے زبر ہو (الرّجلینِ)۔ اسی طرح "کلاهما/کلیهما" (ضمیر کی طرف مضاف) اور "اثنان/اثنین"۔

۶

اَلصِّنْفُ السَّادِس — جمع مذکر سالم

متن

السَّادِسُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِـالوَاوِ المَضْمُومِ مَا قَبْلَهَا، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِـاليَاءِ المَكْسُورِ مَا قَبْلَهَا، وَيَخْتَصُّ بِـجَمْعِ المُذَكَّرِ السَّالِمِ، نَحْوُ: "مُسْلِمُونَ" وَ"أُولُو"، وَ"عِشْرُونَ" مَعَ أَخَوَاتِهَا۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي مُسْلِمُونَ وَعِشْرُونَ رَجُلًا وَأُولُو مَالٍ، وَرَأَيْتُ مُسْلِمِينَ وَعِشْرِينَ رَجُلًا وَأُولِي مَالٍ، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِينَ وَعِشْرِينَ رَجُلًا وَأُولِي مَالٍ"۔

لفظی ترجمہ
السَّادِسُچھٹی
الوَاوِ المَضْمُومِ مَا قَبْلَهَاواو جس سے پہلے پیش
اليَاءِ المَكْسُورِ مَا قَبْلَهَایاء جس سے پہلے زیر
جَمْعِ المُذَكَّرِ السَّالِمِجمع مذکر سالم
مُسْلِمُونَمسلمان (جمع)
أُولُووالے
عِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَابیس اور اس کی بہنیں (۳۰…۹۰)
عِشْرُونَ رَجُلًابیس آدمی
أُولُو مَالٍمال والے
ترجمہ
چھٹی صنف: رفع اُس واو سے جس سے پہلے پیش ہو، اور نصب و جر اُس یاء سے جس سے پہلے زیر ہو۔ یہ جمع مذکر سالم کے ساتھ مخصوص ہے، جیسے "مسلمون"، "أولو"، اور "عشرون" اپنی بہنوں سمیت۔ تم کہتے ہو: "جاءني مسلمونَ وعشرونَ رجلاً وأولو مالٍ (رفع)، رأیتُ مسلمینَ وعشرینَ رجلاً وأولي مالٍ (نصب)، مررتُ بمسلمینَ وعشرینَ رجلاً وأولي مالٍ (جر)"۔
تشریح
رفعواو (ما قبل مضموم)مُسْلِمُونَ
نصبیاء (ما قبل مکسور)مُسْلِمِينَ
جریاء (ما قبل مکسور)مُسْلِمِينَ

جمع مذکر سالم میں رفع واو سے جس سے پہلے پیش (مسلمونَ)، نصب و جر یاء سے جس سے پہلے زیر (مسلمینَ)۔ اسی طرح "عشرون…عشرین" (اور اس کی بہنیں: ثلاثون، أربعون…تسعون) اور "أولو…أولي"۔

⤴ مثنّیٰ بمقابلہ جمع — یاء سے پہلے کیا؟
مثنّیٰ: یاء سے پہلے زبر (الرّجلَیْنِ) · جمع مذکر سالم: یاء سے پہلے زیر (مسلمِیْنَ)۔ یہی دونوں کا فرق پہچان ہے۔
متن — تثنیہ و جمع کے نون کا قاعدہ (واعلم)

وَاعْلَمْ: أَنَّ نُونَ التَّثْنِيَةِ مَكْسُورَةٌ أَبَدًا، وَنُونَ جَمْعِ السَّلَامَةِ مَفْتُوحَةٌ أَبَدًا، وَهُمَا يَسْقُطَانِ عِنْدَ الإِضَافَةِ۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي غُلَامَا زَيْدٍ وَمُسْلِمُو مِصْرَ"۔

لفظی ترجمہ
وَاعْلَمْاور جان لو
نُونَ التَّثْنِيَةِتثنیہ کا نون
مَكْسُورَةٌ أَبَدًاہمیشہ زیر والا
نُونَ جَمْعِ السَّلَامَةِجمع سالم کا نون
مَفْتُوحَةٌ أَبَدًاہمیشہ زبر والا
يَسْقُطَانِدونوں گر جاتے ہیں
عِنْدَ الإِضَافَةِاضافت کے وقت
غُلَامَا زَيْدٍزید کے دو غلام
وَمُسْلِمُو مِصْرَاور مصر کے مسلمان
ترجمہ
اور جان لو کہ تثنیہ کا نون ہمیشہ مکسور (زیر والا) ہوتا ہے (الرّجلانِ، الرّجلینِ)، اور جمع سالم کا نون ہمیشہ مفتوح (زبر والا) ہوتا ہے (مسلمونَ، مسلمینَ)، اور یہ دونوں نون اضافت کے وقت گر جاتے ہیں۔ تم کہتے ہو: "جاءني غلاما زیدٍ (زید کے دو غلام — نون گرا) ومسلمو مصرَ (مصر کے مسلمان — نون گرا)"۔
تشریح
  • تثنیہ کا نون: ہمیشہ زیر — الرّجلانِ / الرّجلینِ۔
  • جمع مذکر سالم کا نون: ہمیشہ زبر — مسلمونَ / مسلمینَ۔
  • اضافت پر نون گر جاتا ہے: غلاما زیدٍ (نہ غلامانِ زیدٍ) · مسلمو مصرَ (نہ مسلمونَ مصرَ)۔
۷

اَلصِّنْفُ السَّابِع — مقصور + یائے متکلم والا (تقدیری)

متن

السَّابِعُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ بِتَقْدِيرِ الفَتْحَةِ، وَالجَرُّ بِتَقْدِيرِ الكَسْرَةِ، وَيَخْتَصُّ بِـالمَقْصُورِ، وَهُوَ: مَا فِی آخِرِهِ أَلِفٌ مَقْصُورَةٌ، كَـ"عَصَا" وَبِـالمُضَافِ إِلَى يَاءِ المُتَكَلِّمِ غَيْرِ جَمْعِ المُذَكَّرِ السَّالِمِ، كَـ"غُلَامِي"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي العَصَا وَغُلَامِي، وَرَأَيْتُ العَصَا وَغُلَامِي، وَمَرَرْتُ بِالعَصَا وَغُلَامِي"۔

لفظی ترجمہ
السَّابِعُساتویں
بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِپیش کی تقدیر سے
بِتَقْدِيرِ الفَتْحَةِزبر کی تقدیر سے
بِتَقْدِيرِ الكَسْرَةِزیر کی تقدیر سے
المَقْصُورِمقصور
أَلِفٌ مَقْصُورَةٌالفِ مقصورہ (ـیٰ)
عَصَالاٹھی
المُضَافِ إِلَى يَاءِ المُتَكَلِّمِیائے متکلم کی طرف مضاف
غُلَامِيمیرا غلام
ترجمہ
ساتویں صنف: رفع پیش کی تقدیر سے، نصب زبر کی تقدیر سے، جر زیر کی تقدیر سے ہو۔ یہ مقصور (جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو، جیسے "عَصا") اور یائے متکلم کی طرف مضاف (جو جمع مذکر سالم نہ ہو، جیسے "غُلامي") کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني العصا وغلامي، رأیتُ العصا وغلامي، مررتُ بالعصا وغلامي" (تینوں حالتوں میں شکل ایک، اعراب اندرونی/مقدّر)۔
تشریح
رفعضمّہ (مقدّر)العَصَا
نصبفتحہ (مقدّر)العَصَا
جرکسرہ (مقدّر)العَصَا

دونوں قسموں میں آخر پر حرکت ظاہر نہیں ہوتی (الفِ مقصورہ پر، یا یائے متکلم سے پہلے)، اِس لیے تینوں اعراب تقدیری (فرض شدہ) ہوتے ہیں۔ "غلامي" میں یائے متکلم کی وجہ سے آخری حرکت چھپی رہتی ہے۔

۸

اَلصِّنْفُ الثَّامِن — منقوص

متن

الثَّامِنُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ، وَالجَرُّ بِتَقْدِيرِ الكَسْرَةِ، وَالنَّصْبُ بِالفَتْحَةِ لَفْظًا، وَيَخْتَصُّ بِـالمَنْقُوصِ، وَهُوَ: مَا فِی آخِرِهِ يَاءٌ مَا قَبْلَهَا مَكْسُورٌ، كَـ"القَاضِي"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي القَاضِي، وَرَأَيْتُ القَاضِيَ، وَمَرَرْتُ بِالقَاضِي"۔

لفظی ترجمہ
الثَّامِنُآٹھویں
بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِپیش کی تقدیر سے
وَالجَرُّ بِتَقْدِيرِ الكَسْرَةِجر زیر کی تقدیر سے
وَالنَّصْبُ بِالفَتْحَةِ لَفْظًانصب زبر سے ظاہراً
المَنْقُوصِمنقوص
يَاءٌ مَا قَبْلَهَا مَكْسُورٌیاء جس سے پہلے زیر
القَاضِيقاضی
رَأَيْتُ القَاضِيَمیں نے قاضی کو دیکھا
ترجمہ
آٹھویں صنف: رفع پیش کی تقدیر سے، جر زیر کی تقدیر سے، اور نصب زبر سے ظاہراً (لفظاً) ہو۔ یہ منقوص (جس کے آخر میں یاء ہو اور اس سے پہلے زیر، جیسے "القاضي") کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني القاضي (رفع، مقدّر)، رأیتُ القاضيَ (نصب، ظاہر فتحہ)، مررتُ بالقاضي (جر، مقدّر)"۔
تشریح
رفعضمّہ (مقدّر)القَاضِي
نصبفتحہ (لفظی)القَاضِيَ
جرکسرہ (مقدّر)القَاضِي

خاص بات: منقوص میں رفع و جر تو تقدیری ہیں (یاء پر پیش/زیر بھاری ہوتی ہے)، مگر نصب میں فتحہ ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ یاء پر زبر ہلکا ہے — "رأیتُ القاضِیَ"۔

۹

اَلصِّنْفُ التَّاسِع — جمع مذکر سالم مضاف الی یاءِ متکلم

متن

التَّاسِعُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الوَاوِ، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِاليَاءِ لَفْظًا، وَيَخْتَصُّ بِـجَمْعِ المُذَكَّرِ السَّالِمِ مُضَافًا إِلَى يَاءِ المُتَكَلِّمِ، تَقُولُ: "جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ" تَقْدِيرُهُ: مُسْلِمُويَ، اجْتَمَعَتِ الوَاوُ وَاليَاءُ فِی كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، وَالأُولَى مِنْهُمَا سَاكِنَةٌ، فَقُلِبَتِ الوَاوُ يَاءً، وَأُدْغِمَتِ اليَاءُ فِی اليَاءِ، وَأُبْدِلَتِ الضَّمَّةُ بِالكَسْرَةِ؛ لِمُنَاسَبَةِ اليَاءِ، فَصَارَ: مُسْلِمِيَّ۔ وَ"رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِيَّ"۔

لفظی ترجمہ
التَّاسِعُنویں
بِتَقْدِيرِ الوَاوِواو کی تقدیر سے
وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِاليَاءِ لَفْظًانصب و جر یاء سے ظاہراً
مُضَافًا إِلَى يَاءِ المُتَكَلِّمِیائے متکلم کی طرف مضاف
مُسْلِمِيَّمیرے مسلمان
تَقْدِيرُهُاس کی اصل
مُسْلِمُويَمسلمو + ی
اجْتَمَعَتِ الوَاوُ وَاليَاءُواو و یاء جمع ہوئے
وَالأُولَى سَاكِنَةٌپہلا حرف ساکن
فَقُلِبَتِ الوَاوُ يَاءًواو یاء سے بدلی
وَأُدْغِمَتِ اليَاءُ فِی اليَاءِیاء، یاء میں مدغم
وَأُبْدِلَتِ الضَّمَّةُ بِالكَسْرَةِضمّہ کسرہ سے بدلا
لِمُنَاسَبَةِ اليَاءِیاء کی مناسبت سے
فَصَارَپس بن گیا
ترجمہ
نویں صنف: رفع واو کی تقدیر سے، اور نصب و جر یاء سے ظاہراً ہوں۔ یہ جمع مذکر سالم جو یائے متکلم کی طرف مضاف ہو کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني مُسْلِمِيَّ"۔ اِس کی اصل "مُسْلِمُويَ" تھی؛ واو اور یاء ایک کلمے میں جمع ہوئے اور پہلا (واو) ساکن تھا، تو واو یاء سے بدل دی گئی، پھر یاء یاء میں مدغم ہوئی، اور یاء کی مناسبت سے ضمّہ کو کسرہ سے بدل دیا گیا — پس "مُسْلِمِيَّ" بن گیا۔ اور "رأیتُ مسلميَّ، ومررتُ بمسلميَّ"۔
تشریح — مُسْلِمُويَ سے مُسْلِمِيَّ تک (۴ قدم)
✦ صرفی تبدیلی
  • اصل: مُسْلِمُو + يْ (واوِ جمع + یائے متکلم) = مُسْلِمُويْ۔
  • ۱: واو و یاء ایک لفظ میں جمع، پہلا (واو) ساکن → واو کو یاء بنا دیا۔
  • ۲: اب دو یاء آمنے سامنے → ادغام (مُسْلِمِيّ)۔
  • ۳: یاء کی مناسبت سے → ضمّہ کو کسرہ سے بدلا۔
  • نتیجہ: مُسْلِمِيَّ۔
رفعواو (مقدّر)مُسْلِمِيَّ
نصبیاء (لفظی)مُسْلِمِيَّ
جریاء (لفظی)مُسْلِمِيَّ

