فصل ۳
اَلْكَلَامکلام کی تعریف، اسناد اور جملے کی قسمیں
متن — کلام اور اسناد کی تعریف
الكَلَامُ: لَفْظٌ تَضَمَّنَ كَلِمَتَيْنِ بِالإِسْنَادِ، وَالإِسْنَادُ نِسْبَةُ إِحْدَى الكَلِمَتَيْنِ إِلَى الأُخْرَى، بِحَيْثُ تُفِيدُ المُخَاطَبَ فَائِدَةً تَامَّةً يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَا، نَحْوُ: "زَيْدٌ قَائِمٌ، وَقَامَ زَيْدٌ"، وَيُسَمَّى جُمْلَةً۔
لفظی ترجمہ
الكَلَامُکلام
لَفْظٌ تَضَمَّنَایسا لفظ جو شامل ہو
كَلِمَتَيْنِدو کلموں کو
بِالإِسْنَادِاسناد کے ساتھ
وَالإِسْنَادُاور اسناد
نِسْبَةُنسبت دینا
إِحْدَى الكَلِمَتَيْنِایک کلمے کی
إِلَى الأُخْرَىدوسرے کی طرف
بِحَيْثُ تُفِيدُاس طرح کہ فائدہ دے
المُخَاطَبَمخاطب کو
فَائِدَةً تَامَّةًمکمل فائدہ
يَصِحُّ السُّكُوتُ عَلَيْهَاجس پر خاموشی درست ہو
وَيُسَمَّى جُمْلَةًاور "جملہ" کہلاتا ہے
ترجمہ
کلام ایسا لفظ ہے جو اسناد کے طریقے پر دو کلموں کو شامل ہو۔ اور اسناد کا مطلب: دو کلموں میں سے ایک کو دوسرے کی طرف اِس طرح نسبت کرنا کہ وہ مخاطب کو ایسا مکمل فائدہ دے جس پر خاموشی درست ہو (بات پوری ہو جائے)۔ جیسے "زَیْدٌ قَائِمٌ" اور "قَامَ زَیْدٌ" — اور اسے "جملہ" بھی کہتے ہیں۔
تشریح
- کلمتین + اسناد — کلام کے لیے کم از کم دو کلمے چاہئیں جن میں ایک کو دوسرے سے جوڑا (اسناد) جائے۔
- فائدہ تامہ — بات اِتنی مکمل ہو کہ سننے والا منتظر نہ رہے۔
- یَصِحُّ السُّکُوت — کہنے والا چپ ہو جائے تو بھی بات ادھوری محسوس نہ ہو۔ جیسے "زیدٌ قائمٌ" مکمل ہے؛ مگر صرف "زیدٌ" کہہ کر چپ ہو جائیں تو بات ادھوری ہے۔
کلام اور
جملہ یہاں ہم معنی ہیں۔ (آگے کے فن میں ان میں باریک فرق بھی بیان ہوتا ہے، مگر یہاں دونوں ایک ہی ہیں۔)
متن — جملے کی دو قسمیں
فَعُلِمَ أَنَّ الكَلَامَ لَا يَحْصُلُ إِلَّا مِنِ اسْمَيْنِ، نَحْوُ: "زَيْدٌ قَائِمٌ" وَيُسَمَّى جُمْلَةً اسْمِيَّةً، أَوْ مِنْ فِعْلٍ وَاسْمٍ، نَحْوُ: "قَامَ زَيْدٌ" وَيُسَمَّى جُمْلَةً فِعْلِيَّةً؛ إِذْ لَا يُوجَدُ المُسْنَدُ وَالمُسْنَدُ إِلَيْهِ مَعًا فِي غَيْرِهِمَا، وَلَابُدَّ لِلْكَلَامِ مِنْهُمَا۔
لفظی ترجمہ
فَعُلِمَپس معلوم ہوا
أَنَّ الكَلَامَکہ کلام
لَا يَحْصُلُ إِلَّاحاصل نہیں ہوتا مگر
مِنِ اسْمَيْنِدو اسموں سے
جُمْلَةً اسْمِيَّةًجملہ اسمیہ
أَوْ مِنْ فِعْلٍ وَاسْمٍیا فعل و اسم سے
قَامَ زَيْدٌزید کھڑا ہوا
جُمْلَةً فِعْلِيَّةًجملہ فعلیہ
إِذْ لَا يُوجَدُکیونکہ نہیں پایا جاتا
المُسْنَدُ وَالمُسْنَدُ إِلَيْهِمسند و مسند الیہ
مَعًا فِي غَيْرِهِمَادونوں ان کے سوا میں
وَلَابُدَّ لِلْكَلَامِ مِنْهُمَااور کلام کو دونوں لازم
ترجمہ
پس معلوم ہوا کہ کلام صرف دو اسموں سے بنتا ہے ("زَیْدٌ قَائِمٌ") — اور اسے جملہ اسمیہ کہتے ہیں؛ یا فعل و اسم سے ("قَامَ زَیْدٌ") — اور اسے جملہ فعلیہ کہتے ہیں۔ کیونکہ مسند اور مسند الیہ دونوں اِن (اسم و فعل) کے سوا کہیں اکٹھے نہیں پائے جاتے، اور کلام کو اِن دونوں کا ہونا لازم ہے۔
تشریح — دونوں جملوں کا فرق
ہر جملے میں دو رکن لازمی ہیں: مسند الیہ (جس کی طرف نسبت ہو) اور مسند (جو نسبت کیا جائے)۔ "زیدٌ قائمٌ" میں زیدٌ مسند الیہ اور قائمٌ مسند ہے۔ یہ جوڑا صرف اسم و فعل ہی میں بنتا ہے، حرف میں نہیں — اِسی لیے کلام کے لیے کم از کم اِن کا ہونا ضروری ہے۔
متن — نِدا والا اشکال اور اس کا جواب
فَإِنْ قِيلَ: قَدْ نُوقِضَ بِالنِّدَاءِ، نَحْوُ: "يَا زَيْدُ"۔ قُلْنَا: حَرْفُ النِّدَاءِ قَائِمٌ مَقَامَ "أَدْعُو" وَ"أَطْلُبُ" وَهُوَ الفِعْلُ، فَلَا نَقْضَ عَلَيْهِ۔
لفظی ترجمہ
فَإِنْ قِيلَاگر یہ کہا جائے
قَدْ نُوقِضَنقض کیا گیا ہے
بِالنِّدَاءِندا کے ذریعے
يَا زَيْدُاے زید!
قُلْنَاہم کہتے ہیں
حَرْفُ النِّدَاءِحرفِ ندا
قَائِمٌ مَقَامَقائم مقام ہے
أَدْعُومیں بلاتا ہوں
وَأَطْلُبُاور میں طلب کرتا ہوں
وَهُوَ الفِعْلُاور یہ فعل ہے
فَلَا نَقْضَ عَلَيْهِپس اس پر کوئی نقض نہیں
ترجمہ
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اِس قاعدے پر ندا کے ذریعے نقض آتا ہے — جیسے "یَا زَیْدُ" (اے زید!) — (یہاں تو ایک ہی اسم سے بات بن گئی، دو سے نہیں)۔ تو ہم جواب دیتے ہیں: حرفِ ندا ("یا") "أَدْعُو" (میں بلاتا ہوں) اور "أَطْلُبُ" (میں طلب کرتا ہوں) کے قائم مقام ہے، اور یہ فعل ہے — پس (گویا یہاں بھی فعل اور اسم دونوں موجود ہیں، اِس لیے) اِس پر کوئی نقض نہیں آتا۔
تشریح — اشکال اور جواب آسان لفظوں میں
اشکال (اعتراض)
ابھی کہا گیا تھا کہ کلام کم از کم دو کلموں سے بنتا ہے۔ مگر "یَا زَیْدُ" میں تو بظاہر صرف ایک اسم (زَیْد) ہے اور بات مکمل بھی ہو گئی — تو قاعدہ ٹوٹ گیا (نقض)۔
جواب
"یا" (حرفِ ندا) دراصل ایک چھپے ہوئے فعل کے قائم مقام ہے — یعنی أَدْعُو (میں بلاتا ہوں) یا أَطْلُبُ (میں طلب کرتا ہوں)۔ گویا اصل جملہ ہے "أَدْعُو زَیْدًا" (میں زید کو بلاتا ہوں) — جس میں فعل بھی ہے اور اسم بھی۔ اِس لیے قاعدہ نہیں ٹوٹا۔
حاشیہ (کتاب کا): «قَائِمٌ مَقَامَ أَدْعُو وَأَطْلُبُ» پر لکھا ہے «أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أَدْعُو وَأَطْلُبُ» — یعنی حرفِ ندا اِن دونوں (أَدْعُو اور أَطْلُبُ) میں سے ہر ایک کے قائم مقام ہے۔
متن — مقدمے کا اختتام
وَإِذَا فَرَغْنَا مِنَ المُقَدِّمَةِ فَلْنَشْرَعْ فِي الأَقْسَامِ الثَّلَاثَةِ، وَاللهُ المُوَفِّقُ وَالمُعِينُ۔
لفظی ترجمہ
وَإِذَا فَرَغْنَااور جب ہم فارغ ہوئے
مِنَ المُقَدِّمَةِمقدمے سے
فَلْنَشْرَعْتو ہم شروع کریں
فِي الأَقْسَامِ الثَّلَاثَةِتینوں قسموں میں
وَاللهُاور اللہ
المُوَفِّقُتوفیق دینے والا
وَالمُعِينُاور مدد کرنے والا
ترجمہ
اور جب ہم مقدمے سے فارغ ہو گئے، تو اب ہم تینوں قسموں (اسم، فعل، حرف) کا بیان شروع کرتے ہیں۔ اور اللہ ہی توفیق دینے والا اور مدد کرنے والا ہے۔
تشریح
یہاں مصنفؒ مقدمہ مکمل کر کے اعلان کرتے ہیں کہ اب کتاب کا اصل حصہ — اقسامِ ثلاثہ (اسم، فعل، حرف کی تفصیل) — شروع ہو رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے توفیق و مدد طلب کرتے ہیں۔
متن — باب اوّل کا نقشہ
البَابُ الأَوَّلُ: فِی الاِسْمِ المُعْرَبِ، وَفِيهِ مُقَدِّمَةٌ وَثَلَاثَةُ مَقَاصِدَ وَخَاتِمَةٌ۔ أَمَّا المُقَدِّمَةُ: فَفِيهَا فُصُولٌ۔
لفظی ترجمہ
البَابُ الأَوَّلُپہلا باب
فِی الاِسْمِ المُعْرَبِاسمِ معرب کے بارے میں
وَفِيهِاور اس میں
مُقَدِّمَةٌایک مقدمہ
وَثَلَاثَةُ مَقَاصِدَاور تین مقاصد
وَخَاتِمَةٌاور ایک خاتمہ
أَمَّا المُقَدِّمَةُبہرحال مقدمہ
فَفِيهَا فُصُولٌپس اس میں کئی فصلیں
ترجمہ
پہلا باب اسمِ معرب کے بارے میں ہے، اور اس میں ایک مقدمہ، تین مقاصد اور ایک خاتمہ ہے۔ بہرحال (اس باب کا) مقدمہ — اس میں کئی فصلیں ہیں۔
تشریح
باب اوّل کی ترتیب: مقدمہ (چند فصلیں) + تین مقاصد + خاتمہ۔ ہم ابھی مقدمے کی فصلیں پڑھیں گے۔
حاشیہ (کتاب کا): یہ خاتمہ «فی بیان التوابع» ہے — یعنی توابع (نعت، تاکید، بدل، عطف وغیرہ) کے بیان میں۔
فصل ۳
أَصْنَافُ إِعْرَابِ الاِسْماسم کے اعراب کی نو اصناف — ہر صنف میں رفع/نصب/جر کی الامت الگ
متن — کتنی اصناف؟
فَصْلٌ فِی أَصْنَافِ إِعْرَابِ الاِسْمِ: وَهِيَ تِسْعَةُ أَصْنَافٍ۔
ترجمہ
فصل: اسم کے اعراب کی اقسام — یہ نو (۹) اصناف ہیں۔ (ہر صنف میں رفع، نصب اور جر کی الامت مختلف ہوتی ہے، اور ہر صنف کچھ خاص اسماء کے لیے مخصوص ہے۔)
ℹ نوٹ
نیچے
تمام ۹ اصناف ترتیب سے موجود ہیں — پہلی ۶ لفظی اعراب والی (حرکات و حروف) اور آخری ۳ تقدیری اعراب والی (مقصور، منقوص، اور جمع مذکر سالم مضاف الی یاءِ متکلم)۔
۱
اَلصِّنْفُ الأَوَّل — حرکات سے (اصل اعراب)
متن
الأَوَّلُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ بِالفَتْحَةِ، وَالجَرُّ بِالكَسْرَةِ، وَيَخْتَصُّ بِـالاِسْمِ المُفْرَدِ المُنْصَرِفِ الصَّحِيحِ — وَهُوَ عِنْدَ النُّحَاةِ: مَا لَا يَكُونُ فِی آخِرِهِ حَرْفُ عِلَّةٍ، كَـ"زَيْد" — وَبِالجَارِي مَجْرَى الصَّحِيحِ — وَهُوَ مَا يَكُونُ فِی آخِرِهِ وَاوٌ أَوْ يَاءٌ مَا قَبْلَهُمَا سَاكِنٌ، كَـ"دَلْو وَظَبْي" — وَبِالجَمْعِ المُكَسَّرِ المُنْصَرِفِ، كَـ"رِجَال"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي زَيْدٌ وَدَلْوٌ وَظَبْيٌ وَرِجَالٌ، وَرَأَيْتُ زَيْدًا وَدَلْوًا وَظَبْيًا وَرِجَالًا، وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ وَدَلْوٍ وَظَبْيٍ وَرِجَالٍ"۔
لفظی ترجمہ (قاعدے کے الفاظ)
الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِرفع پیش سے
وَالنَّصْبُ بِالفَتْحَةِنصب زبر سے
وَالجَرُّ بِالكَسْرَةِجر زیر سے
وَيَخْتَصُّاور مخصوص ہے
الاِسْمِ المُفْرَدِاسمِ مفرد
المُنْصَرِفِمنصرف
الصَّحِيحِصحیح
حَرْفُ عِلَّةٍحرفِ علت (ا و ی)
الجَارِي مَجْرَى الصَّحِيحِصحیح کے حکم میں
دَلْو وَظَبْيدول اور ہرن
الجَمْعِ المُكَسَّرِجمع مکسر
رِجَالمرد (جمع)
ترجمہ