رفع کی حالت میں واو ظاہر نہیں رہی (ادغام کے بعد یاء بن گئی)، اِس لیے رفع تقدیری ہے؛ نصب و جر کی یاء لفظاً موجود ہے۔

خلاصہ جدول — تمام ۹ اصناف ایک نظر میں
صنفرفعنصبجرکن کے لیے (مخصوص)مثال
۱ — الأوّلضمّہفتحہکسرہمفرد منصرف صحیح، جاری مجری الصحیح، جمع مکسر منصرفزَیْدٌ / زَیْداً / زَیْدٍ
۲ — الثّانیضمّہکسرہکسرہجمع مؤنث سالممُسْلِمَاتٌ / مُسْلِمَاتٍ
۳ — الثّالثضمّہفتحہفتحہغیر منصرفعُمَرُ / عُمَرَ / عُمَرَ
۴ — الرّابعواوالفیاءاسمائے ستہ (مکبّر، مفرد، مضاف)أَخُوكَ / أَخَاكَ / أَخِيكَ
۵ — الخامسالفیاءیاءمثنّیٰ، کلا/کلتا+ضمیر، اثنان/اثنتانالرَّجُلَانِ / الرَّجُلَيْنِ
۶ — السّادسواویاءیاءجمع مذکر سالم، عشرون و اخوات، أولومُسْلِمُونَ / مُسْلِمِينَ
۷ — السّابعضمّہ (مقدّر)فتحہ (مقدّر)کسرہ (مقدّر)مقصور (عصا)، مضاف الی یائے متکلم (غلامي)العَصَا / غُلَامِي
۸ — الثّامنضمّہ (مقدّر)فتحہ (لفظی)کسرہ (مقدّر)منقوصالقَاضِي / القَاضِيَ
۹ — التّاسعواو (مقدّر)یاء (لفظی)یاء (لفظی)جمع مذکر سالم مضاف الی یائے متکلممُسْلِمِيَّ
🧭 تینوں گروہ یاد رکھیں
۱–۳ حرکات سے (ضمّہ/فتحہ/کسرہ، لفظی) · ۴–۶ حروف سے (واو/الف/یاء، لفظی) · ۷–۹ تقدیری (مقصور، منقوص، اور یائے متکلم والے — جہاں اعراب اکثر چھپا ہوتا ہے)۔
✦ پہچان کی کنجی
یاء سے پہلے زبر → مثنّیٰ (۵)، زیر → جمع مذکر سالم (۶)۔ نصب میں فتحہ ظاہر صرف منقوص (۸) میں، باقی تقدیری اصناف میں چھپا۔
فصل ۴

المُنْصَرِف وَغَيْرُ المُنْصَرِفاسمِ معرب کی دو قسمیں — اور صرف روکنے کے نو اسباب

متن — اسمِ معرب کی دو قسمیں + منصرف

الفَصْلُ: الاِسْمُ المُعْرَبُ عَلَى نَوْعَيْنِ: مُنْصَرِفٌ: وَهُوَ مَا لَيْسَ فِيهِ سَبَبَانِ، أَوْ وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَا مِنَ الأَسْبَابِ التِّسْعَةِ، كَـ"زَيْد" وَيُسَمَّى الاِسْمَ المُتَمَكِّنَ۔ وَحُكْمُهُ: أَنْ يَدْخُلَهُ الحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ مَعَ التَّنْوِينِ، تَقُولُ: "جَاءَنِي زَيْدٌ، وَرَأَيْتُ زَيْدًا، وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ"۔

لفظی ترجمہ
الاِسْمُ المُعْرَبُاسمِ معرب
عَلَى نَوْعَيْنِدو قسموں پر
مُنْصَرِفٌمنصرف
مَا لَيْسَ فِيهِجس میں نہ ہوں
سَبَبَانِدو سبب
وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَاایک جو دو کی جگہ ہو
مِنَ الأَسْبَابِ التِّسْعَةِنو اسباب میں سے
يُسَمَّى الاِسْمَ المُتَمَكِّنَ"اسمِ متمکّن" کہلاتا ہے
الحَرَكَاتُ الثَّلَاثُتینوں حرکتیں
مَعَ التَّنْوِينِتنوین کے ساتھ
ترجمہ
فصل: اسمِ معرب دو قسموں پر ہے۔ منصرف: وہ جس میں نو اسباب میں سے نہ دو سبب ہوں، اور نہ ایک ایسا سبب جو دو کی جگہ کھڑا ہو — جیسے "زید"۔ اِسے اسمِ متمکّن (امکن) بھی کہتے ہیں۔ اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں تینوں حرکتیں تنوین کے ساتھ آتی ہیں۔ تم کہتے ہو: "جاءني زیدٌ، رأیتُ زیداً، مررتُ بزیدٍ"۔
تشریح

منصرف وہ اسم ہے جو تنوین قبول کرتا ہے اور تینوں حالتوں میں مکمل حرکت + تنوین لیتا ہے (زیدٌ/زیداً/زیدٍ)۔ اِس میں سرف روکنے والے اسباب نہیں پائے جاتے۔

ℹ نام
منصرف کا دوسرا نام اسمِ متمکّنِ امکن ہے — یعنی اسمیت میں سب سے زیادہ راسخ، اِسی لیے تنوین (جو خالص اسم کی علامت ہے) قبول کرتا ہے۔
متن — غیر منصرف، اس کا حکم، اور نو اسباب

وَغَيْرُ مُنْصَرِفٍ: وَهُوَ مَا فِيهِ سَبَبَانِ مِنَ الأَسْبَابِ التِّسْعَةِ، أَوْ وَاحِدٌ مِنْهَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا۔ وَالأَسْبَابُ التِّسْعَةُ هِيَ: العَدْلُ وَالوَصْفُ وَالتَّأْنِيثُ وَالمَعْرِفَةُ وَالعُجْمَةُ وَالجَمْعُ وَالتَّرْكِيبُ وَالأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ وَوَزْنُ الفِعْلِ۔ وَحُكْمُهُ: أَنْ لَا يَدْخُلَهُ الكَسْرَةُ وَالتَّنْوِينُ، وَيَكُونُ فِی مَوْضِعِ الجَرِّ مَفْتُوحًا أَبَدًا، تَقُولُ: "جَاءَنِي أَحْمَدُ، وَرَأَيْتُ أَحْمَدَ، وَمَرَرْتُ بِأَحْمَدَ"، كَمَا مَرَّ۔

لفظی ترجمہ
وَغَيْرُ مُنْصَرِفٍاور غیر منصرف
مَا فِيهِ سَبَبَانِجس میں دو سبب ہوں
وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَاایک جو دو کی جگہ ہو
العَدْلُعدل
وَالوَصْفُوصف
وَالتَّأْنِيثُتأنیث
وَالمَعْرِفَةُمعرفہ
وَالعُجْمَةُعجمہ
وَالجَمْعُجمع
وَالتَّرْكِيبُترکیب
وَالأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِزائد الف و نون
وَوَزْنُ الفِعْلِاور وزنِ فعل
لَا يَدْخُلَهُ الكَسْرَةُ وَالتَّنْوِينُکسرہ و تنوین نہ آئیں
مَفْتُوحًا أَبَدًاہمیشہ زبر والا
ترجمہ
اور غیر منصرف: وہ جس میں نو اسباب میں سے دو سبب ہوں، یا ایک ایسا سبب جو دو کی جگہ کھڑا ہو۔ اور نو اسباب یہ ہیں: عدل، وصف، تأنیث، معرفہ، عجمہ، جمع، ترکیب، زائد الف و نون، اور وزنِ فعل۔ اور اس کا حکم: اس میں کسرہ اور تنوین نہیں آتے، اور جر کی جگہ ہمیشہ مفتوح (زبر والا) ہوتا ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني أحمدُ، رأیتُ أحمدَ، مررتُ بأحمدَ" — جیسا پہلے گزرا۔
تشریح
  • دو سبب چاہئیں: جیسے أحمد (علمیت + وزنِ فعل)، زینب (علمیت + تأنیث)، إبراهیم (علمیت + عجمہ)۔
  • یا ایک جو دو کے برابر: جیسے حبلیٰ/حمراء (الفِ تأنیث) اور مساجد (صیغۂ منتہی الجموع) — یہ اکیلے ہی دو کی جگہ۔
  • حکم: نہ تنوین، نہ جر میں کسرہ؛ جر کی حالت میں زبر (بأحمدَ، نہ بأحمدٍ)۔
حاشیہ (کتاب کا): «وغیر منصرف» لفظِ «منصرف» پر معطوف ہے۔ اور یہ اسباب «المانعة من الصرف» (صرف کو روکنے والے) ہیں، اور ان کے نام «بالمعنى المصدري» (مصدری معنی میں) لیے گئے ہیں۔
اَلأَسْبَابُ التِّسْعَة — نو اسباب ایک نظر میں
#سببمختصر مطلبمثال
۱العَدْل (عدل)لفظ کا اصل صیغے سے دوسرے صیغے میں پھرناعُمَر، ثُلَاث
۲الوَصْف (وصف)اصلِ وضع میں صفت ہوناأَحْمَر، أَسْوَد
۳التَّأْنِيث (تانیث)مؤنث ہونا (تاء / معنوی / الف سے)طَلْحَة، زَيْنَب، حَمْرَاء
۴المَعْرِفَة (معرفہ)یہاں صرف علمیت معتبرأَحْمَد، عُمَر
۵العُجْمَة (عجمہ)غیر عربی عَلَم (۳ سے زائد، یا متحرک الأوسط)إِبْرَاهِيم، شَتَر
۶الجَمْع (جمع)صیغۂ منتہی الجموعمَسَاجِد، مَصَابِيح
۷التَّرْكِيب (ترکیب)مرکب عَلَم (بلا اضافت و اسناد)بَعْلَبَك
۸الأَلِف وَالنُّون (زائد الف و نون)آخر میں زائد الف و نونعُثْمَان، سَلْمَان
۹وَزْنُ الفِعْل (وزنِ فعل)فعل کے وزن پر ہوناأَحْمَد، يَزِيد
اصول
غیر منصرف بننے کے لیے دو اسباب چاہئیں — یا ایک ایسا سبب جو دو کے برابر ہو (الفِ تأنیث، صیغۂ منتہی الجموع)۔ نیچے ہر سبب کی تفصیل و شرط الگ الگ ہے۔
سبب ۱

اَلعَدْللفظ کا اصل صیغے سے دوسرے صیغے میں پھرنا

متن

أَمَّا العَدْلُ، فَهُوَ تَغَيُّرُ اللَّفْظِ مِنْ صِيغَتِهِ الأَصْلِيَّةِ إِلَى صِيغَةٍ أُخْرَى تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا۔ وَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ وَزْنِ الفِعْلِ أَصْلًا، وَيَجْتَمِعُ مَعَ العَلَمِيَّةِ، كَـ"عُمَرَ وَزُفَرَ" وَمَعَ الوَصْفِ، كَـ"ثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأُخَرَ وَجُمَعَ"۔

لفظی ترجمہ
أَمَّا العَدْلُبہرحال عدل
فَهُوَپس وہ
تَغَيُّرُ اللَّفْظِلفظ کا بدلنا
مِنْ صِيغَتِهِ الأَصْلِيَّةِاپنے اصل صیغے سے
إِلَى صِيغَةٍ أُخْرَىدوسرے صیغے کی طرف
تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًاحقیقتاً یا تقدیراً
وَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ وَزْنِ الفِعْلِوزنِ فعل سے جمع نہیں
أَصْلًابالکل
وَيَجْتَمِعُ مَعَ العَلَمِيَّةِعلمیت سے جمع ہوتا
كَعُمَرَ وَزُفَرَجیسے عُمَر، زُفَر
وَمَعَ الوَصْفِاور وصف سے
ثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأُخَرَ وَجُمَعَثُلاث، مَثلَث، أُخَر، جُمَع
ترجمہ
بہرحال عدل: یہ ہے کہ لفظ اپنے اصل صیغے سے کسی دوسرے صیغے کی طرف بدل جائے — حقیقتاً (جیسے عُمَر اصل میں "عامِر" سے) یا تقدیراً (فرض، جیسے ثُلاث)۔ عدل، وزنِ فعل کے ساتھ بالکل جمع نہیں ہوتا؛ البتہ علمیت کے ساتھ (عُمَر، زُفَر) اور وصف کے ساتھ (ثُلاث، مَثلَث، أُخَر، جُمَع) جمع ہوتا ہے۔
تشریح
  • عدلِ تحقیقی: واقعی بدلا ہوا — عُمَر ← عامِر، زُفَر ← زافِر (عدل + علمیت → غیر منصرف)۔
  • عدلِ تقدیری: فرض کیا جاتا — ثُلاث/مَثلَث (= ثلاثة ثلاثة)، أُخَر، جُمَع (عدل + وصف → غیر منصرف)۔
حاشیہ (کتاب کا): «تَغَيُّرُ اللَّفْظِ» پر اشارہ ہے «أي خروجه» — یعنی لفظ کا اپنے اصل صیغے سے نکل جانا۔
سبب ۲

اَلوَصْفاصلِ وضع میں صفت ہونا (علمیت سے جمع نہیں ہوتا)

متن

أَمَّا الوَصْفُ، فَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ العَلَمِيَّةِ أَصْلًا۔ وَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ وَصْفًا فِی أَصْلِ الوَضْعِ، فَـ"أَسْوَدُ" وَ"أَرْقَمُ" غَيْرُ مُنْصَرِفٍ، وَإِنْ صَارَا اسْمَيْنِ لِلْحَيَّةِ؛ لِأَصَالَتِهِمَا فِی الوَصْفِيَّةِ، وَ"أَرْبَعٍ" فِی قَوْلِكَ: "مَرَرْتُ بِنِسْوَةٍ أَرْبَعٍ" مُنْصَرِفٌ مَعَ أَنَّهُ صِفَةٌ وَوَزْنُ الفِعْلِ؛ لِعَدَمِ الأَصَالَةِ فِی الوَصْفِيَّةِ۔

لفظی ترجمہ
أَمَّا الوَصْفُبہرحال وصف
فَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ العَلَمِيَّةِعلمیت سے جمع نہیں
أَصْلًابالکل
وَشَرْطُهُاور اس کی شرط
وَصْفًا فِی أَصْلِ الوَضْعِاصلِ وضع میں صفت ہو
أَسْوَدُ وَأَرْقَمُأسود، أرقم
اسْمَيْنِ لِلْحَيَّةِسانپ کے دو نام
لِأَصَالَتِهِمَا فِی الوَصْفِيَّةِوصفیت میں اصیل ہونے سے
أَرْبَعٍأربع (چار)
مَرَرْتُ بِنِسْوَةٍ أَرْبَعٍمیں چار عورتوں سے گزرا
لِعَدَمِ الأَصَالَةِاصالت نہ ہونے سے
ترجمہ
بہرحال وصف: یہ علمیت کے ساتھ بالکل جمع نہیں ہوتا۔ اور اس کی شرط یہ ہے کہ لفظ اصلِ وضع میں ہی صفت ہو۔ پس "أسود" اور "أرقم" غیر منصرف ہیں — اگرچہ اب سانپ کے دو نام بن گئے — کیونکہ وہ اصل میں صفت تھے۔ اور "أربع" (جیسے "مررتُ بنسوةٍ أربعٍ") منصرف ہے، باوجود اِس کے کہ وہ صفت بھی ہے اور وزنِ فعل پر بھی — کیونکہ اس کی وصفیت اصلی نہیں (یہ اصل میں عدد ہے، بعد میں صفت بنا)۔
تشریح — صفت کب سبب بنتی ہے؟

وصف تب سببِ منع بنتا ہے جب لفظ شروع ہی سے صفت ہو۔ بعد میں بننے والی صفت معتبر نہیں۔

لفظحکموجہ
أَسْوَد / أَرْقَمغیر منصرفاصل میں صفت (پھر سانپ کا نام)
أَرْبَع (نسوة أربع)منصرفاصل میں عدد، صفت بعد میں — اصالت نہیں
أَحْمَر / أَصْفَرغیر منصرفاصل صفت + وزنِ فعل (دو سبب)
سبب ۳

اَلتَّأْنِيثمؤنث ہونا — تاء سے، معنوی، یا الف سے

متن

أَمَّا التَّأْنِيثُ بِالتَّاءِ، فَشَرْطُهُ: أَنْ يَكُونَ عَلَمًا، كَـ"طَلْحَة" وَكَذَلِكَ المَعْنَوِيُّ، كَـ"زَيْنَب"۔ ثُمَّ المَعْنَوِيُّ إِنْ كَانَ ثُلَاثِيًّا سَاكِنَ الأَوْسَطِ غَيْرَ أَعْجَمِيٍّ، يَجُوزُ صَرْفُهُ وَتَرْكُهُ؛ لِأَجْلِ الخِفَّةِ وَوُجُودِ السَّبَبَيْنِ، كَـ"هِنْد"، وَإِلَّا يَجِبُ مَنْعُهُ كَـ"زَيْنَبَ وَسَقَرَ وَمَاهَ وَجُورَ"۔ وَالتَّأْنِيثُ بِالأَلِفِ المَقْصُورَةِ كَـ"حُبْلَى" وَالمَمْدُودَةِ كَـ"حَمْرَاء" مُمْتَنِعٌ صَرْفُهُمَا البَتَّةَ؛ لِأَنَّ الأَلِفَ قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ: التَّأْنِيثُ وَلُزُومُهُ۔

لفظی ترجمہ
التَّأْنِيثُ بِالتَّاءِتاء والی تانیث
فَشَرْطُهُپس اس کی شرط
أَنْ يَكُونَ عَلَمًایہ کہ عَلَم ہو
طَلْحَةطلحہ (نام)
المَعْنَوِيُّمعنوی (بغیر تاء)
زَيْنَبزینب
ثُلَاثِيًّاتین حرفی
سَاكِنَ الأَوْسَطِبیچ کا حرف ساکن
غَيْرَ أَعْجَمِيٍّغیر عجمی (عربی)
يَجُوزُ صَرْفُهُ وَتَرْكُهُصرف کرنا/چھوڑنا جائز
لِأَجْلِ الخِفَّةِخفّت کی خاطر
هِنْدہند
وَإِلَّا يَجِبُ مَنْعُهُورنہ منع واجب
سَقَرَ وَمَاهَ وَجُورَسقر، ماہ، جور
بِالأَلِفِ المَقْصُورَةِالفِ مقصورہ سے
حُبْلَىحاملہ عورت
وَالمَمْدُودَةِاور ممدودہ
حَمْرَاءسرخ (مؤنث)
مُمْتَنِعٌ صَرْفُهُمَا البَتَّةَدونوں کا صرف قطعاً ممنوع
قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِدو سبب کی جگہ
التَّأْنِيثُ وَلُزُومُهُتانیث اور اس کا لزوم
ترجمہ
تاء والی تانیث: شرط یہ کہ لفظ عَلَم ہو (جیسے "طلحة")۔ اور اسی طرح معنوی تانیث (بغیر تاء، جیسے "زینب")۔ پھر معنوی اگر تین حرفی، بیچ کا حرف ساکن، اور غیر عجمی ہو تو اس کا صرف کرنا اور چھوڑنا دونوں جائز ہیں — خفّت اور دو سبب کے ہونے کی وجہ سے — جیسے "ہند"۔ ورنہ اس کا منع (غیر منصرف رکھنا) واجب ہے، جیسے "زینب، سقر، ماہ، جور"۔ اور الفِ مقصورہ والی تانیث (جیسے "حُبلیٰ") اور ممدودہ (جیسے "حمراء") — اِن دونوں کا صرف قطعاً ممنوع ہے، کیونکہ الف خود دو سبب کی جگہ ہے: تانیث اور اس کا لزوم۔
تشریح — تانیث کی تین صورتیں
قسمحکممثال / تفصیل
تاء سے (عَلَم)غیر منصرفطَلْحَة (تانیث + علمیت)
معنوی — ۳ حرفی، ساکن الأوسط، عربیصرف اختیاریهِنْد = "ہند" یا "ہندٌ" دونوں جائز
معنوی — باقی سبغیر منصرف (لازم)زَيْنَب، سَقَر، مَاه، جُور
الف سے (مقصورہ/ممدودہ)قطعاً غیر منصرفحُبْلَى، حَمْرَاء — الف اکیلا ۲ کے برابر
⤴ کلیدی نکتہ
الفِ تأنیث (مقصورہ یا ممدودہ) اکیلا ہی غیر منصرف بنا دیتا ہے، کیونکہ وہ "تانیث + اس کے لزوم" دونوں کا قائم مقام ہے۔
سبب ۴

اَلمَعْرِفَةمنع صرف میں صرف "علمیت" معتبر ہے

متن

أَمَّا المَعْرِفَةُ، فَلَا يُعْتَبَرُ فِی مَنْعِ الصَّرْفِ بِهَا إِلَّا العَلَمِيَّةُ، وَتَجْتَمِعُ مَعَ غَيْرِ الوَصْفِ۔

لفظی ترجمہ
أَمَّا المَعْرِفَةُبہرحال معرفہ
فَلَا يُعْتَبَرُپس معتبر نہیں
فِی مَنْعِ الصَّرْفِ بِهَااس سے منعِ صرف میں
إِلَّا العَلَمِيَّةُمگر علمیت
وَتَجْتَمِعُ مَعَ غَيْرِ الوَصْفِاور غیرِ وصف سے جمع ہوتی
ترجمہ
بہرحال معرفہ: منعِ صرف میں معرفہ کی (تمام قسموں میں سے) صرف علمیت ہی معتبر ہے۔ اور یہ (علمیت) غیرِ وصف (جو صفت نہ ہو) کے ساتھ جمع ہوتی ہے۔
تشریح

معرفہ کی کئی قسمیں ہیں (عَلَم، ضمیر، اسمِ اشارہ، معرّف باللام…)، مگر سببِ منعِ صرف صرف علمیت (proper noun ہونا) بنتی ہے۔ علمیت کسی دوسرے سبب سے مل کر غیر منصرف بناتی ہے:

  • علمیت + عجمہ = إبراهیم
  • علمیت + تأنیث = زینب
  • علمیت + وزنِ فعل = أحمد
  • علمیت + عدل = عُمَر
  • علمیت + ترکیب = بعلبک

نوٹ: علمیت وصف کے ساتھ جمع نہیں ہوتی (ایک ہی وقت میں عَلَم اور صفت دونوں نہیں)۔

سبب ۵

اَلعُجْمَةغیر عربی عَلَم (شرطوں کے ساتھ)

متن

أَمَّا العُجْمَةُ، فَشَرْطُهَا: أَنْ تَكُونَ عَلَمًا فِی العُجْمَةِ، وَزَائِدَةً عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، كَـ"إِبْرَاهِيم" أَوْ ثُلَاثِيًّا مُتَحَرِّكَ الأَوْسَطِ، كَـ"شَتَر"۔ فَـ"لِجَام" مُنْصَرِفٌ؛ لِعَدَمِ العَلَمِيَّةِ، وَ"نُوح" مُنْصَرِفٌ؛ لِسُكُونِ الأَوْسَطِ۔

لفظی ترجمہ
أَمَّا العُجْمَةُبہرحال عجمہ
فَشَرْطُهَاپس اس کی شرط
عَلَمًا فِی العُجْمَةِعجمی زبان میں عَلَم ہو
زَائِدَةً عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍتین حرف سے زائد
إِبْرَاهِيمابراہیم
ثُلَاثِيًّا مُتَحَرِّكَ الأَوْسَطِتین حرفی، بیچ متحرک
شَتَرشَتَر (نام)
فَلِجَام مُنْصَرِفٌپس لِجام منصرف
لِعَدَمِ العَلَمِيَّةِعلمیت نہ ہونے سے
وَنُوح مُنْصَرِفٌاور نوح منصرف
لِسُكُونِ الأَوْسَطِبیچ کے سکون سے
ترجمہ
بہرحال عجمہ: اس کی شرط یہ ہے کہ لفظ اپنی عجمی زبان میں بھی عَلَم ہو، اور تین حرف سے زائد ہو (جیسے "إبراهیم")، یا تین حرفی ہو مگر بیچ کا حرف متحرک ہو (جیسے "شَتَر")۔ پس "لِجام" منصرف ہے (علمیت نہ ہونے سے — یہ عَلَم نہیں، صرف لگام)، اور "نوح" منصرف ہے (بیچ کے حرف کے ساکن ہونے سے)۔
تشریح
لفظحکموجہ
إِبْرَاهِيمغیر منصرفعجمی عَلَم + ۳ سے زائد حروف
شَتَرغیر منصرفعجمی عَلَم + ۳ حرفی متحرک الأوسط
لِجَاممنصرفعَلَم نہیں (صرف "لگام")
نُوحمنصرف۳ حرفی ساکن الأوسط (جیسے لوط، ہود)
حاشیہ (کتاب کا): «أن تکون علماً» پر اشارہ ہے «فی العجمة» — یعنی اپنی عجمی زبان میں بھی عَلَم رہا ہو۔
سبب ۶