پہلی صنف: رفع پیش سے، نصب زبر سے، جر زیر سے ہو۔ یہ مخصوص ہے: اسمِ مفرد منصرف صحیح (نحاۃ کے نزدیک: جس کے آخر میں حرفِ علت نہ ہو، جیسے "زید")، اور جاری مجری الصحیح (جس کے آخر میں واو یا یاء ہو اور اس سے پہلے ساکن ہو، جیسے "دَلْو، ظَبْي")، اور جمع مکسر منصرف (جیسے "رِجال") کے ساتھ۔ تم کہتے ہو: "جاءني زیدٌ ودلوٌ وظبيٌ ورجالٌ (سب رفع)، رأیتُ زیداً ودلواً وظبیاً ورجالاً (سب نصب)، مررتُ بزیدٍ ودلوٍ وظبيٍ ورجالٍ (سب جر)"۔
تشریح
رفعضمّہزَیْدٌ
نصبفتحہزَیْداً
جرکسرہزَیْدٍ
یہ اصل/بنیادی اعراب ہے۔ تین قسم کے اسماء کے لیے: (۱) مفرد منصرف صحیح (نہ تثنیہ نہ جمع، تنوین قبول کرے، آخر میں ا/و/ی نہ ہو)، (۲) جاری مجری الصحیح (دَلْو، ظَبْي — آخر میں و/ی مگر اس سے پہلے سکون)، (۳) جمع مکسر منصرف (رِجال)۔
حاشیہ (کتاب کا): مثال والے جملے پر اشارہ ہے کہ "جاءني..." جملہ فعلیہ ہے جسے مفرد خبر کی تاویل میں لیا گیا ہے۔
۲
اَلصِّنْفُ الثَّانِي — جمع مؤنث سالم
متن
الثَّانِي: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِالكَسْرَةِ، وَيَخْتَصُّ بِـجَمْعِ المُؤَنَّثِ السَّالِمِ، كَـ"مُسْلِمَات"۔ تَقُولُ: "جَاءَتْنِي مُسْلِمَاتٌ، وَرَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍ، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمَاتٍ"۔
لفظی ترجمہ
الثَّانِيدوسری
الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِرفع پیش سے
وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِالكَسْرَةِنصب و جر زیر سے
جَمْعِ المُؤَنَّثِ السَّالِمِجمع مؤنث سالم
مُسْلِمَاتمسلمان عورتیں
جَاءَتْنِي مُسْلِمَاتٌمیرے پاس مسلمان عورتیں آئیں
رَأَيْتُ مُسْلِمَاتٍمیں نے انہیں دیکھا
مَرَرْتُ بِمُسْلِمَاتٍمیں ان کے پاس سے گزرا
ترجمہ
دوسری صنف: رفع پیش سے، اور نصب و جر دونوں زیر سے ہوں۔ یہ جمع مؤنث سالم (جیسے "مسلمات") کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءتني مسلماتٌ (رفع)، رأیتُ مسلماتٍ (نصب)، مررتُ بمسلماتٍ (جر)"۔
تشریح
رفعضمّہمُسْلِمَاتٌ
نصبکسرہمُسْلِمَاتٍ
جرکسرہمُسْلِمَاتٍ
خاص بات: جمع مؤنث سالم میں نصب فتحہ سے نہیں، بلکہ کسرہ سے ہوتا ہے — یہی اِس صنف کی پہچان ہے۔
حاشیہ (کتاب کا): اِس مقام پر "مسلمات" کے اوپر «مبتدأ» لکھا ہے (یعنی نحوی تجزیے کا اشارہ)۔
۳
اَلصِّنْفُ الثَّالِث — غیر منصرف
متن
الثَّالِثُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِالفَتْحَةِ، وَيَخْتَصُّ بِـغَيْرِ المُنْصَرِفِ، كَـ"عُمَر"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي عُمَرُ، وَرَأَيْتُ عُمَرَ، وَمَرَرْتُ بِعُمَرَ"۔
لفظی ترجمہ
الثَّالِثُتیسری
الرَّفْعُ بِالضَّمَّةِرفع پیش سے
وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِالفَتْحَةِنصب و جر زبر سے
غَيْرِ المُنْصَرِفِغیر منصرف
عُمَرعُمر (نام)
جَاءَنِي عُمَرُمیرے پاس عُمر آیا
رَأَيْتُ عُمَرَمیں نے عُمر کو دیکھا
مَرَرْتُ بِعُمَرَمیں عُمر کے پاس سے گزرا
ترجمہ
تیسری صنف: رفع پیش سے، اور نصب و جر دونوں زبر سے ہوں۔ یہ غیر منصرف (جیسے "عُمَر") کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني عمرُ (رفع)، رأیتُ عمرَ (نصب)، مررتُ بعمرَ (جر)"۔
تشریح
رفعضمّہعُمَرُ
نصبفتحہعُمَرَ
جرفتحہعُمَرَ
خاص بات: غیر منصرف وہ اسم ہے جو تنوین قبول نہیں کرتا، اور جر کی حالت میں کسرہ کے بجائے فتحہ لیتا ہے (بعمرَ، نہ بعمرٍ)۔ رفع پیش سے، نصب و جر دونوں زبر سے۔
۴
اَلصِّنْفُ الرَّابِع — اسمائے ستہ (چھ اسم)
متن
الرَّابِعُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالوَاوِ، وَالنَّصْبُ بِالأَلِفِ، وَالجَرُّ بِاليَاءِ، وَيَخْتَصُّ بِـالأَسْمَاءِ السِّتَّةِ مُكَبَّرَةً مُوَحَّدَةً مُضَافَةً إِلَى غَيْرِ يَاءِ المُتَكَلِّمِ، وَهِيَ: أَخُوكَ وَأَبُوكَ وَحَمُوكَ وَهَنُوكَ وَفُوكَ وَذُو مَالٍ۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي أَخُوكَ، وَرَأَيْتُ أَخَاكَ، وَمَرَرْتُ بِأَخِيكَ"، وَكَذَا البَوَاقِي۔
لفظی ترجمہ
الرَّابِعُچوتھی
الرَّفْعُ بِالوَاوِرفع واو سے
وَالنَّصْبُ بِالأَلِفِنصب الف سے
وَالجَرُّ بِاليَاءِجر یاء سے
الأَسْمَاءِ السِّتَّةِچھ اسم
مُكَبَّرَةًبڑی شکل میں
مُوَحَّدَةًمفرد ہوں
مُضَافَةًمضاف ہوں
إِلَى غَيْرِ يَاءِ المُتَكَلِّمِیائے متکلم کے سوا کی طرف
أَخُوكَتیرا بھائی
وَأَبُوكَتیرا باپ
وَحَمُوكَتیرا سُسر
وَهَنُوكَتیری فلاں چیز
وَفُوكَتیرا منہ
وَذُو مَالٍمال والا
وَكَذَا البَوَاقِياور باقی اسی طرح
ترجمہ
چوتھی صنف: رفع واو سے، نصب الف سے، جر یاء سے ہو۔ یہ اسمائے ستہ کے ساتھ مخصوص ہے، اِس شرط کے ساتھ کہ وہ مکبّر (بڑی شکل)، مفرد، اور یائے متکلم کے سوا کسی کی طرف مضاف ہوں۔ وہ ہیں: أخوک، أبوک، حموک، هنوک، فوک، ذو مال۔ تم کہتے ہو: "جاءني أخوكَ (رفع)، رأیتُ أخاكَ (نصب)، مررتُ بأخيكَ (جر)" — اور باقی پانچ بھی اسی طرح۔
تشریح
رفعواوأَخُوكَ
نصبالفأَخَاكَ
جریاءأَخِيكَ
یہ چھ اسم حرکات کے بجائے حروف سے اعراب پاتے ہیں۔ مگر تین شرطیں ضروری ہیں:
- مکبّر ہوں (چھوٹی/تصغیر کی شکل نہ ہو)۔
- مفرد (موحّد) ہوں (تثنیہ/جمع نہ ہوں)۔
- مضاف ہوں، اور وہ بھی یائے متکلم کے سوا کسی کی طرف (یعنی "أخي" نہیں)۔
✦ چھ اسم یاد رکھیں
أخ (بھائی) ·
أب (باپ) ·
حم (سُسر) ·
هن (فلاں چیز) ·
فو (منہ) ·
ذو (والا/مالک)۔
۵
اَلصِّنْفُ الخَامِس — مثنّیٰ، کلا/کلتا، اثنان
متن
الخَامِسُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِالأَلِفِ، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِـاليَاءِ المَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَا، وَيَخْتَصُّ بِـالمُثَنَّى، وَ"كِلَا وَكِلْتَا" مُضَافَيْنِ إِلَى ضَمِيرٍ، وَ"اثْنَانِ وَاثْنَتَانِ"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي الرَّجُلَانِ كِلَاهُمَا وَاثْنَانِ، وَرَأَيْتُ الرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَا وَاثْنَيْنِ، وَمَرَرْتُ بِالرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَا وَاثْنَيْنِ"۔
لفظی ترجمہ
الخَامِسُپانچویں
الرَّفْعُ بِالأَلِفِرفع الف سے
وَالنَّصْبُ وَالجَرُّنصب و جر
اليَاءِ المَفْتُوحِ مَا قَبْلَهَایاء جس سے پہلے زبر
المُثَنَّىمثنّیٰ (دو کا صیغہ)
كِلَا وَكِلْتَاکلا و کلتا (دونوں)
مُضَافَيْنِ إِلَى ضَمِيرٍضمیر کی طرف مضاف
اثْنَانِ وَاثْنَتَانِدو (مذکر و مؤنث)
الرَّجُلَانِدو مرد
كِلَاهُمَاوہ دونوں
الرَّجُلَيْنِ كِلَيْهِمَادو مردوں دونوں کو
ترجمہ
پانچویں صنف: رفع الف سے، اور نصب و جر اُس یاء سے ہوں جس سے پہلے زبر ہو۔ یہ مثنّیٰ کے ساتھ مخصوص ہے، نیز "کِلا و کِلتا" جب ضمیر کی طرف مضاف ہوں، اور "اثنان و اثنتان"۔ تم کہتے ہو: "جاءني الرّجلانِ کلاهما واثنانِ (رفع)، رأیتُ الرّجلینِ کلیهما واثنینِ (نصب)، مررتُ بالرّجلینِ کلیهما واثنینِ (جر)"۔
تشریح
رفعالفالرَّجُلَانِ
نصبیاءالرَّجُلَيْنِ
جریاءالرَّجُلَيْنِ
مثنّیٰ (دو کا صیغہ) میں رفع الف سے (الرّجلانِ)، نصب و جر یاء سے جس سے پہلے زبر ہو (الرّجلینِ)۔ اسی طرح "کلاهما/کلیهما" (ضمیر کی طرف مضاف) اور "اثنان/اثنین"۔
۶
اَلصِّنْفُ السَّادِس — جمع مذکر سالم
متن
السَّادِسُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِـالوَاوِ المَضْمُومِ مَا قَبْلَهَا، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِـاليَاءِ المَكْسُورِ مَا قَبْلَهَا، وَيَخْتَصُّ بِـجَمْعِ المُذَكَّرِ السَّالِمِ، نَحْوُ: "مُسْلِمُونَ" وَ"أُولُو"، وَ"عِشْرُونَ" مَعَ أَخَوَاتِهَا۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي مُسْلِمُونَ وَعِشْرُونَ رَجُلًا وَأُولُو مَالٍ، وَرَأَيْتُ مُسْلِمِينَ وَعِشْرِينَ رَجُلًا وَأُولِي مَالٍ، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِينَ وَعِشْرِينَ رَجُلًا وَأُولِي مَالٍ"۔
لفظی ترجمہ
السَّادِسُچھٹی
الوَاوِ المَضْمُومِ مَا قَبْلَهَاواو جس سے پہلے پیش
اليَاءِ المَكْسُورِ مَا قَبْلَهَایاء جس سے پہلے زیر
جَمْعِ المُذَكَّرِ السَّالِمِجمع مذکر سالم
مُسْلِمُونَمسلمان (جمع)
أُولُووالے
عِشْرُونَ مَعَ أَخَوَاتِهَابیس اور اس کی بہنیں (۳۰…۹۰)
عِشْرُونَ رَجُلًابیس آدمی
أُولُو مَالٍمال والے
ترجمہ
چھٹی صنف: رفع اُس واو سے جس سے پہلے پیش ہو، اور نصب و جر اُس یاء سے جس سے پہلے زیر ہو۔ یہ جمع مذکر سالم کے ساتھ مخصوص ہے، جیسے "مسلمون"، "أولو"، اور "عشرون" اپنی بہنوں سمیت۔ تم کہتے ہو: "جاءني مسلمونَ وعشرونَ رجلاً وأولو مالٍ (رفع)، رأیتُ مسلمینَ وعشرینَ رجلاً وأولي مالٍ (نصب)، مررتُ بمسلمینَ وعشرینَ رجلاً وأولي مالٍ (جر)"۔
تشریح
رفعواو (ما قبل مضموم)مُسْلِمُونَ
نصبیاء (ما قبل مکسور)مُسْلِمِينَ
جریاء (ما قبل مکسور)مُسْلِمِينَ
جمع مذکر سالم میں رفع واو سے جس سے پہلے پیش (مسلمونَ)، نصب و جر یاء سے جس سے پہلے زیر (مسلمینَ)۔ اسی طرح "عشرون…عشرین" (اور اس کی بہنیں: ثلاثون، أربعون…تسعون) اور "أولو…أولي"۔
⤴ مثنّیٰ بمقابلہ جمع — یاء سے پہلے کیا؟
مثنّیٰ: یاء سے پہلے
زبر (الرّجلَیْنِ) ·
جمع مذکر سالم: یاء سے پہلے