اَلجَمْعصیغۂ منتہی الجموع (اکیلا ہی ۲ کے برابر)

متن

أَمَّا الجَمْعُ، فَشَرْطُهُ: أَنْ يَكُونَ عَلَى صِيغَةِ مُنْتَهَى الجُمُوعِ، وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ أَلِفِ الجَمْعِ حَرْفَانِ، كَـ"مَسَاجِد"، أَوْ حَرْفٌ مُشَدَّدٌ، مِثْلُ: "دَوَابّ"، أَوْ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ أَوْسَطُهَا سَاكِنٌ غَيْرُ قَابِلٍ لِلْهَاءِ، كَـ"مَصَابِيح"۔ فَـ"صَيَاقِلَة وَفَرَازِنَة" مُنْصَرِفٌ؛ لِقَبُولِهِمَا الهَاءَ، وَهُوَ أَيْضًا قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ: الجَمْعِيَّةُ وَلُزُومُهَا، وَامْتِنَاعُ أَنْ يُجْمَعَ مَرَّةً أُخْرَى جَمْعَ التَّكْسِيرِ، فَكَأَنَّهُ جُمِعَ مَرَّتَيْنِ۔

لفظی ترجمہ
أَمَّا الجَمْعُبہرحال جمع
صِيغَةِ مُنْتَهَى الجُمُوعِصیغۂ منتہی الجموع
بَعْدَ أَلِفِ الجَمْعِالفِ جمع کے بعد
حَرْفَانِدو حرف
مَسَاجِدمسجدیں
حَرْفٌ مُشَدَّدٌایک مشدد حرف
دَوَابّچوپائے
ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ أَوْسَطُهَا سَاكِنٌتین حرف، بیچ ساکن
غَيْرُ قَابِلٍ لِلْهَاءِجو ہاء قبول نہ کرے
مَصَابِيحچراغ (جمع)
صَيَاقِلَة وَفَرَازِنَةصیقل گر، وزیر (جمع)
لِقَبُولِهِمَا الهَاءَہاء قبول کرنے سے
الجَمْعِيَّةُ وَلُزُومُهَاجمعیت اور اس کا لزوم
فَكَأَنَّهُ جُمِعَ مَرَّتَيْنِگویا دو بار جمع ہوا
ترجمہ
بہرحال جمع: شرط یہ ہے کہ لفظ صیغۂ منتہی الجموع پر ہو۔ وہ یہ کہ الفِ جمع کے بعد دو حرف ہوں (جیسے "مساجد")، یا ایک مشدد حرف ہو (جیسے "دوابّ")، یا تین حرف ہوں جن کا بیچ ساکن ہو اور جو ہاء قبول نہ کریں (جیسے "مصابیح")۔ پس "صیاقلہ" اور "فرازنہ" منصرف ہیں کیونکہ یہ ہاء قبول کرتے ہیں۔ اور یہ (صیغۂ منتہی الجموع) بھی دو سبب کی جگہ ہے: جمعیت اور اس کا لزوم، اور یہ کہ دوبارہ جمعِ تکسیر نہیں بن سکتے — گویا دو بار جمع ہو چکے۔
تشریح — منتہی الجموع کی تین شکلیں
شکل (الفِ جمع کے بعد)مثالحکم
دو حرفمَسَاجِد، مَنَابِرغیر منصرف
ایک مشدد حرفدَوَابّ، صَوَابّغیر منصرف
تین حرف، بیچ ساکنمَصَابِيح، عَصَافِيرغیر منصرف
ہاء قبول کرنے والےصَيَاقِلَة، فَرَازِنَةمنصرف
حاشیہ (کتاب کا): «حرفان» پر اشارہ ہے «متحرکان» — یعنی الفِ جمع کے بعد والے دو حرف متحرک ہوں (جیسے مساجد میں ج اور د)۔
سبب ۷

اَلتَّرْكِيبمرکب عَلَم (بلا اضافت و اسناد = ترکیبِ مزجی)

متن

أَمَّا التَّرْكِيبُ، فَشَرْطُهُ: أَنْ يَكُونَ عَلَمًا بِلَا إِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ، كَـ"بَعْلَبَك"۔ فَـ"عَبْدُ اللهِ" مُنْصَرِفٌ، وَ"مَعْدِ يَكْرِبَ" غَيْرُ مُنْصَرِفٍ، وَ"شَابَ قَرْنَاهَا" مَبْنِيٌّ۔

لفظی ترجمہ
أَمَّا التَّرْكِيبُبہرحال ترکیب
فَشَرْطُهُپس اس کی شرط
أَنْ يَكُونَ عَلَمًایہ کہ عَلَم ہو
بِلَا إِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍبغیر اضافت و اسناد
بَعْلَبَكبعلبک (شہر)
فَعَبْدُ اللهِ مُنْصَرِفٌپس عبد اللہ منصرف
مَعْدِ يَكْرِبَ غَيْرُ مُنْصَرِفٍمعدی کرب غیر منصرف
شَابَ قَرْنَاهَا مَبْنِيٌّشاب قرناها مبنی
ترجمہ
بہرحال ترکیب: شرط یہ ہے کہ لفظ مرکب عَلَم ہو، بغیر اضافت اور بغیر اسناد کے (یعنی ترکیبِ مزجی)، جیسے "بعلبک"۔ پس "عبد اللہ" منصرف ہے (یہ ترکیبِ اضافی ہے)، اور "معدی کرب" غیر منصرف ہے (ترکیبِ مزجی)، اور "شاب قرناها" مبنی ہے (ترکیبِ اسنادی — جملہ)۔
تشریح — ترکیب کی تین قسمیں
مثالقسمِ ترکیبحکم
بَعْلَبَك، مَعْدِ يَكْرِبمزجی (دو لفظ مل کر ایک نام)غیر منصرف
عَبْدُ اللهِاضافی (مضاف + مضاف الیہ)منصرف
شَابَ قَرْنَاهَااسنادی (پورا جملہ بطور نام)مبنی

صرف ترکیبِ مزجی سببِ منع بنتی ہے۔ اضافی ترکیب کا اعراب مضاف پر چلتا ہے (منصرف)، اور اسنادی ترکیب (جملہ بطور نام) سرے سے مبنی ہوتی ہے۔

سبب ۸

اَلأَلِف وَالنُّون الزَّائِدَتَانآخر میں زائد الف و نون (ـان) — اسم میں اور صفت میں الگ شرط

متن

أَمَّا الأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ، إِنْ كَانَتَا فِی اسْمٍ، فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَمًا، كَـ"عِمْرَان" وَ"عُثْمَان" فَـ"سَعْدَان" اسْمُ نَبْتٍ مُنْصَرِفٌ؛ لِعَدَمِ العَلَمِيَّةِ۔ وَإِنْ كَانَتَا فِی صِفَةٍ، فَشَرْطُهُ: أَنْ لَا يَكُونَ مُؤَنَّثُهُ عَلَى "فَعْلَانَة"، كَـ"سَكْرَان" فَـ"نَدْمَان" مُنْصَرِفٌ؛ لِوُجُودِ "نَدْمَانَة"۔

لفظی ترجمہ
الأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِزائد الف و نون
إِنْ كَانَتَا فِی اسْمٍاگر دونوں اسم میں ہوں
فَشَرْطُهُپس اس کی شرط
أَنْ يَكُونَ عَلَمًایہ کہ عَلَم ہو
عِمْرَان وَعُثْمَانعِمران، عُثمان
سَعْدَان اسْمُ نَبْتٍسَعدان (ایک پودے کا نام)
مُنْصَرِفٌمنصرف
لِعَدَمِ العَلَمِيَّةِعلمیت نہ ہونے سے
وَإِنْ كَانَتَا فِی صِفَةٍاور اگر صفت میں ہوں
لَا يَكُونَ مُؤَنَّثُهُاس کا مؤنث نہ ہو
عَلَى فَعْلَانَةفَعْلانة کے وزن پر
سَكْرَانسَکران (مؤنث: سَکریٰ)
نَدْمَاننَدمان (پشیمان)
لِوُجُودِ نَدْمَانَةنَدمانة موجود ہونے سے
ترجمہ
بہرحال زائد الف و نون: اگر یہ کسی اسم میں ہوں تو شرط یہ ہے کہ وہ عَلَم ہو (جیسے "عِمران، عُثمان" → علمیت + الف نون سے غیر منصرف)۔ پس "سَعدان" (ایک پودے کا نام) منصرف ہے کیونکہ اس میں علمیت نہیں۔ اور اگر یہ کسی صفت میں ہوں تو شرط یہ ہے کہ اس کا مؤنث "فَعْلانة" کے وزن پر نہ ہو — جیسے "سَكران" (جس کا مؤنث "سَكریٰ" ہے، نہ کہ سكرانة → غیر منصرف)۔ پس "نَدمان" منصرف ہے کیونکہ اس کا مؤنث "نَدمانة" موجود ہے۔
تشریح
لفظحکموجہ
عِمْرَان، عُثْمَانغیر منصرفاسم + عَلَم (علمیت + الف نون)
سَعْدَانمنصرفاسم مگر عَلَم نہیں (پودے کا نام)
سَكْرَانغیر منصرفصفت، مؤنث سَكریٰ (فَعلیٰ، نہ فَعلانة)
نَدْمَانمنصرفصفت، مگر مؤنث نَدمانة (فَعلانة) موجود
حاشیہ (کتاب کا): «فَشَرْطُهُ» کی ضمیر «راجع لصفة بتأویل الاسم» — یعنی "صفت" کی طرف لوٹ رہی ہے، اسم کی تاویل کے ساتھ۔
سبب ۹

وَزْنُ الفِعْللفظ کا فعل کے وزن پر ہونا (دو صورتیں)

متن

أَمَّا وَزْنُ الفِعْلِ، فَشَرْطُهُ: أَنْ يَخْتَصَّ بِالفِعْلِ وَلَا يُوجَدَ فِی الاِسْمِ إِلَّا مَنْقُولًا عَنِ الفِعْلِ، كَـ"شَمَّرَ وَضَرُبَ" وَإِنْ لَمْ يَخْتَصَّ بِهِ، فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ فِی أَوَّلِهِ إِحْدَى حُرُوفِ المُضَارِعِ، وَلَا يَدْخُلَهُ الهَاءُ، كَـ"أَحْمَد" وَ"يَشْكُرُ" وَ"تَغْلِب" وَ"نَرْجِس"۔ فَـ"يَعْمَلُ" مُنْصَرِفٌ؛ لِقَبُولِهَا الهَاءَ، كَقَوْلِهِمْ: "نَاقَةٌ يَعْمَلَة"۔