زیر (مسلمِیْنَ)۔ یہی دونوں کا فرق پہچان ہے۔
متن — تثنیہ و جمع کے نون کا قاعدہ (واعلم)
وَاعْلَمْ: أَنَّ نُونَ التَّثْنِيَةِ مَكْسُورَةٌ أَبَدًا، وَنُونَ جَمْعِ السَّلَامَةِ مَفْتُوحَةٌ أَبَدًا، وَهُمَا يَسْقُطَانِ عِنْدَ الإِضَافَةِ۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي غُلَامَا زَيْدٍ وَمُسْلِمُو مِصْرَ"۔
لفظی ترجمہ
وَاعْلَمْاور جان لو
نُونَ التَّثْنِيَةِتثنیہ کا نون
مَكْسُورَةٌ أَبَدًاہمیشہ زیر والا
نُونَ جَمْعِ السَّلَامَةِجمع سالم کا نون
مَفْتُوحَةٌ أَبَدًاہمیشہ زبر والا
يَسْقُطَانِدونوں گر جاتے ہیں
عِنْدَ الإِضَافَةِاضافت کے وقت
غُلَامَا زَيْدٍزید کے دو غلام
وَمُسْلِمُو مِصْرَاور مصر کے مسلمان
ترجمہ
اور جان لو کہ تثنیہ کا نون ہمیشہ مکسور (زیر والا) ہوتا ہے (الرّجلانِ، الرّجلینِ)، اور جمع سالم کا نون ہمیشہ مفتوح (زبر والا) ہوتا ہے (مسلمونَ، مسلمینَ)، اور یہ دونوں نون اضافت کے وقت گر جاتے ہیں۔ تم کہتے ہو: "جاءني غلاما زیدٍ (زید کے دو غلام — نون گرا) ومسلمو مصرَ (مصر کے مسلمان — نون گرا)"۔
تشریح
- تثنیہ کا نون: ہمیشہ زیر — الرّجلانِ / الرّجلینِ۔
- جمع مذکر سالم کا نون: ہمیشہ زبر — مسلمونَ / مسلمینَ۔
- اضافت پر نون گر جاتا ہے: غلاما زیدٍ (نہ غلامانِ زیدٍ) · مسلمو مصرَ (نہ مسلمونَ مصرَ)۔
۷
اَلصِّنْفُ السَّابِع — مقصور + یائے متکلم والا (تقدیری)
متن
السَّابِعُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ، وَالنَّصْبُ بِتَقْدِيرِ الفَتْحَةِ، وَالجَرُّ بِتَقْدِيرِ الكَسْرَةِ، وَيَخْتَصُّ بِـالمَقْصُورِ، وَهُوَ: مَا فِی آخِرِهِ أَلِفٌ مَقْصُورَةٌ، كَـ"عَصَا" وَبِـالمُضَافِ إِلَى يَاءِ المُتَكَلِّمِ غَيْرِ جَمْعِ المُذَكَّرِ السَّالِمِ، كَـ"غُلَامِي"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي العَصَا وَغُلَامِي، وَرَأَيْتُ العَصَا وَغُلَامِي، وَمَرَرْتُ بِالعَصَا وَغُلَامِي"۔
لفظی ترجمہ
السَّابِعُساتویں
بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِپیش کی تقدیر سے
بِتَقْدِيرِ الفَتْحَةِزبر کی تقدیر سے
بِتَقْدِيرِ الكَسْرَةِزیر کی تقدیر سے
المَقْصُورِمقصور
أَلِفٌ مَقْصُورَةٌالفِ مقصورہ (ـیٰ)
عَصَالاٹھی
المُضَافِ إِلَى يَاءِ المُتَكَلِّمِیائے متکلم کی طرف مضاف
غُلَامِيمیرا غلام
ترجمہ
ساتویں صنف: رفع پیش کی تقدیر سے، نصب زبر کی تقدیر سے، جر زیر کی تقدیر سے ہو۔ یہ مقصور (جس کے آخر میں الفِ مقصورہ ہو، جیسے "عَصا") اور یائے متکلم کی طرف مضاف (جو جمع مذکر سالم نہ ہو، جیسے "غُلامي") کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني العصا وغلامي، رأیتُ العصا وغلامي، مررتُ بالعصا وغلامي" (تینوں حالتوں میں شکل ایک، اعراب اندرونی/مقدّر)۔
تشریح
رفعضمّہ (مقدّر)العَصَا
نصبفتحہ (مقدّر)العَصَا
جرکسرہ (مقدّر)العَصَا
دونوں قسموں میں آخر پر حرکت ظاہر نہیں ہوتی (الفِ مقصورہ پر، یا یائے متکلم سے پہلے)، اِس لیے تینوں اعراب تقدیری (فرض شدہ) ہوتے ہیں۔ "غلامي" میں یائے متکلم کی وجہ سے آخری حرکت چھپی رہتی ہے۔
۸
اَلصِّنْفُ الثَّامِن — منقوص
متن
الثَّامِنُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِ، وَالجَرُّ بِتَقْدِيرِ الكَسْرَةِ، وَالنَّصْبُ بِالفَتْحَةِ لَفْظًا، وَيَخْتَصُّ بِـالمَنْقُوصِ، وَهُوَ: مَا فِی آخِرِهِ يَاءٌ مَا قَبْلَهَا مَكْسُورٌ، كَـ"القَاضِي"۔ تَقُولُ: "جَاءَنِي القَاضِي، وَرَأَيْتُ القَاضِيَ، وَمَرَرْتُ بِالقَاضِي"۔
لفظی ترجمہ
الثَّامِنُآٹھویں
بِتَقْدِيرِ الضَّمَّةِپیش کی تقدیر سے
وَالجَرُّ بِتَقْدِيرِ الكَسْرَةِجر زیر کی تقدیر سے
وَالنَّصْبُ بِالفَتْحَةِ لَفْظًانصب زبر سے ظاہراً
المَنْقُوصِمنقوص
يَاءٌ مَا قَبْلَهَا مَكْسُورٌیاء جس سے پہلے زیر
القَاضِيقاضی
رَأَيْتُ القَاضِيَمیں نے قاضی کو دیکھا
ترجمہ
آٹھویں صنف: رفع پیش کی تقدیر سے، جر زیر کی تقدیر سے، اور نصب زبر سے ظاہراً (لفظاً) ہو۔ یہ منقوص (جس کے آخر میں یاء ہو اور اس سے پہلے زیر، جیسے "القاضي") کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني القاضي (رفع، مقدّر)، رأیتُ القاضيَ (نصب، ظاہر فتحہ)، مررتُ بالقاضي (جر، مقدّر)"۔
تشریح
رفعضمّہ (مقدّر)القَاضِي
نصبفتحہ (لفظی)القَاضِيَ
جرکسرہ (مقدّر)القَاضِي
خاص بات: منقوص میں رفع و جر تو تقدیری ہیں (یاء پر پیش/زیر بھاری ہوتی ہے)، مگر نصب میں فتحہ ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ یاء پر زبر ہلکا ہے — "رأیتُ القاضِیَ"۔
۹
اَلصِّنْفُ التَّاسِع — جمع مذکر سالم مضاف الی یاءِ متکلم
متن
التَّاسِعُ: أَنْ يَكُونَ الرَّفْعُ بِتَقْدِيرِ الوَاوِ، وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِاليَاءِ لَفْظًا، وَيَخْتَصُّ بِـجَمْعِ المُذَكَّرِ السَّالِمِ مُضَافًا إِلَى يَاءِ المُتَكَلِّمِ، تَقُولُ: "جَاءَنِي مُسْلِمِيَّ" تَقْدِيرُهُ: مُسْلِمُويَ، اجْتَمَعَتِ الوَاوُ وَاليَاءُ فِی كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، وَالأُولَى مِنْهُمَا سَاكِنَةٌ، فَقُلِبَتِ الوَاوُ يَاءً، وَأُدْغِمَتِ اليَاءُ فِی اليَاءِ، وَأُبْدِلَتِ الضَّمَّةُ بِالكَسْرَةِ؛ لِمُنَاسَبَةِ اليَاءِ، فَصَارَ: مُسْلِمِيَّ۔ وَ"رَأَيْتُ مُسْلِمِيَّ، وَمَرَرْتُ بِمُسْلِمِيَّ"۔
لفظی ترجمہ
التَّاسِعُنویں
بِتَقْدِيرِ الوَاوِواو کی تقدیر سے
وَالنَّصْبُ وَالجَرُّ بِاليَاءِ لَفْظًانصب و جر یاء سے ظاہراً
مُضَافًا إِلَى يَاءِ المُتَكَلِّمِیائے متکلم کی طرف مضاف
مُسْلِمِيَّمیرے مسلمان
تَقْدِيرُهُاس کی اصل
مُسْلِمُويَمسلمو + ی
اجْتَمَعَتِ الوَاوُ وَاليَاءُواو و یاء جمع ہوئے
وَالأُولَى سَاكِنَةٌپہلا حرف ساکن
فَقُلِبَتِ الوَاوُ يَاءًواو یاء سے بدلی
وَأُدْغِمَتِ اليَاءُ فِی اليَاءِیاء، یاء میں مدغم
وَأُبْدِلَتِ الضَّمَّةُ بِالكَسْرَةِضمّہ کسرہ سے بدلا
لِمُنَاسَبَةِ اليَاءِیاء کی مناسبت سے
فَصَارَپس بن گیا
ترجمہ
نویں صنف: رفع واو کی تقدیر سے، اور نصب و جر یاء سے ظاہراً ہوں۔ یہ جمع مذکر سالم جو یائے متکلم کی طرف مضاف ہو کے ساتھ مخصوص ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني مُسْلِمِيَّ"۔ اِس کی اصل "مُسْلِمُويَ" تھی؛ واو اور یاء ایک کلمے میں جمع ہوئے اور پہلا (واو) ساکن تھا، تو واو یاء سے بدل دی گئی، پھر یاء یاء میں مدغم ہوئی، اور یاء کی مناسبت سے ضمّہ کو کسرہ سے بدل دیا گیا — پس "مُسْلِمِيَّ" بن گیا۔ اور "رأیتُ مسلميَّ، ومررتُ بمسلميَّ"۔
تشریح — مُسْلِمُويَ سے مُسْلِمِيَّ تک (۴ قدم)
✦ صرفی تبدیلی
- اصل: مُسْلِمُو + يْ (واوِ جمع + یائے متکلم) = مُسْلِمُويْ۔
- ۱: واو و یاء ایک لفظ میں جمع، پہلا (واو) ساکن → واو کو یاء بنا دیا۔
- ۲: اب دو یاء آمنے سامنے → ادغام (مُسْلِمِيّ)۔
- ۳: یاء کی مناسبت سے → ضمّہ کو کسرہ سے بدلا۔
- نتیجہ: مُسْلِمِيَّ۔
رفعواو (مقدّر)مُسْلِمِيَّ
نصبیاء (لفظی)مُسْلِمِيَّ
جریاء (لفظی)مُسْلِمِيَّ
رفع کی حالت میں واو ظاہر نہیں رہی (ادغام کے بعد یاء بن گئی)، اِس لیے رفع تقدیری ہے؛ نصب و جر کی یاء لفظاً موجود ہے۔
خلاصہ جدول — تمام ۹ اصناف ایک نظر میں
🧭 تینوں گروہ یاد رکھیں
۱–۳ حرکات سے (ضمّہ/فتحہ/کسرہ، لفظی) ·
۴–۶ حروف سے (واو/الف/یاء، لفظی) ·
۷–۹ تقدیری (مقصور، منقوص، اور یائے متکلم والے — جہاں اعراب اکثر چھپا ہوتا ہے)۔
✦ پہچان کی کنجی
یاء سے پہلے
زبر → مثنّیٰ (۵)،
زیر → جمع مذکر سالم (۶)۔ نصب میں
فتحہ ظاہر صرف منقوص (۸) میں، باقی تقدیری اصناف میں چھپا۔
فصل ۴
المُنْصَرِف وَغَيْرُ المُنْصَرِفاسمِ معرب کی دو قسمیں — اور صرف روکنے کے نو اسباب
متن — اسمِ معرب کی دو قسمیں + منصرف
الفَصْلُ: الاِسْمُ المُعْرَبُ عَلَى نَوْعَيْنِ: مُنْصَرِفٌ: وَهُوَ مَا لَيْسَ فِيهِ سَبَبَانِ، أَوْ وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَا مِنَ الأَسْبَابِ التِّسْعَةِ، كَـ"زَيْد" وَيُسَمَّى الاِسْمَ المُتَمَكِّنَ۔ وَحُكْمُهُ: أَنْ يَدْخُلَهُ الحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ مَعَ التَّنْوِينِ، تَقُولُ: "جَاءَنِي زَيْدٌ، وَرَأَيْتُ زَيْدًا، وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ"۔
لفظی ترجمہ
الاِسْمُ المُعْرَبُاسمِ معرب
عَلَى نَوْعَيْنِدو قسموں پر
مُنْصَرِفٌمنصرف
مَا لَيْسَ فِيهِجس میں نہ ہوں
سَبَبَانِدو سبب
وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَاایک جو دو کی جگہ ہو
مِنَ الأَسْبَابِ التِّسْعَةِنو اسباب میں سے
يُسَمَّى الاِسْمَ المُتَمَكِّنَ"اسمِ متمکّن" کہلاتا ہے
الحَرَكَاتُ الثَّلَاثُتینوں حرکتیں
مَعَ التَّنْوِينِتنوین کے ساتھ
ترجمہ
فصل: اسمِ معرب دو قسموں پر ہے۔ منصرف: وہ جس میں نو اسباب میں سے نہ دو سبب ہوں، اور نہ ایک ایسا سبب جو دو کی جگہ کھڑا ہو — جیسے "زید"۔ اِسے اسمِ متمکّن (امکن) بھی کہتے ہیں۔ اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں تینوں حرکتیں تنوین کے ساتھ آتی ہیں۔ تم کہتے ہو: "جاءني زیدٌ، رأیتُ زیداً، مررتُ بزیدٍ"۔
تشریح