لفظی ترجمہ
أَمَّا وَزْنُ الفِعْلِبہرحال وزنِ فعل
أَنْ يَخْتَصَّ بِالفِعْلِفعل کے ساتھ خاص ہو
وَلَا يُوجَدَ فِی الاِسْمِاسم میں نہ پایا جائے
إِلَّا مَنْقُولًا عَنِ الفِعْلِمگر فعل سے منقول ہو کر
شَمَّرَ وَضَرُبَشَمَّرَ، ضَرُبَ
وَإِنْ لَمْ يَخْتَصَّ بِهِاور اگر خاص نہ ہو
فِی أَوَّلِهِاس کے شروع میں
إِحْدَى حُرُوفِ المُضَارِعِحروفِ مضارع میں سے ایک
وَلَا يَدْخُلَهُ الهَاءُاور ہاء نہ آئے
أَحْمَد، يَشْكُر، تَغْلِب، نَرْجِسیہ چاروں
فَيَعْمَلُ مُنْصَرِفٌپس یَعمَل منصرف
لِقَبُولِهَا الهَاءَہاء قبول کرنے سے
نَاقَةٌ يَعْمَلَةکام کرنے والی اونٹنی
ترجمہ
بہرحال وزنِ فعل: اس کی شرط دو میں سے ایک ہے — (الف) وہ وزن فعل کے ساتھ خاص ہو، یعنی اسم میں نہ آتا ہو مگر فعل سے منقول ہو کر (جیسے "شَمَّرَ، ضَرُبَ" — خالص فعلی وزن)؛ یا (ب) اگر خاص نہ ہو (اسم و فعل دونوں میں آ سکتا ہو) تو لازم ہے کہ لفظ کے شروع میں حروفِ مضارع میں سے کوئی ہو اور اس میں ہاء نہ آ سکے — جیسے "أحمد، یشكُر، تَغلِب، نَرجِس"۔ پس "یَعمَل" منصرف ہے کیونکہ وہ ہاء قبول کرتا ہے، جیسے عرب کا قول "ناقةٌ یعملة"۔
تشریح — دو صورتیں
  • (الف) خالص فعلی وزن: جو اسم میں عام طور پر نہیں آتا — شَمَّرَ، ضَرُبَ، دُئِل۔ اگر عَلَم بن جائیں → غیر منصرف۔
  • (ب) مشترک وزن: تو شرط — شروع میں مضارع کا حرف (أ، ت، ی، ن) ہو + ہاء قبول نہ کرے۔ أَحْمَد (ء)، یَشْكُر (ی)، تَغْلِب (ت)، نَرْجِس (ن)۔
  • یَعْمَل منصرف — شروع میں ی تو ہے مگر ہاء قبول کرتا ہے (یعملة)، تو وزنِ فعل کا سبب نہ بنا۔
✦ حروفِ مضارع
یہ چار ہیں: أ · ت · ی · ن (بطور یادداشت: «أتَیْنَ» یا «نَأْتِی»)۔ حاشیے میں اِنہی کی طرف اشارہ ہے: «وهي أتین»۔
متن — غیر منصرف کب منصرف بنتا ہے؟ (تنکیر)

وَاعْلَمْ: أَنَّ كُلَّ مَا شُرِطَ فِيهِ العَلَمِيَّةُ — وَهُوَ المُؤَنَّثُ بِالتَّاءِ، وَالمَعْنَوِيُّ، وَالعُجْمَةُ، وَالتَّرْكِيبُ، وَالاِسْمُ الَّذِي فِيهِ الأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ — أَوْ مَا لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهِ ذَلِكَ وَاجْتَمَعَ مَعَ سَبَبٍ وَاحِدٍ فَقَطْ — وَهُوَ العَلَمُ المَعْدُولُ وَوَزْنُ الفِعْلِ — إِذَا نُكِّرَ صُرِفَ۔ أَمَّا فِی القِسْمِ الأَوَّلِ؛ فَلِبَقَاءِ الاِسْمِ بِلَا سَبَبٍ۔ وَأَمَّا فِی القِسْمِ الثَّانِي؛ فَلِبَقَائِهِ عَلَى سَبَبٍ وَاحِدٍ، تَقُولُ: "جَاءَنِي طَلْحَةُ وَطَلْحَةٌ آخَرُ، وَقَامَ عُمَرُ وَعُمَرٌ آخَرُ، وَضَرَبَ أَحْمَدُ وَأَحْمَدٌ آخَرُ"۔

لفظی ترجمہ
وَاعْلَمْاور جان لو
كُلَّ مَا شُرِطَ فِيهِ العَلَمِيَّةُہر وہ جس میں علمیت شرط تھی
المُؤَنَّثُ بِالتَّاءِمؤنث بالتاء (طلحة)
وَالمَعْنَوِيُّمعنوی (زینب)
وَالعُجْمَةُ وَالتَّرْكِيبُعجمہ، ترکیب
الأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِزائد الف و نون (عثمان)
مَا لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهِ ذَلِكَجس میں یہ شرط نہ تھی
وَاجْتَمَعَ مَعَ سَبَبٍ وَاحِدٍاور ایک ہی سبب رکھے
العَلَمُ المَعْدُولُعلمِ معدول (عُمَر = عدل)
وَوَزْنُ الفِعْلِاور وزنِ فعل (أحمد)
إِذَا نُكِّرَ صُرِفَجب نکرہ ہو تو منصرف
فَلِبَقَاءِ الاِسْمِ بِلَا سَبَبٍاسم بے سبب رہ جانے سے
فَلِبَقَائِهِ عَلَى سَبَبٍ وَاحِدٍایک سبب پر رہ جانے سے
طَلْحَةُ وَطَلْحَةٌ آخَرُطلحہ، اور ایک اور طلحہ
ترجمہ
اور جان لو: ہر وہ (غیر منصرف) جس میں علمیت شرط تھی — یعنی مؤنث بالتاء، معنوی، عجمہ، ترکیب، اور وہ اسم جس میں زائد الف و نون ہوں — یا وہ جس میں یہ (علمیت) شرط نہ تھی مگر صرف ایک سبب رکھتا ہو — یعنی علمِ معدول (عدل) اور وزنِ فعل — جب نکرہ کر دیا جائے تو منصرف ہو جاتا ہے۔ پہلی قسم میں اِس لیے کہ اسم بے سبب رہ جاتا ہے (علمیت گئی تو دوسرا سبب بھی، جو اسی پر موقوف تھا)؛ اور دوسری قسم میں اِس لیے کہ صرف ایک سبب رہ جاتا ہے (جو کافی نہیں)۔ تم کہتے ہو: "جاءني طلحةُ (غیر منصرف) وطلحةٌ آخرُ (نکرہ → منصرف)، قام عمرُ وعمرٌ آخرُ، ضرب أحمدُ وأحمدٌ آخرُ"۔
تشریح — دو قسمیں، دونوں تنکیر پر منصرف
قسمکون سے اسبابنکرہ پر کیا بچتا ہے؟نتیجہ
۱ — علمیت شرطتأنیث(تاء/معنوی)، عجمہ، ترکیب، الف نون — سب علمیت کے ساتھعلمیت گئی → دوسرا سبب بھی گیا → صفر سببمنصرف
۲ — علمیت شرط نہیںعدل (عُمَر)، وزنِ فعل (أحمد) — یہ خود کھڑےعلمیت گئی → ایک سبب باقی (ناکافی)منصرف
⤴ نکتہ
"طلحةٌ آخرُ / عمرٌ آخرُ / أحمدٌ آخرُ" میں دوسرا لفظ نکرہ ("ایک اور…") ہے، اِس لیے تنوین آ گئی (منصرف)؛ جبکہ پہلا اصل عَلَم غیر منصرف رہا (تنوین نہیں)۔
متن — غیر منصرف پر کسرہ کب آتا ہے؟

وَكُلُّ مَا لَا يَنْصَرِفُ، إِذَا أُضِيفَ أَوْ دَخَلَهُ اللَّامُ، فَيَدْخُلُهُ الكَسْرَةُ، نَحْوُ: "مَرَرْتُ بِأَحْمَدِكُمْ وَبِالأَحْمَدِ"۔

لفظی ترجمہ
وَكُلُّ مَا لَا يَنْصَرِفُاور ہر غیر منصرف
إِذَا أُضِيفَجب مضاف ہو
أَوْ دَخَلَهُ اللَّامُیا اس پر "ال" آئے
فَيَدْخُلُهُ الكَسْرَةُتو اس میں کسرہ آتا ہے
مَرَرْتُ بِأَحْمَدِكُمْمیں تمہارے أحمد سے گزرا
وَبِالأَحْمَدِاور "الأحمد" سے
ترجمہ
اور ہر غیر منصرف، جب وہ مضاف ہو جائے یا اس پر "ال" داخل ہو، تو (جر کی حالت میں) اس میں فتحہ کے بجائے کسرہ آ جاتا ہے۔ جیسے: "مررتُ بأحمدِكم (مضاف) وبالأحمدِ ("ال" والا)"۔
تشریح

عام حالت میں غیر منصرف کی جر فتحہ سے ہوتی ہے (بأحمدَ)۔ مگر دو صورتوں میں یہ کسرہ پر لوٹ آتا ہے:

  • مضاف ہونے پر: مررتُ بأحمدِكم (أحمد، "کم" کی طرف مضاف → کسرہ)۔
  • "ال" داخل ہونے پر: مررتُ بالأحمدِ (الـ آیا → کسرہ)۔
حاشیہ (کتاب کا): «أُضیفَ» پر اشارہ ہے «إلى اسم آخر» (کسی اور اسم کی طرف)، اور «فیدخلہ الکسرة» پر «في حالة الجرّ» (جر کی حالت میں)۔
خلاصۂ فصل ۴ — منصرف بمقابلہ غیر منصرف
منصرفغیر منصرف
اسبابکوئی سبب نہیں (یا ایک)دو سبب، یا ایک جو ۲ کے برابر
تنوینآتی ہےنہیں آتی
جر کی علامتکسرہ ( ِ )فتحہ ( َ ) — مگر مضاف یا "ال" والے میں کسرہ
نکرہ ہونے پرمنصرف ہو جاتا ہے
مثالزَیْدٌ / زَیْداً / زَیْدٍأَحْمَدُ / أَحْمَدَ / أَحْمَدَ
🧭 پہچان
غیر منصرف: تنوین نہیں + جر میں زبر۔ مگر یاد رہے — مضاف یا "ال" والا غیر منصرف جر میں زیر لیتا ہے، اور نکرہ ہو کر مکمل منصرف بن جاتا ہے۔
باب ۱ · مقصد اوّل

اَلمَقْصَدُ الأَوَّلُ فِی المَرْفُوعَات

وہ اسماء جن کا اعراب رفع ہوتا ہے — آٹھ اقسام
متن — مرفوع اسماء کی آٹھ قسمیں

الأَسْمَاءُ المَرْفُوعَةُ ثَمَانِيَةُ أَقْسَامٍ: الفَاعِلُ، وَمَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ، وَالمُبْتَدَأُ، وَالخَبَرُ، وَخَبَرُ "إِنَّ" وَأَخَوَاتِهَا، وَاسْمُ "كَانَ" وَأَخَوَاتِهَا، وَاسْمُ "مَا وَلَا" المُشَبَّهَتَيْنِ بِـ"لَيْسَ"، وَخَبَرُ "لَا" الَّتِي لِنَفْيِ الجِنْسِ۔

ترجمہ
مرفوع اسماء آٹھ قسمیں ہیں: (۱) فاعل، (۲) نائب الفاعل (مفعول ما لم یُسمَّ فاعلہ)، (۳) مبتدأ، (۴) خبر، (۵) خبرِ "إنّ" و اخواتہا، (۶) اسمِ "كان" و اخواتہا، (۷) اسمِ "ما و لا" جو "لیس" کے مشابہ ہیں، (۸) خبرِ "لا" جو نفیِ جنس کے لیے ہے۔
تشریح — آٹھ مرفوعات کی فہرست
#مرفوعمختصر تعارف
۱الفاعلکام کرنے والا (قام زیدٌ)
۲نائب الفاعلفاعل کی جگہ کھڑا مفعول (ضُرِبَ زیدٌ)
۳المبتدأجملۂ اسمیہ کا پہلا جزو (زیدٌ قائمٌ)
۴الخبرمبتدأ کی خبر (زیدٌ قائمٌ)
۵خبر إنّ و اخواتہا(إنّ زیداً قائمٌ)
۶اسم كان و اخواتہا(كان زیدٌ قائماً)
۷اسم "ما/لا" مشبہ بلیس(ما زیدٌ قائماً)
۸خبر "لا" نفیِ جنس(لا رجلَ قائمٌ)
ℹ ترتیب
اِن آٹھوں کی الگ الگ فصلیں آئیں گی۔ پہلے الفاعل پھر نائب الفاعل، اور آگے باقی۔
فصل · مرفوع ۱

اَلفَاعِلکام کرنے والا — تعریف اور تمام احکام

متن — تعریفِ فاعل

فَصْلٌ: الفَاعِلُ: وَهُوَ كُلُّ اسْمٍ قَبْلَهُ فِعْلٌ أَوْ صِفَةٌ، أُسْنِدَ إِلَيْهِ عَلَى مَعْنَى أَنَّهُ قَامَ بِهِ أَوْ وَقَعَ عَلَيْهِ، نَحْوُ: "قَامَ زَيْدٌ، وَزَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ عَمْرًا، وَمَا ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا"۔