منصرف وہ اسم ہے جو تنوین قبول کرتا ہے اور تینوں حالتوں میں مکمل حرکت + تنوین لیتا ہے (زیدٌ/زیداً/زیدٍ)۔ اِس میں سرف روکنے والے اسباب نہیں پائے جاتے۔
ℹ نام
منصرف کا دوسرا نام
اسمِ متمکّنِ امکن ہے — یعنی اسمیت میں سب سے زیادہ راسخ، اِسی لیے تنوین (جو خالص اسم کی علامت ہے) قبول کرتا ہے۔
متن — غیر منصرف، اس کا حکم، اور نو اسباب
وَغَيْرُ مُنْصَرِفٍ: وَهُوَ مَا فِيهِ سَبَبَانِ مِنَ الأَسْبَابِ التِّسْعَةِ، أَوْ وَاحِدٌ مِنْهَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا۔ وَالأَسْبَابُ التِّسْعَةُ هِيَ: العَدْلُ وَالوَصْفُ وَالتَّأْنِيثُ وَالمَعْرِفَةُ وَالعُجْمَةُ وَالجَمْعُ وَالتَّرْكِيبُ وَالأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ وَوَزْنُ الفِعْلِ۔ وَحُكْمُهُ: أَنْ لَا يَدْخُلَهُ الكَسْرَةُ وَالتَّنْوِينُ، وَيَكُونُ فِی مَوْضِعِ الجَرِّ مَفْتُوحًا أَبَدًا، تَقُولُ: "جَاءَنِي أَحْمَدُ، وَرَأَيْتُ أَحْمَدَ، وَمَرَرْتُ بِأَحْمَدَ"، كَمَا مَرَّ۔
لفظی ترجمہ
وَغَيْرُ مُنْصَرِفٍاور غیر منصرف
مَا فِيهِ سَبَبَانِجس میں دو سبب ہوں
وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَاایک جو دو کی جگہ ہو
العَدْلُعدل
وَالوَصْفُوصف
وَالتَّأْنِيثُتأنیث
وَالمَعْرِفَةُمعرفہ
وَالعُجْمَةُعجمہ
وَالجَمْعُجمع
وَالتَّرْكِيبُترکیب
وَالأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِزائد الف و نون
وَوَزْنُ الفِعْلِاور وزنِ فعل
لَا يَدْخُلَهُ الكَسْرَةُ وَالتَّنْوِينُکسرہ و تنوین نہ آئیں
مَفْتُوحًا أَبَدًاہمیشہ زبر والا
ترجمہ
اور غیر منصرف: وہ جس میں نو اسباب میں سے دو سبب ہوں، یا ایک ایسا سبب جو دو کی جگہ کھڑا ہو۔ اور نو اسباب یہ ہیں: عدل، وصف، تأنیث، معرفہ، عجمہ، جمع، ترکیب، زائد الف و نون، اور وزنِ فعل۔ اور اس کا حکم: اس میں کسرہ اور تنوین نہیں آتے، اور جر کی جگہ ہمیشہ مفتوح (زبر والا) ہوتا ہے۔ تم کہتے ہو: "جاءني أحمدُ، رأیتُ أحمدَ، مررتُ بأحمدَ" — جیسا پہلے گزرا۔
تشریح
- دو سبب چاہئیں: جیسے أحمد (علمیت + وزنِ فعل)، زینب (علمیت + تأنیث)، إبراهیم (علمیت + عجمہ)۔
- یا ایک جو دو کے برابر: جیسے حبلیٰ/حمراء (الفِ تأنیث) اور مساجد (صیغۂ منتہی الجموع) — یہ اکیلے ہی دو کی جگہ۔
- حکم: نہ تنوین، نہ جر میں کسرہ؛ جر کی حالت میں زبر (بأحمدَ، نہ بأحمدٍ)۔
حاشیہ (کتاب کا): «وغیر منصرف» لفظِ «منصرف» پر معطوف ہے۔ اور یہ اسباب «المانعة من الصرف» (صرف کو روکنے والے) ہیں، اور ان کے نام «بالمعنى المصدري» (مصدری معنی میں) لیے گئے ہیں۔
اَلأَسْبَابُ التِّسْعَة — نو اسباب ایک نظر میں
غیر منصرف بننے کے لیے
دو اسباب چاہئیں — یا ایک ایسا سبب جو دو کے برابر ہو (الفِ تأنیث، صیغۂ منتہی الجموع)۔ نیچے ہر سبب کی تفصیل و شرط الگ الگ ہے۔
سبب ۱
اَلعَدْللفظ کا اصل صیغے سے دوسرے صیغے میں پھرنا
متن
أَمَّا العَدْلُ، فَهُوَ تَغَيُّرُ اللَّفْظِ مِنْ صِيغَتِهِ الأَصْلِيَّةِ إِلَى صِيغَةٍ أُخْرَى تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا۔ وَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ وَزْنِ الفِعْلِ أَصْلًا، وَيَجْتَمِعُ مَعَ العَلَمِيَّةِ، كَـ"عُمَرَ وَزُفَرَ" وَمَعَ الوَصْفِ، كَـ"ثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأُخَرَ وَجُمَعَ"۔
لفظی ترجمہ
أَمَّا العَدْلُبہرحال عدل
فَهُوَپس وہ
تَغَيُّرُ اللَّفْظِلفظ کا بدلنا
مِنْ صِيغَتِهِ الأَصْلِيَّةِاپنے اصل صیغے سے
إِلَى صِيغَةٍ أُخْرَىدوسرے صیغے کی طرف
تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًاحقیقتاً یا تقدیراً
وَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ وَزْنِ الفِعْلِوزنِ فعل سے جمع نہیں
أَصْلًابالکل
وَيَجْتَمِعُ مَعَ العَلَمِيَّةِعلمیت سے جمع ہوتا
كَعُمَرَ وَزُفَرَجیسے عُمَر، زُفَر
وَمَعَ الوَصْفِاور وصف سے
ثُلَاثَ وَمَثْلَثَ وَأُخَرَ وَجُمَعَثُلاث، مَثلَث، أُخَر، جُمَع
ترجمہ
بہرحال عدل: یہ ہے کہ لفظ اپنے اصل صیغے سے کسی دوسرے صیغے کی طرف بدل جائے — حقیقتاً (جیسے عُمَر اصل میں "عامِر" سے) یا تقدیراً (فرض، جیسے ثُلاث)۔ عدل، وزنِ فعل کے ساتھ بالکل جمع نہیں ہوتا؛ البتہ علمیت کے ساتھ (عُمَر، زُفَر) اور وصف کے ساتھ (ثُلاث، مَثلَث، أُخَر، جُمَع) جمع ہوتا ہے۔
تشریح
- عدلِ تحقیقی: واقعی بدلا ہوا — عُمَر ← عامِر، زُفَر ← زافِر (عدل + علمیت → غیر منصرف)۔
- عدلِ تقدیری: فرض کیا جاتا — ثُلاث/مَثلَث (= ثلاثة ثلاثة)، أُخَر، جُمَع (عدل + وصف → غیر منصرف)۔
حاشیہ (کتاب کا): «تَغَيُّرُ اللَّفْظِ» پر اشارہ ہے «أي خروجه» — یعنی لفظ کا اپنے اصل صیغے سے نکل جانا۔
سبب ۲
اَلوَصْفاصلِ وضع میں صفت ہونا (علمیت سے جمع نہیں ہوتا)
متن
أَمَّا الوَصْفُ، فَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ العَلَمِيَّةِ أَصْلًا۔ وَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ وَصْفًا فِی أَصْلِ الوَضْعِ، فَـ"أَسْوَدُ" وَ"أَرْقَمُ" غَيْرُ مُنْصَرِفٍ، وَإِنْ صَارَا اسْمَيْنِ لِلْحَيَّةِ؛ لِأَصَالَتِهِمَا فِی الوَصْفِيَّةِ، وَ"أَرْبَعٍ" فِی قَوْلِكَ: "مَرَرْتُ بِنِسْوَةٍ أَرْبَعٍ" مُنْصَرِفٌ مَعَ أَنَّهُ صِفَةٌ وَوَزْنُ الفِعْلِ؛ لِعَدَمِ الأَصَالَةِ فِی الوَصْفِيَّةِ۔
لفظی ترجمہ
أَمَّا الوَصْفُبہرحال وصف
فَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ العَلَمِيَّةِعلمیت سے جمع نہیں
أَصْلًابالکل
وَشَرْطُهُاور اس کی شرط
وَصْفًا فِی أَصْلِ الوَضْعِاصلِ وضع میں صفت ہو
أَسْوَدُ وَأَرْقَمُأسود، أرقم
اسْمَيْنِ لِلْحَيَّةِسانپ کے دو نام
لِأَصَالَتِهِمَا فِی الوَصْفِيَّةِوصفیت میں اصیل ہونے سے
أَرْبَعٍأربع (چار)
مَرَرْتُ بِنِسْوَةٍ أَرْبَعٍمیں چار عورتوں سے گزرا
لِعَدَمِ الأَصَالَةِاصالت نہ ہونے سے
ترجمہ
بہرحال وصف: یہ علمیت کے ساتھ بالکل جمع نہیں ہوتا۔ اور اس کی شرط یہ ہے کہ لفظ اصلِ وضع میں ہی صفت ہو۔ پس "أسود" اور "أرقم" غیر منصرف ہیں — اگرچہ اب سانپ کے دو نام بن گئے — کیونکہ وہ اصل میں صفت تھے۔ اور "أربع" (جیسے "مررتُ بنسوةٍ أربعٍ") منصرف ہے، باوجود اِس کے کہ وہ صفت بھی ہے اور وزنِ فعل پر بھی — کیونکہ اس کی وصفیت اصلی نہیں (یہ اصل میں عدد ہے، بعد میں صفت بنا)۔
تشریح — صفت کب سبب بنتی ہے؟
وصف تب سببِ منع بنتا ہے جب لفظ شروع ہی سے صفت ہو۔ بعد میں بننے والی صفت معتبر نہیں۔
سبب ۳
اَلتَّأْنِيثمؤنث ہونا — تاء سے، معنوی، یا الف سے
متن
أَمَّا التَّأْنِيثُ بِالتَّاءِ، فَشَرْطُهُ: أَنْ يَكُونَ عَلَمًا، كَـ"طَلْحَة" وَكَذَلِكَ المَعْنَوِيُّ، كَـ"زَيْنَب"۔ ثُمَّ المَعْنَوِيُّ إِنْ كَانَ ثُلَاثِيًّا سَاكِنَ الأَوْسَطِ غَيْرَ أَعْجَمِيٍّ، يَجُوزُ صَرْفُهُ وَتَرْكُهُ؛ لِأَجْلِ الخِفَّةِ وَوُجُودِ السَّبَبَيْنِ، كَـ"هِنْد"، وَإِلَّا يَجِبُ مَنْعُهُ كَـ"زَيْنَبَ وَسَقَرَ وَمَاهَ وَجُورَ"۔ وَالتَّأْنِيثُ بِالأَلِفِ المَقْصُورَةِ كَـ"حُبْلَى" وَالمَمْدُودَةِ كَـ"حَمْرَاء" مُمْتَنِعٌ صَرْفُهُمَا البَتَّةَ؛ لِأَنَّ الأَلِفَ قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ: التَّأْنِيثُ وَلُزُومُهُ۔
لفظی ترجمہ
التَّأْنِيثُ بِالتَّاءِتاء والی تانیث
فَشَرْطُهُپس اس کی شرط
أَنْ يَكُونَ عَلَمًایہ کہ عَلَم ہو
طَلْحَةطلحہ (نام)
المَعْنَوِيُّمعنوی (بغیر تاء)
زَيْنَبزینب
ثُلَاثِيًّاتین حرفی
سَاكِنَ الأَوْسَطِبیچ کا حرف ساکن
غَيْرَ أَعْجَمِيٍّغیر عجمی (عربی)
يَجُوزُ صَرْفُهُ وَتَرْكُهُصرف کرنا/چھوڑنا جائز
لِأَجْلِ الخِفَّةِخفّت کی خاطر
هِنْدہند
وَإِلَّا يَجِبُ مَنْعُهُورنہ منع واجب
سَقَرَ وَمَاهَ وَجُورَسقر، ماہ، جور
بِالأَلِفِ المَقْصُورَةِالفِ مقصورہ سے
حُبْلَىحاملہ عورت
وَالمَمْدُودَةِاور ممدودہ
حَمْرَاءسرخ (مؤنث)
مُمْتَنِعٌ صَرْفُهُمَا البَتَّةَدونوں کا صرف قطعاً ممنوع
قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِدو سبب کی جگہ
التَّأْنِيثُ وَلُزُومُهُتانیث اور اس کا لزوم
ترجمہ
تاء والی تانیث: شرط یہ کہ لفظ عَلَم ہو (جیسے "طلحة")۔ اور اسی طرح معنوی تانیث (بغیر تاء، جیسے "زینب")۔ پھر معنوی اگر تین حرفی، بیچ کا حرف ساکن، اور غیر عجمی ہو تو اس کا صرف کرنا اور چھوڑنا دونوں جائز ہیں — خفّت اور دو سبب کے ہونے کی وجہ سے — جیسے "ہند"۔ ورنہ اس کا منع (غیر منصرف رکھنا) واجب ہے، جیسے "زینب، سقر، ماہ، جور"۔ اور الفِ مقصورہ والی تانیث (جیسے "حُبلیٰ") اور ممدودہ (جیسے "حمراء") — اِن دونوں کا صرف قطعاً ممنوع ہے، کیونکہ الف خود دو سبب کی جگہ ہے: تانیث اور اس کا لزوم۔
تشریح — تانیث کی تین صورتیں
⤴ کلیدی نکتہ
الفِ تأنیث (مقصورہ یا ممدودہ)
اکیلا ہی غیر منصرف بنا دیتا ہے، کیونکہ وہ "تانیث + اس کے لزوم" دونوں کا قائم مقام ہے۔
سبب ۴
اَلمَعْرِفَةمنع صرف میں صرف "علمیت" معتبر ہے
متن
أَمَّا المَعْرِفَةُ، فَلَا يُعْتَبَرُ فِی مَنْعِ الصَّرْفِ بِهَا إِلَّا العَلَمِيَّةُ، وَتَجْتَمِعُ مَعَ غَيْرِ الوَصْفِ۔
لفظی ترجمہ
أَمَّا المَعْرِفَةُبہرحال معرفہ
فَلَا يُعْتَبَرُپس معتبر نہیں