لفظی ترجمہ
الفَاعِلُفاعل
كُلُّ اسْمٍہر وہ اسم
قَبْلَهُ فِعْلٌ أَوْ صِفَةٌجس سے پہلے فعل یا صفت ہو
أُسْنِدَ إِلَيْهِجس کی طرف اسناد ہو
عَلَى مَعْنَى أَنَّهُاس معنیٰ پر کہ وہ
قَامَ بِهِ(کام) اس سے قائم ہوا
أَوْ وَقَعَ عَلَيْهِیا اس پر واقع ہوا
قَامَ زَيْدٌزید کھڑا ہوا
زَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ عَمْرًازید، اس کا باپ عمرو کو مارنے والا
مَا ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًازید نے عمرو کو نہ مارا
ترجمہ
فصل: فاعل وہ ہر اسم ہے جس سے پہلے فعل یا صفت ہو، اور جس کی طرف اسناد (نسبت) کی گئی ہو — اِس معنیٰ پر کہ کام اُس سے قائم/صادر ہوا (قام بہ) یا اُس پر واقع ہوا (وقع علیہ)۔ جیسے: "قام زیدٌ" (زید کھڑا ہوا)، "زیدٌ ضاربٌ أبوهُ عمراً" (زید — اس کا باپ عمرو کو مارنے والا)، اور "ما ضرب زیدٌ عمراً" (زید نے عمرو کو نہ مارا)۔
تشریح — تعریف کے اجزاء
  • «قبلہ فعل أو صفة»: فاعل صرف فعل ہی کا نہیں ہوتا — صفت (اسمِ فاعل/اسمِ مفعول جیسے "ضارب") کا بھی ہوتا ہے۔
  • «قام بہ أو وقع علیہ»: بعض افعال میں فاعل خود کام کرتا ہے (قام زید)، اور بعض میں کام اُس پر گزرتا/واقع ہوتا ہے (جیسے مات زید — موت اس پر واقع)۔ دونوں صورتوں میں وہ فاعل ہی ہے اور مرفوع ہوتا ہے۔
مثالفاعلوضاحت
قَامَ زَيْدٌزَيْدٌفعل (قام) کا فاعل
زَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ عَمْرًاأَبُوهُصفت (ضارب) کا فاعل
مَا ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًازَيْدٌنفی کے باوجود فاعل
حاشیہ (کتاب کا): اِس پر اشارہ ہے «القسم الأول» — یعنی یہ مرفوعات کی پہلی قسم (فاعل) ہے۔
متن — ہر فعل کو فاعل چاہیے

وَكُلُّ فِعْلٍ لَابُدَّ لَهُ مِنْ فَاعِلٍ مَرْفُوعٍ مُظْهَرٍ، كَـ"ذَهَبَ زَيْدٌ" أَوْ مُضْمَرٍ بَارِزٍ، كَـ"ضَرَبْتَ زَيْدًا" أَوْ مُسْتَتِرٍ، كَـ"زَيْدٌ ذَهَبَ"۔ وَإِنْ كَانَ الفِعْلُ مُتَعَدِّيًا، كَانَ لَهُ مَفْعُولٌ بِهِ أَيْضًا، نَحْوُ: "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا"۔

لفظی ترجمہ
وَكُلُّ فِعْلٍاور ہر فعل
لَابُدَّ لَهُ مِنْ فَاعِلٍ مَرْفُوعٍاسے مرفوع فاعل ضروری
مُظْهَرٍمظہر (ظاہر اسم)
ذَهَبَ زَيْدٌزید گیا
مُضْمَرٍ بَارِزٍمضمر بارز (ظاہر ضمیر)
ضَرَبْتَ زَيْدًاتو نے زید کو مارا
مُسْتَتِرٍمستتر (چھپا ضمیر)
زَيْدٌ ذَهَبَزید گیا (چھپا "ھو")
مُتَعَدِّيًامتعدی
مَفْعُولٌ بِهِ أَيْضًامفعول بہ بھی
ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًازید نے عمرو کو مارا
ترجمہ
اور ہر فعل کے لیے ایک مرفوع فاعل ضروری ہے — چاہے مظہر (ظاہر اسم) ہو، جیسے "ذهب زیدٌ"؛ یا مضمر بارز (ظاہر ضمیر) ہو، جیسے "ضربْتَ زیداً" (یہاں "تَ" فاعل)؛ یا مستتر (چھپا ضمیر) ہو، جیسے "زیدٌ ذهب" (ذهب میں چھپا "ھو")۔ اور اگر فعل متعدی ہو تو اس کے لیے مفعولٌ بہ بھی ہوتا ہے، جیسے "ضرب زیدٌ عمراً"۔
تشریح — فاعل کی تین شکلیں
شکلمطلبمثال (فاعل)
مُظْہَرظاہر اسمذَهَبَ زَيْدٌ
مُضْمَر بارزظاہر/نمایاں ضمیرضَرَبْتَ زَيْدًا (تَ)
مُستترچھپا ہوا ضمیرزَيْدٌ ذَهَبَ (چھپا ھُوَ)
حاشیہ (کتاب کا): «کل فعل» پر اشارہ ہے «لازماً كان أو متعدياً» — یعنی فعل لازم ہو یا متعدی، ہر حال میں فاعل ضروری۔ متعدی میں مزید مفعول بھی۔
متن — فعل کا واحد/تثنیہ/جمع ہونا

وَإِنْ كَانَ الفَاعِلُ مُظْهَرًا، وُحِّدَ الفِعْلُ أَبَدًا، نَحْوُ: "ضَرَبَ زَيْدٌ، وَضَرَبَ الزَّيْدَانِ، وَضَرَبَ الزَّيْدُونَ"۔ وَإِنْ كَانَ مُضْمَرًا، وُحِّدَ لِلْوَاحِدِ، نَحْوُ: "زَيْدٌ ضَرَبَ" وَثُنِّيَ لِلْمُثَنَّى، نَحْوُ: "الزَّيْدَانِ ضَرَبَا" وَجُمِعَ لِلْجَمْعِ، نَحْوُ: "الزَّيْدُونَ ضَرَبُوا"۔

لفظی ترجمہ
إِنْ كَانَ الفَاعِلُ مُظْهَرًااگر فاعل مظہر ہو
وُحِّدَ الفِعْلُ أَبَدًافعل ہمیشہ واحد
ضَرَبَ الزَّيْدَانِدو زید نے مارا
ضَرَبَ الزَّيْدُونَزیدوں نے مارا
وَإِنْ كَانَ مُضْمَرًااور اگر مضمر ہو
وُحِّدَ لِلْوَاحِدِواحد کے لیے واحد
وَثُنِّيَ لِلْمُثَنَّىتثنیہ کے لیے تثنیہ
الزَّيْدَانِ ضَرَبَادو زید نے مارا
وَجُمِعَ لِلْجَمْعِجمع کے لیے جمع
الزَّيْدُونَ ضَرَبُوازیدوں نے مارا
ترجمہ
اور اگر فاعل مظہر (ظاہر اسم) ہو تو فعل ہمیشہ واحد رہتا ہے، چاہے فاعل واحد/تثنیہ/جمع ہو — جیسے "ضرب زیدٌ، ضرب الزیدانِ، ضرب الزیدونَ" (فعل ہمیشہ "ضرب")۔ اور اگر فاعل مضمر (ضمیر) ہو تو فعل عدد کے مطابق ہوتا ہے: واحد کے لیے واحد ("زیدٌ ضرب")، تثنیہ کے لیے تثنیہ ("الزیدانِ ضربا")، جمع کے لیے جمع ("الزیدونَ ضربوا")۔
تشریح
فاعلفعل کا عددمثال
مظہر (ظاہر اسم)ہمیشہ واحدضَرَبَ الزَّيْدَانِ / الزَّيْدُونَ
مضمر — واحدواحدزَيْدٌ ضَرَبَ
مضمر — تثنیہتثنیہالزَّيْدَانِ ضَرَبَا
مضمر — جمعجمعالزَّيْدُونَ ضَرَبُوا
⤴ سنہری اصول
فاعل اگر ظاہر اسم ہو تو فعل کبھی تثنیہ/جمع نہیں ہوتا (ضرب الزیدانِ، نہ "ضربا الزیدانِ")۔ صرف ضمیر فاعل کے ساتھ فعل عدد میں بدلتا ہے۔
متن — فعل کب مؤنث لایا جائے

وَإِنْ كَانَ الفَاعِلُ مُؤَنَّثًا حَقِيقِيًّا — وَهُوَ مَا بِإِزَائِهِ ذَكَرٌ مِنَ الحَيَوَانِ — أُنِّثَ الفِعْلُ أَبَدًا إِنْ لَمْ تُفْصَلْ بَيْنَ الفِعْلِ وَالفَاعِلِ، نَحْوُ: "قَامَتْ هِنْدُ"۔ فَإِنْ فَصَلْتَ، فَلَكَ الخِيَارُ فِی التَّذْكِيرِ وَالتَّأْنِيثِ، نَحْوُ: "ضَرَبَ اليَوْمَ هِنْدُ" وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ: "ضَرَبَتِ اليَوْمَ هِنْدُ"۔ وَكَذَلِكَ فِی المُؤَنَّثِ الغَيْرِ الحَقِيقِيِّ، نَحْوُ: "طَلَعَتِ الشَّمْسُ" وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ: "طَلَعَ الشَّمْسُ"۔ هَذَا إِذَا كَانَ الفِعْلُ مُسْنَدًا إِلَى المُظْهَرِ، وَإِنْ كَانَ مُسْنَدًا إِلَى المُضْمَرِ، أُنِّثَ أَبَدًا، نَحْوُ: "الشَّمْسُ طَلَعَتْ"۔ وَجَمْعُ التَّكْسِيرِ كَالمُؤَنَّثِ الغَيْرِ الحَقِيقِيِّ، تَقُولُ: "قَامَ الرِّجَالُ" وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ: "قَامَتِ الرِّجَالُ، وَالرِّجَالُ قَامَتْ" وَيَجُوزُ فِيهِ: "الرِّجَالُ قَامُوا"۔

لفظی ترجمہ
مُؤَنَّثًا حَقِيقِيًّامؤنث حقیقی
مَا بِإِزَائِهِ ذَكَرٌ مِنَ الحَيَوَانِجس کے مقابل نر جاندار ہو
أُنِّثَ الفِعْلُ أَبَدًافعل ہمیشہ مؤنث
إِنْ لَمْ تُفْصَلْاگر فصل نہ ہو
قَامَتْ هِنْدُہند کھڑی ہوئی
فَإِنْ فَصَلْتَاگر فصل کر دیا
فَلَكَ الخِيَارُتو تجھے اختیار
ضَرَبَ اليَوْمَ هِنْدُآج ہند نے مارا (مذکر)
المُؤَنَّثِ الغَيْرِ الحَقِيقِيِّمؤنث غیر حقیقی
طَلَعَتِ الشَّمْسُسورج نکلا
مُسْنَدًا إِلَى المُظْهَرِمظہر کی طرف مسند
مُسْنَدًا إِلَى المُضْمَرِمضمر کی طرف مسند
الشَّمْسُ طَلَعَتْسورج نکلا (چھپا ھی)
وَجَمْعُ التَّكْسِيرِاور جمع مکسر
الرِّجَالُ قَامُوامردوں نے قیام کیا
ترجمہ
اور اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو — یعنی جس کے مقابل کوئی نر جاندار ہو (جیسے عورت کے مقابل مرد) — تو فعل ہمیشہ مؤنث لایا جاتا ہے، بشرطیکہ فعل اور فاعل کے درمیان فصل (فاصلہ) نہ ہو، جیسے "قامت هندُ"۔ لیکن اگر تو نے فصل کر دیا تو تجھے تذکیر و تانیث دونوں کا اختیار ہے: "ضرب الیومَ هندُ" (مذکر) یا چاہے تو "ضربت الیومَ هندُ" (مؤنث)۔ اور مؤنث غیر حقیقی میں بھی (اختیار): "طلعت الشمسُ" یا "طلع الشمسُ"۔ یہ (اختیار) تب ہے جب فعل مظہر کی طرف مسند ہو؛ اور اگر مضمر کی طرف مسند ہو تو ہمیشہ مؤنث، جیسے "الشمسُ طلعت"۔ اور جمع مکسر مؤنث غیر حقیقی جیسا ہے: "قام الرجالُ" یا چاہے تو "قامت الرجالُ" اور "الرجالُ قامت"، اور اس میں "الرجالُ قاموا" بھی جائز ہے۔
تشریح — کب لازمی مؤنث، کب اختیاری؟

مؤنث حقیقی: جس کا حقیقی نر جوڑا ہو (عورت/مرد، شیرنی/شیر)۔ مؤنث غیر حقیقی: صرف لفظی مؤنث، حقیقی نر نہیں (شمس، نار، دار)۔

صورتحکممثال
مؤنث حقیقی + بلا فصللازمی مؤنثقَامَتْ هِنْدُ
مؤنث حقیقی + فصلاختیاریضَرَبَ / ضَرَبَتِ اليَوْمَ هِنْدُ
مؤنث غیر حقیقی (مظہر)اختیاریطَلَعَ / طَلَعَتِ الشَّمْسُ
مؤنث (مضمر)لازمی مؤنثالشَّمْسُ طَلَعَتْ
جمع مکسرغیر حقیقی جیسا + "قاموا" بھی جائزقَامَ / قَامَتِ الرِّجَالُ · الرِّجَالُ قَامُوا
حاشیہ (کتاب کا): «إن لم تفصل» پر «شرط»، «أُنّث الفعل» پر «جزاء شرط»، اور «ذکر من الحیوان» پر «من عینه» (یعنی اسی جنس کا نر) لکھا ہے۔
متن — فاعل/مفعول کی ترتیب، اور حذف

وَيَجِبُ تَقْدِيمُ الفَاعِلِ عَلَى المَفْعُولِ إِذَا كَانَا مَقْصُورَيْنِ، وَخِفْتَ اللَّبْسَ، نَحْوُ: "ضَرَبَ مُوسَى عِيسَى"۔ وَيَجُوزُ تَقْدِيمُ المَفْعُولِ عَلَى الفَاعِلِ إِنْ لَمْ تَخَفِ اللَّبْسَ، نَحْوُ: "أَكَلَ الكُمَّثْرَى يَحْيَى، وَضَرَبَ عَمْرًا زَيْدٌ"۔ وَيَجُوزُ حَذْفُ الفِعْلِ حَيْثُ كَانَتْ قَرِينَةٌ، نَحْوُ: "زَيْدٌ" فِی جَوَابِ مَنْ قَالَ: "مَنْ ضَرَبَ؟"۔ وَكَذَا يَجُوزُ حَذْفُ الفِعْلِ وَالفَاعِلِ مَعًا، كَـ"نَعَمْ" فِی جَوَابِ مَنْ قَالَ: "أَقَامَ زَيْدٌ؟"۔ وَقَدْ يُحْذَفُ الفَاعِلُ، وَيُقَامُ المَفْعُولُ مَقَامَهُ إِذَا كَانَ الفِعْلُ مَجْهُولًا، نَحْوُ: "ضُرِبَ زَيْدٌ" وَهُوَ القِسْمُ الثَّانِي مِنَ المَرْفُوعَاتِ۔

لفظی ترجمہ
يَجِبُ تَقْدِيمُ الفَاعِلِفاعل کا مقدم کرنا واجب
إِذَا كَانَا مَقْصُورَيْنِجب دونوں مقصور ہوں
وَخِفْتَ اللَّبْسَاور التباس کا خوف ہو
ضَرَبَ مُوسَى عِيسَىموسیٰ نے عیسیٰ کو مارا
تَقْدِيمُ المَفْعُولِمفعول کا مقدم کرنا
إِنْ لَمْ تَخَفِ اللَّبْسَاگر التباس کا خوف نہ ہو
أَكَلَ الكُمَّثْرَى يَحْيَىیحییٰ نے ناشپاتی کھائی
وَضَرَبَ عَمْرًا زَيْدٌزید نے عمرو کو مارا
حَذْفُ الفِعْلِفعل کا حذف
حَيْثُ كَانَتْ قَرِينَةٌجہاں قرینہ ہو
مَنْ ضَرَبَ؟کس نے مارا؟
حَذْفُ الفِعْلِ وَالفَاعِلِ مَعًافعل و فاعل دونوں کا حذف
أَقَامَ زَيْدٌ؟کیا زید کھڑا ہوا؟
يُحْذَفُ الفَاعِلُفاعل حذف ہوتا
وَيُقَامُ المَفْعُولُ مَقَامَهُمفعول اس کی جگہ کھڑا
إِذَا كَانَ الفِعْلُ مَجْهُولًاجب فعل مجہول ہو
ضُرِبَ زَيْدٌزید مارا گیا
القِسْمُ الثَّانِي مِنَ المَرْفُوعَاتِمرفوعات کی دوسری قسم
ترجمہ
فاعل کو مفعول پر مقدم کرنا واجب ہے جب دونوں مقصور ہوں (جن پر اعراب ظاہر نہ ہو) اور تجھے التباس (کون فاعل، کون مفعول) کا خوف ہو — جیسے "ضرب موسیٰ عیسیٰ" (یہاں اعراب ظاہر نہیں، تو ترتیب ہی بتاتی ہے کہ موسیٰ فاعل، عیسیٰ مفعول)۔ اور مفعول کو مقدم کرنا جائز ہے جب التباس کا خوف نہ ہو — جیسے "أكل الكمّثریٰ یحییٰ" (ناشپاتی کھا نہیں سکتی، تو واضح کہ یحییٰ فاعل)، اور "ضرب عمراً زیدٌ"۔ اور فعل کا حذف جائز ہے جہاں قرینہ ہو — جیسے "مَن ضرب؟" کے جواب میں صرف "زیدٌ" (اصل: ضرب زیدٌ)۔ اور اسی طرح فعل و فاعل دونوں کا حذف — جیسے "أقام زیدٌ؟" کے جواب میں "نعم"۔ اور کبھی فاعل حذف کر کے مفعول کو اس کی جگہ کھڑا کر دیا جاتا ہے جب فعل مجہول ہو — جیسے "ضُرِبَ زیدٌ" — اور یہ مرفوعات کی دوسری قسم (نائب الفاعل) ہے۔
تشریح

ترتیبِ فاعل و مفعول

صورتحکممثال
دونوں مقصور + التباس کا خوففاعل پہلے (واجب)ضَرَبَ مُوسَى عِيسَى
التباس کا خوف نہیںمفعول پہلے (جائز)أَكَلَ الكُمَّثْرَى يَحْيَى

حذف کی صورتیں

  • صرف فعل: "مَن ضرب؟" → زیدٌ (اصل: ضرب زیدٌ)۔
  • فعل + فاعل دونوں: "أقام زیدٌ؟" → نعم۔
  • فاعل حذف، مفعول قائم مقام: فعلِ مجہول میں — ضُرِبَ زیدٌ۔
اگلی قسم
"ضُرِبَ زیدٌ" میں فاعل (مارنے والا) حذف ہے اور مفعول (زید) اس کی جگہ مرفوع — اِسے نائب الفاعل کہتے ہیں، جو مرفوعات کی دوسری قسم ہے۔ اس کی تفصیلی فصل آئندہ آئے گی، ان شاء اللہ۔
فصل · مرفوعات

اَلتَّنَازُعجب دو فعل ایک ہی اسم میں عمل کرنا چاہیں

متن — تعریف اور چار اقسام

فَصْلٌ: إِذَا تَنَازَعَ الفِعْلَانِ فِی اسْمٍ ظَاهِرٍ بَعْدَهُمَا — أَيْ أَرَادَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الفِعْلَيْنِ أَنْ يَعْمَلَ فِی ذَلِكَ الاِسْمِ — فَهَذَا إِنَّمَا يَكُونُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ۔
الأَوَّلُ: أَنْ يَتَنَازَعَا فِی الفَاعِلِيَّةِ فَقَطْ، نَحْوُ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ"۔
الثَّانِي: أَنْ يَتَنَازَعَا فِی المَفْعُولِيَّةِ فَقَطْ، نَحْوُ: "ضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا"۔
الثَّالِثُ: أَنْ يَتَنَازَعَا فِی الفَاعِلِيَّةِ وَالمَفْعُولِيَّةِ، وَيَقْتَضِي الأَوَّلُ الفَاعِلَ وَالثَّانِي المَفْعُولَ، نَحْوُ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا"۔
الرَّابِعُ: عَكْسُهُ، نَحْوُ: "ضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ"۔

لفظی ترجمہ (تعریف)
إِذَا تَنَازَعَ الفِعْلَانِجب دو فعل جھگڑیں
فِی اسْمٍ ظَاهِرٍ بَعْدَهُمَااپنے بعد کے ظاہر اسم میں
أَرَادَ كُلُّ وَاحِدٍہر ایک چاہے
أَنْ يَعْمَلَ فِی ذَلِكَ الاِسْمِاس اسم میں عمل کرے
عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍچار قسموں پر
يَتَنَازَعَا فِی الفَاعِلِيَّةِفاعل بننے میں جھگڑیں
فِی المَفْعُولِيَّةِمفعول بننے میں
يَقْتَضِي الأَوَّلُ الفَاعِلَپہلا فاعل چاہے
عَكْسُهُاس کا الٹ
ترجمہ
فصل: جب دو فعل اپنے بعد آنے والے ایک ظاہر اسم میں عمل کرنے کے لیے جھگڑیں — یعنی دونوں فعل چاہیں کہ وہ اسم اُن کا معمول (فاعل یا مفعول) بنے — تو یہ چار قسموں پر ہوتا ہے: پہلی — دونوں اسے فاعل بنانا چاہیں ("ضربني وأكرمني زیدٌ")۔ دوسری — دونوں مفعول بنانا چاہیں ("ضربتُ وأكرمتُ زیداً")۔ تیسری — پہلا فاعل، دوسرا مفعول چاہے ("ضربني وأكرمتُ زیداً")۔ چوتھی — اس کا الٹ: پہلا مفعول، دوسرا فاعل ("ضربتُ وأكرمني زیدٌ")۔
تشریح — چار اقسام ایک نظر میں

تنازع کا مطلب: دو فعل آئیں، اور اُن کے بعد ایک ظاہر اسم ہو جسے دونوں اپنا معمول بنانا چاہیں۔ مسئلہ یہ کہ عمل کس فعل کا چلے؟

قسمپہلا فعل چاہےدوسرا فعل چاہےمثال
۱ (فاعلیت فقط)فاعلفاعلضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ
۲ (مفعولیت فقط)مفعولمفعولضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا
۳فاعلمفعولضَرَبَنِي وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا
۴ (عکس)مفعولفاعلضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ
✦ "ضربني وأكرمني زیدٌ" کیسے؟
"زیدٌ نے مجھے مارا اور زید نے مجھے عزت دی" — یہاں ایک ہی "زیدٌ" دونوں فعلوں کا فاعل بننا چاہتا ہے۔ "ني" (مجھے) دونوں کا مفعول ہے۔
متن — کس فعل کا عمل؟ (جواز و اختیار)

وَاعْلَمْ أَنَّ فِی جَمِيعِ هَذِهِ الأَقْسَامِ يَجُوزُ إِعْمَالُ الفِعْلِ الأَوَّلِ وَإِعْمَالُ الفِعْلِ الثَّانِي، خِلَافًا لِلْفَرَّاءِ فِی الصُّورَةِ الأُولَى وَالثَّالِثَةِ أَنْ يَعْمَلَ الثَّانِي، وَدَلِيلُهُ لُزُومُ أَحَدِ الأَمْرَيْنِ: إِمَّا حَذْفُ الفَاعِلِ أَوِ الإِضْمَارُ قَبْلَ الذِّكْرِ، وَكِلَاهُمَا مَحْظُورَانِ، وَهَذَا فِی الجَوَازِ۔ وَأَمَّا الاِخْتِيَارُ فَفِيهِ خِلَافُ البَصْرِيِّينَ، فَإِنَّهُمْ يَخْتَارُونَ إِعْمَالَ الفِعْلِ الثَّانِي اعْتِبَارًا لِلْقُرْبِ وَالجِوَارِ، وَالكُوفِيُّونَ يَخْتَارُونَ إِعْمَالَ الفِعْلِ الأَوَّلِ مُرَاعَاةً لِلتَّقْدِيمِ وَالاِسْتِحْقَاقِ۔