فِی مَنْعِ الصَّرْفِ بِهَااس سے منعِ صرف میں
إِلَّا العَلَمِيَّةُمگر علمیت
وَتَجْتَمِعُ مَعَ غَيْرِ الوَصْفِاور غیرِ وصف سے جمع ہوتی
ترجمہ
بہرحال معرفہ: منعِ صرف میں معرفہ کی (تمام قسموں میں سے) صرف علمیت ہی معتبر ہے۔ اور یہ (علمیت) غیرِ وصف (جو صفت نہ ہو) کے ساتھ جمع ہوتی ہے۔
تشریح
معرفہ کی کئی قسمیں ہیں (عَلَم، ضمیر، اسمِ اشارہ، معرّف باللام…)، مگر سببِ منعِ صرف صرف علمیت (proper noun ہونا) بنتی ہے۔ علمیت کسی دوسرے سبب سے مل کر غیر منصرف بناتی ہے:
- علمیت + عجمہ = إبراهیم
- علمیت + تأنیث = زینب
- علمیت + وزنِ فعل = أحمد
- علمیت + عدل = عُمَر
- علمیت + ترکیب = بعلبک
نوٹ: علمیت وصف کے ساتھ جمع نہیں ہوتی (ایک ہی وقت میں عَلَم اور صفت دونوں نہیں)۔
سبب ۵
اَلعُجْمَةغیر عربی عَلَم (شرطوں کے ساتھ)
متن
أَمَّا العُجْمَةُ، فَشَرْطُهَا: أَنْ تَكُونَ عَلَمًا فِی العُجْمَةِ، وَزَائِدَةً عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، كَـ"إِبْرَاهِيم" أَوْ ثُلَاثِيًّا مُتَحَرِّكَ الأَوْسَطِ، كَـ"شَتَر"۔ فَـ"لِجَام" مُنْصَرِفٌ؛ لِعَدَمِ العَلَمِيَّةِ، وَ"نُوح" مُنْصَرِفٌ؛ لِسُكُونِ الأَوْسَطِ۔
لفظی ترجمہ
أَمَّا العُجْمَةُبہرحال عجمہ
فَشَرْطُهَاپس اس کی شرط
عَلَمًا فِی العُجْمَةِعجمی زبان میں عَلَم ہو
زَائِدَةً عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍتین حرف سے زائد
إِبْرَاهِيمابراہیم
ثُلَاثِيًّا مُتَحَرِّكَ الأَوْسَطِتین حرفی، بیچ متحرک
شَتَرشَتَر (نام)
فَلِجَام مُنْصَرِفٌپس لِجام منصرف
لِعَدَمِ العَلَمِيَّةِعلمیت نہ ہونے سے
وَنُوح مُنْصَرِفٌاور نوح منصرف
لِسُكُونِ الأَوْسَطِبیچ کے سکون سے
ترجمہ
بہرحال عجمہ: اس کی شرط یہ ہے کہ لفظ اپنی عجمی زبان میں بھی عَلَم ہو، اور تین حرف سے زائد ہو (جیسے "إبراهیم")، یا تین حرفی ہو مگر بیچ کا حرف متحرک ہو (جیسے "شَتَر")۔ پس "لِجام" منصرف ہے (علمیت نہ ہونے سے — یہ عَلَم نہیں، صرف لگام)، اور "نوح" منصرف ہے (بیچ کے حرف کے ساکن ہونے سے)۔
تشریح
حاشیہ (کتاب کا): «أن تکون علماً» پر اشارہ ہے «فی العجمة» — یعنی اپنی عجمی زبان میں بھی عَلَم رہا ہو۔
سبب ۶
اَلجَمْعصیغۂ منتہی الجموع (اکیلا ہی ۲ کے برابر)
متن
أَمَّا الجَمْعُ، فَشَرْطُهُ: أَنْ يَكُونَ عَلَى صِيغَةِ مُنْتَهَى الجُمُوعِ، وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ أَلِفِ الجَمْعِ حَرْفَانِ، كَـ"مَسَاجِد"، أَوْ حَرْفٌ مُشَدَّدٌ، مِثْلُ: "دَوَابّ"، أَوْ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ أَوْسَطُهَا سَاكِنٌ غَيْرُ قَابِلٍ لِلْهَاءِ، كَـ"مَصَابِيح"۔ فَـ"صَيَاقِلَة وَفَرَازِنَة" مُنْصَرِفٌ؛ لِقَبُولِهِمَا الهَاءَ، وَهُوَ أَيْضًا قَائِمٌ مَقَامَ السَّبَبَيْنِ: الجَمْعِيَّةُ وَلُزُومُهَا، وَامْتِنَاعُ أَنْ يُجْمَعَ مَرَّةً أُخْرَى جَمْعَ التَّكْسِيرِ، فَكَأَنَّهُ جُمِعَ مَرَّتَيْنِ۔
لفظی ترجمہ
أَمَّا الجَمْعُبہرحال جمع
صِيغَةِ مُنْتَهَى الجُمُوعِصیغۂ منتہی الجموع
بَعْدَ أَلِفِ الجَمْعِالفِ جمع کے بعد
حَرْفَانِدو حرف
مَسَاجِدمسجدیں
حَرْفٌ مُشَدَّدٌایک مشدد حرف
دَوَابّچوپائے
ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ أَوْسَطُهَا سَاكِنٌتین حرف، بیچ ساکن
غَيْرُ قَابِلٍ لِلْهَاءِجو ہاء قبول نہ کرے
مَصَابِيحچراغ (جمع)
صَيَاقِلَة وَفَرَازِنَةصیقل گر، وزیر (جمع)
لِقَبُولِهِمَا الهَاءَہاء قبول کرنے سے
الجَمْعِيَّةُ وَلُزُومُهَاجمعیت اور اس کا لزوم
فَكَأَنَّهُ جُمِعَ مَرَّتَيْنِگویا دو بار جمع ہوا
ترجمہ
بہرحال جمع: شرط یہ ہے کہ لفظ صیغۂ منتہی الجموع پر ہو۔ وہ یہ کہ الفِ جمع کے بعد دو حرف ہوں (جیسے "مساجد")، یا ایک مشدد حرف ہو (جیسے "دوابّ")، یا تین حرف ہوں جن کا بیچ ساکن ہو اور جو ہاء قبول نہ کریں (جیسے "مصابیح")۔ پس "صیاقلہ" اور "فرازنہ" منصرف ہیں کیونکہ یہ ہاء قبول کرتے ہیں۔ اور یہ (صیغۂ منتہی الجموع) بھی دو سبب کی جگہ ہے: جمعیت اور اس کا لزوم، اور یہ کہ دوبارہ جمعِ تکسیر نہیں بن سکتے — گویا دو بار جمع ہو چکے۔
تشریح — منتہی الجموع کی تین شکلیں
حاشیہ (کتاب کا): «حرفان» پر اشارہ ہے «متحرکان» — یعنی الفِ جمع کے بعد والے دو حرف متحرک ہوں (جیسے مساجد میں ج اور د)۔
سبب ۷
اَلتَّرْكِيبمرکب عَلَم (بلا اضافت و اسناد = ترکیبِ مزجی)
متن
أَمَّا التَّرْكِيبُ، فَشَرْطُهُ: أَنْ يَكُونَ عَلَمًا بِلَا إِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍ، كَـ"بَعْلَبَك"۔ فَـ"عَبْدُ اللهِ" مُنْصَرِفٌ، وَ"مَعْدِ يَكْرِبَ" غَيْرُ مُنْصَرِفٍ، وَ"شَابَ قَرْنَاهَا" مَبْنِيٌّ۔
لفظی ترجمہ
أَمَّا التَّرْكِيبُبہرحال ترکیب
فَشَرْطُهُپس اس کی شرط
أَنْ يَكُونَ عَلَمًایہ کہ عَلَم ہو
بِلَا إِضَافَةٍ وَلَا إِسْنَادٍبغیر اضافت و اسناد
بَعْلَبَكبعلبک (شہر)
فَعَبْدُ اللهِ مُنْصَرِفٌپس عبد اللہ منصرف
مَعْدِ يَكْرِبَ غَيْرُ مُنْصَرِفٍمعدی کرب غیر منصرف
شَابَ قَرْنَاهَا مَبْنِيٌّشاب قرناها مبنی
ترجمہ
بہرحال ترکیب: شرط یہ ہے کہ لفظ مرکب عَلَم ہو، بغیر اضافت اور بغیر اسناد کے (یعنی ترکیبِ مزجی)، جیسے "بعلبک"۔ پس "عبد اللہ" منصرف ہے (یہ ترکیبِ اضافی ہے)، اور "معدی کرب" غیر منصرف ہے (ترکیبِ مزجی)، اور "شاب قرناها" مبنی ہے (ترکیبِ اسنادی — جملہ)۔
تشریح — ترکیب کی تین قسمیں
صرف ترکیبِ مزجی سببِ منع بنتی ہے۔ اضافی ترکیب کا اعراب مضاف پر چلتا ہے (منصرف)، اور اسنادی ترکیب (جملہ بطور نام) سرے سے مبنی ہوتی ہے۔
سبب ۸
اَلأَلِف وَالنُّون الزَّائِدَتَانآخر میں زائد الف و نون (ـان) — اسم میں اور صفت میں الگ شرط
متن
أَمَّا الأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ، إِنْ كَانَتَا فِی اسْمٍ، فَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ عَلَمًا، كَـ"عِمْرَان" وَ"عُثْمَان" فَـ"سَعْدَان" اسْمُ نَبْتٍ مُنْصَرِفٌ؛ لِعَدَمِ العَلَمِيَّةِ۔ وَإِنْ كَانَتَا فِی صِفَةٍ، فَشَرْطُهُ: أَنْ لَا يَكُونَ مُؤَنَّثُهُ عَلَى "فَعْلَانَة"، كَـ"سَكْرَان" فَـ"نَدْمَان" مُنْصَرِفٌ؛ لِوُجُودِ "نَدْمَانَة"۔
لفظی ترجمہ
الأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِزائد الف و نون
إِنْ كَانَتَا فِی اسْمٍاگر دونوں اسم میں ہوں
فَشَرْطُهُپس اس کی شرط
أَنْ يَكُونَ عَلَمًایہ کہ عَلَم ہو
عِمْرَان وَعُثْمَانعِمران، عُثمان
سَعْدَان اسْمُ نَبْتٍسَعدان (ایک پودے کا نام)
مُنْصَرِفٌمنصرف
لِعَدَمِ العَلَمِيَّةِعلمیت نہ ہونے سے
وَإِنْ كَانَتَا فِی صِفَةٍاور اگر صفت میں ہوں
لَا يَكُونَ مُؤَنَّثُهُاس کا مؤنث نہ ہو
عَلَى فَعْلَانَةفَعْلانة کے وزن پر
سَكْرَانسَکران (مؤنث: سَکریٰ)
نَدْمَاننَدمان (پشیمان)
لِوُجُودِ نَدْمَانَةنَدمانة موجود ہونے سے
ترجمہ
بہرحال زائد الف و نون: اگر یہ کسی اسم میں ہوں تو شرط یہ ہے کہ وہ عَلَم ہو (جیسے "عِمران، عُثمان" → علمیت + الف نون سے غیر منصرف)۔ پس "سَعدان" (ایک پودے کا نام) منصرف ہے کیونکہ اس میں علمیت نہیں۔ اور اگر یہ کسی صفت میں ہوں تو شرط یہ ہے کہ اس کا مؤنث "فَعْلانة" کے وزن پر نہ ہو — جیسے "سَكران" (جس کا مؤنث "سَكریٰ" ہے، نہ کہ سكرانة → غیر منصرف)۔ پس "نَدمان" منصرف ہے کیونکہ اس کا مؤنث "نَدمانة" موجود ہے۔
تشریح
حاشیہ (کتاب کا): «فَشَرْطُهُ» کی ضمیر «راجع لصفة بتأویل الاسم» — یعنی "صفت" کی طرف لوٹ رہی ہے، اسم کی تاویل کے ساتھ۔
سبب ۹
وَزْنُ الفِعْللفظ کا فعل کے وزن پر ہونا (دو صورتیں)
متن
أَمَّا وَزْنُ الفِعْلِ، فَشَرْطُهُ: أَنْ يَخْتَصَّ بِالفِعْلِ وَلَا يُوجَدَ فِی الاِسْمِ إِلَّا مَنْقُولًا عَنِ الفِعْلِ، كَـ"شَمَّرَ وَضَرُبَ" وَإِنْ لَمْ يَخْتَصَّ بِهِ، فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ فِی أَوَّلِهِ إِحْدَى حُرُوفِ المُضَارِعِ، وَلَا يَدْخُلَهُ الهَاءُ، كَـ"أَحْمَد" وَ"يَشْكُرُ" وَ"تَغْلِب" وَ"نَرْجِس"۔ فَـ"يَعْمَلُ" مُنْصَرِفٌ؛ لِقَبُولِهَا الهَاءَ، كَقَوْلِهِمْ: "نَاقَةٌ يَعْمَلَة"۔
لفظی ترجمہ
أَمَّا وَزْنُ الفِعْلِبہرحال وزنِ فعل
أَنْ يَخْتَصَّ بِالفِعْلِفعل کے ساتھ خاص ہو
وَلَا يُوجَدَ فِی الاِسْمِاسم میں نہ پایا جائے
إِلَّا مَنْقُولًا عَنِ الفِعْلِمگر فعل سے منقول ہو کر
شَمَّرَ وَضَرُبَشَمَّرَ، ضَرُبَ
وَإِنْ لَمْ يَخْتَصَّ بِهِاور اگر خاص نہ ہو
فِی أَوَّلِهِاس کے شروع میں
إِحْدَى حُرُوفِ المُضَارِعِحروفِ مضارع میں سے ایک
وَلَا يَدْخُلَهُ الهَاءُاور ہاء نہ آئے
أَحْمَد، يَشْكُر، تَغْلِب، نَرْجِسیہ چاروں
فَيَعْمَلُ مُنْصَرِفٌپس یَعمَل منصرف
لِقَبُولِهَا الهَاءَہاء قبول کرنے سے
نَاقَةٌ يَعْمَلَةکام کرنے والی اونٹنی
ترجمہ
بہرحال وزنِ فعل: اس کی شرط دو میں سے ایک ہے — (الف) وہ وزن فعل کے ساتھ خاص ہو، یعنی اسم میں نہ آتا ہو مگر فعل سے منقول ہو کر (جیسے "شَمَّرَ، ضَرُبَ" — خالص فعلی وزن)؛ یا (ب) اگر خاص نہ ہو (اسم و فعل دونوں میں آ سکتا ہو) تو لازم ہے کہ لفظ کے شروع میں حروفِ مضارع میں سے کوئی ہو اور اس میں ہاء نہ آ سکے — جیسے "أحمد، یشكُر، تَغلِب، نَرجِس"۔ پس "یَعمَل" منصرف ہے کیونکہ وہ ہاء قبول کرتا ہے، جیسے عرب کا قول "ناقةٌ یعملة"۔
تشریح — دو صورتیں
- (الف) خالص فعلی وزن: جو اسم میں عام طور پر نہیں آتا — شَمَّرَ، ضَرُبَ، دُئِل۔ اگر عَلَم بن جائیں → غیر منصرف۔
- (ب) مشترک وزن: تو شرط — شروع میں مضارع کا حرف (أ، ت، ی، ن) ہو + ہاء قبول نہ کرے۔ أَحْمَد (ء)، یَشْكُر (ی)، تَغْلِب (ت)، نَرْجِس (ن)۔
- یَعْمَل منصرف — شروع میں ی تو ہے مگر ہاء قبول کرتا ہے (یعملة)، تو وزنِ فعل کا سبب نہ بنا۔
✦ حروفِ مضارع
یہ چار ہیں:
أ · ت · ی · ن (بطور یادداشت: «أتَیْنَ» یا «نَأْتِی»)۔ حاشیے میں اِنہی کی طرف اشارہ ہے:
«وهي أتین»۔
متن — غیر منصرف کب منصرف بنتا ہے؟ (تنکیر)
وَاعْلَمْ: أَنَّ كُلَّ مَا شُرِطَ فِيهِ العَلَمِيَّةُ — وَهُوَ المُؤَنَّثُ بِالتَّاءِ، وَالمَعْنَوِيُّ، وَالعُجْمَةُ، وَالتَّرْكِيبُ، وَالاِسْمُ الَّذِي فِيهِ الأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ — أَوْ مَا لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهِ ذَلِكَ وَاجْتَمَعَ مَعَ سَبَبٍ وَاحِدٍ فَقَطْ — وَهُوَ العَلَمُ المَعْدُولُ وَوَزْنُ الفِعْلِ — إِذَا نُكِّرَ صُرِفَ۔ أَمَّا فِی القِسْمِ الأَوَّلِ؛ فَلِبَقَاءِ الاِسْمِ بِلَا سَبَبٍ۔ وَأَمَّا فِی القِسْمِ الثَّانِي؛ فَلِبَقَائِهِ عَلَى سَبَبٍ وَاحِدٍ، تَقُولُ: "جَاءَنِي طَلْحَةُ وَطَلْحَةٌ آخَرُ، وَقَامَ عُمَرُ وَعُمَرٌ آخَرُ، وَضَرَبَ أَحْمَدُ وَأَحْمَدٌ آخَرُ"۔
لفظی ترجمہ
وَاعْلَمْاور جان لو
كُلَّ مَا شُرِطَ فِيهِ العَلَمِيَّةُہر وہ جس میں علمیت شرط تھی
المُؤَنَّثُ بِالتَّاءِمؤنث بالتاء (طلحة)
وَالمَعْنَوِيُّمعنوی (زینب)
وَالعُجْمَةُ وَالتَّرْكِيبُعجمہ، ترکیب
الأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِزائد الف و نون (عثمان)
مَا لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهِ ذَلِكَجس میں یہ شرط نہ تھی
وَاجْتَمَعَ مَعَ سَبَبٍ وَاحِدٍاور ایک ہی سبب رکھے
العَلَمُ المَعْدُولُعلمِ معدول (عُمَر = عدل)
وَوَزْنُ الفِعْلِاور وزنِ فعل (أحمد)
إِذَا نُكِّرَ صُرِفَجب نکرہ ہو تو منصرف
فَلِبَقَاءِ الاِسْمِ بِلَا سَبَبٍاسم بے سبب رہ جانے سے
فَلِبَقَائِهِ عَلَى سَبَبٍ وَاحِدٍایک سبب پر رہ جانے سے
طَلْحَةُ وَطَلْحَةٌ آخَرُطلحہ، اور ایک اور طلحہ
ترجمہ
اور جان لو: ہر وہ (غیر منصرف) جس میں علمیت شرط تھی — یعنی مؤنث بالتاء، معنوی، عجمہ، ترکیب، اور وہ اسم جس میں زائد الف و نون ہوں — یا وہ جس میں یہ (علمیت) شرط نہ تھی مگر صرف ایک سبب رکھتا ہو — یعنی علمِ معدول (عدل) اور وزنِ فعل — جب نکرہ کر دیا جائے تو منصرف ہو جاتا ہے۔ پہلی قسم میں اِس لیے کہ اسم بے سبب رہ جاتا ہے (علمیت گئی تو دوسرا سبب بھی، جو اسی پر موقوف تھا)؛ اور دوسری قسم میں اِس لیے کہ صرف ایک سبب رہ جاتا ہے (جو کافی نہیں)۔ تم کہتے ہو: "جاءني طلحةُ (غیر منصرف) وطلحةٌ آخرُ (نکرہ → منصرف)، قام عمرُ وعمرٌ آخرُ، ضرب أحمدُ وأحمدٌ آخرُ"۔
تشریح — دو قسمیں، دونوں تنکیر پر منصرف
⤴ نکتہ
"طلحةٌ آخرُ / عمرٌ آخرُ / أحمدٌ آخرُ" میں دوسرا لفظ
نکرہ ("ایک اور…") ہے، اِس لیے تنوین آ گئی (منصرف)؛ جبکہ پہلا اصل عَلَم غیر منصرف رہا (تنوین نہیں)۔
متن — غیر منصرف پر کسرہ کب آتا ہے؟
وَكُلُّ مَا لَا يَنْصَرِفُ، إِذَا أُضِيفَ أَوْ دَخَلَهُ اللَّامُ، فَيَدْخُلُهُ الكَسْرَةُ، نَحْوُ: "مَرَرْتُ بِأَحْمَدِكُمْ وَبِالأَحْمَدِ"۔
لفظی ترجمہ
وَكُلُّ مَا لَا يَنْصَرِفُاور ہر غیر منصرف
إِذَا أُضِيفَجب مضاف ہو
أَوْ دَخَلَهُ اللَّامُیا اس پر "ال" آئے
فَيَدْخُلُهُ الكَسْرَةُتو اس میں کسرہ آتا ہے
مَرَرْتُ بِأَحْمَدِكُمْمیں تمہارے أحمد سے گزرا
وَبِالأَحْمَدِاور "الأحمد" سے
ترجمہ
اور ہر غیر منصرف، جب وہ مضاف ہو جائے یا اس پر "ال" داخل ہو، تو (جر کی حالت میں) اس میں فتحہ کے بجائے کسرہ آ جاتا ہے۔ جیسے: "مررتُ بأحمدِكم (مضاف) وبالأحمدِ ("ال" والا)"۔
تشریح
عام حالت میں غیر منصرف کی جر فتحہ سے ہوتی ہے (بأحمدَ)۔ مگر دو صورتوں میں یہ کسرہ پر لوٹ آتا ہے:
- مضاف ہونے پر: مررتُ بأحمدِكم (أحمد، "کم" کی طرف مضاف → کسرہ)۔
- "ال" داخل ہونے پر: مررتُ بالأحمدِ (الـ آیا → کسرہ)۔
حاشیہ (کتاب کا): «أُضیفَ» پر اشارہ ہے «إلى اسم آخر» (کسی اور اسم کی طرف)، اور «فیدخلہ الکسرة» پر «في حالة الجرّ» (جر کی حالت میں)۔
خلاصۂ فصل ۴ — منصرف بمقابلہ غیر منصرف
🧭 پہچان
غیر منصرف:
تنوین نہیں +
جر میں زبر۔ مگر یاد رہے — مضاف یا "ال" والا غیر منصرف جر میں
زیر لیتا ہے، اور نکرہ ہو کر مکمل منصرف بن جاتا ہے۔
فصل · مرفوع ۱
اَلفَاعِلکام کرنے والا — تعریف اور تمام احکام
متن — تعریفِ فاعل
فَصْلٌ: الفَاعِلُ: وَهُوَ كُلُّ اسْمٍ قَبْلَهُ فِعْلٌ أَوْ صِفَةٌ، أُسْنِدَ إِلَيْهِ عَلَى مَعْنَى أَنَّهُ قَامَ بِهِ أَوْ وَقَعَ عَلَيْهِ، نَحْوُ: "قَامَ زَيْدٌ، وَزَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ عَمْرًا، وَمَا ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا"۔
لفظی ترجمہ
الفَاعِلُفاعل
كُلُّ اسْمٍہر وہ اسم
قَبْلَهُ فِعْلٌ أَوْ صِفَةٌجس سے پہلے فعل یا صفت ہو
أُسْنِدَ إِلَيْهِجس کی طرف اسناد ہو
عَلَى مَعْنَى أَنَّهُاس معنیٰ پر کہ وہ
قَامَ بِهِ(کام) اس سے قائم ہوا
أَوْ وَقَعَ عَلَيْهِیا اس پر واقع ہوا
قَامَ زَيْدٌزید کھڑا ہوا
زَيْدٌ ضَارِبٌ أَبُوهُ عَمْرًازید، اس کا باپ عمرو کو مارنے والا
مَا ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًازید نے عمرو کو نہ مارا
ترجمہ
فصل: فاعل وہ ہر اسم ہے جس سے پہلے فعل یا صفت ہو، اور جس کی طرف اسناد (نسبت) کی گئی ہو — اِس معنیٰ پر کہ کام اُس سے قائم/صادر ہوا (قام بہ) یا اُس پر واقع ہوا (وقع علیہ)۔ جیسے: "قام زیدٌ" (زید کھڑا ہوا)، "زیدٌ ضاربٌ أبوهُ عمراً" (زید — اس کا باپ عمرو کو مارنے والا)، اور "ما ضرب زیدٌ عمراً" (زید نے عمرو کو نہ مارا)۔
تشریح — تعریف کے اجزاء
- «قبلہ فعل أو صفة»: فاعل صرف فعل ہی کا نہیں ہوتا — صفت (اسمِ فاعل/اسمِ مفعول جیسے "ضارب") کا بھی ہوتا ہے۔
- «قام بہ أو وقع علیہ»: بعض افعال میں فاعل خود کام کرتا ہے (قام زید)، اور بعض میں کام اُس پر گزرتا/واقع ہوتا ہے (جیسے مات زید — موت اس پر واقع)۔ دونوں صورتوں میں وہ فاعل ہی ہے اور مرفوع ہوتا ہے۔
حاشیہ (کتاب کا): اِس پر اشارہ ہے «القسم الأول» — یعنی یہ مرفوعات کی پہلی قسم (فاعل) ہے۔
متن — ہر فعل کو فاعل چاہیے
وَكُلُّ فِعْلٍ لَابُدَّ لَهُ مِنْ فَاعِلٍ مَرْفُوعٍ مُظْهَرٍ، كَـ"ذَهَبَ زَيْدٌ" أَوْ مُضْمَرٍ بَارِزٍ، كَـ"ضَرَبْتَ زَيْدًا" أَوْ مُسْتَتِرٍ، كَـ"زَيْدٌ ذَهَبَ"۔ وَإِنْ كَانَ الفِعْلُ مُتَعَدِّيًا، كَانَ لَهُ مَفْعُولٌ بِهِ أَيْضًا، نَحْوُ: "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا"۔
لفظی ترجمہ
وَكُلُّ فِعْلٍاور ہر فعل
لَابُدَّ لَهُ مِنْ فَاعِلٍ مَرْفُوعٍاسے مرفوع فاعل ضروری
مُظْهَرٍمظہر (ظاہر اسم)
ذَهَبَ زَيْدٌزید گیا
مُضْمَرٍ بَارِزٍمضمر بارز (ظاہر ضمیر)
ضَرَبْتَ زَيْدًاتو نے زید کو مارا
مُسْتَتِرٍمستتر (چھپا ضمیر)
زَيْدٌ ذَهَبَزید گیا (چھپا "ھو")
مُتَعَدِّيًامتعدی
مَفْعُولٌ بِهِ أَيْضًامفعول بہ بھی
ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًازید نے عمرو کو مارا
ترجمہ
اور ہر فعل کے لیے ایک مرفوع فاعل ضروری ہے — چاہے مظہر (ظاہر اسم) ہو، جیسے "ذهب زیدٌ"؛ یا مضمر بارز (ظاہر ضمیر) ہو، جیسے "ضربْتَ زیداً" (یہاں "تَ" فاعل)؛ یا مستتر (چھپا ضمیر) ہو، جیسے "زیدٌ ذهب" (ذهب میں چھپا "ھو")۔ اور اگر فعل متعدی ہو تو اس کے لیے مفعولٌ بہ بھی ہوتا ہے، جیسے "ضرب زیدٌ عمراً"۔
تشریح — فاعل کی تین شکلیں
حاشیہ (کتاب کا): «کل فعل» پر اشارہ ہے «لازماً كان أو متعدياً» — یعنی فعل لازم ہو یا متعدی، ہر حال میں فاعل ضروری۔ متعدی میں مزید مفعول بھی۔
متن — فعل کا واحد/تثنیہ/جمع ہونا
وَإِنْ كَانَ الفَاعِلُ مُظْهَرًا، وُحِّدَ الفِعْلُ أَبَدًا، نَحْوُ: "ضَرَبَ زَيْدٌ، وَضَرَبَ الزَّيْدَانِ، وَضَرَبَ الزَّيْدُونَ"۔ وَإِنْ كَانَ مُضْمَرًا، وُحِّدَ لِلْوَاحِدِ، نَحْوُ: "زَيْدٌ ضَرَبَ" وَثُنِّيَ لِلْمُثَنَّى، نَحْوُ: "الزَّيْدَانِ ضَرَبَا" وَجُمِعَ لِلْجَمْعِ، نَحْوُ: "الزَّيْدُونَ ضَرَبُوا"۔
لفظی ترجمہ
إِنْ كَانَ الفَاعِلُ مُظْهَرًااگر فاعل مظہر ہو
وُحِّدَ الفِعْلُ أَبَدًافعل ہمیشہ واحد
ضَرَبَ الزَّيْدَانِدو زید نے مارا
ضَرَبَ الزَّيْدُونَزیدوں نے مارا
وَإِنْ كَانَ مُضْمَرًااور اگر مضمر ہو
وُحِّدَ لِلْوَاحِدِواحد کے لیے واحد
وَثُنِّيَ لِلْمُثَنَّىتثنیہ کے لیے تثنیہ
الزَّيْدَانِ ضَرَبَادو زید نے مارا
وَجُمِعَ لِلْجَمْعِجمع کے لیے جمع
الزَّيْدُونَ ضَرَبُوازیدوں نے مارا
ترجمہ
اور اگر فاعل مظہر (ظاہر اسم) ہو تو فعل ہمیشہ واحد رہتا ہے، چاہے فاعل واحد/تثنیہ/جمع ہو — جیسے "ضرب زیدٌ، ضرب الزیدانِ، ضرب الزیدونَ" (فعل ہمیشہ "ضرب")۔ اور اگر فاعل مضمر (ضمیر) ہو تو فعل عدد کے مطابق ہوتا ہے: واحد کے لیے واحد ("زیدٌ ضرب")، تثنیہ کے لیے تثنیہ ("الزیدانِ ضربا")، جمع کے لیے جمع ("الزیدونَ ضربوا")۔