لفظی ترجمہ
يَجُوزُ إِعْمَالُ الفِعْلِ الأَوَّلِپہلے فعل کا عمل جائز
وَإِعْمَالُ الفِعْلِ الثَّانِياور دوسرے کا بھی
خِلَافًا لِلْفَرَّاءِفراء کے خلاف
فِی الصُّورَةِ الأُولَى وَالثَّالِثَةِپہلی و تیسری صورت میں
حَذْفُ الفَاعِلِفاعل کا گرانا
الإِضْمَارُ قَبْلَ الذِّكْرِذکر سے پہلے ضمیر لانا
وَكِلَاهُمَا مَحْظُورَانِدونوں ممنوع
خِلَافُ البَصْرِيِّينَبصریوں کا اختلاف
اعْتِبَارًا لِلْقُرْبِ وَالجِوَارِقرب و پڑوس کے لحاظ سے
مُرَاعَاةً لِلتَّقْدِيمِ وَالاِسْتِحْقَاقِتقدیم و استحقاق کے لحاظ سے
ترجمہ
اور جان لو کہ اِن چاروں اقسام میں پہلے فعل کا عمل اور دوسرے فعل کا عمل — دونوں جائز ہیں۔ فراء کے خلاف (جو پہلی اور تیسری صورت میں صرف دوسرے کا عمل کہتے ہیں)؛ اُن کی دلیل یہ کہ (پہلے کا عمل کرنے پر) دو میں سے ایک بات لازم آتی ہے — یا تو فاعل کا گرانا یا ذکر سے پہلے ضمیر لانا — اور یہ دونوں ممنوع ہیں۔ (یہ بحث جواز کی ہے۔) اور جہاں تک اختیار (ترجیح) کا تعلق ہے: بصری دوسرے فعل کا عمل پسند کرتے ہیں (قرب و پڑوس کے لحاظ سے)، اور کوفی پہلے فعل کا عمل پسند کرتے ہیں (تقدیم و استحقاق کے لحاظ سے)۔
تشریح — تین مذہب
فریقموقفوجہ
جمہور (جواز)سب اقسام میں اول یا ثانی — دونوں جائز
فراءصورت ۱ و ۳ میں صرف ثانی کا عملاولِ کا عمل → حذفِ فاعل یا اضمار قبل الذکر (دونوں ممنوع)
بصری (اختیار)ترجیح: ثانی کا عملقرب و جوار (اسم سے قریب)
کوفی (اختیار)ترجیح: اول کا عمل (ثانی بھی جائز)تقدیم و استحقاق (پہلے آنا)
حاشیہ (کتاب کا): «محظوران» پر «أي ممنوعان»؛ جوازِ اول و ثانی پر «كما هو مذهب الجمهور»؛ فراء کے قول پر «كما هو مذهب الكسائي»؛ اور کوفیوں کے اختیارِ اول پر «مع تجویز إعمال الثاني أيضاً» (یعنی ثانی بھی جائز رکھتے ہیں)۔
إعمالِ ثانی

مذہبِ بصریین — دوسرے فعل کا عملاسم دوسرے فعل کا معمول؛ پہلا فعل اپنا معمول ضمیر سے لے

متن — پہلا فعل فاعل چاہے تو اِضمار

فَإِنْ أَعْمَلْتَ الثَّانِي، فَانْظُرْ إِنْ كَانَ الفِعْلُ الأَوَّلُ يَقْتَضِي الفَاعِلَ، أَضْمَرْتَهُ فِی الأَوَّلِ، كَمَا تَقُولُ فِی المُتَوَافِقَيْنِ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ، وَضَرَبَانِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِ، وَضَرَبُونِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَ"۔ وَفِی المُتَخَالِفَيْنِ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا، وَضَرَبَانِي وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدَيْنِ، وَضَرَبُونِي وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدِينَ"۔

لفظی ترجمہ
فَإِنْ أَعْمَلْتَ الثَّانِياگر دوسرے کا عمل کیا
الأَوَّلُ يَقْتَضِي الفَاعِلَپہلا فاعل چاہے
أَضْمَرْتَهُ فِی الأَوَّلِاسے پہلے میں ضمیر بنا
فِی المُتَوَافِقَيْنِمتوافقین میں (دونوں فاعل)
ضَرَبَانِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِدو زید نے… (تثنیہ)
ضَرَبُونِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَزیدوں نے… (جمع)
فِی المُتَخَالِفَيْنِمتخالفین میں (اول فاعل، ثانی مفعول)
وَأَكْرَمْتُ زَيْدًامیں نے زید کو عزت دی
ترجمہ
پس اگر تو نے دوسرے فعل کا عمل کیا، تو دیکھ: اگر پہلا فعل فاعل چاہتا ہے، تو اُس (فاعل) کو پہلے فعل میں ضمیر بنا دے۔ جیسے متوافقین (دونوں فاعل چاہیں — قسم ۱) میں: "ضربني وأكرمني زیدٌ" (واحد)، "ضرباني وأكرمني الزیدانِ" (تثنیہ)، "ضربوني وأكرمني الزیدونَ" (جمع)۔ اور متخالفین (قسم ۳ — اول فاعل، ثانی مفعول) میں: "ضربني وأكرمتُ زیداً" (واحد)، "ضرباني وأكرمتُ الزیدَینِ" (تثنیہ)، "ضربوني وأكرمتُ الزیدِینَ" (جمع)۔
تشریح

چونکہ اسم دوسرے فعل کا معمول بن گیا، پہلے فعل کو اپنا فاعل ضمیر کی صورت میں ملتا ہے (جو بعد والے ظاہر اسم کے عدد کے مطابق ہوتا ہے)۔ فاعل کو گرایا نہیں جا سکتا، اِس لیے ضمیر لازم۔

عددمتوافقین (دونوں فاعل)متخالفین (اول فاعل، ثانی مفعول)
واحدضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌضَرَبَنِي وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا
تثنیہضَرَبَانِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِضَرَبَانِي وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدَيْنِ
جمعضَرَبُونِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَضَرَبُونِي وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدِينَ
⤴ غور کریں
پہلا فعل (ضرب) عدد میں بدلتا ہے (ضربني/ضرباني/ضربوني) کیونکہ اُس میں فاعل کا ضمیر ہے؛ جبکہ دوسرا فعل (أكرم) جس کا ظاہر فاعل/مفعول بعد میں ہے، واحد رہتا ہے۔
متن — پہلا فعل مفعول چاہے تو حذف

وَإِنْ كَانَ الفِعْلُ الأَوَّلُ يَقْتَضِي المَفْعُولَ، وَلَمْ يَكُنِ الفِعْلَانِ مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِ، حَذَفْتَ المَفْعُولَ مِنَ الفِعْلِ الأَوَّلِ، كَمَا تَقُولُ فِی المُتَوَافِقَيْنِ: "ضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا، وَضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدَيْنِ، وَضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدِينَ" وَفِی المُتَخَالِفَيْنِ: "ضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ، وَضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِ، وَضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَ"۔ وَإِنْ كَانَ الفِعْلَانِ مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِ، يَجِبُ إِظْهَارُ المَفْعُولِ لِلْفِعْلِ الأَوَّلِ، كَمَا تَقُولُ: "حَسِبَنِي مُنْطَلِقًا وَحَسِبْتُ زَيْدًا مُنْطَلِقًا"۔ إِذْ لَا يَجُوزُ حَذْفُ المَفْعُولِ مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِ وَإِضْمَارُ المَفْعُولِ قَبْلَ الذِّكْرِ، هَذَا هُوَ مَذْهَبُ البَصْرِيِّينَ۔

لفظی ترجمہ
الأَوَّلُ يَقْتَضِي المَفْعُولَپہلا مفعول چاہے
وَلَمْ يَكُنِ مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِاور افعالِ قلوب میں سے نہ ہوں
حَذَفْتَ المَفْعُولَ مِنَ الأَوَّلِپہلے سے مفعول گرا دے
وَأَكْرَمْتُ زَيْدًامیں نے زید کو عزت دی
وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌزید نے مجھے عزت دی
مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِدل کے افعال (حسب/ظن)
يَجِبُ إِظْهَارُ المَفْعُولِمفعول کا اظہار واجب
حَسِبَنِي مُنْطَلِقًااس نے مجھے روانہ سمجھا
وَحَسِبْتُ زَيْدًا مُنْطَلِقًامیں نے زید کو روانہ سمجھا
ترجمہ
اور اگر پہلا فعل مفعول چاہتا ہے، اور دونوں فعل افعالِ قلوب میں سے نہ ہوں، تو پہلے فعل سے مفعول کو حذف (گرا) دے۔ جیسے متوافقین (قسم ۲ — دونوں مفعول) میں: "ضربتُ وأكرمتُ زیداً" (واحد)، "ضربتُ وأكرمتُ الزیدَینِ" (تثنیہ)، "ضربتُ وأكرمتُ الزیدِینَ" (جمع)۔ اور متخالفین (قسم ۴ — اول مفعول، ثانی فاعل) میں: "ضربتُ وأكرمني زیدٌ" (واحد)، "ضربتُ وأكرمني الزیدانِ" (تثنیہ)، "ضربتُ وأكرمني الزیدونَ" (جمع)۔ اور اگر دونوں فعل افعالِ قلوب میں سے ہوں تو پہلے فعل کے لیے مفعول کا اظہار واجب ہے — جیسے "حسبني منطلقاً وحسبتُ زیداً منطلقاً"۔ کیونکہ افعالِ قلوب کا مفعول گرانا اور ذکر سے پہلے ضمیر لانا — دونوں ناجائز۔ یہ بصریوں کا مذہب ہے۔
تشریح — حذف بمقابلہ اِضمار

پچھلے اصول سے فرق: جب پہلا فعل فاعل چاہے تو ضمیر لاتے ہیں (فاعل گرانا منع)؛ مگر جب مفعول چاہے تو اُسے گرا دیتے ہیں (مفعول گرانا جائز) — بشرطیکہ افعالِ قلوب نہ ہوں۔

عددمتوافقین (دونوں مفعول)متخالفین (اول مفعول، ثانی فاعل)
واحدضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ زَيْدًاضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ
تثنیہضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدَيْنِضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِ
جمعضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدِينَضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَ
افعالِ قلوب کا استثناء
حسب، ظنّ، علم جیسے افعالِ قلوب میں مفعول گرانا منع (کیونکہ وہ خبر کی حیثیت رکھتا ہے)۔ تو پہلے فعل کا مفعول بھی ظاہر کیا جاتا ہے: "حسبني منطلقاً وحسبتُ زیداً منطلقاً"۔
إعمالِ اول

مذہبِ کوفیین — پہلے فعل کا عملاسم پہلے فعل کا معمول؛ دوسرا فعل اپنا معمول ضمیر سے لے

متن — دوسرا فعل فاعل چاہے تو اِضمار

وَأَمَّا إِنْ أَعْمَلْتَ الفِعْلَ الأَوَّلَ عَلَى مَذْهَبِ الكُوفِيِّينَ، فَانْظُرْ إِنْ كَانَ الفِعْلُ الثَّانِي يَقْتَضِي الفَاعِلَ، أَضْمَرْتَ الفَاعِلَ فِی الفِعْلِ الثَّانِي، كَمَا تَقُولُ فِی المُتَوَافِقَيْنِ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ، وَضَرَبَنِي وَأَكْرَمَانِي الزَّيْدَانِ، وَضَرَبَنِي وَأَكْرَمُونِي الزَّيْدُونَ"۔

لفظی ترجمہ
إِنْ أَعْمَلْتَ الفِعْلَ الأَوَّلَاگر پہلے فعل کا عمل کیا
عَلَى مَذْهَبِ الكُوفِيِّينَکوفیوں کے مذہب پر
الثَّانِي يَقْتَضِي الفَاعِلَدوسرا فاعل چاہے
أَضْمَرْتَ الفَاعِلَ فِی الثَّانِيفاعل کو دوسرے میں ضمیر بنا
وَأَكْرَمَانِي الزَّيْدَانِدو زید نے عزت دی (تثنیہ)
وَأَكْرَمُونِي الزَّيْدُونَزیدوں نے عزت دی (جمع)
ترجمہ
اور اگر تو نے پہلے فعل کا عمل کیا (کوفیوں کے مذہب پر)، تو دیکھ: اگر دوسرا فعل فاعل چاہتا ہے، تو فاعل کو دوسرے فعل میں ضمیر بنا دے۔ جیسے متوافقین میں: "ضربني وأكرمني زیدٌ" (واحد)، "ضربني وأكرماني الزیدانِ" (تثنیہ)، "ضربني وأكرموني الزیدونَ" (جمع)۔
تشریح — بصری بمقابلہ کوفی

یہاں اسم پہلے فعل کا معمول ہے (ضربني زیدٌ = زید فاعلِ اول)؛ اور دوسرا فعل اپنا فاعل ضمیر سے لیتا ہے، جو عدد میں بدلتا ہے (أكرمني/أكرماني/أكرموني)۔

عددکوفی (إعمالِ اول)بصری (إعمالِ ثانی)
واحدضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ
تثنیہضَرَبَنِي وَأَكْرَمَانِي الزَّيْدَانِضَرَبَانِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِ
جمعضَرَبَنِي وَأَكْرَمُونِي الزَّيْدُونَضَرَبُونِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَ
⤴ کلیدی فرق
واحد میں دونوں مذہب ایک جیسے دکھتے ہیں؛ مگر تثنیہ/جمع میں فرق ظاہر ہوتا ہے — کوفی میں دوسرا فعل عدد میں بدلتا ہے (أكرماني/أكرموني)، اور بصری میں پہلا فعل (ضرباني/ضربوني)۔
جاری
کوفی مذہب کی باقی صورتیں (متخالفین، اور جب دوسرا فعل مفعول چاہے) اگلے صفحات میں آئیں گی، ان شاء اللہ۔