تشریح
⤴ سنہری اصول
فاعل اگر
ظاہر اسم ہو تو فعل کبھی تثنیہ/جمع نہیں ہوتا (ضرب الزیدانِ، نہ "ضربا الزیدانِ")۔ صرف
ضمیر فاعل کے ساتھ فعل عدد میں بدلتا ہے۔
متن — فعل کب مؤنث لایا جائے
وَإِنْ كَانَ الفَاعِلُ مُؤَنَّثًا حَقِيقِيًّا — وَهُوَ مَا بِإِزَائِهِ ذَكَرٌ مِنَ الحَيَوَانِ — أُنِّثَ الفِعْلُ أَبَدًا إِنْ لَمْ تُفْصَلْ بَيْنَ الفِعْلِ وَالفَاعِلِ، نَحْوُ: "قَامَتْ هِنْدُ"۔ فَإِنْ فَصَلْتَ، فَلَكَ الخِيَارُ فِی التَّذْكِيرِ وَالتَّأْنِيثِ، نَحْوُ: "ضَرَبَ اليَوْمَ هِنْدُ" وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ: "ضَرَبَتِ اليَوْمَ هِنْدُ"۔ وَكَذَلِكَ فِی المُؤَنَّثِ الغَيْرِ الحَقِيقِيِّ، نَحْوُ: "طَلَعَتِ الشَّمْسُ" وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ: "طَلَعَ الشَّمْسُ"۔ هَذَا إِذَا كَانَ الفِعْلُ مُسْنَدًا إِلَى المُظْهَرِ، وَإِنْ كَانَ مُسْنَدًا إِلَى المُضْمَرِ، أُنِّثَ أَبَدًا، نَحْوُ: "الشَّمْسُ طَلَعَتْ"۔ وَجَمْعُ التَّكْسِيرِ كَالمُؤَنَّثِ الغَيْرِ الحَقِيقِيِّ، تَقُولُ: "قَامَ الرِّجَالُ" وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ: "قَامَتِ الرِّجَالُ، وَالرِّجَالُ قَامَتْ" وَيَجُوزُ فِيهِ: "الرِّجَالُ قَامُوا"۔
لفظی ترجمہ
مُؤَنَّثًا حَقِيقِيًّامؤنث حقیقی
مَا بِإِزَائِهِ ذَكَرٌ مِنَ الحَيَوَانِجس کے مقابل نر جاندار ہو
أُنِّثَ الفِعْلُ أَبَدًافعل ہمیشہ مؤنث
إِنْ لَمْ تُفْصَلْاگر فصل نہ ہو
قَامَتْ هِنْدُہند کھڑی ہوئی
فَإِنْ فَصَلْتَاگر فصل کر دیا
فَلَكَ الخِيَارُتو تجھے اختیار
ضَرَبَ اليَوْمَ هِنْدُآج ہند نے مارا (مذکر)
المُؤَنَّثِ الغَيْرِ الحَقِيقِيِّمؤنث غیر حقیقی
طَلَعَتِ الشَّمْسُسورج نکلا
مُسْنَدًا إِلَى المُظْهَرِمظہر کی طرف مسند
مُسْنَدًا إِلَى المُضْمَرِمضمر کی طرف مسند
الشَّمْسُ طَلَعَتْسورج نکلا (چھپا ھی)
وَجَمْعُ التَّكْسِيرِاور جمع مکسر
الرِّجَالُ قَامُوامردوں نے قیام کیا
ترجمہ
اور اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو — یعنی جس کے مقابل کوئی نر جاندار ہو (جیسے عورت کے مقابل مرد) — تو فعل ہمیشہ مؤنث لایا جاتا ہے، بشرطیکہ فعل اور فاعل کے درمیان فصل (فاصلہ) نہ ہو، جیسے "قامت هندُ"۔ لیکن اگر تو نے فصل کر دیا تو تجھے تذکیر و تانیث دونوں کا اختیار ہے: "ضرب الیومَ هندُ" (مذکر) یا چاہے تو "ضربت الیومَ هندُ" (مؤنث)۔ اور مؤنث غیر حقیقی میں بھی (اختیار): "طلعت الشمسُ" یا "طلع الشمسُ"۔ یہ (اختیار) تب ہے جب فعل مظہر کی طرف مسند ہو؛ اور اگر مضمر کی طرف مسند ہو تو ہمیشہ مؤنث، جیسے "الشمسُ طلعت"۔ اور جمع مکسر مؤنث غیر حقیقی جیسا ہے: "قام الرجالُ" یا چاہے تو "قامت الرجالُ" اور "الرجالُ قامت"، اور اس میں "الرجالُ قاموا" بھی جائز ہے۔
تشریح — کب لازمی مؤنث، کب اختیاری؟
مؤنث حقیقی: جس کا حقیقی نر جوڑا ہو (عورت/مرد، شیرنی/شیر)۔ مؤنث غیر حقیقی: صرف لفظی مؤنث، حقیقی نر نہیں (شمس، نار، دار)۔
حاشیہ (کتاب کا): «إن لم تفصل» پر «شرط»، «أُنّث الفعل» پر «جزاء شرط»، اور «ذکر من الحیوان» پر «من عینه» (یعنی اسی جنس کا نر) لکھا ہے۔
متن — فاعل/مفعول کی ترتیب، اور حذف
وَيَجِبُ تَقْدِيمُ الفَاعِلِ عَلَى المَفْعُولِ إِذَا كَانَا مَقْصُورَيْنِ، وَخِفْتَ اللَّبْسَ، نَحْوُ: "ضَرَبَ مُوسَى عِيسَى"۔ وَيَجُوزُ تَقْدِيمُ المَفْعُولِ عَلَى الفَاعِلِ إِنْ لَمْ تَخَفِ اللَّبْسَ، نَحْوُ: "أَكَلَ الكُمَّثْرَى يَحْيَى، وَضَرَبَ عَمْرًا زَيْدٌ"۔ وَيَجُوزُ حَذْفُ الفِعْلِ حَيْثُ كَانَتْ قَرِينَةٌ، نَحْوُ: "زَيْدٌ" فِی جَوَابِ مَنْ قَالَ: "مَنْ ضَرَبَ؟"۔ وَكَذَا يَجُوزُ حَذْفُ الفِعْلِ وَالفَاعِلِ مَعًا، كَـ"نَعَمْ" فِی جَوَابِ مَنْ قَالَ: "أَقَامَ زَيْدٌ؟"۔ وَقَدْ يُحْذَفُ الفَاعِلُ، وَيُقَامُ المَفْعُولُ مَقَامَهُ إِذَا كَانَ الفِعْلُ مَجْهُولًا، نَحْوُ: "ضُرِبَ زَيْدٌ" وَهُوَ القِسْمُ الثَّانِي مِنَ المَرْفُوعَاتِ۔
لفظی ترجمہ
يَجِبُ تَقْدِيمُ الفَاعِلِفاعل کا مقدم کرنا واجب
إِذَا كَانَا مَقْصُورَيْنِجب دونوں مقصور ہوں
وَخِفْتَ اللَّبْسَاور التباس کا خوف ہو
ضَرَبَ مُوسَى عِيسَىموسیٰ نے عیسیٰ کو مارا
تَقْدِيمُ المَفْعُولِمفعول کا مقدم کرنا
إِنْ لَمْ تَخَفِ اللَّبْسَاگر التباس کا خوف نہ ہو
أَكَلَ الكُمَّثْرَى يَحْيَىیحییٰ نے ناشپاتی کھائی
وَضَرَبَ عَمْرًا زَيْدٌزید نے عمرو کو مارا
حَذْفُ الفِعْلِفعل کا حذف
حَيْثُ كَانَتْ قَرِينَةٌجہاں قرینہ ہو
مَنْ ضَرَبَ؟کس نے مارا؟
حَذْفُ الفِعْلِ وَالفَاعِلِ مَعًافعل و فاعل دونوں کا حذف
أَقَامَ زَيْدٌ؟کیا زید کھڑا ہوا؟
يُحْذَفُ الفَاعِلُفاعل حذف ہوتا
وَيُقَامُ المَفْعُولُ مَقَامَهُمفعول اس کی جگہ کھڑا
إِذَا كَانَ الفِعْلُ مَجْهُولًاجب فعل مجہول ہو
ضُرِبَ زَيْدٌزید مارا گیا
القِسْمُ الثَّانِي مِنَ المَرْفُوعَاتِمرفوعات کی دوسری قسم
ترجمہ
فاعل کو مفعول پر مقدم کرنا واجب ہے جب دونوں مقصور ہوں (جن پر اعراب ظاہر نہ ہو) اور تجھے التباس (کون فاعل، کون مفعول) کا خوف ہو — جیسے "ضرب موسیٰ عیسیٰ" (یہاں اعراب ظاہر نہیں، تو ترتیب ہی بتاتی ہے کہ موسیٰ فاعل، عیسیٰ مفعول)۔ اور مفعول کو مقدم کرنا جائز ہے جب التباس کا خوف نہ ہو — جیسے "أكل الكمّثریٰ یحییٰ" (ناشپاتی کھا نہیں سکتی، تو واضح کہ یحییٰ فاعل)، اور "ضرب عمراً زیدٌ"۔ اور فعل کا حذف جائز ہے جہاں قرینہ ہو — جیسے "مَن ضرب؟" کے جواب میں صرف "زیدٌ" (اصل: ضرب زیدٌ)۔ اور اسی طرح فعل و فاعل دونوں کا حذف — جیسے "أقام زیدٌ؟" کے جواب میں "نعم"۔ اور کبھی فاعل حذف کر کے مفعول کو اس کی جگہ کھڑا کر دیا جاتا ہے جب فعل مجہول ہو — جیسے "ضُرِبَ زیدٌ" — اور یہ مرفوعات کی دوسری قسم (نائب الفاعل) ہے۔
تشریح
ترتیبِ فاعل و مفعول
حذف کی صورتیں
- صرف فعل: "مَن ضرب؟" → زیدٌ (اصل: ضرب زیدٌ)۔
- فعل + فاعل دونوں: "أقام زیدٌ؟" → نعم۔
- فاعل حذف، مفعول قائم مقام: فعلِ مجہول میں — ضُرِبَ زیدٌ۔
"ضُرِبَ زیدٌ" میں فاعل (مارنے والا) حذف ہے اور مفعول (زید) اس کی جگہ مرفوع — اِسے
نائب الفاعل کہتے ہیں، جو مرفوعات کی
دوسری قسم ہے۔ اس کی تفصیلی فصل آئندہ آئے گی، ان شاء اللہ۔
فصل · مرفوعات
اَلتَّنَازُعجب دو فعل ایک ہی اسم میں عمل کرنا چاہیں
متن — تعریف اور چار اقسام
فَصْلٌ: إِذَا تَنَازَعَ الفِعْلَانِ فِی اسْمٍ ظَاهِرٍ بَعْدَهُمَا — أَيْ أَرَادَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الفِعْلَيْنِ أَنْ يَعْمَلَ فِی ذَلِكَ الاِسْمِ — فَهَذَا إِنَّمَا يَكُونُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ۔
الأَوَّلُ: أَنْ يَتَنَازَعَا فِی الفَاعِلِيَّةِ فَقَطْ، نَحْوُ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ"۔
الثَّانِي: أَنْ يَتَنَازَعَا فِی المَفْعُولِيَّةِ فَقَطْ، نَحْوُ: "ضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا"۔
الثَّالِثُ: أَنْ يَتَنَازَعَا فِی الفَاعِلِيَّةِ وَالمَفْعُولِيَّةِ، وَيَقْتَضِي الأَوَّلُ الفَاعِلَ وَالثَّانِي المَفْعُولَ، نَحْوُ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا"۔
الرَّابِعُ: عَكْسُهُ، نَحْوُ: "ضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ"۔
لفظی ترجمہ (تعریف)
إِذَا تَنَازَعَ الفِعْلَانِجب دو فعل جھگڑیں
فِی اسْمٍ ظَاهِرٍ بَعْدَهُمَااپنے بعد کے ظاہر اسم میں
أَرَادَ كُلُّ وَاحِدٍہر ایک چاہے
أَنْ يَعْمَلَ فِی ذَلِكَ الاِسْمِاس اسم میں عمل کرے
عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍچار قسموں پر
يَتَنَازَعَا فِی الفَاعِلِيَّةِفاعل بننے میں جھگڑیں
فِی المَفْعُولِيَّةِمفعول بننے میں
يَقْتَضِي الأَوَّلُ الفَاعِلَپہلا فاعل چاہے
عَكْسُهُاس کا الٹ
ترجمہ
فصل: جب دو فعل اپنے بعد آنے والے ایک ظاہر اسم میں عمل کرنے کے لیے جھگڑیں — یعنی دونوں فعل چاہیں کہ وہ اسم اُن کا معمول (فاعل یا مفعول) بنے — تو یہ چار قسموں پر ہوتا ہے: پہلی — دونوں اسے فاعل بنانا چاہیں ("ضربني وأكرمني زیدٌ")۔ دوسری — دونوں مفعول بنانا چاہیں ("ضربتُ وأكرمتُ زیداً")۔ تیسری — پہلا فاعل، دوسرا مفعول چاہے ("ضربني وأكرمتُ زیداً")۔ چوتھی — اس کا الٹ: پہلا مفعول، دوسرا فاعل ("ضربتُ وأكرمني زیدٌ")۔
تشریح — چار اقسام ایک نظر میں
تنازع کا مطلب: دو فعل آئیں، اور اُن کے بعد ایک ظاہر اسم ہو جسے دونوں اپنا معمول بنانا چاہیں۔ مسئلہ یہ کہ عمل کس فعل کا چلے؟
✦ "ضربني وأكرمني زیدٌ" کیسے؟
"زیدٌ نے مجھے مارا اور زید نے مجھے عزت دی" — یہاں ایک ہی "زیدٌ" دونوں فعلوں کا فاعل بننا چاہتا ہے۔ "ني" (مجھے) دونوں کا مفعول ہے۔
متن — کس فعل کا عمل؟ (جواز و اختیار)
وَاعْلَمْ أَنَّ فِی جَمِيعِ هَذِهِ الأَقْسَامِ يَجُوزُ إِعْمَالُ الفِعْلِ الأَوَّلِ وَإِعْمَالُ الفِعْلِ الثَّانِي، خِلَافًا لِلْفَرَّاءِ فِی الصُّورَةِ الأُولَى وَالثَّالِثَةِ أَنْ يَعْمَلَ الثَّانِي، وَدَلِيلُهُ لُزُومُ أَحَدِ الأَمْرَيْنِ: إِمَّا حَذْفُ الفَاعِلِ أَوِ الإِضْمَارُ قَبْلَ الذِّكْرِ، وَكِلَاهُمَا مَحْظُورَانِ، وَهَذَا فِی الجَوَازِ۔ وَأَمَّا الاِخْتِيَارُ فَفِيهِ خِلَافُ البَصْرِيِّينَ، فَإِنَّهُمْ يَخْتَارُونَ إِعْمَالَ الفِعْلِ الثَّانِي اعْتِبَارًا لِلْقُرْبِ وَالجِوَارِ، وَالكُوفِيُّونَ يَخْتَارُونَ إِعْمَالَ الفِعْلِ الأَوَّلِ مُرَاعَاةً لِلتَّقْدِيمِ وَالاِسْتِحْقَاقِ۔
لفظی ترجمہ
يَجُوزُ إِعْمَالُ الفِعْلِ الأَوَّلِپہلے فعل کا عمل جائز
وَإِعْمَالُ الفِعْلِ الثَّانِياور دوسرے کا بھی
خِلَافًا لِلْفَرَّاءِفراء کے خلاف
فِی الصُّورَةِ الأُولَى وَالثَّالِثَةِپہلی و تیسری صورت میں
حَذْفُ الفَاعِلِفاعل کا گرانا
الإِضْمَارُ قَبْلَ الذِّكْرِذکر سے پہلے ضمیر لانا
وَكِلَاهُمَا مَحْظُورَانِدونوں ممنوع
خِلَافُ البَصْرِيِّينَبصریوں کا اختلاف
اعْتِبَارًا لِلْقُرْبِ وَالجِوَارِقرب و پڑوس کے لحاظ سے
مُرَاعَاةً لِلتَّقْدِيمِ وَالاِسْتِحْقَاقِتقدیم و استحقاق کے لحاظ سے
ترجمہ
اور جان لو کہ اِن چاروں اقسام میں پہلے فعل کا عمل اور دوسرے فعل کا عمل — دونوں جائز ہیں۔ فراء کے خلاف (جو پہلی اور تیسری صورت میں صرف دوسرے کا عمل کہتے ہیں)؛ اُن کی دلیل یہ کہ (پہلے کا عمل کرنے پر) دو میں سے ایک بات لازم آتی ہے — یا تو فاعل کا گرانا یا ذکر سے پہلے ضمیر لانا — اور یہ دونوں ممنوع ہیں۔ (یہ بحث جواز کی ہے۔) اور جہاں تک اختیار (ترجیح) کا تعلق ہے: بصری دوسرے فعل کا عمل پسند کرتے ہیں (قرب و پڑوس کے لحاظ سے)، اور کوفی پہلے فعل کا عمل پسند کرتے ہیں (تقدیم و استحقاق کے لحاظ سے)۔
تشریح — تین مذہب
حاشیہ (کتاب کا): «محظوران» پر «أي ممنوعان»؛ جوازِ اول و ثانی پر «كما هو مذهب الجمهور»؛ فراء کے قول پر «كما هو مذهب الكسائي»؛ اور کوفیوں کے اختیارِ اول پر «مع تجویز إعمال الثاني أيضاً» (یعنی ثانی بھی جائز رکھتے ہیں)۔
إعمالِ ثانی
مذہبِ بصریین — دوسرے فعل کا عملاسم دوسرے فعل کا معمول؛ پہلا فعل اپنا معمول ضمیر سے لے
متن — پہلا فعل فاعل چاہے تو اِضمار
فَإِنْ أَعْمَلْتَ الثَّانِي، فَانْظُرْ إِنْ كَانَ الفِعْلُ الأَوَّلُ يَقْتَضِي الفَاعِلَ، أَضْمَرْتَهُ فِی الأَوَّلِ، كَمَا تَقُولُ فِی المُتَوَافِقَيْنِ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ، وَضَرَبَانِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِ، وَضَرَبُونِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَ"۔ وَفِی المُتَخَالِفَيْنِ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا، وَضَرَبَانِي وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدَيْنِ، وَضَرَبُونِي وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدِينَ"۔
لفظی ترجمہ
فَإِنْ أَعْمَلْتَ الثَّانِياگر دوسرے کا عمل کیا
الأَوَّلُ يَقْتَضِي الفَاعِلَپہلا فاعل چاہے
أَضْمَرْتَهُ فِی الأَوَّلِاسے پہلے میں ضمیر بنا
فِی المُتَوَافِقَيْنِمتوافقین میں (دونوں فاعل)
ضَرَبَانِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِدو زید نے… (تثنیہ)
ضَرَبُونِي وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَزیدوں نے… (جمع)
فِی المُتَخَالِفَيْنِمتخالفین میں (اول فاعل، ثانی مفعول)
وَأَكْرَمْتُ زَيْدًامیں نے زید کو عزت دی
ترجمہ
پس اگر تو نے دوسرے فعل کا عمل کیا، تو دیکھ: اگر پہلا فعل فاعل چاہتا ہے، تو اُس (فاعل) کو پہلے فعل میں ضمیر بنا دے۔ جیسے متوافقین (دونوں فاعل چاہیں — قسم ۱) میں: "ضربني وأكرمني زیدٌ" (واحد)، "ضرباني وأكرمني الزیدانِ" (تثنیہ)، "ضربوني وأكرمني الزیدونَ" (جمع)۔ اور متخالفین (قسم ۳ — اول فاعل، ثانی مفعول) میں: "ضربني وأكرمتُ زیداً" (واحد)، "ضرباني وأكرمتُ الزیدَینِ" (تثنیہ)، "ضربوني وأكرمتُ الزیدِینَ" (جمع)۔
تشریح
چونکہ اسم دوسرے فعل کا معمول بن گیا، پہلے فعل کو اپنا فاعل ضمیر کی صورت میں ملتا ہے (جو بعد والے ظاہر اسم کے عدد کے مطابق ہوتا ہے)۔ فاعل کو گرایا نہیں جا سکتا، اِس لیے ضمیر لازم۔
⤴ غور کریں
پہلا فعل (ضرب) عدد میں بدلتا ہے (ضربني/ضرباني/ضربوني) کیونکہ اُس میں
فاعل کا ضمیر ہے؛ جبکہ دوسرا فعل (أكرم) جس کا ظاہر فاعل/مفعول بعد میں ہے، واحد رہتا ہے۔
متن — پہلا فعل مفعول چاہے تو حذف
وَإِنْ كَانَ الفِعْلُ الأَوَّلُ يَقْتَضِي المَفْعُولَ، وَلَمْ يَكُنِ الفِعْلَانِ مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِ، حَذَفْتَ المَفْعُولَ مِنَ الفِعْلِ الأَوَّلِ، كَمَا تَقُولُ فِی المُتَوَافِقَيْنِ: "ضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ زَيْدًا، وَضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدَيْنِ، وَضَرَبْتُ وَأَكْرَمْتُ الزَّيْدِينَ" وَفِی المُتَخَالِفَيْنِ: "ضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ، وَضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدَانِ، وَضَرَبْتُ وَأَكْرَمَنِي الزَّيْدُونَ"۔ وَإِنْ كَانَ الفِعْلَانِ مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِ، يَجِبُ إِظْهَارُ المَفْعُولِ لِلْفِعْلِ الأَوَّلِ، كَمَا تَقُولُ: "حَسِبَنِي مُنْطَلِقًا وَحَسِبْتُ زَيْدًا مُنْطَلِقًا"۔ إِذْ لَا يَجُوزُ حَذْفُ المَفْعُولِ مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِ وَإِضْمَارُ المَفْعُولِ قَبْلَ الذِّكْرِ، هَذَا هُوَ مَذْهَبُ البَصْرِيِّينَ۔
لفظی ترجمہ
الأَوَّلُ يَقْتَضِي المَفْعُولَپہلا مفعول چاہے
وَلَمْ يَكُنِ مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِاور افعالِ قلوب میں سے نہ ہوں
حَذَفْتَ المَفْعُولَ مِنَ الأَوَّلِپہلے سے مفعول گرا دے
وَأَكْرَمْتُ زَيْدًامیں نے زید کو عزت دی
وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌزید نے مجھے عزت دی
مِنْ أَفْعَالِ القُلُوبِدل کے افعال (حسب/ظن)
يَجِبُ إِظْهَارُ المَفْعُولِمفعول کا اظہار واجب
حَسِبَنِي مُنْطَلِقًااس نے مجھے روانہ سمجھا
وَحَسِبْتُ زَيْدًا مُنْطَلِقًامیں نے زید کو روانہ سمجھا
ترجمہ
اور اگر پہلا فعل مفعول چاہتا ہے، اور دونوں فعل افعالِ قلوب میں سے نہ ہوں، تو پہلے فعل سے مفعول کو حذف (گرا) دے۔ جیسے متوافقین (قسم ۲ — دونوں مفعول) میں: "ضربتُ وأكرمتُ زیداً" (واحد)، "ضربتُ وأكرمتُ الزیدَینِ" (تثنیہ)، "ضربتُ وأكرمتُ الزیدِینَ" (جمع)۔ اور متخالفین (قسم ۴ — اول مفعول، ثانی فاعل) میں: "ضربتُ وأكرمني زیدٌ" (واحد)، "ضربتُ وأكرمني الزیدانِ" (تثنیہ)، "ضربتُ وأكرمني الزیدونَ" (جمع)۔ اور اگر دونوں فعل افعالِ قلوب میں سے ہوں تو پہلے فعل کے لیے مفعول کا اظہار واجب ہے — جیسے "حسبني منطلقاً وحسبتُ زیداً منطلقاً"۔ کیونکہ افعالِ قلوب کا مفعول گرانا اور ذکر سے پہلے ضمیر لانا — دونوں ناجائز۔ یہ بصریوں کا مذہب ہے۔
تشریح — حذف بمقابلہ اِضمار
پچھلے اصول سے فرق: جب پہلا فعل فاعل چاہے تو ضمیر لاتے ہیں (فاعل گرانا منع)؛ مگر جب مفعول چاہے تو اُسے گرا دیتے ہیں (مفعول گرانا جائز) — بشرطیکہ افعالِ قلوب نہ ہوں۔
حسب، ظنّ، علم جیسے
افعالِ قلوب میں مفعول گرانا منع (کیونکہ وہ خبر کی حیثیت رکھتا ہے)۔ تو پہلے فعل کا مفعول بھی
ظاہر کیا جاتا ہے: "حسبني منطلقاً وحسبتُ زیداً منطلقاً"۔
إعمالِ اول
مذہبِ کوفیین — پہلے فعل کا عملاسم پہلے فعل کا معمول؛ دوسرا فعل اپنا معمول ضمیر سے لے
متن — دوسرا فعل فاعل چاہے تو اِضمار
وَأَمَّا إِنْ أَعْمَلْتَ الفِعْلَ الأَوَّلَ عَلَى مَذْهَبِ الكُوفِيِّينَ، فَانْظُرْ إِنْ كَانَ الفِعْلُ الثَّانِي يَقْتَضِي الفَاعِلَ، أَضْمَرْتَ الفَاعِلَ فِی الفِعْلِ الثَّانِي، كَمَا تَقُولُ فِی المُتَوَافِقَيْنِ: "ضَرَبَنِي وَأَكْرَمَنِي زَيْدٌ، وَضَرَبَنِي وَأَكْرَمَانِي الزَّيْدَانِ، وَضَرَبَنِي وَأَكْرَمُونِي الزَّيْدُونَ"۔
لفظی ترجمہ
إِنْ أَعْمَلْتَ الفِعْلَ الأَوَّلَاگر پہلے فعل کا عمل کیا
عَلَى مَذْهَبِ الكُوفِيِّينَکوفیوں کے مذہب پر
الثَّانِي يَقْتَضِي الفَاعِلَدوسرا فاعل چاہے
أَضْمَرْتَ الفَاعِلَ فِی الثَّانِيفاعل کو دوسرے میں ضمیر بنا
وَأَكْرَمَانِي الزَّيْدَانِدو زید نے عزت دی (تثنیہ)
وَأَكْرَمُونِي الزَّيْدُونَزیدوں نے عزت دی (جمع)
ترجمہ
اور اگر تو نے پہلے فعل کا عمل کیا (کوفیوں کے مذہب پر)، تو دیکھ: اگر دوسرا فعل فاعل چاہتا ہے، تو فاعل کو دوسرے فعل میں ضمیر بنا دے۔ جیسے متوافقین میں: "ضربني وأكرمني زیدٌ" (واحد)، "ضربني وأكرماني الزیدانِ" (تثنیہ)، "ضربني وأكرموني الزیدونَ" (جمع)۔
تشریح — بصری بمقابلہ کوفی
یہاں اسم پہلے فعل کا معمول ہے (ضربني زیدٌ = زید فاعلِ اول)؛ اور دوسرا فعل اپنا فاعل ضمیر سے لیتا ہے، جو عدد میں بدلتا ہے (أكرمني/أكرماني/أكرموني)۔
⤴ کلیدی فرق
واحد میں دونوں مذہب ایک جیسے دکھتے ہیں؛ مگر
تثنیہ/جمع میں فرق ظاہر ہوتا ہے — کوفی میں
دوسرا فعل عدد میں بدلتا ہے (أكرماني/أكرموني)، اور بصری میں
پہلا فعل (ضرباني/ضربوني)۔
کوفی مذہب کی باقی صورتیں (متخالفین، اور جب دوسرا فعل مفعول چاہے) اگلے صفحات میں آئیں گی، ان شاء اللہ۔